محمد
ثاقب رضا (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
علم(knowledge) کے جتنے
ذرائع(sources) رہتی دنیا تک سامنے آتے رہیں گے ان تمام میں
سب سے زیادہ یقینی علم دینے والا ذریعہ اللہ پاک کی طرف سے انبیاء کرام علیہ الصلاۃ
والسلام کو کی جانے والی وحی ہے کیونکہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم سے تمام چیزیں
روشن اور پختہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآن کریم اتارا، آخری نبی صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم قرار دیا اور قرآن کی وضاحت و تشریح
کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو سونپی۔ آپ صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حدیثوں کے ذریعے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے سعادت و
سلامتی کے راستوں کو روشن فرمایا۔
آئیے حدیث کی عظمت و اہمیت کو چند طریقوں سے سمجھنے کی
کوشش کرتے ہیں:
(1)قرآن کریم سے حاصل ہونے والے حکم کو صحیح طریقے سے
عمل میں لانے کے لیے حدیث مبارکہ کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔قرآن مجمل ہے حدیث
پاک اس کی تفصیل ہےایسے بہت سارے احکام ہیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں مگر ان کو
ادا کرنے کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا جیسے نماز اور زکوٰۃ کا حکم قرآن پاک میں
موجود ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ادا کیسے کرنا ہے۔ ایسے تمام احکام
مجملاتِ قرآن کہلاتے ہیں اور مجملاتِ قرآن کی تفصیل کے لیے حدیث و سنت کی ضرورت
ہوتی ہے۔( مقدمہ ضیاء القاری، پہلا باب، ص 38 تا 39)
آیاتِ قرآن سے حاصل شدہ قاعدہ:قرآن
کریم میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔( پارہ 4، سورۃ
النساء: 23)حدیث میں اسے بطور قاعدہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ جو رشتہ نسب سے حرام
ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔( مسلم، ص 583، حدیث 3568)
(2) قرآن و حدیث کے باہمی تعلق سے متعلق بزرگانِ دین کے
اقوال:وضاحت قرآن کریم کے لیے سنت یعنی حدیث کی ضرورت ۔امام
مکحول دمشقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سنت کو قرآن کی جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ
قرآن کو سنت کی ضرورت ہے یعنی سنت قرآن کی مراد کو واضح کرتی ہے۔( الکفایہ ص 23،
جامع بیان العلم 2/1194)
حدیث تفسیر قرآن ہے:حضرت
حسان بن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
وسلم پر حضرت جبرئیل علیہ السلام قرآن لے کر نازل ہوتے اور سنت یعنی حدیث اس کی
تفسیر کرتی۔ (الکفایہ ص 24)
اسی طرح امام عبدالرحمن مہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
حدیث قرآن کی تفسیر ہے۔(الکفایہ ص 25)
گمراہی پہچاننے کا اصول:امام ایوب
سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب تم کسی کے سامنے سنت بیان کرو اور وہ کہے ہمیں
قرآن سے بتاؤ تو جان لو کہ وہ گمراہ ہے۔(الکفایہ ص 25)
حدیث کی ضرورت کھانے پینے سے زیادہ ہے:امام
عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بندے کو حدیث کی ضرورت کھانے پینے سے
زیادہ ہے۔(الکفایہ ص 25)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فرامین:میں
تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ
ہو گے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔( موطا امام مالک 2/400، حدیث 1708)
عہدِ نبوی میں حدیث کی حفاظت و اشاعت:رسول
اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو حدیث پہنچانے
کی ذمہ داری سونپی اور فرمایا کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے۔(مجمع
الزوائد 1/356، حدیث 592)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حدیث میں
جھوٹ باندھنے سے سختی سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ
کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔( بخاری 2/462، حدیث 3461)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خطبات بھی حدیث
کی اشاعت کا بڑا ذریعہ بنے، خاص طور پر خطبۂ حجۃ الوداع جسے صحابہ کرام نے پوری دنیا
تک پہنچایا۔اس پورے مضمون سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دینِ اسلام میں صحیح اور
محفوظ رہنمائی کا اصل ذریعہ وحیِ الٰہی ہے جو قرآنِ کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم کی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ قرآن مجید احکامِ الٰہی کا اصل
سرچشمہ ہے مگر ان احکام کو سمجھنے، ان کی درست تشریح کرنے اور ان پر عملی طور پر
عمل کرنے کے لیے حدیث و سنت ناگزیر ہیں۔ بزرگانِ دین کے اقوال اور نبی کریم صلی
اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرامین اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ قرآن اور حدیث
ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم لازم و ملزوم ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے
حدیث کی حفاظت اور اشاعت میں جو محنتیں کیں وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ سنت کو دین میں
بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا جو شخص قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
وہ گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے، اور جو کتاب و سنت دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھتا
ہے وہی دینِ اسلام کے صحیح راستے پر قائم رہتا۔
Dawateislami