حدیثِ رسول ﷺ دینِ اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے۔ قرآنِ مجید کے بعد شریعت کو سمجھنے، احکام کو جاننے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت پر عمل کرنے کے لیے حدیث کا علم نہایت ضروری ہے۔ مطالعہ حدیث دراصل نبی ﷺ کی زندگی، اقوال، افعال، اور تعلیمات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے، جو ایک مسلمان کو صحیح عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

(1)امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اگر میں کسی حدیث کو صحیح جان لوں تو وہی میرا مذہب ہے۔ (النووی، المجموع، جلد 1، صفحہ 63)

(2)امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول:ہر شخص کا قول رد کیا جا سکتا ہے سوائے نبی ﷺ کے۔(اعلام الموقعين، ابن قیم، جلد 1، صفحہ 40)

(3) حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حدیث ہمارے لیے میزان ہے، جو حدیث کے مطابق ہو وہی قبول ہے۔(جامع بیان العلم، جلد 2، صفحہ 153)

مطالعہ حدیث کی ضرورت:قرآن کے کئی احکام کی تفصیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے، جیسے نماز کی تعداد، زکوٰۃ کی مقدار، حج کے مناسک وغیرہ۔

حدیث سیرتِ رسول ﷺ کا اصل ذریعہ ہے، جس سے ہم نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپناتے ہیں۔

ایمان، عقائد، عبادات، اخلاق، اور معاملات کی درستگی کے لیے حدیث کا فہم ضروری ہے۔ فتنوں اور بدعات سے بچنے کے لیے مستند احادیث کا مطالعہ انسان کو راہِ حق پر قائم رکھتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مطالعہ حدیث ایک مسلمان کی دینی، اخلاقی اور عملی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے سنت کی روشنی درکار ہے، اور سنت کا اصل ماخذ حدیث ہے۔ بزرگانِ دین نے ہمیشہ حدیث کے علم کو سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔ آج کے دور میں، جب دین پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، مطالعہ حدیث ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نبی کریم ﷺ کی اصل تعلیمات سے جوڑتا ہے اور گمراہی سے بچاتا ہے۔