اسلام کی حقیقی سمجھ اور اس پر درست عمل کے لیے قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حدیثِ رسول ﷺ کا گہرا مطالعہ ناگزیر ہے۔قرآن مجید احکام کی اصل بنیاد ہے اور حدیثِ نبوی ﷺ اُن احکام کی عملی تشریح، توضیح اور تطبیق ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت خود رب کریم کی اطاعت ہے جیسا کہ فرمانِ خداوندی ہے :وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز العرفان: اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں ۔ (سورۃ الحشر: 7)

یعنی رسولِ کریم ﷺ تمہیں جو حکم دیں اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَﷺ کی اطاعت واجب ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔( مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۲۲۴، ملتقطا)

رسول کریم ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے جیسا کہ فرمانِ الہی عزوجل ہے : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚترجمہ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃ النساء: 80)

شانِ نزول:آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ سرورِکائنات ص ﷺ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی، اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰی ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رب ماناہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے رد میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ﷺ کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ بے شک رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱ / ۳۶۲)

مطالعۂ حدیث انسان کو دینی بصیرت عطا کرتا ہے۔ آج کے دور میں بہت سے فکری ابہام اور عملی کوتاہیاں محض اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ قرآن کو اپنی عقل کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سنتِ رسول ﷺ سے رہنمائی نہیں لیتے حالانکہ سنت سے وابستگی نجات کا راستہ ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِيیعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گےاللہ کی کتاب اور میری سنت۔(موطا امام مالک، رقم الحدیث: 1594)

یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہدایت کی ضمانت کتاب و سنت سے وابستگی میں ہے۔ مطالعۂ حدیث کے بغیر سنت سے حقیقی وابستگی ممکن نہیں، اور سنت کے بغیر دین ادھورا رہ جاتا ہے۔مطالعۂ حدیث کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے محبتِ رسول ﷺ دل میں راسخ ہوتی ہے۔جب ایک مسلمان احادیث میں رسولِ کریم ﷺ کی اپنی امت پر شفقت و محبت پڑھتا ہے تو دل خود بخود آپ ﷺ کی محبت سے بھر جاتا ہے اور یہی محبت ایمان کی جان ہے اور نبی کریم ﷺ نے خود حدیث سننے ، یاد رکھنے اور حدیث کی نشر و اشاعت کی ترغیب دلائی۔

حدیث سیکھنے کی ترغیب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَا

ترجمہ: اللہ کریم اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور پھر جیسے سنی ویسے ہی آگے پہنچا دی۔(سنن ترمذی، رقم الحدیث : 2656)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث سیکھنا، سمجھنا اور آگے پہنچانا باعثِ برکت ہے۔ تاہم مطالعۂ حدیث ہمیشہ مستند کتب اور اہلِ علم کی رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ فہم میں اعتدال اور عمل میں درستگی باقی رہے۔

اعلیٰ حضرت اور حدیثِ پاک کا مُطَالعہ:ایک بار سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ سے پوچھا گیا: آپ نے حدیثِ پاک کی کون کون سی کتابیں دَرْس کی (یعنی پڑھی، پڑھائی) ہیں؟ اس پر اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے پہلے تو علمِ حدیث کی چند کتابوں کے نام گنوائے مثلاً مُسْنَدِ امامِ اعظم، مؤطا امام محمد، کتابُ الآثار، کتابُ الخراج، شرح مَعانیُ الآثار، مؤطا امام مالک، مسندِ شافعی، مسندِ امام احمد، سُننِ دارمی، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ، مشکوٰۃ، بُلُوغُ المرام، عَمَلُ الْیَوْم وَ اللَّیْلَۃ، الترغیب و الترہیب یُوں کتابوں کے نام گنوانے کے بعد فرمایا: یہ اور ان سمیت علمِ حدیث کی 50سے زائِد کتابیں میرے دَرْس و تَدْریس اور مُطَالعہ میں رہیں۔(جہانِ امام احمد رضا، 10/462)

سُبْحٰنَ اللہ! 50 سے زائِد کتابیں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے دَرْس و تَدْریس اور مُطَالعہ میں رہی ہیں۔ بظاہِر شاید محسوس ہو رہا ہو کہ ”صِرْف 50 کتابیں!“اگر ان کتابوں کی تفصیلات میں جائیں تو یہ صِرْف نہیں ہے،50کتابوں کا مطلب ہے:ہزاروں صفحات اور لاکھوں حدیثیں۔ یہ چند کتابیں جن کے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے نام گنوائے ہیں، صرف ان کی ہی تفصیل دیکھی جائے تو یہ ٹوٹل:49 جلدیں ہیں، جن کے کل صفحات 29 ہزار 900سے زائد اور ان میں کل احادیث1 لاکھ34 ہزار سے زائد ہیں۔اللہ کریم ہمیں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کا فیضان تا حیات عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم