حدیثِ نبوی ﷺ قرآنِ مجید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کے احکامات

اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں جبکہ ان کی عملی تشریح ہمیں احادیثِ مبارکہ سے ملتی ہے۔ اگر حدیث کا مطالعہ نہ کیا جائے تو دین کی صحیح سمجھ ممکن نہیں رہتی۔

اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے اور حدیثِ رسول ﷺ اس ضابطے کی عملی شکل ہے۔ قرآن مجید میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے احکامات موجود ہیں مگر ان کی تفصیل احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہے۔

مطالعۂ حدیث سے ہمیں نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ ﷺ سچائی، صبر، رحم دلی اور انصاف کی بہترین مثال تھے۔

حدیث نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر کا مجموعہ ہے۔ یہ ہمیں قرآن کے احکامات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ بغیر حدیث کے دین کی صحیح تشریح ممکن نہیں۔

مطالعۂ حدیث انسان کی اصلاحِ نفس کرتا ہے۔ اس سے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ ہماری روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتی ہے۔ کھانے پینے، سونے جاگنے، بات چیت، تجارت اور گھریلو معاملات تک ہر چیز میں سنت موجود ہے۔

مطالعۂ حدیث سے انسان اپنی عملی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اچھا انسان، اچھا پڑوسی اور اچھا شہری بننے کا درس دیا ہے ۔

حدیثِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کی روح ہے۔ اس کے بغیر نہ دین مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی اخلاق۔ مطالعۂ حدیث ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مضبوط تعلق عطا کرتا ہے۔

احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک مسلمان کا کردار کیسا ہونا چاہیے۔ سچ بولنا، امانت داری، عدل و انصاف اور نرم دلی حدیث کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔

اللہ پاک ہمیں احادیث کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


حديث کا لغوی معنی بات کرنا، وغیرہ ہے حدیث کا اصطلاحی معنی : حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال افعال ، تقریرات اور احوال کو حدیث کہتے ہیں۔

حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1) حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔

حدیث قولی : وہ روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی حدیث کہلاتی ہے۔

حدیث فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔

حدیث تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی اہمیت و ضرورت :جس طرح قران کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے(1)اسوہ رسول ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)

اگر کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہیں چلتا تو وہ قرآن کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(الحشر:7)

الله تعالی نے اہل ايمان سے مخاطب ہو کر جہاں اپنی اطاعت کو لازم قرار دیا وہیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی اطاعت بھی لازم قرار دی ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔(النسا:59)

قرآن پاک کو تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍترجمہ کنز الایمان : ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (پ سورة النحل آیہ 89)

اور حضور ﷺ کے متعلق فرمایا: لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ترجمہ کنز الایمان : کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا۔(پارہ 14 سورة النحل آیت 44)

لہٰذا حضور ﷺ قرآن پاک کے شارح ہیں دین اسلام میں حدیث نبوی ﷺ کی اہمیت و مرتبہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہے اور قران پاک نے خود اس کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا:بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)ترجمہ کنز الایمان:روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔( سورة النحل آیت 44)

اس آیت کے سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کا دامن تھامنا بہت ضروری ہے۔

صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان اپنے پیارے آقا ﷺ کی احادیث مبارکہ کو زبانی یاد کرتے اور بعض صحابہ کرام احادیثِ مبارکہ کو لکھا بھی کرتے تھے۔(منھج النقد فی علوم البحدیث ص 48 ، مطبوعہ دارالفکر)

منکرین حدیث خود سنت کو قبول کرتے ہیں اور خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ نماز کی کیفیت رکعتیں، زکوٰة کا نصاب اور اس کی مقدار وغیرہ بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جن پر قرآن پاک سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہوتی اور یہ چیزیں حضور علیہ السلام کی احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ (منھج النقد فی علوم الحدیث ص ۳۴، مطبوعہ دارالفکر)


جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔

(1)اسوہ رسول ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)

قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان کو ہر معاملے میں رہنمائی اسوہ رسول ﷺ سے ملتی ہے ۔

(2)اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی ضرورت و اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ حدیثِ نبوی ﷺ قرآن کے بعد اسلام کا دوسرا اہم ماخذ ہے۔ ذیل میں اس کی ضرورت و اہمیت مختصراً بیان کی جا رہی ہے:

مطالعہ حدیث کی ضرورت:

(1) قرآن کی تشریح کے لیے: قرآن کے کئی احکام کو سمجھنے کے لیے حدیث ضروری ہے، جیسے نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ کی تفصیلات حدیث سے ملتی ہیں۔

