نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ محمد زکریا،کراچی
نمازِ عشا کی فضیلت واہمیت!عشا کے لغوی! رات کے ابتدائی تاریکی کے ہیں کیونکہ یہ نماز
اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے اس لیے اس نماز کو عشا کی نماز کہا جاتا
ہے۔( مکتبہ المدینہ کی کتاب فیضان نماز ص 114) سب سے پہلے نمازِ
عشا کس نے ادا کی؟ہمارے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمازِ عشا ادا فرمائی۔ہمارے سرکار صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر تہجد کی نماز بھی
فرض تھی۔ نمازِ عشا حضور صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی خصوصیت
ہے اور نمازِ پنجگانہ یعنی پانچ وقت کی نمازیں بھی اور نمازِ تہجد کی فرضیت سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خصوصیت ہے۔نمازِ
عشا کی فضیلت:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:سب نمازوں میں زیادہ گِراں (یعنی بوجھ والی) منافقوں پر نمازِ عشا و فجر ہے اور جو اِن میں فضیلت ہے اگر جانتے
تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سُرِین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس)کے بَل گِھسَٹتے ہوئے یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔( ص111)حضرت مفتی احمد یار
خان رحمۃاللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: کیونکہ منافق صرف دکھلاوے کے لیے
نماز پڑھتے ہیں اور وقتوں میں تو خیر جیسے تَیسے پڑھ لیتے ہیں مگر عشا کے وقت نیند
کا غلبہ، فجر کے وقت نیند کی لذَّت انہیں مَست کر دیتی ہے۔ اخلاص و عشق تمام
مشکلوں کو حَل کرتے ہیں وہ ان میں ہے نہیں،لہٰذا یہ دو نمازیں انہی بہت گِراں(یعنی بہت بڑا بوجھ معلوم ہوتی) ہیں اس لیے جو مسلمان ان دو نمازوں میں سستی کرے وہ منافقوں سا کام
کرتا ہے۔ (ص112)تابعی بزرگ
حضرت سَعید بن مُسَیّب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے ،سرورِ دو جہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت وپہچان عشا
و فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں
رکھتے۔( ص112)حضرت علامہ عبد الرَّؤف مُناوی رحمۃ اللہ علیہلکھتے ہیں :اس حدیث
میں ذکر کردہ منافق سے مراد دور رِسالت کے بد ترین کفار نہیں ہیں جو خود کو جھوٹ
موٹ مسلمان ظاہر کرتے تھے مگر دل سے کافر تھے بلکہ مراد منافقِ عملی ہے جو حقیقت میں
مسلمان ہیں۔ حدیث کے اس حصہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے سے مراد
ہے کہ ہم ان نمازوں کو چُستی کے ساتھ اور خوشی خوشی ادا کرتے ہیں ہمیں ان دونوں
نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد آنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی جبکہ منافقین
پر یہ نمازیں بھاری ہے اس لئے وہ انہیں بَشَّاشَت یعنی خوشی اور چستی کے ساتھ ادا
کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(آگے چل کر فرماتے ہیں) واضح رہے! منافقِ عملی عبادت قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ عادت کی وجہ سے
نماز پڑھتا ہے اور چونکہ اس کا نفس نماز پڑھنے کو ناپسند کرتا ہے اس لئے وہ سب کے
ساتھ نہیں بلکہ اپنے گھر میں تنہا نماز پڑھتا رہا ہے۔( آگے مزید تحریر کرتے ہیں:) بعض عارفین(یعنی اللہ پاک کی پہچان رکھنے والوں) کا قول ہے:نماز ِفجر باجماعت پابندی سے پڑھنے سے دنیا کے مشکل کام
آسان ہو جاتے ہیں، نماز ِعصر و عشا کی جماعت کی پابندی سے زُہد پیدا ہوتا ہے یعنی
دنیا سے بے رغبتی نصیب ہوتی ہے خواہشات کی پیروی سے نفس باز رہتا ہے۔( ص112، 113)دوزخ سے آزادی: امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ
اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان
ہے کہ جو چالیس رات مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو۔ اللہ
پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔( ص97)
تو پانچوں نمازوں کی پابند کردے پئے
مصطفٰی ہم کو جنت میں گھر دے
جہنم کے دروازے پر نام:حضور نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو جان
بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے
وہ داخل ہوگا۔( ص425)سرورِ کائنات صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم معراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے کچلےجا رہے تھے جب بھی انہیں کُچل دیا جاتا وہ
پہلے کی طرح درست ہوجاتے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا تو آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پوچھا :اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر
نماز پڑھنے سے بوجھل یعنی بھاری ہو جاتے اور فرض نماز چھوڑ دیتے تھے۔( ص432) ہمیں ضرور غور کرنا چاہیے کہ ہم عاجز اور ناتواں بندیاں، نازک جسم
رکھنے والیاں، ہم دنیا کی معمولی سِی سختی بلکہ سَر کا ہلکہ درد برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں تو
جہنم کے اس درد بھرے ہولناک عذاب کو کیسے برداشت کر سکتی ہیں! اے کاش ! ہم جس طرح
دنیا کے کاموں کے لیے وقت نکال کر حاضر ہو جاتی ہیں اسی طرح نماز میں بھی اپنے
ربِّ کریم کے حضور وقت پر حاضر ہو جائیں۔ اے کاش! سب مسلمان سچے پکے نمازی بن جائیں۔
اللھم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
پڑھتی رہو نماز تو جنت کو پاؤ گی چھوڑو
گی گر نماز جہنم میں جاؤگی
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ محمد شفیع،راولپنڈی
نماز جنت میں دیدارِ الٰہی اور گناہوں کی بخشش کیلئے بہترین راستہ
ہے۔نماز دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ اﷲ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان کے بعد اہم ترین رکن ہے۔نماز شر سے نجات اور باعثِ خیر ہے۔دنیاوی
مشکلات سے نجات اور کامیابی کیلئے نماز کی بھی ایک عجیب تاثیر ہے، خاص طور جس وقت
نماز کو ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے مکمل حق دیا جائے۔دنیاوی یا اخروی کسی بھی قسم
کی مشکلات کیلئے نماز بے مثال ہتھیار ہے۔مجموعی طور پر صحتِ قلب وبدن کیلئے نماز
انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ اگر دو آدمی کسی وبا میں مبتلا ہوجائیں تو نمازی پر اس
کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ
معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔ عَنْ أَبِي
هُرَيْرَۃ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صلی اللّٰه عليه واله وسلم :
إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ بِصَلَاتِهِ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ
أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ۔نسائی،السنن، کتاب الصلاۃ، باب المحاسبۃ علی الصلاۃ، 1 : 232، رقم :
465حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہوگا۔ اگر نماز
شرائط، اَرکان اور وقت کے مطابق ادا کی گئی ہوئی تو وہ شخص نجات اور چھٹکارا پائے
گا اور مقصد حاصل کرے گا۔نماز ادا کرنے کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس سے لگایا جا
سکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں تقریبًا سات سو مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃ وَارْکَعُوْا مَعَ
الرّٰکِعِيْنَo البقرۃ، 2 : 43ترجمہ: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ
رکوع کیا کرو۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کیا گیا:اﷲ پاک کو
کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :الصَّلَاۃ
لِوَقْتِهَانماز کو اس کے مقررہ
وقت پر پڑھنا۔(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، 1 : 89، رقم : 85)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاروایت کرتی ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :إِنَّ
أَفْضَلَ الصَّلوٰۃ عِنْدَ اللہ صَلوٰۃ الْمَغْرَبِ، وَ مَنْ صَلَّی بَعْدَهَا
رَکْعَتَيْنِ بَنَی ﷲ لَه بَيْتاً فی الْجَنَّۃ، يَغْدُو فیهِ وَ يَروح(طبرانی،المعجم الأوسط،7: 230،رقم : 6445)اللہ پاک کے نزدیک سب سے افضل نماز، نماز ِمغرب ہے اور جو اس کے بعد
دو رکعت پڑھے تو اس کے لئے اللہ پاک جنت میں ایک گھر بنا دے گا (جس میں) وہ صبح کرے گا اور
راحت پائے گا۔1. عشا کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئےحضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:مَنْ صَلَّی
الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃبخاری، الصحيح، کتاب
مواقيت الصلٰوۃ، باب فضل صلاۃ الفجر، 1 :
210، رقم : 548جس شخص نے ٹھنڈے وقت
کی دو نمازیں ادا کیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ عشا کا وقت ہے جب انسان دن بھر کی
تھکن سے چور، کھانا کھاتے ہی بستر راحت پر دراز ہونا چاہتا ہے اور شیطان حیلوں
بہانوں سے اسے عشا کی نماز پڑھنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بندۃٔ خدا
نفسانی خواہشات اور شیطان کے حربوں کے باوجود بارگاہِ ایزدی میں نماز کے لیے حاضر
ہو کر شیطان کے سارے عزائم خاک میں ملا دیتا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ان دو اوقات کے عبادت گزار بندوں کو جنت کی بشارت دینا اس حکمت کی
بناء پر ہے کہ جو انسان فجر اور عشا کی نمازوں کی ادائیگی کو اپنا معمول بنا لیتا
ہے، اس کے لیے باقی تین نمازوں کو ادا کرنا گراں نہیں ہوتا۔2.حضرت عبدالرحمن بن ابی
عمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :مَنْ صَلَّی
الْعشا فِی جَمَاعَۃ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِجس نے عشا کی نماز باجماعت پڑھی تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا۔(مسلم، الصحيح، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشا و
الصبح فی جماعۃ، 1 : 454، رقم : 656)3.نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافق لوگوں پر فجر اور عشا کی نماز سے زیادہ کوئی
نماز بھاری نہیں اور اگر یہ جانتے کہ ان نمازوں میں کیا ثواب ہے جو زمین پر گھسیٹتے
ہوئے بھی پہنچتے ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَۃ قَالَ
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ صَلَاۃ أَثْقَلَ عَلَى
الْمُنَافِقِينَ مِنْ الْفَجْرِ وَالْعشا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فیهِمَا
لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ۔(صحيح بخاری: 657،
بَاب فَضْلِ الْعشا فی الْجَمَاعَۃ)4.نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :اندھیرے (یعنی فجر اور عشا) میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور (بھرپور اجالے) کی بشارت دے دو۔(ترمذی: 223 ،صحيح
الجامع: 2823 ،أبی داود :561 )5. عن عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ
صَلَّى الْعشا فی جَمَاعَۃ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى
الصُّبْحَ فی جَمَاعَۃ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ (رواه مسلم، حدیث نمبر:1491)ترجمہ:حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا: جو شخص عشا کی نماز جماعت سے پڑھے وہ ایسا
ہے کہ گویا اس نے نصف شب عبادت کی اور جو فجر کی نماز بھی جماعت سے پڑھے وہ ایسا
ہے کہ گویا اس نے پوری رات نماز میں گزاری۔اے اللہ پاک! ہمیں بھی پانچ وقت کی نمازی
