آج کے زمانے میں جہاں ہر طرف فتنے ہی فتنے پائے جارہے ہیں
تو اُن فتنوں کا صدِ باب کرنے کے لئے جہاں قرآن امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے تو یوں
وہیں ان فتنوں سے بچنا بغیر علم حدیث کے ممکن نہیں ۔قرآن کے بعد حدیث ہی وہ فن ہے
جس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے ذریعے ہم اوامر اور نواہی جان سکتے ہیں یہی
وجہ ہے کہ علم حدیث آج کے زمانے بہت اہم موضوع ہے نیز فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم سے بالکل درکنار ہوکر اسے ترک کردینا نقصان کا باعث ہے۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے انکارحبّ النبی صلی الله علیہ
وسلم اور اطاعت رسول صلی الله علیہ وسلم کے جذبے سے سرشار کوئی بھی صاحبِ علم شخص
نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ حدیثِ نبوی امت اسلامیہ کے لیے ایک ناگزیر حقیقت اور اس کے
وجود کے لیے ایک لازمی شرط ہے، اس کی حفاظت، ترتیب وتدوین، حفظ اور نشر واشاعت کے
بغیر امت کا یہ دینی وذہنی، عملی اور اخلاقی دوام وتسلسل برقرار نہیں رہ سکتا تھا۔
علمِ حدیث کا تعارف:مشہور
حنفی مُحدِّث اور فقیہ علامہ عینی (متوفی855ھ) علم حدیث کی تعریف کرتے ہوئے صحیح
بخاری کی مشہور اور ضخیم شرح ” عمدہ القاری“ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:”فھو علم یعرف بہ أقوال رسول الله صلی الله علیہ وسلم
وأفعالہ وأحوالہ․“(
مقدمہ عمدة القاری، ص11، طبع ادارة الطباعۃالمنیریہ)
بعض محدثین نے حدیث کے معنی میں وسعت پیدا کی ہے اور علم
حدیث کا تعارف اس طرح سے کیا ہے : ”ماأثر عن
النبيصلی الله علیہ وسلم من قول أو فعل أو تقریر أو صفة خِلقیة أو خُلقیة أو سیرة،
سواء کان قبل البعثة أوبعدھا․“یعنی جو کچھ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہو
وہ حدیث ہے خواہ قول وفعل یا تقریر ہو، یا جبلی یا اخلاقی صفات ہوں، یا قبل از
نبوت یا مابعد کی سیرت مبارکہ ہو۔(دکتور مصطفی سباعی، السنة ومکانتھا فی التشریع
الاسلامي، ص:57)
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت
کو اللہ کی اطاعت قرار دیا۔
ارشاد ہے: مَنْ
یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ
کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء، آیت:
۸۰)
رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی یہی قرار دیا کہ ان کی اطاعت
کی جائے ۔
فرمایا: وَ
مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ ترجمہ
کنزالایمان: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی
اطاعت کی جائے ۔(سورۃ نساء، آیت:۲۴)
Dawateislami