مطالعہ حدیث کی اہمیت روشن دن اور چڑھتے سورج کی طرح عیاں ہے جو کہ کسی سے چھپی اور ڈھکی نہیں اگر ہم ہر دور میں دیکھیں تو علماء کرام محدثین جو ہیں انہوں نے اپنی پوری پوری زندگیاں علم حدیث کو سیکھنے اور سکھانے میں صرف کر دی اور ہم صحابہ کرام تابعین عظام اور علماء احادیث کو دیکھتے ہیں اور ان کی سیرت پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک ایک حدیث لینے کے لیے انہوں نے کتنا کتنا دور دراز کا سفر کیا مہینوں کا سفر کیا اور میلوں میل سفر کیا تو اس سے حدیث مبارکہ کی اہمیت اور حدیث مبارکہ کو سمجھ کر اس کا مطالعہ کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے آئیے ہم قرآن پاک سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت کے بارے میں پوچھتے ہیں اور علم حدیث کی اہمیت پر اقوال اولیاء کرام کا ہم مطالعہ کرتےہیں۔

قران پاک کے اندر اللہ تبارک و تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم ماننے کو اپنا حکم ماننا قرار دیا آئیے ہم قرآن پاک کی آیت کو پڑھتے ہیں جس میں اللہ تبارک و تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰) ترجمۂ کنز الایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔(پارہ: 5سورۃالنساآیت نمبر: 80)

تفسیر صراط الجنان:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ سرورِکائنات ص ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی، اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰی ص ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رب ماناہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے رد میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ص ﷺ کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ بے شک رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔

آئیے اب ہم کچھ ایسے مسائل و احکام جو کہ قرآن پاک میں مجود نہیں ہیں مگر وہ قرآن کریم کی طرح واجب العمل ہیں انکا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)اذان قرآن پاک میں کہی مذکور نہیں کہ پنجگانہ دی جائے مگر عہد رسالت سے لے کر آج تک شعار اسلام رہی ہے اور رہے گی ۔(2)نماز جنازہ: اس کے بارے میں قرآن پاک میں کوئی حکم نہیں مگر یہ فرض ہے اور اس کی بھی بنیاد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے ۔(3)جمعہ اور عیدین کے خطبے کے بارے میں قرآن پاک میں کہی بھی ذکر نہیں مگر یہ عبادت ہیں تو اس کی بھی بنیاد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے ۔

اسی طرح اور بھی بہت سے احکام ہیں جن کا حکم قرآن پاک میں موجود نہیں مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے لازم ہیں اور اس سے احادیث مبارکہ کے مطالعہ کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ احادیث مبارکہ میں پڑھا اللہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کر کے موجودہ فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔


آج کے زمانے میں جہاں ہر طرف فتنے ہی فتنے پائے جارہے ہیں تو اُن فتنوں کا صدِ باب کرنے کے لئے جہاں قرآن امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے تو یوں وہیں ان فتنوں سے بچنا بغیر علم حدیث کے ممکن نہیں ۔قرآن کے بعد حدیث ہی وہ فن ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ذریعے ہم اوامر اور نواہی جان سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علم حدیث آج کے زمانے بہت اہم موضوع ہے نیز فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل درکنار ہوکر اسے ترک کردینا نقصان کا باعث ہے۔

یہ ایسی حقیقت ہے جس سے انکارحبّ النبی صلی الله علیہ وسلم اور اطاعت رسول صلی الله علیہ وسلم کے جذبے سے سرشار کوئی بھی صاحبِ علم شخص نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ حدیثِ نبوی امت اسلامیہ کے لیے ایک ناگزیر حقیقت اور اس کے وجود کے لیے ایک لازمی شرط ہے، اس کی حفاظت، ترتیب وتدوین، حفظ اور نشر واشاعت کے بغیر امت کا یہ دینی وذہنی، عملی اور اخلاقی دوام وتسلسل برقرار نہیں رہ سکتا تھا۔

علمِ حدیث کا تعارف:مشہور حنفی مُحدِّث اور فقیہ علامہ عینی (متوفی855ھ) علم حدیث کی تعریف کرتے ہوئے صحیح بخاری کی مشہور اور ضخیم شرح ” عمدہ القاری“ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:”فھو علم یعرف بہ أقوال رسول الله صلی الله علیہ وسلم وأفعالہ وأحوالہ“( مقدمہ عمدة القاری، ص11، طبع ادارة الطباعۃالمنیریہ)

