قرآنِ پاک اللہ پاک کی آخری اور جامع کتاب ہے جو ساری مخلوق کی اصلاح و رہنمائی کے لئے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل ہوئی۔یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس میں پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام حالات، پاکیزگی و طہارت، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے، روزی کمانے اور خرچ کرنے، سیاست اور حکومت وغیرہ ہر چیز کا بیان ہے۔انہی میں سے ایک بیان دھاتوں کے بارے میں بھی ہے۔چنانچہ قرآن ِپاک میں 4 دھاتوں کا بیان ہے۔(1،2)سونا اور چاندی:قرآن ِپاک میں ایک سے زائد مقامات پر سونا چاندی کا ذکر ہے۔ چنانچہ ایک آیت میں ہے:ترجمۂ کنز العرفان: اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔(التوبۃ:34)سونا قدرتی طور پر زمین کی تہوں کی گہرائی میں پایا جاتا ہے اور وہاں پر یہ پانی ،پگھلا لاوا اور زلزلوں کی وجہ سے منتقل ہوتا ہے۔ اور چاندی اپنی خالص شکل میں آتش فشاں چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر چاندی کچ دھاتوں سے بطور پروڈکٹ حاصل کی جاتی ہے۔استعمال:سونا عام طور پر خوبصورتی کے لئے، کمپیوٹر اور الیکٹرونکس، موبائلوں میں اور شیشہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی سونا استعمال کیا جاتا ہے۔ چاندی یہ زیورات اور چاندی کے دسترخوان کے لئے استعمال ہوتا یے۔یہ بھی آئینہ بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ چیزوں کا بہترین عکس دکھاتا ہے۔اس کے علاوہ اس کے مزید بھی استعمال ہیں۔(3)تانبا:اس کا ذکر سورۂ کہف کی آیت 96 میں حضرت ذوالقرنین کے قول میں کیا گیا ہے:ترجمۂ کنز العرفان:تو کہا :مجھے دو تاکہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبا انڈیل دوں۔تانبا یہ سرخی مائل ایک نرم دھات ہے۔ جو آتش فشاں چٹانوں کے ماحول میں پایا جاتا ہے۔ استعمال:تانبا زیادہ تر بجلی کے آلات جیسے وائرنگ میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ گرمی اور بجلی دونوں کو اچھی طرح چلاتا ہے۔مزید یہ تعمیرات اور مشینوں اور دیگر استعمال کی اشیاء میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(4) لوہا۔ اس کا ذکر قرآن ِپاک میں یوں ہے:ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا،اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔(الحدید:25)اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں لکھا ہے کہ لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے۔ یہہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشیوں میں بہت کام آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں:(1)لوہا۔(2)آگ۔(3)پانی۔(4)نمک۔( مسند الفردوس، باب الالف،1/175، الحدیث: 656)اللہ پاک ہمیں قرآن ِپاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے ساتھ عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


قرآن ِمبین میں ہر شے کا بیان موجود ہے خواہ وہ وضاحت و صراحت کے ساتھ ہویا اشارہ و کنایہ کے ساتھ مگر ہر شے کی تفصیل اور ہر خشک وتر کا بیان اس میں موجود ہے چنانچہ رب العٰلمين نے قرآن ِمبین میں ارشاد فرمایا:وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(سورۃ انعام:59)ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو یعنی قرآنِ پاک میں ہر خشک وتر کے بارے میں اللہ پاک نے بیان فرما دیا۔ دھات((Metalوہ کیمیائی عنصر(chemical element) ہوتا ہےجس میں حرارت (heat) اور بجلی (electricity) چلانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔قرآنِ پاک میں دھاتوں کے بارے میں بھی بیان موجود ہے۔ چنانچہ چار دھاتوں کا ذکر واضح طور پر ہے اور وہ درج ذیل ہیں۔ سونااور چاندی: ان دونوں دھاتوں کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت نمبر 34 میں یوں ہوا وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی ۔ یہ دونوں دھاتیں تمام دھاتوں میں اپنی خصوصیات کی بنا پر بہت قیمتی ہیں اس پر دورِ حاضر میں ملک کی معیشیت کا مدار ہوتا ہے۔یہ زیادہ تر زیورات بنانے کے کام آتیں اور زینت کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دور میں یہ بطورنقدی(currency) درہم و دینار(چاندی اور سونے کے سکّے)بھی استعمال ہوتے تھے۔سونا چٹانوں میں ذروں یا پتھروں جیسی شکل میں، آزاد حالت (free state)میں پایا جاتا ہے ۔مگر چاندی مرکب حالت(compound state) میں پائی جاتی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ سونا چین اور اس کے علاوہ کینیڈا، روس اور پیرو بھی اس فہرست میں شامل ہیں،جب کے چاندی ایران،جرمنی، سنگاپور،میکسیکومیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ تانبہ : سورہ ٔکہف کی آیت نمبر96میں تانبہ کا ذکر یوں ہوا کہ قَالَ اٰتُوْنِیْ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًا ترجمۂ کنز الایمان:کہا لاؤ میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُونڈیل دوں۔تانبہ(copper)مضبوط دھات ہے۔ جو بڑے پیمانے پر کیبلز(cables) ، ہائی ولٹیج لائنز (high voltage lines)،سکوں (coins)، چابیوں(keys)،موبائل فونز،زیورات،برتن،ورق(metallic sheet)وغیرہ کی پیداوار میں مفید ہے۔ اس کے سب سے بڑے مخرج چلی کے صحرا اٹاکاما میں واقع ہےجس میں سب سے زیادہ تانبہ کی پیداوار ہوتی ہے۔لوہا: سورۂ حدید کی آیت نمبر25 میں لوہے کا ذکر یوں ہوا:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے لوہا اُتارا۔لوہے کافائدہ یہ ہے کہ اس میںانتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔ (تفسیرصراط الجنان،سورہ ٔحدید آیت 25 ) ضروریاتِ زندگی کے ہزاروں سامان ایسے ہیں جو بغیر لوہے کے تیار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے:وَمَنَافِعُ لِلنَّاس(سورۂ حدید:25)ترجمۂ کنز الایمان:اور لوگوں کے فائدے ۔ اس لوہے میں لوگوں کے لئے بے شمار فوائد و منافع ہیں۔ برازیل اور آسٹریلیا میں سب سے زیادہ اور بڑی لوہے کی کانیں ہیں۔ بہرحال یہ سبھی دھاتیں اللہ پاک کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذاہمیں ان سے حاصل بے شمارفوائد کو دیکھ کر خداوندِ قدوس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے۔الحمدللہ بکل نعم ۃ۔


قرآن ِکریم اللہ پاک کی وہ سب سے آ خری اور مستند کتاب ہےجسے انسانوں کی دینی،اخلاقی،سماجی اور معاشرتی ہدایت کے لئے آ خری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل کیا گیا، قرآن ِپاک ایک بے مثل کتاب ہے، یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر ہر پہلو کی وضاحت موجود ہے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قرآنِ مجید ہر نافع علم پر مشتمل ہے، یعنی اس میں گزشتہ واقعات کی خبریں اور آئندہ ہونے والے واقعات کا علم موجود ہے، ہر حلال و حرام کا حکم اس میں مذکور ہے اور اس میں تمام چیزوں کا علم موجود ہے، جن کی لوگوں کو اپنے دنیوی، دینی، معاشی اور اُخروی معاملات میں ضروت ہے۔قرآنِ کریم ایک ایسی بے مثل و بے مثال کتاب ہے، جس میں کھانے پینے کی اشیا سے لے کر سونا، چاندی، دھاتوں تک کا ذکر ہے، دھاتیں بہت قیمتی ذخائر میں سے ہیں، کسی ملک کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک ان پر ہوتا ہے، جن ممالک میں معدنی ذخائر موجود ہوتے ہیں، ان کی ترقی کا گراف بھی بہت بلند ہوتا ہے، قرآن ِپاک میں بھی ان دھاتوں کا ذکر ہے:وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَ ۙ وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـُٔوْنَ ۙوَ زُخْرُفًا ؕوَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ترجمہ:اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ضرور رحمن کے منکروں کے لئے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے، جن پر چڑھتے اور ان کے گھروں کے لئے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگانے اور طرح طرح کی آ رائش اور یہ جو کچھ ہے، جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے اور آ خرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لئے ہے۔(پارہ 25،سورۃ الزخرف، آ یت نمبر 34،35)تفسیر صراط الجنان :یہ سونا چاندی دنیاوی مال و دولت ہے، کافروں کا مال ودولت، عیش و عشرت دیکھ کر اگر سب لوگ کافر ہو جائیں گے تو ضرور ہم کافروں کو اتنا سونا چاندی دیتے کہ وہ ا نہیں پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے، لیکن یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے آخرت تمہارے ربّ کے پاس ہے۔چاندی:اس آیتِ مبارکہ میں چاندی کا ذکر ہے، یہ بھی ایک دھات ہے، یہ پہاڑوں، دریاؤں کے کنارے پائی جاتی ہے، یہ سونے کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے، اس سے زیورات بنائے جاتےہیں۔فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ۔ترجمۂ کنزالعرفان:تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کےپاس رہتے۔(پارہ 25،سورۃ الزخرف، آ یت نمبر 53)تفسیر صراط الجنان: فرعون نے کہا کہ اگر حضرت موسی علیہ السلام سچے ہیں تو اللہ پاک نے انہیں ایسا سردار بنایا ہے، جس کی اطاعت واجب ہے تو انہیں سونے کا کنگن کیوں نہیں پہنایا؟فرعون نے یہ بات اپنے زمانے کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانے میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھا تو اسے سونے کا کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا۔سو نا:اس آیت ِمبارکہ میں سونے کا ذکر ہے، یہ بہت قیمتی دھات ہے، یہ پہاڑوں اور دریاؤں سے ملتا ہے اور اس کو تلاش کرکے نکالنے تک مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس سے زیورات بنائے جاتے ہیں، جس سے زینت حاصل کی جاتی ہے، ہمارے ملک پاکستان میں کافی مقامات سے سونا دریافت ہوتا رہتا ہے۔

اِنَّ شَجَرَتَ الزقُوم طعام الاثیم کا المھل یغلی فی البطون کغلی الحمیم۔ترجمۂ کنزالعرفان:بے شک زقوم کا درخت گناہگار کی خوراک ہے، گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہوگا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک جہنم کا کانٹے دار اور انتہائی کڑوا زقوم نام کا درخت بڑے گناہ گار یعنی کافر کی خوراک ہے اور جہنمی زقوم کی کیفیت یہ ہے کہ گلے ہوئے تانبے کی طرح کفار کے پیٹوں میں ایسے جوش مارتا ہوگا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔تانبا:تا نبابھی ایک دھات ہے، اس سے مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں، تانبے کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں، خصوصاً بجلی کی تاریں بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس سے پرانے زمانے میں سکے اور برتن بنائے جاتے تھے۔اتونی زبر الحدید حتی اذا ساوی بین الصدفین قال انفخوا حتی اذا جعلہ نارا قال اتونی افرغ علیہ قطرا فما السطاعوان یظھرو ہ ومستطاعوا لہ نقبا۔ترجمۂ کنزالعرفان:میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب وہ دیوار دونوں پہاڑوں کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا آگ بھڑکاؤ، یہاں تک کہ جب اس لوہے کو آگ کر دیا تو کہا مجھے دو، تاکہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ انڈیل دوں تو یاجوج ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کر سکے۔