یہ بات ہر دین دار مسلمان کو معلوم ہے کہ دین کے اصول وفروع عقائد و اعمال سب کی بنیا د قرآن واحادیث ہیں اجماع امت اور قیاس کی بنیاد بھی قرآن و حدیث ہی پر رکھی جاتی ہیں اور اجماع و قیاس بھی قرآن وحدیث کے فراہم کردہ اصول کے مطابق ہوں تبھی مقبول ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح قرآن کے احکام پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا لازم و ضروری ہوتا ہے اسی طرح احادیث پربھی ضروری ہے احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان کا دعوی محض دعوی بلا دلیل ہو گا اس لیے کہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنز الایمان : جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔ (سورۃ النساء، آیت 80)

ایک اور جگہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔(النساء:64)

اسی طرح اللہ تعالٰی نے کئی مقامات پر فرمایا :کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو واجب الاتباع نہ ماننا ان آیتوں کے انکار کے قائم مقام ہوا اور قرآن کی کسی آیت کا انکار یقینا کفر ہےاسی طرح بہت سے وہ احکام ہیں جو قرآن میں واضح طور پر مذکور نہیں صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اور وہ بھی قرآن کی طرح واجب العمل قرار پائے:مثلاً: (1)اذان کا قرآن میں ذکر مذکور نہیں کہ نماز کے لیے اذان دی جائے مگر اذان عہد رسالت سے لے کر آج تک اسلام کا شعار رہی ہے اور رہے گی ۔

(2) اسی طرح نماز جنازہ کا حکم قرآن میں مذکور نہیں ہے۔(3) بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم کہیں نہیں مگر تحویل قبلہ سے یہی نماز کا قبلہ تھا یہ صرف ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔(4) جمعہ و عیدین کے خطبے کا کہیں ذکر قرآن میں مذکور نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے۔

یہ صرف اسی بنا پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول پر بھی اعتقاد واجب ہے اس میں بھی کوتاہی کی وہی سزا ہے۔ جو قرآن کے فرمودات میں کوتاہی کی ہے سزا ہے۔