محمّد
کلیم (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،حضرو اٹک ، پاکستان)
مطالعہ حدیث کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ قرآن کے ساتھ دین
کا دوسرا لازمی ستون ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر سے ہمیں دین کا
عملی طریقہ سکھاتی ہے، گمراہی سے بچاتی ہے، اور زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی
فراہم کرتی ہے، جس کے بغیر مسلمانوں کیلئے دنیا و آخرت میں کامیابی ممکن نہیں۔
(1) مطالعہ حدیث کی ضرورت :قرآن کی
عملی تشریح: حدیث ہمیں قرآن کے احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کا عملی طریقہ
سکھاتی ہے، جیسے نماز کیسے پڑھیں یا زکوٰۃ کیسے ادا کریں۔
(2) گمراہی سے حفاظت: یہ
مسلمانوں کو بدعات اور گمراہ کن نظریات سے بچاتی ہے۔
(3) سیرتِ نبوی کا فہم:حدیث
کے ذریعے ہم نبی کریم ﷺ کی زندگی، سیرت اور دعوتِ دین کے طریقوں کو سمجھتے ہیں، جو
ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے لیے نمونہ ہے۔
(4) دین کی تکمیل: یہ دین کو مکمل کرتی
ہے، کیونکہ دین کا ایک بڑا حصہ صرف سنت سے ہی معلوم ہوتا ہے۔
(5) مطالعہ حدیث کی اہمیت:دین
اسلام میں حدیث نبوی ﷺ کی اہمیت و مرتبہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہے اور قرآن پاک نے
خود اس کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا:بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)
ترجمہ کنزالایمان :روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے
محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف
اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔( پارہ 14 سورة النحل آیت 44)
اس آیت کے بعد سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کا دامن تھامنا
بہت ضروری ہے۔ایمان کی تکمیل یہ ایمان کے دو پروں میں سے ایک ہے، جو مومن کو پرواز
نہیں کرنے دیتا، اور اس کے بغیر مومن نامکمل ہے۔
(6) ہدایت کا ذریعہ:حدیث
اللہ کے نبی کے راستے پر چلنے کا ذریعہ ہے، جو ہمیں دنیا و آخرت کی فلاح کی طرف لے
جاتی ہے۔
(7) علمِ دین کا بنیادی ماخذ:یہ دین
کے بنیادی مصادر میں سے ایک ہے، جس میں ہمیں اللہ کے دین کے احکامات اور احکام کی
تفصیل ملتی ہے۔
(8) اعلیٰ مقام:حدیث کا مطالعہ کرنے سے
انسان دین کی گہرائی سمجھتا ہے اور علم کے اعلیٰ درجات تک پہنچتا ہے، جو اسے بدعات
سے محفوظ رکھتا ہے۔
Dawateislami