بعض محدثین نے حدیث کے معنی میں وسعت پیدا کی ہے اور علم حدیث کا تعارف اس طرح سے کیا ہے : ”ماأثر عن النبيصلی الله علیہ وسلم من قول أو فعل أو تقریر أو صفة خِلقیة أو خُلقیة أو سیرة، سواء کان قبل البعثة أوبعدھا“یعنی جو کچھ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہو وہ حدیث ہے خواہ قول وفعل یا تقریر ہو، یا جبلی یا اخلاقی صفات ہوں، یا قبل از نبوت یا مابعد کی سیرت مبارکہ ہو۔(دکتور مصطفی سباعی، السنة ومکانتھا فی التشریع الاسلامي، ص:57)

قرآن پاک میں متعدد مقامات پر رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا۔

ارشاد ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء، آیت: ۸۰)

رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی یہی قرار دیا کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔

فرمایا: وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے ۔(سورۃ نساء، آیت:۲۴)


تمام حمد و ثناء کا مستحق اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے جس نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کے مرتبہ پر فائز کیا اور اس نے سب سے آخر میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جو انبیاء کی بعثت کے سلسلے کی آخری کڑی ہے مسلمانوں کے دین کا سرمایہ اور ان کی شریعت کا متاع کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ حیات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال آپ کے شب و روز کے معمولات ہی ان کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسانی معیشت کے اصول اور مبادی کا بیان فرمایا ہے جن کی تفصیل و تشریح بغیر احادیث نبویہ کے ممکن نہیں اور احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے بھی اسوہ رسول ﷺکی ضرورت ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز العرفان:بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول بہتر یں نمونہ موجود ہے۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 21)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں پیروی کیلئے بہترین طریقہ موجود ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس کی اقتدا اور پیروی کی جائے، سوال یہ ہے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور آپ کے افعال کا کس ذریعے سے علم ہوگا اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے بس جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے سامنے نہ ہو ہم اپنے زندگی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں کیسے ڈھال سکیں گے ۔اور جب کہ ہمیں اسوہ رسول پر اطلاع صرف احادیث اور ان کا مطالعہ کرنے سے ہی ممکن ہے تو معلوم ہوتا ہے اللہ تعالی کے نزدیک جس طرح صحابہ کرام کے لیے بنفس نفیس حضور کی ذات ہدایت تھی اسی طرح ہمارے لیے حضور کی احادیث ہدایت ہے اگر احادیث رسول کو حضور کی دی ہوئی ہدایت اور آپ کے نمونے کے لیے معتبر ماخذ نہ مانا جائے تو اللہ تعالی کی حجت بندوں پر ناتمام رہے گی کیونکہ اللہ تعالی نے ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ ساتھ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت و آپ کے افعال کی اتباع کو بھی لازم قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو جاننے کے لیے احادیث کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ۔

اگر ہم غور کریں بہت سے وہ احکام ہیں جو قرآن مجید میں مذکور نہیں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائےاور وہ بھی قرآن کی طرح واجب العمل قرار پائے مثلاً :

(1) بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں مگر تحویل قبلہ سے پہلے یہی نماز کا قبلہ تھا اور یہ بھی صرف ارشاد رسول سے ہی تھا ۔

(2) جمعہ عیدین کے خطبے کا کہیں قرآن میں حکم مذکور نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے اس کی بنیاد صرف ارشاد رسول ہی ہے ۔

(3) اذان، قرآن پاک میں کہیں مذکور نہیں کہ نماز پنج گانہ کے لیے اذان دی جائے مگر اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے لیکر آج تک شعار اسلام رہی ہے اور رہے گی ۔

یہ صرف اسی بناء پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول بھی واجب الاعتقاد و عمل ہے۔اسی طرح اگرچہ قرآن کریم میں تمام چیزوں کا بیان ہے مگر ان میں کتنی چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے لیے مجمل اور مبہم ہیں مثلا عبادت اربعہ نماز ،روزہ، زکوۃ ،اور حج کو ہی لے لیجیے قرآن مجید میں سب کا حکم موجود ہے مگر کیا قرآن مجید سے ان عبادات کی پوری تفصیل بتا سکتا ہے اگر احادیث کو ناقابل اعتبار ٹھہرا دیا جاۓ تو پھر ان عبادات پر کیسے عمل ہوگا کیونکہ ان سب کی تفصیل احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث ایک مسلمان کی دینی و عملی زندگی کا بنیادی حصہ ہے، کیونکہ حدیث سے قرآنِ کریم کی تشریح، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، اور شریعت کے عملی پہلوؤں کی وضاحت فراہم کرتی ہے۔ جب تک پیاری امت مسلمہ حدیث کا مطالعہ اور فہم اختیار نہیں کرے گی، دین کے احکامات کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حدیث کا مطالعہ نہ صرف علم حاصل کرنے کے لیے کرے بلکہ اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی دل میں پیدا کرے، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔


یہ بات ہر دین دار مسلمان کو معلوم ہے کہ دین کے اصول وفروع عقائد و اعمال سب کی بنیا د قرآن واحادیث ہیں اجماع امت اور قیاس کی بنیاد بھی قرآن و حدیث ہی پر رکھی جاتی ہیں اور اجماع و قیاس بھی قرآن وحدیث کے فراہم کردہ اصول کے مطابق ہوں تبھی مقبول ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح قرآن کے احکام پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا لازم و ضروری ہوتا ہے اسی طرح احادیث پربھی ضروری ہے احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان کا دعوی محض دعوی بلا دلیل ہو گا اس لیے کہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنز الایمان : جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ (سورۃ النساء، آیت 80)

ایک اور جگہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔(النساء:64)

اسی طرح اللہ تعالٰی نے کئی مقامات پر فرمایا :کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو واجب الاتباع نہ ماننا ان آیتوں کے انکار کے قائم مقام ہوا اور قرآن کی کسی آیت کا انکار یقینا کفر ہےاسی طرح بہت سے وہ احکام ہیں جو قرآن میں واضح طور پر مذکور نہیں صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اور وہ بھی قرآن کی طرح واجب العمل قرار پائے:مثلاً: (1)اذان کا قرآن میں ذکر مذکور نہیں کہ نماز کے لیے اذان دی جائے مگر اذان عہد رسالت سے لے کر آج تک اسلام کا شعار رہی ہے اور رہے گی ۔

(2) اسی طرح نماز جنازہ کا حکم قرآن میں مذکور نہیں ہے۔(3) بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم کہیں نہیں مگر تحویل قبلہ سے یہی نماز کا قبلہ تھا یہ صرف ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔(4) جمعہ و عیدین کے خطبے کا کہیں ذکر قرآن میں مذکور نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے۔

یہ صرف اسی بنا پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول پر بھی اعتقاد واجب ہے اس میں بھی کوتاہی کی وہی سزا ہے۔ جو قرآن کے فرمودات میں کوتاہی کی ہے سزا ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید اسلام کا بنیادی ماخذ ہے، مگر قرآنِ کریم کی صحیح تشریح، عملی تفسیر اور اس کے احکام کی تفصیل ہمیں احادیثِ نبویہ کے ذریعے ہی ملتی ہے۔ اسی لیے مطالعۂ حدیث کو اسلامی علوم میں نہایت اہم اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

حدیث کی تعریف حدیث سے مراد رسولِ اکرم ﷺ کے اقوال، افعال، تقریر اور آپ ﷺ کی سیرت و اوصاف ہیں۔ یہ تمام چیزیں امت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں اور شریعتِ اسلامی کی عملی شکل کو واضح کرتی ہیں۔قرآن و حدیث کا باہمی تعلق قرآنِ مجید میں بہت سے احکام اجمالی صورت میں بیان ہوئے ہیں، جن کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے طریقے قرآن میں مختصراً مذکور ہیں، مگر ان کی عملی صورت ہمیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے حدیث کے بغیر قرآن پر صحیح عمل ممکن نہیں۔

مطالعۂ حدیث کی اہمیت پر قرآنِ مجید کی چند نمایاں آیات درج ذیل ہیں، جو واضح کرتی ہیں کہ رسول ﷺ کی اطاعت، تعلیم اور وضاحت دین کا لازمی حصہ ہے:

(1) اطاعتِ رسول کی تاکید:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔(سورۃ النساء: 59)

(2) رسول ﷺ کی بات ماننا دراصل اللہ کی بات ماننا ہے : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی۔(سورۃ النساء: 80)

(3) نبی ﷺ کی وضاحت و تعلیم کا مقصد:وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ

ترجمہ کنز الایمان:ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس کی وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔(سورۃ النحل ایت نمبر 44)

یہ آیات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ حدیث و سنت قرآن کی تشریح، دین کی عملی شکل اور ہدایتِ الٰہی تک پہنچنے کا بنیادی ذریعہ ہیں، اس لیے مطالعۂ حدیث قرآن فہمی کے لیے نہایت ضروری ہے ،مطالعۂ حدیث کی اہمیت و ضرورت پر رسولِ اکرم ﷺ کی متعدد واضح احادیث موجود ہیں۔ چند نہایت مستند اور جامع احادیث ملاحظہ ہوں:

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سنت (حدیث) کو جاننا اور اس پر عمل کرنا لازم ہے، اور یہ جاننا مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔

(2) نبی ﷺ کی بات کو آگے پہنچانے کی فضیلت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَااللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور جیسے سنی تھی ویسے ہی آگے پہنچایا۔(سنن ابو داؤد 3660)

اس حدیث سے حدیث سیکھنے، سمجھنے اور آگے پہنچانے کی عظیم اہمیت ثابت ہوتی ہے۔

(3)نبی ﷺ کی اطاعت ہی اصل کامیابی:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔(صحیح بخاری1080)

نبی ﷺ کی اطاعت حدیث جانے بغیر ممکن نہیں، اس لیے مطالعۂ حدیث ناگزیر ہے۔

(4)علمِ دین حاصل کرنے کی فضیلت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری، 3116)

دین کی صحیح سمجھ قرآن کے ساتھ حدیث کے علم سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی اہمیت اور ضرورت دین کی بقا اور صحیح عمل کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ مطالعۂ حدیث کی اہمیت و ضرورت پر ائمہ و علماءِ امت کے نہایت واضح اور مضبوط اقوال موجود ہیں۔

علماءِ امت کے ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ مطالعۂ حدیث محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ دین کی صحیح سمجھ، درست عمل اور امت کی فکری حفاظت کی بنیادی ضرورت ہے۔مطالعۂ حدیث کی ضرورت آج کے دور میں جب نت نئے فتنوں اور غلط نظریات کا سامنا ہے، مطالعۂ حدیث کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ احادیثِ نبویہ صحیح عقائد، درست عبادات اور پاکیزہ اخلاق کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ حدیث سے دوری دین میں بگاڑ اور گمراہی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق احادیث کا مطالعہ کرے۔حدیث اور عملی زندگی صرف نظری باتوں تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ گھریلو زندگی، تجارت، عدل و انصاف، حقوق العباد اور حسنِ معاشرت ہر میدان میں احادیث ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ جو قوم حدیث کو اپناتی ہے، اس کی زندگی میں توازن اور برکت پیدا ہوتی ہے۔طلبہ اور اہلِ علم کے لیے خصوصی اہمیت دینی علوم کے طلبہ کے لیے مطالعۂ حدیث ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فقہ، تفسیر اور عقائد کی صحیح بنیاد حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے محدثین نے احادیث کو جمع کرنے، پرکھنے اور محفوظ کرنے کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مطالعۂ حدیث دینِ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ قرآن کے بعد حدیث ہی وہ روشن چراغ ہے جو ہمیں سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ احادیثِ نبویہ کا شوق، ادب اور سمجھ بوجھ کے ساتھ مطالعہ کرے تاکہ اس کی زندگی سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھل سکے۔


حديث کا لغوی معنی بات کرنا، گفتگو کرنا، وغیرہ کے ہیں۔اصطلاحی معنی : حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال افعال ، تقریرات اور احوال کو حدیث کہتے ہیں۔

حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1) حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔

حدیث قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی حدیث کہلاتی ہے۔

حدیث فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔

حدیث تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔

حدیث اور سنت میں فرق:

(1) حدیث میں حضور اکرم ﷺ کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔

(2)حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ ﷺ کا طریقۂ زندگی ہے ۔

حدیث کی اہمیت اور اس کی دینی حیثیت :جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث

بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔

(1)رسول اللہ ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔( سورہ الاحزاب آیت ۲۱)

قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان کو ہر معاملے میں رہنمائی رسول اللہ ﷺ سے ملتی ہے ۔

(2)اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔


علم(knowledge) کے جتنے ذرائع(sources) رہتی دنیا تک سامنے آتے رہیں گے ان تمام میں سب سے زیادہ یقینی علم دینے والا ذریعہ اللہ پاک کی طرف سے انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام کو کی جانے والی وحی ہے کیونکہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم سے تمام چیزیں روشن اور پختہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآن کریم اتارا، آخری نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم قرار دیا اور قرآن کی وضاحت و تشریح کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو سونپی۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حدیثوں کے ذریعے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے سعادت و سلامتی کے راستوں کو روشن فرمایا۔

آئیے حدیث کی عظمت و اہمیت کو چند طریقوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

(1)قرآن کریم سے حاصل ہونے والے حکم کو صحیح طریقے سے عمل میں لانے کے لیے حدیث مبارکہ کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔قرآن مجمل ہے حدیث پاک اس کی تفصیل ہےایسے بہت سارے احکام ہیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں مگر ان کو ادا کرنے کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا جیسے نماز اور زکوٰۃ کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ادا کیسے کرنا ہے۔ ایسے تمام احکام مجملاتِ قرآن کہلاتے ہیں اور مجملاتِ قرآن کی تفصیل کے لیے حدیث و سنت کی ضرورت ہوتی ہے۔( مقدمہ ضیاء القاری، پہلا باب، ص 38 تا 39)

آیاتِ قرآن سے حاصل شدہ قاعدہ:قرآن کریم میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔( پارہ 4، سورۃ النساء: 23)حدیث میں اسے بطور قاعدہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔( مسلم، ص 583، حدیث 3568)

(2) قرآن و حدیث کے باہمی تعلق سے متعلق بزرگانِ دین کے اقوال:وضاحت قرآن کریم کے لیے سنت یعنی حدیث کی ضرورت ۔امام مکحول دمشقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سنت کو قرآن کی جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ قرآن کو سنت کی ضرورت ہے یعنی سنت قرآن کی مراد کو واضح کرتی ہے۔( الکفایہ ص 23، جامع بیان العلم 2/1194)

حدیث تفسیر قرآن ہے:حضرت حسان بن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر حضرت جبرئیل علیہ السلام قرآن لے کر نازل ہوتے اور سنت یعنی حدیث اس کی تفسیر کرتی۔ (الکفایہ ص 24)

اسی طرح امام عبدالرحمن مہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث قرآن کی تفسیر ہے۔(الکفایہ ص 25)

گمراہی پہچاننے کا اصول:امام ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب تم کسی کے سامنے سنت بیان کرو اور وہ کہے ہمیں قرآن سے بتاؤ تو جان لو کہ وہ گمراہ ہے۔(الکفایہ ص 25)

حدیث کی ضرورت کھانے پینے سے زیادہ ہے:امام عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بندے کو حدیث کی ضرورت کھانے پینے سے زیادہ ہے۔(الکفایہ ص 25)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فرامین:میں تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔( موطا امام مالک 2/400، حدیث 1708)

عہدِ نبوی میں حدیث کی حفاظت و اشاعت:رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو حدیث پہنچانے کی ذمہ داری سونپی اور فرمایا کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے۔(مجمع الزوائد 1/356، حدیث 592)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حدیث میں جھوٹ باندھنے سے سختی سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔( بخاری 2/462، حدیث 3461)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خطبات بھی حدیث کی اشاعت کا بڑا ذریعہ بنے، خاص طور پر خطبۂ حجۃ الوداع جسے صحابہ کرام نے پوری دنیا تک پہنچایا۔اس پورے مضمون سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دینِ اسلام میں صحیح اور محفوظ رہنمائی کا اصل ذریعہ وحیِ الٰہی ہے جو قرآنِ کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ قرآن مجید احکامِ الٰہی کا اصل سرچشمہ ہے مگر ان احکام کو سمجھنے، ان کی درست تشریح کرنے اور ان پر عملی طور پر عمل کرنے کے لیے حدیث و سنت ناگزیر ہیں۔ بزرگانِ دین کے اقوال اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرامین اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ قرآن اور حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم لازم و ملزوم ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حدیث کی حفاظت اور اشاعت میں جو محنتیں کیں وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ سنت کو دین میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا جو شخص قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے، اور جو کتاب و سنت دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے وہی دینِ اسلام کے صحیح راستے پر قائم رہتا۔


مطالعہ حدیث کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ قرآن کے ساتھ دین کا دوسرا لازمی ستون ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر سے ہمیں دین کا عملی طریقہ سکھاتی ہے، گمراہی سے بچاتی ہے، اور زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، جس کے بغیر مسلمانوں کیلئے دنیا و آخرت میں کامیابی ممکن نہیں۔

(1) مطالعہ حدیث کی ضرورت :قرآن کی عملی تشریح: حدیث ہمیں قرآن کے احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کا عملی طریقہ سکھاتی ہے، جیسے نماز کیسے پڑھیں یا زکوٰۃ کیسے ادا کریں۔

