گزشتہ دنوں مہر کراچی  محمد اشرف سیال رہنما جہانگیر ترین گروپ لودھراں، چیئرمین النور گروپ آف کمپنیز، ڈائریکٹر ائیر سیال پاکستان نے کراچی میں دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز مدنی فیضان مدینہ میں شعبہ تاجران کے اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں شرکت کی۔

جہاں انہیں دعوت اسلامی کی دینی خدمات کے حوالے سے آگاہی دی گئی اور نئے پروجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا ۔ بعدازاں فیضان مدینہ مرکز اور مدنی چینل کے ہیڈ آفس کا وزٹ بھی کروایا گیا۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


31 مئی  2022ء کو دعوت اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات ذمہ داران نے گوجرانولہ ڈویژن میں ڈپٹی کمشنر محمد میثم عباس سے ملاقات کی اور منصب ملنے پر ان کو ویلکم کیا ۔ بعدازاں ملک و بیرون ملک ہونے والی دعوت اسلامی کی دینی خدمات کے حوالے سے بریفنگ دی نیز انہیں مدنی مرکز فیضان مدینہ کے وزٹ کرنے کی دعوت دی۔

اس کے علاوہ راحیل بیگ ڈپٹی کمشنر جنرل،اسسٹنٹ کمشنر مرتضیٰ،قیصر امین بٹ کو ڈی ایس پی سٹی سرکل سیالکوٹ تعینات ہونے پر مبارکباد دی ۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


گزشتہ روز  شعبہ رابطہ برائے شخصیات دعوت اسلامی کے ذمہ داران نے خانپور صدر تھانہ میں تعین SHO بلال قریشی سے ملاقات کی اور انہیں ہفتہ وار سنتوں بھرےاجتماع اور مدنی مرکز خانپور کے وزٹ کی دعوت پیش کی۔

انہوں نے مدنی مرکز حاضری کی یقین دہانی کروائی ۔ مزید فرنٹ ڈیسک انچارج محمد مدنی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہیں بھی دعوت پیش کی ان ملاقاتوں میں تحصیل نگران بھی ساتھ تھے ۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوت اسلامی شعبہ رابطہ برائے شخصیات  کے تحت 30 مئی 2022ء کو ملتان ڈویژن کےذمہ دارفداعلی عطاری کی ڈسٹرکٹ ذمہ دارصدیق مدنی عطاری ودیگرذمہ داران کےہمراہ ممبرقومی اسمبلی(PTi) طاہراقبال چوہدری سےملاقات ہوئی۔ ان کے آفس میں مدنی حلقہ ہواجس میں ان کےگروپ چیئرمینز،کونسلرزودیگر احباب نےشرکت کی۔

بھلائی وخیرخواہی کےموضوع پر سنتوں بھرا بیان ہوا۔ دوسری جانب ذمہ داران نے ممبرصوبائی اسمبلی پاکستان مسلم لیگ (ن)میاں ثاقب خورشیدسے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ مبلغ دعوت اسلامی نے انہیں مدنی مرکزفیضان مدینہ ملتان وزٹ کرنےکی دعوت پیش کی جسے انہوں نےقبول کیااور دوسرے ہفتےمیں وزٹ کا فائنل ہوا۔

اس کے علاوہ ڈی ایس پی صدرمیاں عبدالرؤف، ایس ایچ او انسپکٹر راناادریس ودیگر سے بھی ملاقات کا سلسلہ ہوا،مختلف کتب ورسائل ان شخصیات وافسران کو تحفے میں پیش کئے گئے۔ علاوہ ازیں شعبہ رابطہ برائےشخصیات ڈسٹرکٹ وہاڑی کی میٹنگ بھی ہوئی۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


