ذیشان
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور، پاکستان)
مطالعہ حدیث
کی اہمیت بہت زیادہ ہے کہ کچھ الفاظ ایسے ہیں کہ جن کے معنی ہم سے پوشیدہ ہوتے ہیں
مگر جب ہم ان کا حدیث میں معنی تراجم دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ ا ٓجاتی ہے کہ اس
کا معنی یہ ہے ۔
(1)رضائےالٰہی کا متمنی:حضرت
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو شخص رضائے الٰہی کا متمنی ہواس کے لیے
علم حدیث سے افضل علم کوئی نہیں حدیث وہ علم ہے جس کی طرف لوگ اپنے کھانے پینے اور
شب و روز کی تمام ضروریات میں محتاج ہے ۔( مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)
((2 خوشحالی کا سبب :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوشحال کرے
اللہ اس آدمی کو جس نے میری بات سنی اور اس کو یاد رکھا اور دل کی گہرائیوں میں
محفوظ کر کے دوسرے تک پہنچادیا ۔(مقالات قاظمی
حصہ 1 ص 214 ناشر بزم سعید)
(3) عظیم
خیر خواہی :مسلمانوں میں حدیثیں پھیلانا ،سننا، دین کی اشاعت اور
جماعت مسلمین کی عظیم خیر خواہی اور زاہد ہے کہ یہ کام انبیاء علیہم الصلوۃ
والسلام کے معمولات سے ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی احادیث
روایت کرنے والوں کو اپنا خلیفہ قرار دیا ۔(مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)
((4 اشرف العلوم :امام جلال الدین سیوطی رحمۃ
اللہ علیہ نے فرمایا کہ علم حدیث اشرف العلوم ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ذاتِ مقدسہ کے ساتھ تعلق اور رابطہ کا موجب ہے ۔(مقالات قاظمی حصہ 1 ص 214 بزم سعید)
((5 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت واجب ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ
عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(پارہ 28 سورت حشر آیت 7)
اس کا
معنی یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں جو حکم دے اس کی اتباع کرو
کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت واجب ہے ۔
Dawateislami