(2) گمراہی سے حفاظت: یہ مسلمانوں کو بدعات اور گمراہ کن نظریات سے بچاتی ہے۔

(3) سیرتِ نبوی کا فہم:حدیث کے ذریعے ہم نبی کریم ﷺ کی زندگی، سیرت اور دعوتِ دین کے طریقوں کو سمجھتے ہیں، جو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے لیے نمونہ ہے۔

(4) دین کی تکمیل: یہ دین کو مکمل کرتی ہے، کیونکہ دین کا ایک بڑا حصہ صرف سنت سے ہی معلوم ہوتا ہے۔

(5) مطالعہ حدیث کی اہمیت:دین اسلام میں حدیث نبوی ﷺ کی اہمیت و مرتبہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہے اور قرآن پاک نے خود اس کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا:بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

ترجمہ کنزالایمان :روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔( پارہ 14 سورة النحل آیت 44)

اس آیت کے بعد سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کا دامن تھامنا بہت ضروری ہے۔ایمان کی تکمیل یہ ایمان کے دو پروں میں سے ایک ہے، جو مومن کو پرواز نہیں کرنے دیتا، اور اس کے بغیر مومن نامکمل ہے۔

(6) ہدایت کا ذریعہ:حدیث اللہ کے نبی کے راستے پر چلنے کا ذریعہ ہے، جو ہمیں دنیا و آخرت کی فلاح کی طرف لے جاتی ہے۔

(7) علمِ دین کا بنیادی ماخذ:یہ دین کے بنیادی مصادر میں سے ایک ہے، جس میں ہمیں اللہ کے دین کے احکامات اور احکام کی تفصیل ملتی ہے۔

(8) اعلیٰ مقام:حدیث کا مطالعہ کرنے سے انسان دین کی گہرائی سمجھتا ہے اور علم کے اعلیٰ درجات تک پہنچتا ہے، جو اسے بدعات سے محفوظ رکھتا ہے۔


ایک مسلمان کے لیے حدیث نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطالعہ کی ضرورت و اہمیت ”اَظْہَر مِن الشمس“ ہے ، کیونکہ مسلمان کے لیے حدیث کا مطالعہ فقط ایک علمی مشغلہ نہیں ، بلکہ اہم دینی ضرورت ہے ، کیونکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مبارکہ دین کا بنیادی ماخذ ہے اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع ترین نمونہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی انسان کی سیرت اتنی جامع نہیں اور نہ ہی اتنی مکمل انداز میں دستیاب ہے ، جس قدر کاملیت و جامعیت کے ساتھ سیرتِ نبوی موجود ہے۔ تو لہذا آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے لئے حدیث مبارکہ کا مطالعہ کرنا لازمی ہے ۔

(1) حُبِّ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑھانے کا ذریعہ: سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ، مدارِ ایمان ہے۔ اس محبت کی قوت و شدت ہی بارگاہِ خدا میں مراتبِ سعادت اور فرقِ مدارج کی بنیاد ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے دل میں رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ہر شے سے بڑھ کر ہو حتی کہ ماں باپ اور اولاد سے بھی زیادہ ، چنانچہ خود حبیبِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ ( بخاری ، 1 / 17 ، ط : بیروت )

اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حصول اور اس میں اضافے کا ایک بہترین ذریعہ حدیث مبارکہ کے مطالعہ کو زندگی کا معمول بنا لینا ہے۔

(2) فہم قرآن مطالعہ حدیث پر موقوف :قرآنِ کریم مسلمانوں کے لیے آئینِ حیات ، محورِ دین ، منبعِ شریعت ، مرکزِ علوم ، سرچشمہِ حکمتِ الٰہی اور فلاحِ کامل کا نسخہ ہے۔لیکن قرآن سے یہ عظیم فیضان پانے کے لیے اس کو سمجھنا ضروری ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث کا بغور مطالعہ سب سے زیادہ نفع بخش ہے ، کیونکہ قرآن کے آفاقی و جاوداں ، حیات بخش پیغام کی تشریح سنت و سیرت رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔

(3) کمال حاصل کرنا :نفس کی پاکیزگی ، دل کی اصلاح ، روحانی فضائل ، اخلاقی بلندی اور عمدہ اخلاق ، انسان کےلئے اعلیٰ مقاصدِ حیات ہیں اور یہی خدا کے مطلوب انسان کی زندگی کا رَنگ ، ڈھنگ ہے۔ ایسی خوب صورت زندگی کے لیے ، حدیث مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، بہترین نمونہ“ ہے ۔