تفسیر: حضرت ذوالقرنین نے لوگوں سے کہا کہ میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ، جب وہ لے آئے تو ان سے بنیاد کھدوائی، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چُن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی، اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی۔لوہے:لوہا بھی ایک دھات ہے، اس کے ذخائر ہوتے ہیں، پاکستان میں کئی مقامات سے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، چترال میں اچھی قسم کا لوہا دریافت ہوا ہے، لوہے سے مشین اور دیگر استعمال کی چیزیں بنائی جاتی ہیں، یہ بھی ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پاکستان میں لوہے کے ذخائر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔اللہ پاک نے انسانوں کی بھلائی کے لئے ایسی اشیا پیدا کی ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہواجاسکتا ہے، جن ممالک میں ان دھاتوں کے ذخائر پائے جاتے ہیں، وہاں ترقی کا گراف بلند ہوتا ہے، ہمارا ملک پاکستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، سونا،چاندی، خام، لوہا یہاں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔


قرآنِ کریم اللہ پاک کی جانب سے عطا کردہ کتاب ہے اور اس میں انسان کی پیدائش سے قیامت تک کے تمام احوال کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ربّ کریم نے قرآن ِکریم میں ہر ہر شے کا ذکر فرمایا ہے، جس بھی  زمانے کے لوگ کسی الجھن کا شکار ہوئے تو انہوں نے مجتہدین کے ذریعے قرآن کی طرف رجوع کیا، اللہ پاک خود ہی فرماتا ہے: اس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔آج ہم قرآن ِکریم کی روشنی میں ان دھاتوں کا ذکر پڑھیں گی، جنہیں ہم استعمال کرتی ہیں، دھاتوں کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہے، اگر یہ دھاتیں نہ ہوں تو انسانی زندگی الجھن کا شکار ہو سکتی ہے۔ دھات کسے کہتے ہیں؟دھات سے مراد وہ معدنی جوہر جس میں پگھلنے کی صلاحیت ہو، جیسے لوہا، سونا، چاندی وغیرہ۔لوہے کا قرآن میں ذکر ہے۔لوہے کو عربی میں حدید کہتے ہیں اور قرآنِ کریم میں اس دھات( لوہے) کے نام پر مکمل ایک سورت ہے، جسے سورۃ الحدید کہتے ہیں، رب کریم سورۃ الحدید کی آیت نمبر 25 میں لوہے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕاِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ترجمۂ کنز العرفان:بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اُتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا غالب ہے۔تفسیر:مفسرین نے فرمایا:یہاں آیت میں لوہا اتارنے سے مراد لوہا پیدا کرنا ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہے کو لوگوں کیلئے پیدا کیا اور اسے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم عطا فرمایا۔ لوہے کا فائدہ:لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کے ذریعے جنگ کے سازو سامان اور اسلحہ وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور لوہا نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ پاک دیکھے کہ کون اس کا صحیح سےاستعمال کرتا ہے، یعنی جہاد وغیرہ میں لوہے کو استعمال کرکے اللہ پاک کے دین کی مدد کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی لوہے کے بہت سے فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں کام آتا ہے۔قرآنِ کریم میں سونا چاندی کا ذکر:سونے کو عربی میں ذھب اور چاندی کو فضہ کہتے ہیں، اللہ پاک نے ان دونوں دھاتوں کا تذکرہ بھی اپنے مقدس اور پاکیزہ کلام کے پارہ 3 سورۂ الِ عمران کی آیت نمبر 14 میں کیا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ۔ترجمۂ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا، یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو (ان کے لئے آراستہ کردیا گیا)یہ سب دنیوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔تفسیر:یعنی لوگوں کے لئے من پسند چیزوں یعنی عورتوں، بیٹوں، مال و دولت، سونا چاندی، بہترین مکانات وغیرہ کی محبت ان کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور ان چیزوں کو آراستہ کرنے اور ان کی محبت دلوں میں ڈالنے کا مقصود یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہرہوجائے، ان چیزوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ دنیاوی زندگی گزارنے کا سامان ہے، جن سے انسان کچھ عرصہ نفع اٹھا سکتا ہے، اس کے بعد یہ فنا ہوجائیں گی۔سونا چاندی کا فائدہ:ان چیزوں کا بہترین فائدہ یہ ہے کہ انہیں ان کاموں میں خرچ کیا جائے، جو قربِ الٰہی کا ذریعہ ہوں، جس سےانسان کو ثواب پہنچے۔شرعی مسئلہ:سونا اور چاندی کے زیورات عورتوں کیلئے مطلقاً جائز ہیں اور مرد کے لئے سونا پہننا ہرصورت حرام ہے اور ساڑھے چار ماشے سے کم چاندی کی ایک نگینہ والی انگوٹھی مرد پہن سکتا ہے۔ہمارے لئے اس آیت میں بہت اعلیٰ و عمدہ درس ہے، آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی عمدہ مکانات،سونا چاندی وغیرہ کی محبت میں مبتلا ہے،اس آیتِ مبارکہ پر ہمیں بھی غور کرنا چاہئے۔خلاصہ کلام:انسان کو چاہئے کہ ربّ العزت کی عطا کردہ نعمتوں پر غور و فکر کرے اور ان کا جائز درست استعمال کرکے اور ان نعمتوں پر خالقِ کائنات کا شکر بجا لائے، ان چیزوں کے بنانے کے مقصد پر غور کرے کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو اس لئے بنایا ہے تاکہ ان کا درست استعمال کیا جائے، سونا چاندی ربّ کریم نے لوگوں کے نفع کے لئے بنائے ہیں، تاکہ اس لئے کہ لوگ اس پر شکر کریں، نہ کہ غرور و تکبر کریں اور گناہ میں پڑجائیں، اس طرح لوہے کو بنانے کا مقصد جیسا کہ ہم نے پیچھے پڑھاکہ اس کو اس لئے بنایا، تاکہ لوگ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کریں، نہ کہ اس لئے کہ یہ مسلمان آپس میں ہی قتل و غارت گری کرکے گناہ کے گڑھے میں جا پڑیں۔اللہ پاک عقلِ سلیم عطا فرمائے اور نعمتوں کا درست استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور غلط استعمال سے بچائے۔آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