قرآنِ حکیم اللہ رب العزت کی وہ لاریب، مقدس اور کامل و اکمل کتاب ہے کہ اس میں ہرشے کا تفصیلا ًبیان ہے ۔اللہ کریم نے سورۃ النحل آیت نمبر89 میں تبیانا لکل شئ کہ اس میں ہر چیز کے روشن بیان کا ذکر فرمایا ۔سورۂ یوسف آیت نمبر111 میں وتفصیلالکل شئ یعنی اس میں ہرشے کی تفصیل کا ذکر کیا، اور سورۂ انعام آیت نمبر38 میں ما فرطنا فی الکتاب من شئ کہ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں اٹھا رکھی یعنی جس کا صراحۃیا کنایۃ بیان نہ فرمایا ہے، ان آیت کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کا استخراج یا استنباط قرآن ِکریم سے نہ کیا جاسکتا ہو۔قرآنِ حکیم میں ولارطب ولا یابس کہہ کرہرچیز کی طرف اشارہ کردیا گیاچاہے وہ نباتات ہوں یا جمادات،انسان ہو یا حیوان، جنات ہوں یا فرشتے، مشروبات یا ماکولات ، زمینی ہوں یا آسمانی تخلیقات ،اس جہاں سے تعلق ہو یا اس جہاں سے الغرض سب کا بیان ہے، انہی اشیاء میں سے دھاتیں بھی ہیں ۔کلام ِالٰہی میں ان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ متعدد کے نام اور ان کے کام بھی بیان ہوئے ہیں ۔قرآنِ حکیم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے اس میں سونا چاندی لوہا، ، تانبا،شامل ہیں۔سوناایک ایسی نعمت ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم میں ہوا۔یہ ایک قیمتی دھات ہے جس کے کئی مصارف ہیں، ایک تو زیورات وغیرہ بنانا ہے، دوم : گذشتہ ادوار میں کاروبار سونے اور چاندی کے سکوں سے ہوا کرتا تھا ۔ دنیا میں اس کا حصول مومن و کافر سب کے لیے ممکن ہے لیکن آخرت میں فقط مومنین کے لیے ہوگا۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :اہلِ جنت کے لیے جنت میں یحلون فیھا من اساور من ذھب کہ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت داخل کر دی گئی ہے۔ فرمانِ باری ہے:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر۔اگرچہ اسے زینت اور متاع ِ دنیا کہا گیا ہے مگردنیا میں امت کے مردوں کے لیے سونا اور ریشم کا پہننا حرام ہے، جب کہ عورتوں کے لیے حلال ہے آخرت میں ہردو کو یہ نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں ہمیں چاندی کا ذکر ملتا ہے۔اس دھات اور نعمت کا تعلق بھی دنیا اور آخرت دونوں سے ہے، چاندی سے زیورات اور متعدد اشیاء بنائی جاتی ہیں ،بادشاہ سونے اور چاندی کے ظروف بھی استعمال کرتے تھے مگر شریعتِ مطہرہ نے اس سے منع فرمایا ہے البتہ جنت میں اہلِ جنت کو چاندی کے برتنوں میں کھلایا پلایا جائے گا۔اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(15)قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(16)ترجمۂ کنزالایمان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گےکیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا۔اس کے علاوہ سورۃ الدھر میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وحلوا اساور من فضة انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔دنیا میں ان دھاتوں کا مالک بننے والے مسلمان کے لیے اگر وہ صاحبِ نصاب ہو جائے تو زکوٰۃ ہوگی اور اگر راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اس کا حق ادا نہیں کرے گا تو قرآنِ کریم کا اعلان ہے:وَالَّـذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الـذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَـهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ فَبَشِّرْهُـمْ بِعَذَابٍ اَلِيْـمٍ (34)وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔اس کے علاوہ بھی کچھ مقامات پر قرآنِ کریم میں سونے اور چاندی کا ذکر ہے جیسا کہ کفار کے متعلق رب کریم کا فیصلہ ہے:اِنَّ  الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(91)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگرچہ اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے ان میں لوہا بھی شامل ہے ۔لوہا میں انتہائی سخت قوت ہے اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان اور جنگی لباس بھی بنایا جاتا ہے اوردیگر کئی صنعتوں میں بھی کام آتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں اس کا بیان بھی متعدد بار وارد ہوا ہے،چنانچہ سورہ ٔحدید آیت نمبر 25میں لوہے کا اور اس کی افادیت اور استعمال کا تذکرہ بھی موجود ہے،چنانچہ فرمایا:وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان )ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں ۔اس کے علاوہ سورۂ اسراء آیت نمبر 50میں جہاں کفار کے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر تعجب کا اظہار ہے وہیں ارشاد رب العالمین ہے کہ پتھر یا لوہا بن جاؤ وہ رب پھر بھی اٹھانے پر قادر ہے ۔قل کونوا حجارة أو حدیدا تم فرماؤ کہ پتھر بن جاؤیا لوہا ۔ ایک مقام پر کلام ِالٰہی میں اہلِ جہنم کی سزا کے بیان میں وارد ہوا ہے :وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍاور  ان کے لیے لوہے کے گرز (ہتھوڑے) ہیں ۔ الآيۃ 21 من سورة الحج۔اسی طرح سورۂ کہف آیت نمبر 95 میں لوہے کا ذکر بھی ہے اور تانبے کا بھی ۔ جب یاجوج ماجوج سے قوم تنگ ہوئی تو بادشاہ ذوالقرنین نے قوم اور ان کے درمیان دیوار بنانے کے لیے کہا۔ ارشاد ربانی ہے:اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا ۙقَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًا(96)میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ یہاں تک کہ جب وہ دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا: آگ دھنکاؤ۔ یہاں تک کہ جب اُس لوہے کو آگ کردیا توکہا : مجھے دو تا کہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں ۔ اسی طرح سورہ ٔسبا میں لوہے کا ذکر موجود ہے ۔کلامِ الٰہی میں وارد ہے:اللہ پاک کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا ۔وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ اَوِّبِىْ مَعَهٝ وَالطَّيْـرَ ۖ وَاَلَنَّا لَـهُ الْحَدِيْدَ (10)اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔ اے پہاڑواورپرندو!اس کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے ان میں ایک تانبا بھی ہےاس کا ذکر ہم سورہ ٔکہف کی آیت نمبر 95 میں لوہے کے ذکر کے ساتھ دیکھ چکےاس کے علاوہ سر زمینِ یمن میں سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ پاک نے تانبے کو 3 دن کے لیے پانی کی طرح کر دیا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جیسے داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا ایسے ہی سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ میں تانبا نرم ہوجاتا تھا۔سورۂ سبا میں ارشاد ربانی ہے:وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ: اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہادیا۔


