جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔

(1)اسوہ رسول ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)

قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان کو ہر معاملے میں رہنمائی اسوہ رسول ﷺ سے ملتی ہے ۔

(2)اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی ضرورت و اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ حدیثِ نبوی ﷺ قرآن کے بعد اسلام کا دوسرا اہم ماخذ ہے۔ ذیل میں اس کی ضرورت و اہمیت مختصراً بیان کی جا رہی ہے:

مطالعہ حدیث کی ضرورت:

(1) قرآن کی تشریح کے لیے: قرآن کے کئی احکام کو سمجھنے کے لیے حدیث ضروری ہے، جیسے نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ کی تفصیلات حدیث سے ملتی ہیں۔

(2) اسلامی احکام کی وضاحت: نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال سے ہمیں عملی زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔

(3) دینی تعلیمات کی جامع تفہیم: حدیث اسلامی عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، اور معاشرت کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

(4) سنتِ رسول کی پیروی کے لیے:سنت کی معرفت کے بغیر سیرت پر عمل ممکن نہیں، اور سنت حدیث سے حاصل ہوتی ہے۔

مطالعہ حدیث کی اہمیت:

(1) نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا: نبی ﷺ کی حدیث پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اُن سے محبت کا عملی اظہار ہے۔

(2) ہدایت کا ذریعہ: قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل کرنا ہی مکمل ہدایت ہے۔

(3) علم و فہم میں اضافہ: حدیث کا مطالعہ انسان کے دینی علم میں گہرائی اور پختگی لاتا ہے۔

(4) فتنوں سے بچاؤ: آخری زمانے کے فتنوں سے نجات کے لیے حدیث کا علم ضروری۔