قرآن حکیم کے بعد اسلامی احکام کا سب سے بڑا ماخذ احادیث
نبویہ ہیں ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن حکیم کو سمجھنا، اس سے احکام اخذ کرنا ،اس
پر عمل کرنا حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم کے بغیر ناممکن ہے، اور اگر شریعت اسلامی سے
احادیث رسول ﷺ کو علیحدہ کیا جائے تو اسلامی تعلیمات کے ایک بڑے حصے سے ہاتھ دھونا
پڑے گا ۔ کیونکہ صرف قرآن کریم سے ہر شخص احکام اخذ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو
سمجھ سکتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں عبادت اور انسانی معیشت کے اصول اجمالا بیان ہوئے
ہیں جن کی تفصیلات احادیث رسول ﷺ کے بغیر ناممکن ہے اس لیے ایک مسلمان کے لیے قرآن
وحدیث دونوں ہی واجب العمل ہیں ۔
قرآن کریم کتاب الٰہی ہے اور کوئی کتاب روشنی کے بغیر نہیں
پڑھی جاتی اسی لیے انسان کے دل میں نور الٰہی یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی
ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ احادیث کے بغیر قرآن کریم کو سمجھنا کیسے مشکل ہے ۔جیسا کہ
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں نماز کا حکم دی کر فرمایا ہے۔
وَ
اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ترجمہ کنز الایمان :اور نماز قائم رکھو۔(البقرۃ:43)
اب ہمیں کیا خبر کہ اَقِیْمُوا کے کیا معنی ہے اور الصَّلٰوةَ کی
کیا معنی ہے اور یہ کس طرح سے ہم ادا کریں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل آسان ہو جائے
تو معلوم ہوا کہ احادیث رسول ﷺ کے بغیر ہم نہیں جان سکتے ہیں اس لیے ہمیں حضور نبی
کریم ﷺ سے نے بتایا کہ نماز کس کیفت کا نام ہے کہ لفظ الصَّلٰوةَ کا معنی قیام رکوع سجود کی ہئیت
مقصود ہے، اذان سے لے کر جماعت تک کی تمام تفصیلات کا بیان ہمیں احادیث کا مطالعہ
کرنے سے معلوم ہوتا ہے ۔اسی طرح جب اللہ تعالٰی نے ہمیں زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا
تو فرمایا :
وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ ترجمہ کنز الایمان :اور زکوٰۃ
دو۔(البقرۃ:43)
اس آیت میں صرف زکوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا یہ معلوم نہیں
ہے کہ کس طرح سے ادا کی جائے اور یہ کس پر واجب ہے اور زکوٰۃ کو کن مصارف میں خرچ
کرنا ہے یہ حکم مطلق ہے اور یہ ہمیں تب معلوم ہوگا جب ہم حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث
کا مطالعہ کریں پھر پتا چلتا ہے کہ زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو شرط
اس میں سال کا گزرنا ضروری ہے ۔اسی طرح حج وعمرہ کا علمی طریقہ ، میقات کون کون سے
ہیں اور کس کے لیے کونسا ہیں اور احرام کہاں سے باندھنا ہے اور کس طرح باندھنا ہے
، المختصر ان تمام احکام کی تفصیل اور تعین قرآن مجید میں نہیں ملتی ،اور قرآن کریم
کے بیان کردہ اصول واحکام کی تفصیل اور تعین صرف حضور نبی کریم ﷺ سے ملتی ہے عہدِ
رسالت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ بیان زِبان رسالت سے حاصل ہوا
اور بعد کے لوگوں کو یہی بیان احادیث نبوی سے حاصل ہو رہا ہے اور جو شخص ان احادیث
کو معتبر نہیں مانتا اس کے پاس ، قرآن کریم ، کے مجمل و محکم واحکام کی تفصیل اور
تعین کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہوگا ۔حضور ﷺ جس طرح معانی قرآن کے مبین اور معلم ہیں
اسی طرح آپ بعض احکام کے شارح بھی ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آپ کی اس حیثیت
کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔
یُحِلُّ
لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ ترجمہ
کنز العرفان:اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام
کرتے ہیں۔(سورۃ الاعراف :آیت: 157)
حضور ﷺ نے جن چیزوں کو حلال اور حرام کیا ہے قرآن میں کہیں
ان کا ذکر نہیں ہے ان کا ذکر صرف احادیث رسول ﷺ سے ہی ممکن ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ
نے شکار کرنے والے درندوں اور پرندوں کو حرام کیا ہے دراز گوش اور حشرات الارض کو
حرام کیا اور ہمارے لیے ان احکام کا علم صرف احادیث رسول ﷺ سے ہی ممکن ہے اور اگر
احادیث رسول ﷺ کو حجت نہ مانا جائے تو حلت و حرمت کے تمام احکام کے لیے شریعت
اسلامیہ متکفل نہیں ہوگی ۔لہذا مطالعہ حدیث فقط علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ یہ ہر
مسلمان کی دینی و دنیاوی ضرورت ہے۔ جو شخص حدیث کو سمجھے گا، وہ دین کو بہتر سمجھے
گااور پھر وہ شخص اپنی عادات و اطوار اور اخلاق اور زندگی کو سنت کے مطابق گزارے
گا اور جو حدیث سے دور ہوگا وہ دین کی اصل روح سے دور ہو جائے گا اور وہ شخص دین
اور دنیا کی تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی احادیث
کا مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہمارا معاشرہ سنتِ نبوی ﷺ
سے مزین ہو سکے۔
Dawateislami