اسلام ایک کامل دین اور مکمل نظام زندگی ہے جس کی بنیاد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم ہے اہل سنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں قرآن مجید ہمیں احکام الہی کا اجمالی بیان دیتا ہے جبکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کی تشریح توضیح اور عملی صورت ہمارے سامنے رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مطالعہ حدیث کو دین کی بنیاد اور شریعت کی روح قرار دیا گیا ہے۔امام اہل سنت، مجددِ دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی اصل ہے اور اس کے بغیر نہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس پر عمل ممکن ہے۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 1، ص 186)

یہ ارشاد اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حدیث سے بے نیاز ہو کر دین کو سمجھنے کا تصور خود اہل سنت کے نزدیک باطل ہے۔

قرآن کی شرح اور حدیث کی حیثیت:اہل سنت کے نزدیک حدیث قرآن مجید کی باقاعدہ شرح ہے صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:قرآن کے احکام کو سمجھنے کے لیے حدیث کا سہارا لینا فرض کے درجہ میں ہے، کیونکہ شریعت کے اکثر مسائل حدیث ہی سے ثابت ہیں۔(بہار شریعت، حصہ اول، ص 6)

نماز روزہ زکوۃ اور حج جیسے بنیادی ارکان کی تفصیلات حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں اگر کوئی حدیث کو نظر انداز کرے تو وہ دراصل شریعت کے عملی پہلو کو معطل کر دیتا ہے۔

سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حدیث:حدیث مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا آئینہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق معاملات عبادات عفو و درگزر اور عدل و انصاف کا مکمل نقشہ ہمیں حدیث ہی کے ذریعے ملتا ہے ۔

اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تقاضا سنت پر عمل اور حدیث سے وابستگی ہے۔

ایمان کی حفاظت اور فتنوں کا علاج:آج کے دور میں گمراہ فرقے حدیث کا انکار یا من مانی تاویل کر کے امت کو انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں ایسے حالات میں حدیث صحیحہ ہی وہ مضبوط قلعہ ہے جو ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔

مطالعہ حدیث انسان کو فتنوں اور گمراہیوں سے بچاتا ہے اور اہلسنت کے صراط مستقیم پر قائم رکھتا ہے۔

عام مسلمانوں کے لیے مطالعہ حدیث:یہ خیال کرنا کہ حدیث کا علم صرف علما کے لیے ہے درست نہیں اہل سنت کے اکابر نے ہمیشہ عام مسلمانوں کو بھی حدیث سے جوڑنے کی ترغیب دی ہے۔

گھروں میں حدیث کی کتابوں کا مطالعہ بچوں کو احادیث یاد کروانا اور سنتوں کو اپنانا معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔

مختصر یہ کہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک مطالعہ حدیث دین کی جان ایمان کی حفاظت اور عمل کی اصلاح کا ذریعہ ہے حدیث کے بغیر نہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے نہ شریعت پر صحیح عمل ممکن ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اکابر اہل سنت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں کہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