(2) اسلامی احکام کی وضاحت: نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال سے ہمیں عملی زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔

(3) دینی تعلیمات کی جامع تفہیم: حدیث اسلامی عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، اور معاشرت کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

(4) سنتِ رسول کی پیروی کے لیے:سنت کی معرفت کے بغیر سیرت پر عمل ممکن نہیں، اور سنت حدیث سے حاصل ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی اہمیت:

(1) نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا: نبی ﷺ کی حدیث پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اُن سے محبت کا عملی اظہار ہے۔

(2) ہدایت کا ذریعہ: قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل کرنا ہی مکمل ہدایت ہے۔

(3) علم و فہم میں اضافہ: حدیث کا مطالعہ انسان کے دینی علم میں گہرائی اور پختگی لاتا ہے۔

(4) فتنوں سے بچاؤ: آخری زمانے کے فتنوں سے نجات کے لیے حدیث کا علم ضروری۔


اسلام کی حقیقی سمجھ اور اس پر درست عمل کے لیے قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حدیثِ رسول ﷺ کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔قرآن مجید احکام کی اصل بنیاد ہے اور حدیثِ نبوی ﷺ اُن احکام کی عملی تشریح، توضیح اور تطبیق ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت خود رب کریم کی اطاعت ہے جیسا کہ فرمانِ خداوندی ہے :وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز العرفان: اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں ۔ (سورۃ الحشر: 7)

یعنی رسولِ کریم ﷺ تمہیں جو حکم دیں اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَﷺ کی اطاعت واجب ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔( مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۲۲۴، ملتقطا)

رسول کریم ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے جیسا کہ فرمانِ الہی عزوجل ہے : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃ النساء: 80)

شانِ نزول:آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ سرورِکائنات ص ﷺ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی، اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰی ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رب ماناہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے رد میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ﷺ کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ بے شک رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱ / ۳۶۲)

مطالعۂ حدیث انسان کو دینی بصیرت عطا کرتا ہے۔ آج کے دور میں بہت سے فکری ابہام اور عملی کوتاہیاں محض اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ قرآن کو اپنی عقل کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سنتِ رسول ﷺ سے رہنمائی نہیں لیتے حالانکہ سنت سے وابستگی نجات کا راستہ ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِيیعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گےاللہ کی کتاب اور میری سنت۔(موطا امام مالک، رقم الحدیث: 1594)

یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہدایت کی ضمانت کتاب و سنت سے وابستگی میں ہے۔ مطالعۂ حدیث کے بغیر سنت سے حقیقی وابستگی ممکن نہیں، اور سنت کے بغیر دین ادھورا رہ جاتا ہے۔مطالعۂ حدیث کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے محبتِ رسول ﷺ دل میں راسخ ہوتی ہے۔جب ایک مسلمان احادیث میں رسولِ کریم ﷺ کی اپنی امت پر شفقت و محبت پڑھتا ہے تو دل خود بخود آپ ﷺ کی محبت سے بھر جاتا ہے اور یہی محبت ایمان کی جان ہے اور نبی کریم ﷺ نے خود حدیث سننے ، یاد رکھنے اور حدیث کی نشر و اشاعت کی ترغیب دلائی۔

حدیث سیکھنے کی ترغیب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَا

ترجمہ: اللہ کریم اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور پھر جیسے سنی ویسے ہی آگے پہنچا دی۔(سنن ترمذی، رقم الحدیث : 2656)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث سیکھنا، سمجھنا اور آگے پہنچانا باعثِ برکت ہے۔ تاہم مطالعۂ حدیث ہمیشہ مستند کتب اور اہلِ علم کی رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ فہم میں اعتدال اور عمل میں درستگی باقی رہے۔

اعلیٰ حضرت اور حدیثِ پاک کا مُطَالعہ:ایک بار سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ سے پوچھا گیا: آپ نے حدیثِ پاک کی کون کون سی کتابیں دَرْس کی (یعنی پڑھی، پڑھائی) ہیں؟ اس پر اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے پہلے تو علمِ حدیث کی چند کتابوں کے نام گنوائے مثلاً مُسْنَدِ امامِ اعظم، مؤطا امام محمد، کتابُ الآثار، کتابُ الخراج، شرح مَعانیُ الآثار، مؤطا امام مالک، مسندِ شافعی، مسندِ امام احمد، سُننِ دارمی، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ، بُلُوغُ المرام، عَمَلُ الْیَوْم وَ اللَّیْلَۃ، الترغیب و الترہیب یُوں کتابوں کے نام گنوانے کے بعد فرمایا: یہ اور ان سمیت علمِ حدیث کی 50سے زائِد کتابیں میرے دَرْس و تَدْریس اور مُطَالعہ میں رہیں۔(جہانِ امام احمد رضا، 10/462)

سُبْحٰنَ اللہ! 50 سے زائِد کتابیں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے دَرْس و تَدْریس اور مُطَالعہ میں رہی ہیں۔ بظاہِر شاید محسوس ہو رہا ہو کہ ”صِرْف 50 کتابیں!“اگر ان کتابوں کی تفصیلات میں جائیں تو یہ صِرْف نہیں ہے،50کتابوں کا مطلب ہے:ہزاروں صفحات اور لاکھوں حدیثیں۔ یہ چند کتابیں جن کے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے نام گنوائے ہیں، صرف ان کی ہی تفصیل دیکھی جائے تو یہ ٹوٹل:49 جلدیں ہیں، جن کے کل صفحات 29 ہزار 900سے زائد اور ان میں کل احادیث1 لاکھ34 ہزار سے زائد ہیں۔اللہ کریم ہمیں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کا فیضان تا حیات عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید احکامِ الٰہی کا بنیادی ماخذ ہے، جبکہ احادیثِ نبویہ ﷺ ان احکامات کی تشریح، توضیح اور عملی صورت پیش کرتی ہیں۔ اس لیے حدیث کا مطالعہ دین کی صحیح فہم کے لیے ناگزیر ہے۔

حدیث کا مفہوم:حدیث سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، تقریر اور اوصاف ہیں۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے، جو حدیث کی حجیت پر واضح دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (سورۃ الحشر، آیت: 7)

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰)ترجمہ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا ۔(سورۃ النساء، آیت: 80)

نبی کریم ﷺ نے اپنی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم فرمایا:فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ

پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4607)

شریعت کی تفہیم میں حدیث کا کردار:قرآنِ مجید میں عبادات کے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی تفصیل ہمیں حدیث سے ملتی ہےصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّينماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔(صحیح البخاری، حدیث: 631)

اخلاقی و معاشرتی اصلاح میں حدیث کی اہمیت:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِمجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں بہترین اخلاق کو مکمل کر دوں۔"(موطا امام مالک، حدیث: 1614)

عصرِ حاضر میں مطالعۂ حدیث کی ضرورت:موجودہ دور میں فتنوں اور فکری انتشار کے ازالے کے لیے حدیث کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ حدیث قرآن کی صحیح تفہیم اور شریعت پر درست عمل کا ذریعہ ہے۔

مطالعۂ حدیث دینِ اسلام کی روح ہے۔ قرآن کو سمجھنا، شریعت پر عمل کرنا اور اخلاقی تربیت حاصل کرنا حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنائے اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔


مطالعۂ حدیث دینِ اسلام کی فکری و عملی بنیادوں کو سمجھنے کا وہ مبارک ذریعہ ہے جس کے بغیر فہمِ قرآن بھی ادھورا رہتا ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں اصول عطا فرمائے، وہیں حضور اکرم ﷺ نے اپنے اقوال، افعال اور تقریرکے ذریعے ان اصولوں کی عملی تشریح فرمائی۔ حدیث دراصل وحیِ غیر متلو ہے جو امت کے لیے ہدایت، اصلاح اور تزکیۂ نفس کا خزانہ ہے۔ جو شخص حدیث کا ذوق پیدا کر لیتا ہے، وہ صرف معلومات نہیں سمیٹتا بلکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو میں اپنی زندگی کو ڈھال لیتا ہے۔ اسی لیے ائمۂ امت نے علمِ حدیث کو علومِ اسلامیہ میں مرکزی مقام عطا کیا اور اس کے تحفظ، فہم اور اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

علم کی طلب اور حدیث کا مقام:حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ یعنی اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 71؛ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر 1037)۔

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی گہری سمجھ، جس کا بڑا ذریعہ حدیث ہے، اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے۔ مطالعۂ حدیث انسان کو محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے حکمت، بصیرت اور توازن عطا کرتا ہے، جس سے اس کی عبادت بھی با معنی ہو جاتی ہے اور معاملات بھی سنور جاتے ہیں۔

حدیث قرآن کی عملی تفسیر:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (سورۃ الحشر: 7)

اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ رسول ﷺ کے فرامین یعنی احادیث، شریعت میں مستقل حجت ہیں۔ مطالعۂ حدیث دراصل اسی الٰہی حکم کی تعمیل ہے جس کے بغیر اطاعتِ رسول کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔

حدیث سے محرومی اور گمراہی:حضور اکرم ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ (موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر 1594)

یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ سنت یعنی حدیث سے وابستگی گمراہی سے بچاؤ کی ضمانت ہے۔ جو قوم حدیث کے مطالعے سے غافل ہو جاتی ہے وہ رفتہ رفتہ فکری انتشار اور عملی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔

علمِ حدیث اور امت کی فضیلت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَا یعنی اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور جیسے سنی تھی ویسے ہی آگے پہنچا دی۔ (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث نمبر 2657)

اس حدیث میں اہلِ حدیث اور مطالعۂ حدیث کرنے والوں کے لیے عظیم بشارت ہے۔ حدیث کا پڑھنا، سمجھنا اور آگے پہنچانا محض علمی مشغلہ نہیں بلکہ دعائے مصطفیٰ ﷺ کا مصداق بننے کا ذریعہ ہے۔

مطالعۂ حدیث محض کتاب بینی نہیں بلکہ نسبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرنے کا عمل ہے۔ جو آنکھ حدیث پڑھتے ہوئے بھیگ جائے، جو دل حدیث سنتے ہوئے جھک جائے اور جو عمل حدیث کے مطابق سنور جائے، وہی مطالعۂ حدیث کا حقیقی ثمر ہے۔ ایسی زندگی دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہے اور یہی وہ شان ہے جس پر اہلِ ذوق رشک کرتے ہیں۔


          مطالعہ حدیث کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ قرآن کے بعد دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے، جو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، تعلیمات اور سیرت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ہم گمراہی سے بچتے ہیں، دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور دین پر صحیح عمل کی توفیق پاتے ہیں۔

(1) قرآنِ مجید کی تشریح کے لیے حدیث کی ضرورت:قرآنِ کریم میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، ان کی تفصیل رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے ملتی ہے، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے طریقے۔

(2) رسول اللہ ﷺ کی اطاعت حدیث کے بغیر ممکن نہیں قرآنِ مجید نے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے۔

(3) حدیث، عملی نمونہ نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت، قرآن کی عملی تصویر ہے۔ حدیث کے بغیر عملی اسلام نامکمل ہے۔

(4) دین میں گمراہی سے بچاؤ:حدیث سے دوری بدعت اور گمراہی کا سبب بنتی ہے، جبکہ حدیث سے وابستگی دین کو محفوظ رکھتی ہے۔

(5) شریعت کے احکام کا عملی نفاذ:حلال و حرام، معاملات، اخلاق اور عبادات کے عملی اصول حدیث سے ہی واضح ہوتے ہیں۔مطالعۂ حدیث کے بغیر،قرآن کی صحیح تشریح ممکن نہیں،سنت پر عمل ادھورا رہتا ہے،دین میں گمراہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہےاسی لیے ائمہ امت نے حدیث کو دین کی بنیاد قرار دیا۔

آخر میں یہ بات واضح ہے کہ مطالعۂ حدیث دین کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حدیث نبوی ﷺ ہمیں قرآن کے احکام کی عملی صورت دکھاتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جو شخص حدیث سے وابستہ رہتا ہے وہ سنت کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مستند احادیث کا باقاعدہ مطالعہ کرے اور اپنی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالے۔


اسلام ایک کامل دین اور مکمل نظام زندگی ہے جس کی بنیاد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہے اہل سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں قرآن مجید ہمیں احکام الہی کا اجمالی بیان دیتا ہے جبکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کی تشریح توضیح اور عملی صورت ہمارے سامنے رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مطالعہ حدیث کو دین کی بنیاد اور شریعت کی روح قرار دیا گیا ہے۔امام اہل سنت، مجددِ دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی اصل ہے اور اس کے بغیر نہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس پر عمل ممکن ہے۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 1، ص 186)

یہ ارشاد اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حدیث سے بے نیاز ہو کر دین کو سمجھنے کا تصور خود اہل سنت کے نزدیک باطل ہے۔

قرآن کی شرح اور حدیث کی حیثیت:اہل سنت کے نزدیک حدیث قرآن مجید کی باقاعدہ شرح ہے صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:قرآن کے احکام کو سمجھنے کے لیے حدیث کا سہارا لینا فرض کے درجہ میں ہے، کیونکہ شریعت کے اکثر مسائل حدیث ہی سے ثابت ہیں۔(بہار شریعت، حصہ اول، ص 6)

نماز روزہ زکوۃ اور حج جیسے بنیادی ارکان کی تفصیلات حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں اگر کوئی حدیث کو نظر انداز کرے تو وہ دراصل شریعت کے عملی پہلو کو معطل کر دیتا ہے۔

سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث:حدیث مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا آئینہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق معاملات عبادات عفو و درگزر اور عدل و انصاف کا مکمل نقشہ ہمیں حدیث ہی کے ذریعے ملتا ہے ۔

اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تقاضا سنت پر عمل اور حدیث سے وابستگی ہے۔

ایمان کی حفاظت اور فتنوں کا علاج:آج کے دور میں گمراہ فرقے حدیث کا انکار یا من مانی تاویل کر کے امت کو انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں ایسے حالات میں حدیث صحیحہ ہی وہ مضبوط قلعہ ہے جو ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔

مطالعہ حدیث انسان کو فتنوں اور گمراہیوں سے بچاتا ہے اور اہلسنت کے صراط مستقیم پر قائم رکھتا ہے۔

عام مسلمانوں کے لیے مطالعہ حدیث:یہ خیال کرنا کہ حدیث کا علم صرف علما کے لیے ہے درست نہیں اہل سنت کے اکابر نے ہمیشہ عام مسلمانوں کو بھی حدیث سے جوڑنے کی ترغیب دی ہے۔

گھروں میں حدیث کی کتابوں کا مطالعہ بچوں کو احادیث یاد کروانا اور سنتوں کو اپنانا معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔

مختصر یہ کہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک مطالعہ حدیث دین کی جان ایمان کی حفاظت اور عمل کی اصلاح کا ذریعہ ہے حدیث کے بغیر نہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے نہ شریعت پر صحیح عمل ممکن ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اکابر اہل سنت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں کہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔


قرآن حکیم کے بعد اسلامی احکام کا سب سے بڑا ماخذ احادیث نبویہ ہیں ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن حکیم کو سمجھنا، اس سے احکام اخذ کرنا ،اس پر عمل کرنا حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم کے بغیر ناممکن ہے، اور اگر شریعت اسلامی سے احادیث رسول ﷺ کو علیحدہ کیا جائے تو اسلامی تعلیمات کے ایک بڑے حصے سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔ کیونکہ صرف قرآن کریم سے ہر شخص احکام اخذ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو سمجھ سکتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں عبادت اور انسانی معیشت کے اصول اجمالا بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث رسول ﷺ کے بغیر ناممکن ہے اس لیے ایک مسلمان کے لیے قرآن وحدیث دونوں ہی واجب العمل ہیں ۔

قرآن کریم کتاب الٰہی ہے اور کوئی کتاب روشنی کے بغیر نہیں پڑھی جاتی اسی لیے انسان کے دل میں نور الٰہی یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ احادیث کے بغیر قرآن کریم کو سمجھنا کیسے مشکل ہے ۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نماز کا حکم دی کر فرمایا ہے۔

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ترجمہ کنز الایمان :اور نماز قائم رکھو۔(البقرۃ:43)

اب ہمیں کیا خبر کہ اَقِیْمُوا کے کیا معنی ہے اور الصَّلٰوةَ کی کیا معنی ہے اور یہ کس طرح سے ہم ادا کریں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل آسان ہو جائے تو معلوم ہوا کہ احادیث رسول ﷺ کے بغیر ہم نہیں جان سکتے ہیں اس لیے ہمیں حضور نبی کریم ﷺ سے نے بتایا کہ نماز کس کیفت کا نام ہے کہ لفظ الصَّلٰوةَ کا معنی قیام رکوع سجود کی ہئیت مقصود ہے، اذان سے لے کر جماعت تک کی تمام تفصیلات کا بیان ہمیں احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ۔اسی طرح جب اللہ تعالٰی نے ہمیں زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو فرمایا :

وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ ترجمہ کنز الایمان :اور زکوٰۃ دو۔(البقرۃ:43)

اس آیت میں صرف زکوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا یہ معلوم نہیں ہے کہ کس طرح سے ادا کی جائے اور یہ کس پر واجب ہے اور زکوٰۃ کو کن مصارف میں خرچ کرنا ہے یہ حکم مطلق ہے اور یہ ہمیں تب معلوم ہوگا جب ہم حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث کا مطالعہ کریں پھر پتا چلتا ہے کہ زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو شرط اس میں سال کا گزرنا ضروری ہے ۔اسی طرح حج وعمرہ کا علمی طریقہ ، میقات کون کون سے ہیں اور کس کے لیے کونسا ہیں اور احرام کہاں سے باندھنا ہے اور کس طرح باندھنا ہے ، المختصر ان تمام احکام کی تفصیل اور تعین قرآن مجید میں نہیں ملتی ،اور قرآن کریم کے بیان کردہ اصول واحکام کی تفصیل اور تعین صرف حضور نبی کریم ﷺ سے ملتی ہے عہدِ رسالت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ بیان زِبان رسالت سے حاصل ہوا اور بعد کے لوگوں کو یہی بیان احادیث نبوی سے حاصل ہو رہا ہے اور جو شخص ان احادیث کو معتبر نہیں مانتا اس کے پاس ، قرآن کریم ، کے مجمل و محکم واحکام کی تفصیل اور تعین کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہوگا ۔حضور ﷺ جس طرح معانی قرآن کے مبین اور معلم ہیں اسی طرح آپ بعض احکام کے شارح بھی ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آپ کی اس حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔

یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ ترجمہ کنز العرفان:اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں۔(سورۃ الاعراف :آیت: 157)

حضور ﷺ نے جن چیزوں کو حلال اور حرام کیا ہے قرآن میں کہیں ان کا ذکر نہیں ہے ان کا ذکر صرف احادیث رسول ﷺ سے ہی ممکن ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے شکار کرنے والے درندوں اور پرندوں کو حرام کیا ہے دراز گوش اور حشرات الارض کو حرام کیا اور ہمارے لیے ان احکام کا علم صرف احادیث رسول ﷺ سے ہی ممکن ہے اور اگر احادیث رسول ﷺ کو حجت نہ مانا جائے تو حلت و حرمت کے تمام احکام کے لیے شریعت اسلامیہ متکفل نہیں ہوگی ۔لہذا مطالعہ حدیث فقط علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ یہ ہر مسلمان کی دینی و دنیاوی ضرورت ہے۔ جو شخص حدیث کو سمجھے گا، وہ دین کو بہتر سمجھے گااور پھر وہ شخص اپنی عادات و اطوار اور اخلاق اور زندگی کو سنت کے مطابق گزارے گا اور جو حدیث سے دور ہوگا وہ دین کی اصل روح سے دور ہو جائے گا اور وہ شخص دین اور دنیا کی تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی احادیث کا مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہمارا معاشرہ سنتِ نبوی ﷺ سے مزین ہو سکے۔


آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، مگر رہنمائی سے محروم نظر آتا ہے۔ ہر طرف آرا کی بھرمار ہے، مگر عمل کی کمی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی چیز انسان کو سیدھا راستہ دکھا سکتی ہے تو وہ حدیثِ رسول ﷺ ہے۔ قرآنِ مجید کے بعد حدیث وہ معتبر ذریعہ ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کے احکامات کو عملی زندگی میں کیسے نافذ کیا جائے۔ مطالعۂ حدیث دراصل نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے جُڑنے کا نام ہے۔

‎‎قرآنِ مجید خود رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(الحشر:7)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حدیث کو نظرانداز کر کے دین کو سمجھنا ممکن نہیں۔

‎‎نماز، جو دین کا ستون ہے، اس کی ادائیگی کا مکمل طریقہ ہمیں حدیث کے ذریعے ہی ملتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ترجمہ: نماز اسی طرح ادا کرو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔(صحیح بخاری، کتاب الاذان، حدیث نمبر: 631)

یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ عبادات کی صحیح شکل سنتِ رسول ﷺ کے بغیر نامکمل ہے۔

مطالعۂ حدیث انسان کی صرف عبادات ہی نہیں بلکہ اس کے اخلاق و کردار کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد ہی اخلاق کی تکمیل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کو کامل کر دوں۔(موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، حدیث نمبر: 1614)

آج جب معاشرہ نفرت، عدم برداشت اور خود غرضی کا شکار ہے، حدیثِ رسول ﷺ ہمیں صبر، رواداری اور انصاف کا سبق دیتی ہے۔ جو شخص حدیث کا مطالعہ کرتا ہے، اس کے اندر دین کی صحیح سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِترجمہ: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر: 71؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1037)

نبی اکرم ﷺ نے امت کو قیامت تک گمراہی سے بچنے کے لیے ایک جامع اصول عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِيترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گےاللہ کی کتاب اور میری سنت۔(سنن بیہقی، حدیث نمبر: 20870)

‎‎حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ بازار، گھر، اسکول اور معاشرے میں بھی سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے عروج و زوال کا تعلق ہمیشہ حدیث سے وابستگی یا دوری کے ساتھ رہا ہے۔

مطالعۂ حدیث کے بغیر دین کی صحیح سمجھ ناممکن ہے۔ حدیث قرآن کی عملی تفسیر ہے اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مکمل نمونہ ہے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کر لیں تو نہ صرف ہمارے معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان، خصوصاً طلبہ اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حدیث کا باقاعدہ مطالعہ کریں اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔


حديث کا لغوی معنی بات کرنا، گفتگو کرنا، وغیرہ کے ہیں۔اصطلاحی معنی : حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال ،افعال ، تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔

حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1) حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔

حدیث قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی حدیث کہلاتی ہے۔

حدیث فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔

حدیث تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔

حدیث اور سنت میں فرق: حدیث میں حضور اکرم ﷺ کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ ﷺ کا طریقۂ زندگی ہے ۔

حدیث کی اہمیت اور اس کی دینی حیثیت :جس طرح قران کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔

اسوہ رسول ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔( سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)

قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان کو ہر معاملے میں رہنمائی اسوہ رسول ﷺ سے ملتی ہے ۔

اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ ۔(الاعراف 158)

(3)رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی حکمِ الہی کی خلاف ورزی :اگر کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہیں چلتا تو وہ قرآن اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(سورہ حشر:7)

اطاعتِ رسول ﷺ فرض ہے :الله تعالی نے اہل ايمان سے مخاطب ہو کر جہاں اپنی اطاعت کو لازم قرار دیا وہیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی اطاعت بھی لازم قرار دی، اس لئے اگر کوئی قرآن پر ایمان رکھے مگر حدیث کا انکار کردے تو یہ حکمِ الہی سے روگردانی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَتَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔(النساء:80)

علم حدیث کی بہت اہمیت ہے یوں سمجھئے کہ قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ یہ مومن کے دو پر ہیں جن میں سے ایک بھی کم ہو تو مومن پرواز نہیں کر سکتا ۔علم حدیث کے حاصل کرنے کی برکت سے مسلمان بدمذہبوں کی گمراہی سے محفوظ رہتا ہے ۔

رب تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا اور اس میں دین اور دنیا کی تمام چیزوں کا ذکر ہے تو پھر علم حدیث کو حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ذرا غور کیجئے حضرات ! قرآن پاک اگرچہ کامل و مکمل کتاب ہے لیکن اس کو کامل ومکمل سمجھانے والا ہونا چاہئے اور اس کو مکمل طور پر وہی سمجھا سکتا ہے کہ جس کے قلب اطہر پر یہ نازل ہوا ہو یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے اس سمجھانے کو حدیث کہیں گے ۔

علم حدیث، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک پہنچنے کا ایک مقبول ذریعہ ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کے قیمتی وقت دینا پڑتا ہے۔

اللہ رب العزت نے انسانی ہدایت کے لیے کتب و صحائف نازل فرمائے اور خاتم النبین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ پر آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کو نازل فرمایا۔

قرآن پاک کو تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍترجمہ کنز الایمان : ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (پارہ ۱۴، سورة النحل آیت 89)

اور حضور ﷺ کے متعلق فرمایا: لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ترجمہ کنز الایمان : کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا۔(پارہ 14 سورة النحل آیت 44)

لہٰذا حضور ﷺ قرآن پاک کے شارح ہیں اور آپ ﷺ کی احادیث قرآن پاک کی توضیح و تشریح ہے۔

دین اسلام میں حدیث نبوی ﷺ کی اہمیت و مرتبہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہے اور قران پاک نے خود اس کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا:بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

ترجمہ کنز الایمان: روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔(النحل:44)

اس آیت کے بعد سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کا دامن تھامنا بہت ضروری ہے۔

صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان اپنے پیارے آقا ﷺ کی احادیث مبارکہ کو زبانی یاد کرتے اور بعض صحابہ کرام احادیثِ مبارکہ کو لکھا بھی کرتے تھے۔(منھج النقد فی علوم البحدیث ص 48 ، مطبوعہ دارالفکر)

عقلی دلیل :منکرین حدیث خود سنت کو قبول کرتے ہیں اور خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ نماز کی کیفیت رکعتیں، زکوٰة کا نصاب اور اس کی مقدار وغیرہ بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جن پر قرآن پاک سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہوتی اور یہ چیزیں حضور علیہ السلام کی احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ (منھج النقد فی علوم الحدیث ص ۳۴، مطبوعہ دارالفکر)

ایک عاشقِ رسول سچا مسلمان کبھی یہ جرات نہیں کرسکتا کہ وہ حدیث نبوی پر اعتراض کرے مسلمان تو قال رسول اللہ ﷺ سنتے ہی سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔

تحقیق احکامِ شریعت کا سرچشمہ قرآن مجید ہے ۔ بلاشبہ قرآن مجید فرقانِ حمید کی صراحت (وضاحت) وہدایت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و اتباع ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، اطاعت و اتباع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، اطاعت و اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغیر احکام الہی عزوجل کی تفصیلات کا جاننا اور آیات خداوندی کا مقصد و مراد سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ کے پیارے حبیب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا اہم ترین ذریعہ احادیث مبارکہ ہیں۔

لہذا احادیث مبارکہ احکامِ شرع کا ماخذ (خزانہ) قرار پا گئی کہ یہ رسول محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ ووسلم کے احکام و فرامین اعمال، اور آیات ِ قرآنی کی مراد و تشریح سے باخبر ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔بلاشبہ احادیث مبارکہ سے باخبر ہونے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ایک بیّن صورت محمد مصطفی احمد مجتبی رسول کریم علیہ الصلوة والسلام کی اتباع و اطاعت ہے۔

دیکھتے ہیں کہ فرقانِ حمید ہمیں کیا ہدایت فرماتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔( آل عمران ،31)

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صدر الفاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ کی محبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہوگا جب آدمی پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع و فرما نبردار ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ محبت الہی عزوجل کا دعویٰ سید عالم علیہ الصلووة والسلام کی اتباع و فرمانبرداری کے بغیر ممکن ہی نہیں جو اس دعویٰ کا ثبوت دینا چاہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرلے۔ (تفسیر پارہ ۳، سورہ آل عمران آیت ۳۱)

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی ، عرض کیا گیا منکر کون ہے؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی جنت میں گیا، جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا۔ (رواہ البخاری، مشکوة المصابیح مراة المناجیح، صفحہ نمبر ۱۴۷، مطبوعہ قادری پبلشر)

تو ظاہر ہوا کہ احادیث کا علم حاصل کرکے اس پر عمل پیرا ہونا اللہ کا محبوب بننے بخشش کا ذریعہ حاصل کرنے اور جنت میں داخلے کا بھی سبب ہے۔


اسلامی شریعت کی عمارت دو بنیادی ستونوں پر استوار ہےکتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنتِ رسول ﷺ (حدیث) حدیث سے مراد نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرہیں۔ دینِ اسلام کی تفہیم، تشریح اور تکمیل کے لیے مطالعہ حدیث نہ صرف اہم ہے بلکہ ناگزیر ہے۔

(1) قرآن مجید کی تشریح و توضیح:قرآن مجید اصول و کلیات کی کتاب ہے، جبکہ حدیث ان کی تفصیل اور تشریح ہے۔ قرآن میں نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور حج کرنے کا حکم تو ہے، لیکن نماز کی رکعتیں، زکوٰۃ کا نصاب اور مناسکِ حج کی تفصیلات صرف احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود رسول اللہ ﷺ کے اس منصب کو بیان فرمایا ہے:

ترجمہ کنز الایمان: روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاریکہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔( سورۃ النحل: ۴۴)

لہٰذا، حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر مکمل عمل پیرا ہونا ناممکن ہے۔

(2) اطاعتِ رسول ﷺ کا تقاضا:اسلام میں اطاعتِ الٰہی کو اطاعتِ رسول ﷺ کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی امت کے لیے "اسوہ حسنہ" (بہترین نمونہ) ہے۔ آپ ﷺ کی پیروی اسی صورت ممکن ہے جب ہم آپ کی حیاتِ طیبہ اور ارشادات (احادیث) کا گہرا مطالعہ کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان: "جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔" (القرآن، سورۃ النساء: ۸۰)

اور مزید تاکید کی گئی:ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔( سورۃ الحشر: ۷)

(3) دین کی حفاظت اور گمراہی سے نجات:تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے حدیث سے دوری اختیار کی، وہ گمراہی کا شکار ہوئی۔ مطالعہ حدیث انسان کو بدعات اور خرافات سے بچاتا ہے اور دین کے اصل مزاج سے روشناس کراتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کی ہدایت کو کتاب اللہ اور سنت سے تمسک (مضبوطی سے پکڑنے) میں مضمر قرار دیا۔خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اور دیگر مقامات پر آپ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔"(موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث: ۳۳۳۸)

مختصر یہ کہ حدیثِ رسول ﷺ دین کا وہ ماخذ ہے جس کے بغیر اسلامی تعلیمات کا ڈھانچہ نامکمل رہتا ہے۔ یہ نہ صرف قرآن کی تفسیر ہے بلکہ قانون سازی کا مستقل ذریعہ بھی ہے۔ دورِ حاضر کے فکری انتشار میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کے لیے مطالعہ حدیث کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