محمد
جمیل عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان )
اسلام کی اساس قرآن و سنت پر ہے، اور سنتِ رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کا مکمل ذخیرہ احادیث میں محفوظ ہے۔ قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے جبکہ حدیث،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی، فعلی اور تقریری تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے
مطالعہ حدیث کی ضرورت ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم اور بنیادی چیز ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ
الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ
کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز
رہو۔ (سورۃ الحشر، آیت 7)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت لازم ہے،
اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ان کی احادیث کا مطالعہ کریں اور سمجھیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا: أَلاَ إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُترجمہ:خبردار!
مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے یعنی سنت۔(سنن ابی داؤد، حدیث:
4604، کتاب السنن)
احادیث کی روشنی میں ہی ہم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے
عملی طریقے سیکھتے ہیں، کیونکہ ان عبادات کی مکمل تفصیل صرف سنت سے معلوم ہوتی ہے۔
اگر صرف قرآن کو لیا جائے اور حدیث کو ترک کر دیا جائے، تو اسلام کا عملاً کوئی
نظام باقی نہیں رہتا۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص حدیث کا
علم حاصل نہ کرے، وہ قرآن سے استدلال نہیں کر سکتا۔(الرسالہ للشافعی، ص: 269)
احادیث نہ صرف عبادات کی وضاحت کرتی ہیں بلکہ اخلاقیات،
معاملات، معاشرت، اور عدالتی نظام تک، زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
احادیث کا مطالعہ دین کا فہم حاصل کرنے، نبی کریم ﷺ کی
اطاعت کرنے، اور شریعت پر صحیح عمل کرنے کے لیے لازمی ہے۔ جس شخص نے حدیث کو چھوڑ
دیا، اس نے ہدایت کے بہت بڑے سرچشمے کو ترک کر دیا۔
(1)حدیث، قرآن کی عملی تفسیر ہے: قرآن میں
احکام عمومی ہوتے ہیں، جبکہ حدیث ان احکام کی تفصیل اور تطبیق (عملی صورت) فراہم
کرتی ہے۔ مثلاً: قرآن میں نماز کا حکم ہے، مگر نماز کے رکعات، طریقہ، اذکار، اوقات
یہ سب حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
(2) حدیث سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے:نبی
کریم ﷺ کی سیرت، اخلاق، صبر، جہاد، عبادات کو جب انسان احادیث کے ذریعے پڑھتا ہے،
تو اس کے دل میں محبتِ رسول ﷺ بڑھتی ہے، جس سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔
(3)فتنوں سے بچاؤ:نبی اکرم ﷺ نے بہت سے
فتنوں کی نشاندہی فرمائی ہے، جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ ان سے بچنے کا راستہ
بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب
تک ان کو تھامے رکھو گے، گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔" (موطا
امام مالک، حدیث 1594)
(4) سند اور تسلسل کی حفاظت: اسلام
واحد دین ہے جس میں نبی ﷺ کے ارشادات کو "سند" کے ساتھ محفوظ رکھا گیا،
جسے "علم الحدیث" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک علمی معجزہ ہے۔
(5) علمائے امت کی محنت کا نتیجہ :صحابہ
کرام، تابعین، محدثین نے اپنی زندگی حدیث کے تحفظ، تحقیق، تدوین، اور تعلیم میں
وقف کی۔ ان کی کاوشوں سے آج ہمیں یہ مبارک ذخیرہ دستیاب ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک لاکھ سے زائد احادیث میں
سے منتخب کر کے صحیح بخاری میں صرف وہ حدیثیں درج کیں جو "صحیح ترین" تھیں۔
احادیث کے معتبر ذخیرے: صحیح بخاری ،صحیح مسلم ،سنن ابی
داؤد ،جامع ترمذی ،سنن نسائی ،سنن ابن ماجہ
یہ چھ مجموعے "صحاحِ ستہ" کہلاتے ہیں، اور ان
کا مطالعہ علم دین میں گہرائی پیدا کرتا ہے۔
مطالعہ حدیث ایمان کو مضبوط بناتا ہے، دینی فہم میں پختگی
دیتا ہے، عمل کی راہ ہموار کرتا ہے، اور فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ہر مسلمان کو
چاہیے کہ حدیث کا باقاعدہ مطالعہ کرے، سیکھے، اور عمل کرے۔
اللہ پاک ہمیں صحیح احادیث مبارکہ کو لینے اور ان پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami