آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، مگر رہنمائی سے محروم نظر آتا ہے۔ ہر طرف آرا کی بھرمار ہے، مگر عمل کی کمی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی چیز انسان کو سیدھا راستہ دکھا سکتی ہے تو وہ حدیثِ رسول ﷺ ہے۔ قرآنِ مجید کے بعد حدیث وہ معتبر ذریعہ ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کے احکامات کو عملی زندگی میں کیسے نافذ کیا جائے۔ مطالعۂ حدیث دراصل نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے جُڑنے کا نام ہے۔

‎‎قرآنِ مجید خود رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(الحشر:7)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حدیث کو نظرانداز کر کے دین کو سمجھنا ممکن نہیں۔

‎‎نماز، جو دین کا ستون ہے، اس کی ادائیگی کا مکمل طریقہ ہمیں حدیث کے ذریعے ہی ملتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ترجمہ: نماز اسی طرح ادا کرو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔(صحیح بخاری، کتاب الاذان، حدیث نمبر: 631)

یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ عبادات کی صحیح شکل سنتِ رسول ﷺ کے بغیر نامکمل ہے۔

مطالعۂ حدیث انسان کی صرف عبادات ہی نہیں بلکہ اس کے اخلاق و کردار کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد ہی اخلاق کی تکمیل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کو کامل کر دوں۔(موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، حدیث نمبر: 1614)

آج جب معاشرہ نفرت، عدم برداشت اور خود غرضی کا شکار ہے، حدیثِ رسول ﷺ ہمیں صبر، رواداری اور انصاف کا سبق دیتی ہے۔ جو شخص حدیث کا مطالعہ کرتا ہے، اس کے اندر دین کی صحیح سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِترجمہ: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر: 71؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1037)

نبی اکرم ﷺ نے امت کو قیامت تک گمراہی سے بچنے کے لیے ایک جامع اصول عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِيترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گےاللہ کی کتاب اور میری سنت۔(سنن بیہقی، حدیث نمبر: 20870)

‎‎حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ بازار، گھر، اسکول اور معاشرے میں بھی سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے عروج و زوال کا تعلق ہمیشہ حدیث سے وابستگی یا دوری کے ساتھ رہا ہے۔

مطالعۂ حدیث کے بغیر دین کی صحیح سمجھ ناممکن ہے۔ حدیث قرآن کی عملی تفسیر ہے اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے مکمل نمونہ ہے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کر لیں تو نہ صرف ہمارے معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان، خصوصاً طلبہ اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حدیث کا باقاعدہ مطالعہ کریں اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