محمد
ناصر خان (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی
حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات
سے جائزہ لیتے ہیں۔
(1)اسوہ رسول ﷺ امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری
تعالی ہے:
لَقَدْ
كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ
کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)
قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی ﷺ میں ہے ،مسلمان
کو ہر معاملے میں رہنمائی اسوہ رسول ﷺ سے ملتی ہے ۔
(2)اتباع رسول ﷺ ایمان کی نشانی :اللہ تعالیٰ نے اپنی
ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان
کی تکمیل رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔
مطالعہ حدیث کی ضرورت و اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ حدیثِ
نبوی ﷺ قرآن کے بعد اسلام کا دوسرا اہم ماخذ ہے۔ ذیل میں اس کی ضرورت و اہمیت
مختصراً بیان کی جا رہی ہے:
مطالعہ حدیث کی ضرورت:
(1) قرآن کی تشریح کے لیے: قرآن کے کئی احکام کو سمجھنے کے
لیے حدیث ضروری ہے، جیسے نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ کی تفصیلات حدیث سے ملتی ہیں۔
(2) اسلامی احکام کی وضاحت: نبی
کریم ﷺ کے اقوال و افعال سے ہمیں عملی زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
(3) دینی تعلیمات کی جامع تفہیم: حدیث
اسلامی عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، اور معاشرت کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
(4) سنتِ رسول کی پیروی کے لیے:سنت کی
معرفت کے بغیر سیرت پر عمل ممکن نہیں، اور سنت حدیث سے حاصل ہوتی ہے۔
مطالعہ حدیث کی اہمیت:
(1) نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا: نبی ﷺ
کی حدیث پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اُن سے محبت کا عملی اظہار ہے۔
(2) ہدایت کا ذریعہ: قرآن کے ساتھ حدیث پر عمل کرنا ہی مکمل ہدایت
ہے۔
(3) علم و فہم میں اضافہ: حدیث
کا مطالعہ انسان کے دینی علم میں گہرائی اور پختگی لاتا ہے۔
(4) فتنوں سے بچاؤ: آخری
زمانے کے فتنوں سے نجات کے لیے حدیث کا علم ضروری۔
Dawateislami