حديث کا لغوی معنی بات کرنا، گفتگو کرنا، وغیرہ کے ہیں۔اصطلاحی
معنی : حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال افعال ، تقریرات اور احوال کو حدیث کہتے ہیں۔
حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین
اقسام ہیں۔ (1) حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔
حدیث قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی
کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی حدیث کہلاتی ہے۔
حدیث فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا
تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔
حدیث تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ
کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا
ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔
حدیث اور سنت میں فرق:
(1) حدیث میں حضور اکرم ﷺ کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔
(2)حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل
پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ ﷺ کا طریقۂ زندگی ہے ۔
حدیث کی اہمیت اور اس کی دینی حیثیت :جس
طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث
بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا
حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔
(1)رسول اللہ ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی،
ارشاد باری تعالی ہے:
لَقَدْ
كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ تَرجَمۂ
کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔( سورہ الاحزاب آیت ۲۱)
قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان
کو ہر معاملے میں رہنمائی رسول اللہ ﷺ سے ملتی ہے ۔
(2)اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ
تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا
ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔
Dawateislami