قرآنِ کریم میں ہر شے کا بیان موجود ہے ۔اللہ پاک نے ہرہر چیز کو قرآنِ کریم میں بیان کیا ہے جیسے نماز، روزہ، وضو، تیمم، حج وغیرہ وغیرہ  ایسے ہی قرآنِ کریم میں مختلف قسم کی دھاتوں کا ذکر ہے ۔قرآن ِمجید ،فرقانِ حمید میں چار قسم کی دھاتوں کا ذکر ہے: لوہا ، سونا ، چاندی اور تانبا ۔قرآنِ کریم میں پارہ 27 سورۂ حدید کی آیت نمبر 25 میں ارشادِ ربانی ہے :وَاَنۡزَلۡنَاالۡحَـدِيۡدَترجمہ ٔکنزالایمان : اور ہم نے لوہا اتارا ۔اس کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں : لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان تیار کیےجاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بھی بہت کام آتا ہے ۔ بحوالہ تفسیر صراط الجنان جلد 9 صفحہ 752اور سونا اور چاندی کے بارے میں پارہ 3 سورہ ٔالِ عمران کی آیت نمبر 14 میں ارشادِ ربانی ہے:زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ ترجمۂ کنزالایمان:لوگوں کیلیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر ۔معلوم ہوا ! اللہ پاک نے سونا اور چاندی کا بھی ذکر فرمایا ہے اور جیسے لوہا بہت کام کی چیز ہے ایسے ہی لوگ سونا چاندی سے بھی فوائد حاصل کرتے ہیں کہ عورتیں ان کا زیور پہنتی ہیں اور اس کے ذریعے زیب و زینت حاصل کرتی ہیں اور ایک دوسرے مقام پر اللہ پاک نے پارہ 15 سورۃالکہف کی آیت نمبر 29 میں تانبے کے بارے میں ارشاد فرمایا :وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕترجمۂ کنزالایمان : اور فرمادو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کیلئے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگر پانی کیلئے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے ( کھولتے ہوئے ) دھات ( تانبے ) کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دےگا ۔مفسرین فرماتے ہیں :آیت میں ظالم سے مراد کافر ہیں کہ اللہ پاک نے ان کے لئے یعنی کافروں کیلیے آگ تیار کر رکھی ہےاور اگر وہ پانی کیلئے فریاد کریں گے تو انہیں جو پانی دیا جائے گا وہ پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا ۔اللہ پاک ہم سب کو عذابِ جہنم سے محفوظ فرمائے ۔آمین 


فنانس  ڈیپارٹمنٹ پاک سطح ذمہ دار اسلامی بہنوں کا 28 مئی 2022ء بروز ہفتہ ساہیوال سرکاری ڈویژن میں مدنی مشورہ ہوا جس میں سرکاری ڈویژن نگران، فنانس سرکاری ڈویژن ذمہ دار، ڈسٹرکٹ ذمہ دار اور چند کابینہ ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

