مطالعہ حدیث کی اہمیت روشن دن اور چڑھتے سورج کی طرح عیاں ہے جو کہ کسی سے چھپی اور ڈھکی نہیں اگر ہم ہر دور میں دیکھیں تو علماء کرام محدثین جو ہیں انہوں نے اپنی پوری پوری زندگیاں علم حدیث کو سیکھنے اور سکھانے میں صرف کر دی اور ہم صحابہ کرام تابعین عظام اور علماء احادیث کو دیکھتے ہیں اور ان کی سیرت پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک ایک حدیث لینے کے لیے انہوں نے کتنا کتنا دور دراز کا سفر کیا مہینوں کا سفر کیا اور میلوں میل سفر کیا تو اس سے حدیث مبارکہ کی اہمیت اور حدیث مبارکہ کو سمجھ کر اس کا مطالعہ کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے آئیے ہم قرآن پاک سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت کے بارے میں پوچھتے ہیں اور علم حدیث کی اہمیت پر اقوال اولیاء کرام کا ہم مطالعہ کرتےہیں۔

قران پاک کے اندر اللہ تبارک و تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم ماننے کو اپنا حکم ماننا قرار دیا آئیے ہم قرآن پاک کی آیت کو پڑھتے ہیں جس میں اللہ تبارک و تعالی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰) ترجمۂ کنز الایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔(پارہ: 5سورۃالنساآیت نمبر: 80)

تفسیر صراط الجنان:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ سرورِکائنات ص ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی، اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰی ص ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رب ماناہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے رد میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ص ﷺ کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ بے شک رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔

آئیے اب ہم کچھ ایسے مسائل و احکام جو کہ قرآن پاک میں مجود نہیں ہیں مگر وہ قرآن کریم کی طرح واجب العمل ہیں انکا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)اذان قرآن پاک میں کہی مذکور نہیں کہ پنجگانہ دی جائے مگر عہد رسالت سے لے کر آج تک شعار اسلام رہی ہے اور رہے گی ۔(2)نماز جنازہ: اس کے بارے میں قرآن پاک میں کوئی حکم نہیں مگر یہ فرض ہے اور اس کی بھی بنیاد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے ۔(3)جمعہ اور عیدین کے خطبے کے بارے میں قرآن پاک میں کہی بھی ذکر نہیں مگر یہ عبادت ہیں تو اس کی بھی بنیاد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے ۔

اسی طرح اور بھی بہت سے احکام ہیں جن کا حکم قرآن پاک میں موجود نہیں مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے لازم ہیں اور اس سے احادیث مبارکہ کے مطالعہ کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ احادیث مبارکہ میں پڑھا اللہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کر کے موجودہ فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