محمد نواز(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
مطالعہ حدیث کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ قرآن کے بعد دین کا دوسرا بڑا ماخذ
ہے، جو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، تعلیمات اور سیرت کو سمجھنے میں
مدد دیتا ہے، جس سے ہم گمراہی سے بچتے ہیں، دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرتے ہیں،
اور دین پر صحیح عمل کی توفیق پاتے ہیں۔
(1) قرآنِ مجید کی تشریح کے لیے حدیث کی ضرورت:قرآنِ
کریم میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، ان کی تفصیل رسول اللہ ﷺ کی
احادیث سے ملتی ہے، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے طریقے۔
(2) رسول اللہ ﷺ کی اطاعت حدیث کے بغیر ممکن نہیں قرآنِ
مجید نے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے۔
(3) حدیث، عملی نمونہ نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت، قرآن کی
عملی تصویر ہے۔ حدیث کے بغیر عملی اسلام نامکمل ہے۔
(4) دین میں گمراہی سے بچاؤ:حدیث سے دوری بدعت اور گمراہی
کا سبب بنتی ہے، جبکہ حدیث سے وابستگی دین کو محفوظ رکھتی ہے۔
(5) شریعت کے احکام کا عملی نفاذ:حلال و حرام، معاملات،
اخلاق اور عبادات کے عملی اصول حدیث سے ہی واضح ہوتے ہیں۔مطالعۂ حدیث کے بغیر،قرآن
کی صحیح تشریح ممکن نہیں،سنت پر عمل ادھورا رہتا ہے،دین میں گمراہی کا خطرہ بڑھ
جاتا ہےاسی لیے ائمہ امت نے حدیث کو دین کی بنیاد قرار دیا۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ مطالعۂ حدیث دین کو صحیح طور
پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حدیث نبوی ﷺ ہمیں قرآن کے
احکام کی عملی صورت دکھاتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جو
شخص حدیث سے وابستہ رہتا ہے وہ سنت کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو
چاہیے کہ وہ مستند احادیث کا باقاعدہ مطالعہ کرے اور اپنی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ
کے مطابق ڈھالے۔
Dawateislami