جب کبھی ہمارے سامنے سونے، چاندی وغیرہ کا ذکر آتا ہے تو ہمارا ذہن زمین میں مدفن خزانوں اور معدنیات کی طرف چلا جاتا ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ دھات ہوتی کیا ہے اور بنتی کیسے ہے؟ آئیے !اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں، کائنات میں ہر ایک سیکنڈ کے بعد ایک ستارہ ٹوٹ کر کائنات کے عظیم خزانے کو عظیم سے عظیم تر بناتا جا رہا ہے، سب سے پہلے یہ جان لیں کہ  دھات ہوتی کیا ہے؟دھات(metal):Metals are solid material that is typically hard.shiny and fixed in shap…called metals.دھات ایک ایسا ٹھوس مادہ ہے، جو عام طور پر غیر شفاف، چمکدار اور مخصوص شکل کا ہوتا ہے۔ ہماری اس فانی دنیا کے نظام کو چلانے میں دھاتوں کا بڑا عمل دخل ہے، اگر ہم اپنے اردگرد کی اشیا کو دیکھیں تو یہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہر شے ہی کسی نہ کسی دھات کے وسیلے سے وجود میں آئی۔ اس کی دلیل یہ آیت ِکریمہ ہے: اور کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کے خزانے ہمارے پاس نہیں اور ہم ان کو ایک مقررہ مقدار میں آسمان سے نازل کرتے ہیں۔ (سورہ ٔحجر، آیت21)جب آسمانی خزا نے اتنے بڑے ہوں کہ ہر شے مقررہ مقدار میں آسمان سے نازل ہو تو ان میں سے انتہائی حقیر مقدار میں استعمال ہمارے لئے تو باعثِ حیرت ہوگا، لیکن اللہ پاک کے لئے بہت آسان ہے۔اللہ پاک نے ہمارے لئے زمین میں سونا(gold)، چاندی(silver)، جیپسم، گرینائٹ، لوہا، چونا وغیرہ جیسی کارآمد چیزوں کو زمین میں پوشیدہ رکھا، تاکہ انسان اسے اپنی کیفیت سے اپنی ضرورت کے لئے استعمال کرسکے، جب ہمارا اللہ و مالک و مولا ہم پر اتنا مہربان ہے تو ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ اس کے ہر حکم(order) کے آگے سر تسلیمِ خم کردیں اور اس کی عبادت و بندگی کے کام بجا لائیں۔اسی حقیقت کو اللہ پاک سورۂ حدید میں یوں بیان فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان سے لوہا نازل کیا، اس میں سخت نقصان بھی ہے اور انسانوں کے لئے فائدہ بھی۔ (سورہ حدید،25)اب ہم اگر صرف لوہے کی بات کرلیں تو دیکھا جائے تو کتنی معمولی سی چیز سمجھتے ہیں، لیکن اگر اس کے فوائد(advantages) دیکھے جائیں تو کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ لوہا ہمارے لئے کارآمد نہیں(non useful)، اپنے اردگرد(around) کے ماحول کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ لوہے سے بنی اشیاء ہمارے لئے ہر کام میں کتنی مفید(useful) ہیں، اب اگر ہم اس کی تخلیق یعنی پیدا کرنے میں غور و فکر کریں تو سمجھ میں تو یہ بات آئے گی کہ کسی کاریگر وغیرہ نے فیکٹری، کارخانے وغیرہ میں اسے تشکیل دیا ہوگا، بہرحال کسی کاریگر نے تو اسے تشکیل پا ہی ہوگا تو اس بات پر بھی غور و فکر کرنا بہت ہی اہمیت(important) کا حامل ہے کہ اللہ پاک نے ہمارے لئے زمین میں پوشیدہ رکھا، یہ انسان کی کاریگری ہے، لیکن حقیقی کارساز تو اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کی بابرکت ذات ہے۔ ہمارے گھر کی ہر ایک شے کی تشکیل میں لوہے کا وجود(پایا جانا) بھی دکھے گا، جیسے میز، کرسیاں، پلنگ ہی کو دیکھ لیں، ہمارے گھروں کے دروازے تک میں ہمیں کسی نہ کسی دھات کا ملاپ ضرور ملے گا، اللہ پاک سورۂ زخرف میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے ہوجائیں گے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں، جن سے وہ اوپرکی منزلوں میں چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تحت کہ جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، سب سونے چاندی کے بنا دیتے، لیکن یہ تو محض دنیاوی زندگی کا مال ہے۔( سورہ ٔزخرف، آیت نمبر ،34،33)ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اور جہاز بھی اسی کے ہیں، جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔( سورہ رحمن) سبحان اللہ!دھات ہی ہمارے لئے اللہ پاک کی طرف سے ایک عظیم تحفہ و عطیہ ہے، جس میں ہمارے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے، اللہ کریم ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین


قرآن ِکریم، فرقانِ مجید میں ہر خشک و تر کا بیان ہے، سارے اوّلین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے، اس میں عقائد، اعمال، اخلاق، سیاسیات، عبادات، معاملات، معاشیات، الغرض ہر شے کا بیان ہے، قرآنِ پاک ایسا معظم کلام ہے کہ اس کے مثل کسی کا کلام نہیں،کیونکہ یہ خالق کا کلام ہے،اس قرآنِ عظیم میں اللہ جل شانہٗ نے دھاتوں کا ذکر کس طرح فرمایا، آئیے!اس سے متعلق چند آیات پیش کی جاتی ہیں:وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ ۙاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا ۙاَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ؕوَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ ؕبِئْسَ الشَّرَابُ ؕوَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا۔ترجمہ:اور فرما دو کہ تمہارے ربّ کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بے شک ہم نے ظالموں کے لئے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور پانی کے لئے فریاد رسی ہوگی، اس پانی سے چراغوں کھولتے ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا، کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔(پ15، سورہ کہف، آیت 29)تفسیر:اللہ پاک کی پناہ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:وہ غلیظ پانی ہے، روغن زیتون کی تلچھٹ کی طرح۔ترمذی کی حدیث میں ہے:جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی، بعض مفسرین کا قول ہے:یہاں دھات سے مراد پگھلایا ہوا رانگ اور پیتل ہے۔(بحوالہ کنزالایمان) تفسیر بغوی میں ہے: پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہے۔حضرت ابن ِمسعود رضی اللہ عنہما نے اس طرح تفسیر کی کہ یہاں دھات سے مراد سونے چاندی کو پگھلانا ہے، آپ نے سونا چاندی منگوا کر پگھلایا اور فرمایا: یہ ہل کی طرح ہے۔آیت:اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا ؕوَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ۔ترجمہ:بے شک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے بہشتوں میں، جن کے نیچے نہریں بہیں، اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔(سورہ حج،پارہ 17، آیت 23)ایسے سونے کے کنگن ہونگے، جس کی چمک مشرق سے مغرب تک روشن کر ڈالےگی۔آیت:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ۔لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا، یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو(ان کے لئے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔ (پ3،آل عمران:14)آیت: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕاِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ترجمہ:بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اُتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے اور اس لئے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے، اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا غالب ہے۔(پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25)بعض مفسرین نے فرمایا: یہاں آیت میں”اتارنا“پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں،لوہا،آگ،پانی،نمک۔(بحوالہ کنزاالایمان،ص973)آیت:

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ؕیٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ ۚوَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ ۙ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اےپرندو اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کیا۔(پ22،سورہ سبا، آیت 10)تفسیر:اس آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جب آپ نے دعا فرمائی کہ اللہ پاک میرے لئے کوئی ذریعہ معاش بنا تو اللہ پاک نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا اور آپ کو صنعت ذرہ سازی کا علم دیا، سب سے پہلے زرہ بنانے والے آپ ہی ہیں، آپ روزانہ ایک زرہ بناتے تھے۔(بحوالہ کنزالایمان)آیت:وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ ۚوَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕوَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ۔ترجمہ:اورسلیمان کے بس میں ہوا کر دی، اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کام کرتے اس کےربّ کے حکم سے اور جوان میں ہمارے حکم سے پھرے اور ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (پ22،سبا:12)اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کو پگھلا دیا، جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کیا تھا۔آیت: اور ہر معمار اور غوطہ خور جن اور دوسرے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (جنوں کو سلیمان کے تابع کر دیا)۔آیت:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا۔تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں۔ ( پارہ 26، محمد، آیت 24) لوہا انتہائی اہم معدن ہے،جو لوہا فولاد،مشینری اور مختلف قسم کے اوزار بنانے کے کام آتی ہے، تانبا برقی آلات سازی میں استعمال ہوتا ہے، برقی آلات سازی میں استعمال ہوتا ہے،برقی تار بھی تانبے سے بنائے جاتے ہیں۔


یہ قرآنِ پاک کا اعجاز ہے کہ اس میں ہر شے کا واضح بیان موجود ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پارہ 14، سورہ نحل:89)اور ارشاد فرمایا:وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ۔ترجمہ: اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان ہے۔(پارہ 12، سورہ یوسف، آیت 111)اور ان واضح بیانات میں ایک بیان یا تذکرہ دھاتوں کا بھی ہے، جن میں سونا، چاندی اور لوہا بھی شامل ہے۔٭سونا اور چاندی:اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ۚ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِ ؕنِعْمَ الثَّوَابُ ؕوَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ترجمۂ کنز العرفان:بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے، ہم ان کا اجرضائع نہیں کرتے، جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں، وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز کپڑے کریب(ریشم کے باریک) اور قنادیز (موٹے)کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے ،کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کیا ہی اچھی آرام کی جگہ۔یاد رہے! ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگن جنتی لباس ہیں، جبکہ دنیا میں عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔لوہا کا ذکر:قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕ۔ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں، تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا، غالب ہے۔لوہا: مفسرین نے فرمایا:یہاں آیت میں اتارنا پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں، لوہا، آگ ،پانی، نمک۔(مسند الفردوس، باب الالف،1/175، حدیث656)لوہے کے فوائد:اور لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔لوہا نازل کرنے کا مقصد:آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ لوہا نازل کرنے کا مقصود یہ ہے کہ اللہ پاک اس شخص کو دیکھے جو جہاد میں لوہے کو استعمال کرکے اللہ پاک کے دین کی مدد کرتا ہے،حالانکہ اس نے اللہ پاک کو دیکھا نہیں ہوا، بے شک اللہ پاک قوت اور طاقت والا ہے، اس کو کسی کی مدد درکار نہیں اور دین کی مدد کرنے کا اس نے جو حکم دیا ہے، یہ انہیں لوگوں کے فائدے کے لئے ہے۔(الخازن، الحدید تحت الآیۃ:4/25)اللہ کریم ہمیں قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرنے اور سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


قرآنِ مجید ایک آفاقی کتاب ہے،جو نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل کی گئی، یہ کتاب اولین و آخرین کے تمام علوم کی جامع ہے، اس میں جہاں اخلاقی تربیت کی گئی تو وہیں معاشرتی تربیت بھی کی گئی، جہاں ہمیں احکامات ملے،تو وہیں وعدے بھی ملے، جنت اور دوزخ اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہوا، وہیں دنیاوی نعمتوں کا بھی ذکر ہوا، دنیاوی نعمتوں کے بارے میں قرآن ِکریم میں ربّ کریم اپنے علم و قدرت کی وسعت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا۔ترجمۂ کنزالعرفان:وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے۔علما فرماتے ہیں:زمین سے نکلنے والی اشیامیں خزانے، سبزہ، درخت، معدنیات اور دھاتیں مراد ہیں، آئیے! یہ جانتی ہیں کہ قرآن ِکریم میں کتنی معدنیات کا ذکر موجود ہے؟چار دھاتوں کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے، سونا، چاندی، لوہا، تانبا۔آئیے ! ان دھاتوں کا ذکر کن آیات میں ہوا اور ان کے فوائد و ثمرات کیا ہیں؟ جانتی ہیں:1،2۔سونا چاندی:پارہ 4، سورہ ٔالِ عمران، آیت نمبر 14میں فرماتا ہے:وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ۔ترجمۂ کنزالعرفان:سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں۔سونا ایک عنصر ودھات کا نام ہے، جو اپنی خصوصیات کی وجہ سے انتہائی مہنگا ہے، چاندی بھی ایک دھاتی عنصر ہے اور چاندی سونے سے یا کسی اور دھات سے مل کر مرکّب ہو کر پائی جاتی ہے، سونا چاندی دونوں قیمتی دھاتیں ہیں اور قیمتی ہونے کی وجہ صدیوں سے اس کا استعمال بطور روپے اور پیسے کے بدل کے طور استعمال ہوتا رہا ہے، اس طرح عورتیں بطورِ زیورات بھی استعمال کرتی ہیں۔لوہا:لوہے کے بارے میں قرآنِ کریم میں ہے:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۔ ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے ہیں۔(پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25) لوہا ایک کیمیائی عنصر ہے، یہ زمین پر سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے، یہ ایک سستی ترین دھات ہے۔ لوہے کے فوائد:تفسیر جلالین میں بَاْسٌ شَدِیْدٌ(سخت آنچ) سے مراد میں علامہ جلال الدین محمد بن ابی بکر سیوطی رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا:تاکہ اس سے لڑا جائے، تو لوہے سے ہتھیار قدیم زمانے سے ہی بنائے جاتے رہے ہیں، تلوار، خنجر، تیر اور اب موجودہ دور کے ہتھیار بھی اسی سے بنتے ہیں ،اسی طرح لوہے سے دورِ حاضر میں لاتعداد مشینیں تیار کی گئیں، جیسے سلائی مشین وگرینڈر مشین وغیرہ۔تانبا:تانبے کے بارے میں قرآن ِکریم میں مذکور ہے۔پارہ 22، سورۂ سبا، آیت نمبر 13 میں ہے:وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕ۔ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے ان کے لئے سامنے کا چشمہ بہایا۔علامہ صاوی تفسیرِصاوی میں فرماتے ہیں:یہ چشمہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قوم کے لئے تین دن تک بہایا گیا اور ایک قول کے مطابق ہر ماہ تین دن سے جاری ہوتا تھا۔تانبا ایک نارنجی رنگ کی دھات ہے، تانبا ایک نرم دھات ہے، جس سے بآسانی تار اور ورق بنائے جا سکتے ہیں، اس دھات سے بجلی اور حرارت بڑی آسانی سے گزر سکتی ہے، اس لئے اسے بجلی کی تار اور دیگ بنانے میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم ایک بحیرۂ ناپید ہے اور اس میں نادر موتی اور جواہرہیں، رب کریم ہمیں چننے کا ظرف عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


دھاتیں:80 سے زیادہ عناصر دھات کی شکل میں پائے جاتے ہیں، زیادہ تر دھاتیں بہت عامل(reactive) ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے بیرونی پرت میں آزاد حالت میں نہیں ملتیں، بلکہ کسی دوسرے عنصر(element) یا عناصر کے ساتھ مرکب(کمپاؤنڈ) حالت میں ملتی ہیں۔ صرف سونا اور پلاٹینم آزاد حالت میں ملتے ہیں اور وہ بھی بہت ہی کم، شاذونادر چاندی، تانبا، پارہ اور بسمتھ بھی آزاد حالت میں مل جاتے ہیں، کیونکہ یہ دھاتیں کیمیائی اعتبار سے بہت کم عامل ہوتی ہیں۔ساری دھاتیں زنگ یا آکسائیڈ کی غیر موجودگی میں چمک دار ہوتی ہیں، ان میں سے بجلی اور حرارت آسانی سے گزر سکتی ہے اور یہ عموماً مضبوط، سخت اور بھاری ہوتی ہیں اور وزن اور ہتھوڑے کی چوٹیں برداشت کر لیتی ہیں، ساری دھاتیں کمرے کے درجہ حرارت پر موجود ہوتی ہیں، سوائے پارہ اور سیزیٹم کے، لوہا، تانبا، نکل اور کرو میٹم دھاتوں کی مثالیں ہیں:قرآن ِکریم میں ہر شے کا ذکر ہوا ہے۔ قرآنِ کریم میں دھاتوں کا ذکر درج ذیل ہے، ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:1۔زخرف :زخرف کا معنی ہے”سونا“، نیز کسی چیز کے حسن کا کمال بھی زخرف کہلاتا ہے، سورۂ زخرف کی آیت نمبر 35 میں کلمہ”وزخرفا“مذکور ہے:وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا والآخرۃ عند ربک للمتقین۔ترجمہ:اور سونا اور جو کچھ ہے،سب دنیاوی زندگی ہی کا سامان ہے اور آخر تمہارے ربّ کے پاس پرہیزگاروں کے لئے ہے۔آیت نمبر 33 ۔35 کا خلاصہ یہ ہے:اگر اس بات کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کے مال و دولت کی کثرت اور عیش و عشرت کی بہتات دیکھ کر سب لوگ کافر ہو جائیں گے تو ہم ضرور کافروں کو اتنا سونا چاندی دے دیتے کہ وہ انہیں پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے، جن پر وہ چڑھتے اور وہ اپنے گھروں کے لئے چاندی کے دروازے بناتے اور بیٹھنے کے لئے چاندی کے تخت بناتے اور وہ طرح طرح کی آرائش کرتے۔کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں، یہ بہت جلد زائل ہونے والا ہے اور جو کچھ ہے سب دنیاوی زندگی ہی کا سامان ہے،جس سے انسان بہت ہی تھوڑا عرصہ فائدہ اٹھا سکے گا اور آخرت تمہارے ربّ کے پاس ہے،ان پرہیزگاروں کے لئے، جنہیں دنیا کی چاہت نہیں۔(خازن، الزخرف، تحت الآیۃ33۔35،4/105)2۔حدید:عربی میں لوہے کو حدید کہتے ہیں، اس سورت کی آیت نمبر 25 میں اللہ پاک نے حدید یعنی لوہے کے فوائد بیان فرمائے ہیں: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚوَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ۔ترجمہ:اور ہم نے اُتارا،اس میں سخت لڑائی(کا سامان)ہے اور لوگوں کے لئے فائدےہیں۔لوہے کا فائدہ:لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔3۔المطففین:آیت نمبر 14: کَلَّا بَلْ سکتہ رَانَ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ۔ ترجمہ: ہرگز نہیں بلکہ ان کے کمائے ہوئے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ہرگز نہیں:یعنی اس سرکش اور گنہگار کا یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن تو سابقہ لوگوں کے قصّوں، کہانیوں کی بات ہے، یعنی اس طرح کی باتیں کرکے اس کا اثر اپنے اوپر نہیں ہونے دیتے، تو اصل بات یہ ہے کہ ان کے دل زنگ آلودہ اور سیاہ ہو گئے ہیں، اسی وجہ سے وہ حق کو نہیں پہچان سکتے۔(المطففین، تحت الآیۃ 8،10/367)4۔الفیل:سورۂ فیل کی آیت نمبر 4 میں ہے:تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۔ترجمہ: جو انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تھے۔اس واقعہ فیل مراد ہے۔(الفیل، تحت الآیۃ 1۔5،4/407۔410)قرآنِ کریم کا ایک ایک لفظ بہت اہمیت کا حامل ہے، مختلف دھاتوں کا روزمرہ زندگی(انسانی) میں کردار بہت اہم رہا ہے، جیسا کہ لوہا صدیوں سے لے کر آج تک ذریعہ معاش میں اس کا اہم کردار رہا ہے، دھات بھی اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جس پرہمیں اللہ پاک کی شکر گزار رہنا چاہئے۔


کُرّہ ٔزمین پر پائے جانے والے ربّ کریم کے بے شمار احسانات میں سے ایک مختلف قسم کی دھات بھی ہیں، دھاتوں میں سونا، چاندی،تانبا، سیسہ، پیتل وغیرہ شامل ہیں، زیورات برتن، ہزار قسم کی سجاوٹ کی اشیاء،بجلی کے تار، الیکٹرانک کی اشیا وغیرہ سب ان دھاتوں ہی کی مصنوعات ہیں، کچھ خوش نصیب دھات ایسے بھی ہیں، جن کا ذکر ربِّ کریم نے قرآنِ کریم میں فرمایا۔ سونا:قرآن ِکریم  میں اس کے لئے”ذھب“کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس کے علاوہ قرآنِ کریم کی ایک سورت کا نام زخرف ہے، جس کا معنی بھی سونا ہے، چنانچہ سورۂ زخرف، آیت 43 میں نعمتوں کے ذکر میں سونے کا تذکرہ فرمایا: ان پر سونے کی تھالیوں اور باموں کے دور ہوں گے۔ چاندی:قرآنِ کریم میں چاندی کا ذکر موجود ہے، اس کے لئے”فضۃ“کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، قیامت کا منظر بیان کرتے ہوئے چاندی کا ذکر ہے، سورۃ المعارج آیت 8 میں ارشاد ہے: جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیسا ہو جائے گا۔تانبا: تانبے کا ذکر قرآن ِکریم میں موجود ہے:ترجمہ:اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔(سورۃ سبا، آیت 12)لوہا:حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کیا گیا، جس کے ذریعے وہ زرہیں بنا کر بیچتے تھے، اس کا ذکر بھی قرآن ِکریم میں سورۂ سبا میں موجود ہے، اس کے ساتھ مروی ہے : لوہا آسمان سے زمین کی طرف اتارا گیا۔سیسہ:سورۃ الصف میں مجاہدین کی صف کی تعریف کرتے ہوئے ربّ کریم فرماتا ہے: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے، جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں، گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔یعنی ان میں ایک سے دوسرا ملا ہوا، ہر ایک اپنی اپنی جگہ جما ہوا،اور دشمن کے مقابلے میں سب ایک چیز کی طرح ہیں۔(صراط الجنان، جلد 10)اگر کوئی خوف رکھنے والا ہو تو وہ ان دھاتوں کو دیکھ کر کبھی خدا کی عظمت کا اعتراف کرے، کبھی فکرِآخرت اسے گھیر لے، کبھی قیامت کا دہشت ناک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہو، تو کبھی جنت میں پیش کئے جانے والے سونے اور چاندی کے برتنوں کی یاد میں کھو جائے۔اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں اپنا خوف عطا فرمائے۔آمین


دھات:وہ معدنی جوہر جس میں پگھلنے کی صلاحیت ہوتی ہے، اسے دھات کہتے ہیں،  جیسے سونا، چاندی، دھات کو پتھروں، چٹانوں اور زمین کی تہہ سے نکالا جاتا ہے، فطری طور پر دھاتیں ٹھوس حالت میں پائی جاتی ہیں۔ قرآن اور دھات:قرآن ِکریم میں اَز ابتداء تا اِنتہا ہر چیز کا بیان ہے، بعض کا صراحتاً اور بعض کا اجمالاً، بعض کا ظاہراً بیان ہے اور کچھ کا پوشیدہ طور پر، ربّ کریم فرماتا ہے:مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ۔ترجمۂ کنز العر فان:ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کمی نہیں چھوڑی۔(پ7،انعام:38)ایک جگہ ارشاد فرمایا:وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ۔ترجمۂ کنزالعرفان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (پارہ 14، سورہ نحل:89)شَیْءٍ ہر موجود کو کہتے ہیں، اس میں جملہ موجودات داخل ہیں۔ حضرت ابوبکر مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عالم میں کوئی چیز ایسی نہیں، جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو۔ (الاتقان فی علوم القرآن،ج2،ص477) قرآنِ کریم میں ظاہراً تقریباً چار دھاتوں کا ذکر موجود ہے، نمبر1:لوہا، نمبر 2: سونا، نمبر 3:چاندی، نمبر4: تانبا۔ لوہا:یہ سیاہی مائل سخت دھات ہے، جو مقناطیسی عناصر میں سے ہے، اس کا ایٹمی نمبر 26 ہے، یہ تقریباً تین ہزار تین سو سال پہلے دریافت ہوا، یہ سستی ترین دھات ہے، جو زمین میں عام پائی جاتی ہے اور صنعتی میدان میں اس کا استعمال کثیر ہے، قرآنِ کریم کی ایک سورت کا نام حدید یعنی لوہا ہے، ربّ کریم نے اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ۔ترجمہ ٔکنزالعرفان:ہم نے لوہا اتارا،اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔(پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25) مفسرین فرماتے ہیں: اتارنے سے مراد پیدا کرنا ہے۔ نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں، لوہا، آگ ،پانی، نمک۔ (مسند الفردوس، باب الالف،1/175، حدیث656)رب کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کے معجزے کا ذکر کرتے ہو ئے فرمایا:وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ ۙ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کیا۔ (پ22،سبا:10) لوہا حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں گندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔سونا:یہ نرم چمکدار اور پیلے رنگ کی دھات ہے، یہ تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے دریافت ہوا، اس کا ایٹمی نمبر 79ہے، یہ مہنگی ترین دھات ہے، اسی سے زیورات اور سکے بنائے جاتے ہیں، سونے کے سکے کو دینار کہتے ہیں، اللہ پاک نے سورۂ الِ عمران آیت نمبر 75 میں دینار کا ذکر فرمایا ہے، نیز سونا جنتیوں کا زیور ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ۔ترجمۂ کنزالعرفان:انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ (پ15،الکہف:31)چاندی:یہ چمکیلی سفید یاسر مئی رنگت والی دھات ہے، یہ تقریباً چھ ہزار سال پہلے دریافت ہوئی، اس کا ایٹمی نمبر 47 ہے، اس سے بھی زیورات اور سکے بنائے جاتے ہیں، چاندی کے سکے کو درہم کہتے ہیں، اللہ پاک نے سورہ ٔیوسف آیت نمبر 20 میں درہم کا ذکر فرمایا ہے، نیز جنت میں چاندی کے برتن ہوں گے، ربّ کریم فرماتا ہے:وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡ ۙ۔ترجمۂ کنزالعرفان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اور گلاسوں کا دور ہوں گے۔(پ29، الدھر:15) اور جنتیوں کو چاندی کا زیور پہنایا جائے گا، ارشاد باری ہے:وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ۔ترجمۂ کنزالعرفان:اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔(پ29، الدھر: 21)شرعی مسئلہ:سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا ناجائز ہے، عورت کے لئے سونے چاندی کے زیورات پہننا جائز ہے اور مرد کے لئے فقط چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم وزن اور ایک نگینے والی فقط ایک انگوٹھی پہننا جائز ہے، اس کے علاوہ ہر دھات کا بنا ہوا زیور پہننا نا نا جائز ہے۔تانبا:یہ نرم روشن اور سرخ رنگت والی دھات ہے، یہ تقریباً چھ ہزار دو سو سال پہلے دریافت ہوا، اس کا ایٹمی نمبر 29 ہے، اس سے تاریں، سکے اور سجاوٹی اشیاء بنائی جاتی ہیں، میٹالرجیکل صنعت میں یہ سب سے اہم دھات ہے، ربّ کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کے چشمے کو ظاہر فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے:وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕترجمۂ کنزالایمان:ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ (22،سبا:12)مفسرین فرماتے ہیں:یہ چشمہ تین دن تک سر زمین ِیمن میں پانی کی طرح جاری رہا۔(تفسیرمدارک،ص958)اللہ پاک ہمیں فہمِ قرآن عطا فرمائے۔آمین


قرآنِ پاک میں ہر چیز کی رہتی دنیا تک کے لئے رہنمائی موجود ہے، اس طرح اس میں ہر چیز کا بیان بھی موجود ہے، جس میں دھات بھی شامل ہیں، مثلاً لوہا، ترازو وغیرہ، ربّ کریم ارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕاِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ترجمہ:بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اُتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے اور اس لئے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے، اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا غالب ہے۔ (پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25) لوہا:مفسرین نے فرمایا: یہاں آیت میں”اتارنا“ پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں، لوہا، آگ ،پانی، نمک۔(مسند الفردوس، باب الالف،1/175، حدیث656)لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے، آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا : لوہا نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اللہ پاک اس شخص کو دیکھے، جو جہاد میں لوہے کو استعمال کرکے اللہ پاک کے دین کی مدد کرتا ہے۔