تمام اسلامی بہنوں کو شعبہ فنانس کا مختصر تعارف پیش کیا گیا نیز اسلامی بہنوں کو شعبہ فنانس کے دینی کام بڑھانے کے حوالے سے ذہن دیا گیا۔ عطیات کے بروقت درست استعمال کرنے، مزید عطیات بڑھانےکے حوالے سے کلام ہوا۔

بغیر رسید کے کسی سے بھی رقم وصول نہ کی جائے اگر فزیگل رسید نہ بن سکتی ہوتو مینو ل رسید بنا لی جائے اس حوالے سے بھی اسلامی بہنوں کو ذہن دیا گیا ۔ ساتھ ساتھ ای رسید کے نظام کو مضبوط کرنے اور اسلامی بہنوں کو زیادہ سے زیادہ ای رسید استعمال کرنے کے متعلق ترغیب دلائی گئی نیز شر عی چندہ احتیاطی ٹیسٹ لینے کے حوالے سے بھی اسلامی بہنوں کو ذہن دیا گیا - مزید ا ن سےای -رسید ٹیسٹ اور تقرری اہداف بھی لئے گئے ۔ 


دعوتِ اسلامی کے تحت   30 مئی 2022 ء بروز پیر کامرہ شہر میں شعبہ فیضان مرشد کی ذمہ داراسلامی بہنوں کے درمیان مدنی مشورے کاانعقاد ہوا ۔ پاکستان مجلس مشاورت نگران اسلامی بہن نے دینی کام کے حوالے سے اسلامی بہنوں کی تربیت کی۔ ذمہ داران کو مختلف دینی کام کرنے کی ترغیب دلائی نیزاہداف کا بھی سلسلہ رہا۔


قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ہے جو لوگوں کو خیر اور شر میں فرق کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے اور تمام بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایت کا دائمی ذریعہ ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس میں ہر چیز کا  واضح بیان موجود ہے جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء(سورۃ النحل :89)ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ بالکل اسی طرح قرآنِ کریم میں دھاتوں کا تذکرہ بھی موجود ہے اور ایک پوری سورت ہی دھات کے نام پر نازل ہوئی جس کا نام سورۃ الحدید ہے۔ قرآنِ پاک میں کل 4 دھاتوں کے نام آئے ہیں: 1 لوہا 2 تانبا 3 سونا 4 چاندی۔سورۃ الحدید ،آیت 25 میں لوہےکا ذکر آیا ہے ۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے لوہا اتارا اور اس میں سخت لڑائی( کا سامان)ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کے لیے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کو اس کی صنعت کا علم دیا ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں زمین پر اتاریں: 1 لوہا 2 آگ 3 پانی 4 نمک۔ لوہے کے فائدے یہ ہیں کہ اس میں سخت قوت ہے اور اسی سے جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ لوہا دیگر صنعتوں اور پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔(تفسیرِ صراط الجنان جلد9 ،ص 751 ،752 )سورۃ الکہف آیت 29 میں تانبے کا ذکر آیا ہے۔وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ ؕترجمۂ کنز العرفان:اگر وہ پانی کے لئے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے منہ کو بھون دے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:وہ روغن زیتون کی تلچھٹ( وہ چیز جو پانی وغیرہ میں حل نہیں ہوتی) کی طرح گاڑھا پانی ہے۔ترمذی شریف کی حدیث میں ہے : جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ (ایک نرم دھات) یا پیتل ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد5 ،ص 561،562)سورۂ الِ عمران آیت میں سونے اور چاندی کا ذکر آیا ہے۔زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ترجمۂ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کیے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں کو (ان کے لیے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ پاک کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ان کی من پسند چیزوں کو خوش نما بنا دیا گیا چنانچہ اور عورتوں ،مال واولاد، سونا ،چاندی، کاروبار اور عمدہ سواریوں کی محبت لوگوں کے دل میں رچی ہوئی ہے ۔ ان چیزوں کو آراستہ کرنے اور ان کی محبت کو دل میں پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں میں فرق ہو جائے ۔(تفسیرِ صراط الجنان جلد1،ص 509)اس آیت میں ہمارے لئے بہت اعلیٰ درس ہے کہ انسان کو دنیا کی زینت اور خوشنمائی میں اتنا غرق نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ پاک کو فراموش کر بیٹھے۔ آخر میں اللہ پاک ہمیں بھی قرآن میں غور وفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں! اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار!


دعوتِ اسلامی کے تحت   28 مئی2022 ء بروز ہفتہ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پاکستان نگران اسلامی بہن نے شعبہ دارالسنہ میں کورس کی طالبات کے درمیان ’’ نماز کے فضائل‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا ۔

کورس میں شریک اسلامی بہنوں کو پابندی سے نماز ادا کرنے کا ذہن دیا اس کے بعد دارالسنہ کی ناظمات و معلمات کے ساتھ مدنی مشورہ کیا اور ان کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اچھی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کی ۔


قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے:وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ (پارہ14 النحل89)ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔قرآنِ کریم اگرچہ ظاہر میں 30 پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت قرآنِ کریم میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح، روشن اور تفصیلی بیان ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن ص 419)یہاں قرآنِ کریم کی وہ آیتیں درج کی جاتی ہیں جن میں صراحتاً (یعنی واضح طور پر) کسی نہ کسی دھات کا ذکر ہے۔1لوہا:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ(پارہ 2٧ الحدید 25)ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا،اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔مفسرین نے فرمایا : یہاں آیت میں اتارنا پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے مَعادِن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا۔ لوہے کافائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان، الحدید،تحت الآیۃ 25)2سونا:یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ(پارہ 15 الکھف 31)ترجمۂ کنز العرفان: انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سونا ایک مفرد زرد رنگ کی دھات ہے جو پانی سے 19 گنا بھاری ہے۔ اس کے زیورات اور سکے بنتے ہیں۔ یہ ان چند دھاتوں میں سے ہے جو کسی ایک تیزاب میں نہیں گھلتے۔ دو تیزابوں کے مرکب میں گھلتے ہیں۔ اس کے نہایت باریک تار کھینچے جاسکتے ہیں اور باریک ورق بنائے جاسکتے ہیں۔خیال رہے کہ دنیا میں سونے کا استعمال مردوں کیلئے حرام ہے۔ سونے کے زیورات مرد پر حرام ہیں ورنہ سونے کی اشیاء عورتوں کے لیے بھی ممنوع ہیں۔3چاندی:وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ (پارہ 29 الدھر 15)ترجمۂ کنز العرفان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَور ہوں گے جو شیشے کی طرح ہوں گے۔آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے نیک بندوں پر چاندی کے برتنوں اور گلاسوں میں جنتی شراب کے دَور ہوں گے اور وہ برتن چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ شیشے کی طرح صاف شفاف ہوں گے۔(تفسیر صراط الجنان بحوالہ خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 1516، 4/340، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: 1516، ص1307، ملتقطاً)چاندی ایک سفید رنگ کی قیمتی دھات ہے جو کان سے نکلتی ہے اور بیشتر زیورات، سکے اور نازک قسم کے برتن وغیرہ بنانے کے کام میں آتی ہے۔ یہ ایک سفید عنصر دھات ہے جو پانی سے ڈیڑھ گنا بھاری ہے۔ تانبے وغیرہ کی چیزوں پر اس کاملمع کرتے ہیں۔4سیسہ:اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (پارہ 28 الصف 4)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔سیسہ ایک دھات کا نام ہے جو رانگ کی قسم میں سے نیلاہٹ لئے ہوئے ہوتی ہے۔ بندوق کی گولیاں اسی سے بناتے ہیں۔5تانبا:قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ (پارہ 16 الکھف 96)ترجمۂ کنز الایمان: کہا لاؤ میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُونڈیل دوں۔تانبا ایک سرخی مائل دھات ہے جو کانوں میں پائی جاتی ہے جسے تار کی شکل میں کھینچا جاسکتا ہے، اسے خالص کے علاوہ پیتل اور کانسی وغیرہ مختلف بھرتوں میں استعمال کیا جاتا ہے، سونے میں بھی صلابت پیدا کرنے کے لیے کام میں لاتے ہیں۔نیز یہ ایک سرخی مائل عنصر دھات ہے جو کافی مرکبات میں پائی جاتی ہے۔ یہ پانی سے نوگنا بھاری ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے برتن عموماً اسی کے بنتے ہیں۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے تحت 29 مئی 2022 ء کو پاک سطح شعبہ رابطہ ذمہ دار اسلامی بہن  کی ملتان ڈویژن گلگشت کابینہ ناردرن بائی پاس تنظیمی ڈویژن میں ملتان چیمبر آف کامرس کے صدر کے گھر کی خواتین سے ملاقات ہوئی۔

پاکستان سطح شعبہ رابطہ ذمہ دار اسلامی بہن نے انہیں دعوت اسلامی کی دینی معلومات پر مشتمل ایپس کا تعارف کروایا نیز دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے کورسز اور سیشن کے بارے میں بھی بتایا۔