اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید احکامِ الٰہی کا بنیادی ماخذ ہے، جبکہ احادیثِ نبویہ ﷺ ان احکامات کی تشریح، توضیح اور عملی صورت پیش کرتی ہیں۔ اس لیے حدیث کا مطالعہ دین کی صحیح فہم کے لیے ناگزیر ہے۔

حدیث کا مفہوم:حدیث سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، تقریر اور اوصاف ہیں۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے، جو حدیث کی حجیت پر واضح دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (سورۃ الحشر، آیت: 7)

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰)ترجمہ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا ۔(سورۃ النساء، آیت: 80)

نبی کریم ﷺ نے اپنی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم فرمایا:فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ

پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4607)

شریعت کی تفہیم میں حدیث کا کردار:قرآنِ مجید میں عبادات کے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی تفصیل ہمیں حدیث سے ملتی ہےصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّينماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔(صحیح البخاری، حدیث: 631)

اخلاقی و معاشرتی اصلاح میں حدیث کی اہمیت:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِمجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں بہترین اخلاق کو مکمل کر دوں۔"(موطا امام مالک، حدیث: 1614)

عصرِ حاضر میں مطالعۂ حدیث کی ضرورت:موجودہ دور میں فتنوں اور فکری انتشار کے ازالے کے لیے حدیث کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ حدیث قرآن کی صحیح تفہیم اور شریعت پر درست عمل کا ذریعہ ہے۔

مطالعۂ حدیث دینِ اسلام کی روح ہے۔ قرآن کو سمجھنا، شریعت پر عمل کرنا اور اخلاقی تربیت حاصل کرنا حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنائے اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