ایک مسلمان کے لیے حدیث نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطالعہ کی ضرورت و اہمیت ”اَظْہَر مِن الشمس“ ہے ، کیونکہ مسلمان کے لیے حدیث کا مطالعہ فقط ایک علمی مشغلہ نہیں ، بلکہ اہم دینی ضرورت ہے ، کیونکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مبارکہ دین کا بنیادی ماخذ ہے اور عملی زندگی کے لیے ایک جامع ترین نمونہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی انسان کی سیرت اتنی جامع نہیں اور نہ ہی اتنی مکمل انداز میں دستیاب ہے ، جس قدر کاملیت و جامعیت کے ساتھ سیرتِ نبوی موجود ہے۔ تو لہذا آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے لئے حدیث مبارکہ کا مطالعہ کرنا لازمی ہے ۔

(1) حُبِّ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑھانے کا ذریعہ: سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ، مدارِ ایمان ہے۔ اس محبت کی قوت و شدت ہی بارگاہِ خدا میں مراتبِ سعادت اور فرقِ مدارج کی بنیاد ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے دل میں رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ہر شے سے بڑھ کر ہو حتی کہ ماں باپ اور اولاد سے بھی زیادہ ، چنانچہ خود حبیبِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ ( بخاری ، 1 / 17 ، ط : بیروت )

اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حصول اور اس میں اضافے کا ایک بہترین ذریعہ حدیث مبارکہ کے مطالعہ کو زندگی کا معمول بنا لینا ہے۔

(2) فہم قرآن مطالعہ حدیث پر موقوف :قرآنِ کریم مسلمانوں کے لیے آئینِ حیات ، محورِ دین ، منبعِ شریعت ، مرکزِ علوم ، سرچشمہِ حکمتِ الٰہی اور فلاحِ کامل کا نسخہ ہے۔لیکن قرآن سے یہ عظیم فیضان پانے کے لیے اس کو سمجھنا ضروری ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث کا بغور مطالعہ سب سے زیادہ نفع بخش ہے ، کیونکہ قرآن کے آفاقی و جاوداں ، حیات بخش پیغام کی تشریح سنت و سیرت رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔

(3) کمال حاصل کرنا :نفس کی پاکیزگی ، دل کی اصلاح ، روحانی فضائل ، اخلاقی بلندی اور عمدہ اخلاق ، انسان کےلئے اعلیٰ مقاصدِ حیات ہیں اور یہی خدا کے مطلوب انسان کی زندگی کا رَنگ ، ڈھنگ ہے۔ ایسی خوب صورت زندگی کے لیے ، حدیث مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، بہترین نمونہ“ ہے ۔

(4) نیکی کی دعوت کے لیے :مسلمان کے لیے حدیث طیبہ کے مطالعہ کے لیے ایک اہم مُحرِّک اور مقصد یہ بھی ہے کہ عالَمی سطح پر اگر کسی نے دین اسلام کو پیش کرنا ہے جو حکمِ خدا اور مطلوبِ دین ہے تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث مبارکہ کا مطالعہ کیے بغیر دینِ اسلام کا تعارف پیش کرنا ممکن نہیں ہے اور۔ اسلام کا تصور ذاتِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔

(5) فہم دین:دین کو سمجھنے کے لئے حدیث مبارکہ کا مطالعہ بے حد ضروری ہے اور حضور صلَّی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زندگی کو عملی نمونہ بنانے کے لیے حدیث کا مطالعہ لازمی جزء ہے۔