(4) نیکی کی دعوت کے لیے :مسلمان کے لیے حدیث طیبہ کے مطالعہ کے لیے ایک اہم مُحرِّک اور مقصد یہ بھی ہے کہ عالَمی سطح پر اگر کسی نے دین اسلام کو پیش کرنا ہے جو حکمِ خدا اور مطلوبِ دین ہے تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث مبارکہ کا مطالعہ کیے بغیر دینِ اسلام کا تعارف پیش کرنا ممکن نہیں ہے اور۔ اسلام کا تصور ذاتِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔

(5) فہم دین:دین کو سمجھنے کے لئے حدیث مبارکہ کا مطالعہ بے حد ضروری ہے اور حضور صلَّی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زندگی کو عملی نمونہ بنانے کے لیے حدیث کا مطالعہ لازمی جزء ہے۔


اسلام کی اساس قرآن و سنت پر ہے، اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل ذخیرہ احادیث میں محفوظ ہے۔ قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے جبکہ حدیث، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی، فعلی اور تقریری تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے مطالعہ حدیث کی ضرورت ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم اور بنیادی چیز ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (سورۃ الحشر، آیت 7)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت لازم ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ان کی احادیث کا مطالعہ کریں اور سمجھیں۔

حضور ﷺ نے فرمایا: أَلاَ إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُترجمہ:خبردار! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے یعنی سنت۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4604، کتاب السنن)

احادیث کی روشنی میں ہی ہم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے عملی طریقے سیکھتے ہیں، کیونکہ ان عبادات کی مکمل تفصیل صرف سنت سے معلوم ہوتی ہے۔ اگر صرف قرآن کو لیا جائے اور حدیث کو ترک کر دیا جائے، تو اسلام کا عملاً کوئی نظام باقی نہیں رہتا۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص حدیث کا علم حاصل نہ کرے، وہ قرآن سے استدلال نہیں کر سکتا۔(الرسالہ للشافعی، ص: 269)

احادیث نہ صرف عبادات کی وضاحت کرتی ہیں بلکہ اخلاقیات، معاملات، معاشرت، اور عدالتی نظام تک، زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

احادیث کا مطالعہ دین کا فہم حاصل کرنے، نبی کریم ﷺ کی اطاعت کرنے، اور شریعت پر صحیح عمل کرنے کے لیے لازمی ہے۔ جس شخص نے حدیث کو چھوڑ دیا، اس نے ہدایت کے بہت بڑے سرچشمے کو ترک کر دیا۔

(1)حدیث، قرآن کی عملی تفسیر ہے: قرآن میں احکام عمومی ہوتے ہیں، جبکہ حدیث ان احکام کی تفصیل اور تطبیق (عملی صورت) فراہم کرتی ہے۔ مثلاً: قرآن میں نماز کا حکم ہے، مگر نماز کے رکعات، طریقہ، اذکار، اوقات یہ سب حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔

(2) حدیث سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے:نبی کریم ﷺ کی سیرت، اخلاق، صبر، جہاد، عبادات کو جب انسان احادیث کے ذریعے پڑھتا ہے، تو اس کے دل میں محبتِ رسول ﷺ بڑھتی ہے، جس سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔

(3)فتنوں سے بچاؤ:نبی اکرم ﷺ نے بہت سے فتنوں کی نشاندہی فرمائی ہے، جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ ان سے بچنے کا راستہ بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک ان کو تھامے رکھو گے، گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔" (موطا امام مالک، حدیث 1594)

(4) سند اور تسلسل کی حفاظت: اسلام واحد دین ہے جس میں نبی ﷺ کے ارشادات کو "سند" کے ساتھ محفوظ رکھا گیا، جسے "علم الحدیث" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک علمی معجزہ ہے۔

(5) علمائے امت کی محنت کا نتیجہ :صحابہ کرام، تابعین، محدثین نے اپنی زندگی حدیث کے تحفظ، تحقیق، تدوین، اور تعلیم میں وقف کی۔ ان کی کاوشوں سے آج ہمیں یہ مبارک ذخیرہ دستیاب ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک لاکھ سے زائد احادیث میں سے منتخب کر کے صحیح بخاری میں صرف وہ حدیثیں درج کیں جو "صحیح ترین" تھیں۔

احادیث کے معتبر ذخیرے: صحیح بخاری ،صحیح مسلم ،سنن ابی داؤد ،جامع ترمذی ،سنن نسائی ،سنن ابن ماجہ

یہ چھ مجموعے "صحاحِ ستہ" کہلاتے ہیں، اور ان کا مطالعہ علم دین میں گہرائی پیدا کرتا ہے۔

مطالعہ حدیث ایمان کو مضبوط بناتا ہے، دینی فہم میں پختگی دیتا ہے، عمل کی راہ ہموار کرتا ہے، اور فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ حدیث کا باقاعدہ مطالعہ کرے، سیکھے، اور عمل کرے۔

اللہ پاک ہمیں صحیح احادیث مبارکہ کو لینے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


حدیثِ رسول ﷺ دینِ اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے۔ قرآنِ مجید کے بعد شریعت کو سمجھنے، احکام کو جاننے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت پر عمل کرنے کے لیے حدیث کا علم نہایت ضروری ہے۔ مطالعہ حدیث دراصل نبی ﷺ کی زندگی، اقوال، افعال، اور تعلیمات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے، جو ایک مسلمان کو صحیح عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

(1)امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اگر میں کسی حدیث کو صحیح جان لوں تو وہی میرا مذہب ہے۔ (النووی، المجموع، جلد 1، صفحہ 63)

(2)امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول:ہر شخص کا قول رد کیا جا سکتا ہے سوائے نبی ﷺ کے۔(اعلام الموقعين، ابن قیم، جلد 1، صفحہ 40)

(3) حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حدیث ہمارے لیے میزان ہے، جو حدیث کے مطابق ہو وہی قبول ہے۔(جامع بیان العلم، جلد 2، صفحہ 153)

مطالعہ حدیث کی ضرورت:قرآن کے کئی احکام کی تفصیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے، جیسے نماز کی تعداد، زکوٰۃ کی مقدار، حج کے مناسک وغیرہ۔

حدیث سیرتِ رسول ﷺ کا اصل ذریعہ ہے، جس سے ہم نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپناتے ہیں۔

ایمان، عقائد، عبادات، اخلاق، اور معاملات کی درستگی کے لیے حدیث کا فہم ضروری ہے۔ فتنوں اور بدعات سے بچنے کے لیے مستند احادیث کا مطالعہ انسان کو راہِ حق پر قائم رکھتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مطالعہ حدیث ایک مسلمان کی دینی، اخلاقی اور عملی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے سنت کی روشنی درکار ہے، اور سنت کا اصل ماخذ حدیث ہے۔ بزرگانِ دین نے ہمیشہ حدیث کے علم کو سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔ آج کے دور میں، جب دین پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، مطالعہ حدیث ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نبی کریم ﷺ کی اصل تعلیمات سے جوڑتا ہے اور گمراہی سے بچاتا ہے۔


مطالعہ حدیث کی اہمیت بہت زیادہ ہے کہ کچھ الفاظ ایسے ہیں کہ جن کے معنی ہم سے پوشیدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم ان کا حدیث میں معنی تراجم دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ ا ٓجاتی ہے کہ اس کا معنی یہ ہے ۔

(1)رضائےالٰہی کا متمنی:حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو شخص رضائے الٰہی کا متمنی ہواس کے لیے علم حدیث سے افضل علم کوئی نہیں حدیث وہ علم ہے جس کی طرف لوگ اپنے کھانے پینے اور شب و روز کی تمام ضروریات میں محتاج ہے ۔( مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)

((2 خوشحالی کا سبب :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوشحال کرے اللہ اس آدمی کو جس نے میری بات سنی اور اس کو یاد رکھا اور دل کی گہرائیوں میں محفوظ کر کے دوسرے تک پہنچادیا ۔(مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 ناشر بزم سعید)

(3) عظیم خیر خواہی :مسلمانوں میں حدیثیں پھیلانا ،سننا، دین کی اشاعت اور جماعت مسلمین کی عظیم خیر خواہی اور زاہد ہے کہ یہ کام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے معمولات سے ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی احادیث روایت کرنے والوں کو اپنا خلیفہ قرار دیا ۔(مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)

((4 اشرف العلوم :امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علم حدیث اشرف العلوم ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کے ساتھ تعلق اور رابطہ کا موجب ہے ۔(مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)

((5 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت واجب ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(پارہ 28 سورت حشر آیت 7)

اس کا معنی یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں جو حکم دے اس کی اتباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت واجب ہے ۔