تمام حمد و ثناء کا مستحق اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے
جس نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کے مرتبہ پر فائز کیا اور اس نے سب سے آخر میں
محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جو انبیاء کی بعثت کے سلسلے کی آخری کڑی
ہے مسلمانوں کے دین کا سرمایہ اور ان کی شریعت کا متاع کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا نمونہ حیات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال آپ کے شب و
روز کے معمولات ہی ان کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسانی
معیشت کے اصول اور مبادی کا بیان فرمایا ہے جن کی تفصیل و تشریح بغیر احادیث نبویہ
کے ممکن نہیں اور احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے بھی اسوہ رسول ﷺکی ضرورت ہے
کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ
حَسَنَةٌ ترجمہ کنز العرفان:بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول بہتر یں
نمونہ موجود ہے۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 21)
اس آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کی سیرت میں پیروی کیلئے بہترین طریقہ موجود ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس کی اقتدا اور
پیروی کی جائے، سوال یہ ہے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور آپ
کے افعال کا کس ذریعے سے علم ہوگا اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
زندگی کو ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے بس جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی
ہمارے سامنے نہ ہو ہم اپنے زندگی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں
کیسے ڈھال سکیں گے ۔اور جب کہ ہمیں اسوہ رسول پر اطلاع صرف احادیث اور ان کا
مطالعہ کرنے سے ہی ممکن ہے تو معلوم ہوتا ہے اللہ تعالی کے نزدیک جس طرح صحابہ
کرام کے لیے بنفس نفیس حضور کی ذات ہدایت تھی اسی طرح ہمارے لیے حضور کی احادیث
ہدایت ہے اگر احادیث رسول کو حضور کی دی ہوئی ہدایت اور آپ کے نمونے کے لیے معتبر
ماخذ نہ مانا جائے تو اللہ تعالی کی حجت بندوں پر ناتمام رہے گی کیونکہ اللہ تعالی نے ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں
دیا بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ ساتھ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی
اطاعت و آپ کے افعال کی اتباع کو بھی لازم قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے اقوال و افعال کو جاننے کے لیے احادیث کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ۔
اگر ہم غور کریں بہت سے وہ احکام ہیں جو قرآن مجید میں
مذکور نہیں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائےاور وہ بھی قرآن کی
طرح واجب العمل قرار پائے مثلاً :
(1) بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم قرآن میں کہیں
مذکور نہیں مگر تحویل قبلہ سے پہلے یہی نماز کا قبلہ تھا اور یہ بھی صرف ارشاد
رسول سے ہی تھا ۔
(2) جمعہ عیدین کے خطبے کا کہیں قرآن میں حکم مذکور نہیں
مگر یہ بھی عبادت ہے اس کی بنیاد صرف ارشاد رسول ہی ہے ۔
(3) اذان، قرآن پاک میں کہیں مذکور نہیں کہ نماز پنج
گانہ کے لیے اذان دی جائے مگر اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے
لیکر آج تک شعار اسلام رہی ہے اور رہے گی ۔
یہ صرف اسی بناء پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول بھی
واجب الاعتقاد و عمل ہے۔اسی طرح اگرچہ قرآن کریم میں تمام چیزوں کا بیان ہے مگر ان
میں کتنی چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے لیے مجمل اور مبہم ہیں مثلا عبادت اربعہ نماز
،روزہ، زکوۃ ،اور حج کو ہی لے لیجیے قرآن مجید میں سب کا حکم موجود ہے مگر کیا قرآن
مجید سے ان عبادات کی پوری تفصیل بتا سکتا ہے اگر احادیث کو ناقابل اعتبار ٹھہرا دیا
جاۓ تو
پھر ان عبادات پر کیسے عمل ہوگا کیونکہ ان سب کی تفصیل احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہے۔
مطالعہ حدیث ایک مسلمان کی دینی و عملی زندگی کا بنیادی
حصہ ہے، کیونکہ حدیث سے قرآنِ کریم کی تشریح، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت،
اور شریعت کے عملی پہلوؤں کی وضاحت فراہم کرتی ہے۔ جب تک پیاری امت مسلمہ حدیث کا
مطالعہ اور فہم اختیار نہیں کرے گی، دین کے احکامات کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔
لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حدیث کا مطالعہ نہ صرف علم حاصل کرنے کے لیے کرے
بلکہ اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی دل میں پیدا کرے، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی
حاصل ہو۔
Dawateislami