بنا ۔ایسی نمازی کہ ہماری کوئی نماز بھی قضاء نہ ہو اور ہر نماز تیری بارگاہ میں
مقبول ہو جائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ جمیل احمد عطاری،کراچی
حضرت
عقبہ بن نافع فہری رحمۃ اللہ علیہ کا لشکر افریقہ کے جہادوں میں ایک بار کسی ایسے
مقام پر پہنچ گیا، جہاں پانی کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھااور اسلامی لشکر شدتِ پیاس سے بے تاب ہو گیا، حضرت
عقبہ رضی اللہ عنہ
نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے، ابھی دعا ختم بھی نہیں ہوئی
تھی کہ آپ کا گھوڑا اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگا، آپ نے اٹھ کر دیکھا تو مٹی ہٹ
چکی تھی، پتھر نظر آرہا تھا، پتھر ہٹایا تو اس کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابلنے لگا،
اس قدر پانی نکلا کہ سارا لشکر جانوروں سمیت سیراب ہو گیا اور سب نے اپنی اپنی
مشکوں میں بھی بھر لیا، پھر اس چشمےکو بہتا چھوڑ کر لشکر آگے روانہ ہوگیا۔(فیضان
نماز،ص24)
قطعئہ
بے آب ہو ،بے چین ہو بے تاب ہو پیاس
کی ہو دور شدت، تم پڑھو دل سے نماز
نماز اس قدر پیاری عبادت ہے کہ جب بھی کوئی
مصیبت آجائے تو فوراً نماز کا سہارا لینا
چاہئے، نماز مصیبتوں، بلاؤں کو دور کرتی ہے، ہمارے پیارے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اہم معاملہ درپیش آنے پر نماز میں مشغول ہو جاتے
تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے:بصرہ میں
زلزلہ آیا تو آپ نے نماز پڑھی۔کس نبی نے کون سی نماز ادا کی؟ انبیائےکرام علیہم
السلام
نے مختلف نمازیں مختلف مواقع پر ادا فرمائیں، نماز عشاہمارے پیارے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نماز عشا ادا فرمائی، ہمارےآقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم
پر تہجد بھی فرض تھی،نماز عشا حضور صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے اور پانچ وقت کی نمازیں
بھی۔عشاکے لغوی اور اصطلاحی معنی: عشاکےلغوی معنی رات کی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ
نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نمازکو عشاکی نماز کہا
جاتا ہے۔ نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت پر پانچ فرامینِ مصطفی:1۔بیہقی نے شعب
الایمان میں عثمان رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کی ہے:جو نمازِ صبح کے لئے طالبِ ثواب ہوکرحاضر ہوا،گویا اس نے تمام رات قیام کیا اور جو نمازِ
عشا کے لئے حاضر ہوا، گویا اس نے نصف شب قیام کیا۔( شعب الایمان، باب فی
الصلٰوۃ، فصل فی الجماعۃ،الحدیث2852،ج3،ص55،بہار شریعت، حصہ 3)2۔خطیب
نے انس رضی
اللہ عنہ
سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم
نے فرمایا:جس نے چالیس دن نماز فجر و عشاجماعت سے پڑھی، اس کو اللہ پاک دو برائتیں
عطا فرمائے گا،ایک نار سے،دوسری نفاق سے۔(تاریخ بغداد، رقم 6231، ج11،
ص374،بہار شریعت، حصہ تین)3۔حضرت ابو ہریرۃ رضی
اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم
کا فرمان عبرت نشان ہے: سب نمازوں میں
زیادہ گرا ں (یعنی بوجھ والی )منافقوں پر عشا و فجر
ہے اور جوان میں فضیلت ہے، اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے،اگرچے سرین (بیٹھنےمیں بدن کا وہ حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی
جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔شرحِ حدیث:حضرت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:منافقین صرف دکھاوے کے لئے نماز پڑھتے ہیں،
لہٰذا یہ دو نمازیں ان کو بوجھ معلوم ہوتی ہیں، اس سے معلوم ہوا !جو مسلمان
ان نماز وں میں سستی کرے،وہ منافقوں کے سے
کام کرتا ہے۔(مراٰۃ
المناجیح، ج1،ص396، فیضان نماز،ص112)4 ۔تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِدوجہاں صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے
درمیان علامت(
یعنی پہچان)
عشا کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں
رکھتے۔(مؤطا
امام مالک، جلد 1، صفحہ 133،حدیث 298، فیضان نماز،ص 112)5۔بزار نے ابنِ عمر رضی
اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضورپاک صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے، اللہ پاک اس
کی آنکھ کو نہ سلائے۔(کنزالعمال، کتاب الصلٰوۃ ،الحدیث19497، ج7، ص165،
بہار شریعت، ص441)نمازِ
عشا سے پہلے سونا اور بعدِعشا دنیا کی باتیں کرنا، قصے کہانی کہنا،سننا مکروہ ہے۔امیر
المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے
اپنے حکام کو ایک فرمان لکھا:جس میں یہ بھی لکھا کہ جوعشا سے پہلے سو جائے،خدا کرے
اس کی آنکھ نہ سو ئیں،جو سوجائے اس کی آنکھ نہ سوئیں، جوسو جائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں۔(مؤ طاامام مالک، ج 1،
ص35،ح6)وضاحت:عمر
فاروقِ اعظم رضی
اللہ عنہ
کے فرمان کے متعلق مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کی دعا ناراضی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے،
نمازِ عشا سے پہلے سو جانا اور عشا کے بعد
بلا ضرورت جاگتے رہنا،دونوں کام خلافِ سنت
ہیں اور نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ناپسند ہیں۔ (مرآۃ المناجیح ،
ج1،ص377)اللہ
پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز ِپنجگانہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، کیوں کہ نماز
اپنے اوقات میں ادا کرنا، ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا، اللہ پاک کے نزدیک سب سے
پیارا عمل ہے، اللہ پاک ہمیں اپنا قرب عطا فرمائے۔آمین
تو
پانچوں نمازوں کی پابند کر دے پئےمصطفی
ہم کو جنت میں گھر دے
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ خادم حسین،لالہ موسی
لغوی و اصطلاحی معنی:لغوی
معنی: اندھیری رات ، رات کا کھانا، ظلم ،کفر۔اصطلاحی معنی: رات کے وقت کا نماز جب
اندھیرا چھا جاتا ہے تو اس وقت ادا کیا جاتا ہے،اس وجہ سے اس کو نماز عشاکہا جاتا
ہے ۔سب سے پہلے نماز ِعشا کس نے پڑھی؟امام طحاوی رحمۃ
اللہ علیہ کا قول ہے: نماز ِعشاسب
سے پہلے آقا علیہ السلام نے ادا فرمائی۔نمازِ عشا
کی اہمیت،فضیلت اور وعید کے متعلق 5 احادیث اصل کتب سے حوالہ کے ساتھ:عشا اور فجر
کی نماز باجماعت ادا کرنا: جس نے عشاکی نماز باجماعت ادا کی تو وہ نصف رات قیام
کرنے کی طرح ہے اور جس نے عشا اور فجر دونوں باجماعت ادا کیں، تو وہ ساری رات قیام
کرنے کی طرح ہے۔(ابوداؤد، ج 1،ص 230،حدیث
555)مزید اس نیک عمل میں
تکبیر ِاولیٰ کا بھی ذکر ہے، اس کی فضیلت حدیثِ پاک میں یہ بیان کی گئی ہے کہ جو
مسجد میں چالیس 40 راتیں باجماعت نمازِ عشا اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،
اللہ پاک اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دیتا ہے۔سبحن اللہ ! صرف چالیس 40 دن تک
عشاکی نماز تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھنے کی جب یہ فضیلت ہے، تو زندہ رہ جانے کی صورت
میں زندگی بھر پانچوں نمازیں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کا کیا مقام ہوگا۔حضرت
حارث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ ایک دن تشریف فرما تھے اور ہم بھی بیٹھے تھے کہ مؤذن
آگیا،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوا کر وضو
کیا، پھر فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے، میں نے سرکارِ
مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا :جو میرے اس وضو
کی طرح وضو کرے، پھر ظہر کی نماز پڑھ لے تو اللہ پاک اس کے گناہوں کو معاف فرما
دیتا ہے، یعنی وہ گناہ جو فجر اور اس ظہر کی نماز کے درمیان ہوئے ہوں، پھر جب عصر
کی نماز پڑھتا ہے تو ظہر اور عصر کے درمیان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، پھر
جب مغرب کی نماز پڑھتا ہے تو عصر اور مغرب کے درمیان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا
ہے، پھر عشا کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے اور مغرب کے درمیان کے گناہوں کو معاف فرما
دیتا ہے، پھر ہو سکتا ہے کہ رات بھر وہ لیٹ کر ہی گزار دے، پھر جب اٹھ کر وضو کرے
اور فجر کی نماز پڑھے تو عشا اور فجر کے درمیان کے گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے اور
یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔(الاحادیث المختارۃ 450/1،ح3440 ملتقظاً)منقول ہے:افضل عبادت وہ
ہے ،جس میں تکلیف زیادہ ہے۔امام شریف الدین نووی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں:عبادات میں
مشقت اور خرچ زیادہ ہونے سے ثواب اور فضیلت زیادہ ہو جاتی ہے ۔حضرت ابراھیم بن ادھم رحمۃ
اللہ علیہ کا فرمانِ معظم ہے:دنیا
میں جو نیک عمل جتنا دشوار ہوگا، قیامت کے دن نیکیوں کے پلڑے میں اتنا ہی زیادہ
وزن دار ہوگا۔رسولِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :منافقوں پر فجر اور عشا کی نماز سے
زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں۔(صحیح بخاری شریف)4۔آقا علیہ السلام کا فرمان مبارک:جس نے عشا کی نماز ترک کی، اس کی نیند سے
راحت ختم کردی جاتی ہے ۔5۔نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اندھیرے میں(فجر اور عشا) میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل
نور کی بشارت دے دو۔ (ترمذی، ح 223)نماز نہ پڑھنے کی وعیدیں:اللہ پاک اس
کی زندگی سے رحمتیں اٹھائے گا۔اس کی دعا قبول نہ کرے گا ۔اس کے چہرے سے اچھے لوگوں
کی علامات مٹادے گا۔
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از ام حنظلہ
عطاریہ،اسلام آباد
نماز تحفۂ معراج، ہر مسلمان مرد وعورت، عاقل و بالغ پر فرض ہے،نماز
کے بے شمار دینی و دنیاوی فوائد و برکات ہیں، نماز پنجگانہ اللہ پاک کی وہ نعمتِ عظمی ہے جو ہم سے پہلے کسی اُمت
کو نہ ملی، ہر نماز کی الگ اہمیت و برکات ہیں، اسی طرح نمازِ عشا بھی اپنے پڑھنے
والوں کے لئے بے شمار برکتیں اور فضیلتیں لئے ہوئے ہے، لہٰذا تمام نمازوں بالخصوص نمازِ عشا پڑھنے میں ہرگز سستی نہ کیجئے،
نماز میں سستی درست نہیں، پابندی سے تمام نمازیں ادا کرے۔عشا: عشا کے لغوی معنی
رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی
ہے،اس لئے اس نماز کو عشا کہا جاتا ہے۔( فیضان نماز،
صفحہ-14 )5 فرامینِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:1۔ن مازِ عشا سے پہلے سونا: حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے اللہ پاک اس کی آنکھ کو نہ
سلائے۔( جمع الجوامع،ج1، صفحہ 289، حدیث 23192)2۔ منافقین عشا اور فجر میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے: تابعی بزرگ
حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے،سرورِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت( یعنی پہچان) عشا کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی
طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 133،حدیث 298 )3۔فجر و عشا 40دن باجماعت پڑھنے کی عظیم الشان فضیلت:خادمِ نبی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس دن فجرو عشا باجماعت پڑھی، اس کو اللہ
پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا، ایک نار(یعنی آگ) سے، دوسری نفاق(یعنی منافقت) سے۔(ابن عساکر، جلد 52،
صفحہ 338)4۔ دوزخ سے آزادی:امیر
المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا
پڑھے، کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو، اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن ماجہ، ج1، صفحہ 931،حدیث798)5۔ گویا ساری رات عبادت کی: امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے، گویا(یعنی جیسے) اس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا(جیسے) اس نے پوری رات قیام
کیا۔( فیضان نماز، ص93، مسلم، صفحہ 258 ،حدیث 1491)اللہ کریم ہمیں تمام نمازیں پابندی کے ساتھ صحیح وقت پر، چستی کے
ساتھ اور خوشی خوشی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ اصغر مغل،سیالکوٹ
اللہ کریم نے اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو شبِ معراج 50 نمازوں کا تحفہ عطا فرمایا، جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے مشورے سے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کم کروائیں اور تخفیف کے بعد پانچ نمازیں تحفے میں ملیں، مگر
قربان جائیے رحمتِ خداوندی کے!اس نے فرمایا :اگرچہ نمازیں پانچ ہیں، مگر ثواب پچاس
کا ہی ملے گا۔ ہر نماز ہی بے شمار خوبیوں اور فضائل کی حامل ہے، مگر ان میں سے ایک
نہایت اہم نماز جسے عموماً سستی اور غفلت اور تھکن کی وجہ سے یا تو معاذ اللہ چھوڑ
دیا جاتا ہے یا قضا کر کے پڑھا جاتا ہے اور کچھ لوگ تو مکمل پڑھتے ہی نہیں۔آئیے!
سب سے پہلے عشا کا معنی جانئے، پھراس کے فضائل و وعید جانئے اور پابندی سے ساری
نمازیں پڑھنے کی نیت فرما لیجئے۔عشا کا لغوی معنی: عشا کا لغوی معنیٰ ہے رات کی
ابتدائی تاریکی، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اسے
عشا کی نماز کہا جاتا ہے۔1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت
نشان ہے: سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر
ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے
بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، جلد 1،
صفحہ437، حدیث797)حدیثِ مبارکہ کی
شرح:حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:کیونکہ منافق صرف دکھاوے کے لئے نماز پڑھتا ہے اور وقتوں میں تو
خیر جیسے جیسے پڑھ لیتے ہیں، مگر عشا کے
وقت نیند کا غلبہ، فجر کے وقت نیند کی لذت انہیں سست کر دیتی ہے، اخلاص اور عشق مشکلوں
کو حل کرتے ہیں، وہ ان میں سے نہیں، لہٰذا یہ دو نمازیں انہیں بہت گراں(یعنی بہت بڑا بوجھ معلوم ہوتی ہیں)پس اس سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان ان دونوں نمازوں میں سستی کرے، وہ
منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔(مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 396)2۔تابعی بزرگ حضرت سعید بن
مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِ دوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں
آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک،
جلد 1، صفحہ123، حدیث298)3۔ بہار ِ شریعت میں ہے کہ دن کی ابتدائی حصے میں سونا یا مغرب و عشا
کے درمیان سونا مکروہ ہے۔(حوالہ بہار شریعت،
جلد 3، صفحہ 439)4۔نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشادفرماتے ہیں: جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے، اللہ پاک اس کی آنکھ
کو نہ سلائے۔(جمع الجوامع،جلد 7، صفحہ289،حدیث23192)امیر المؤمنین حضرت فاروقِ
اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے حکام کو ایک فرمان لکھا، جس میں یہ بھی ہے کہ جو عشا سے
پہلے سو جائے، خدا کرے اس کی آنکھیں نہ سوئیں، جو سو جائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں،
جو سو جائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں۔(حوالہ موطا امام
مالک، جلد 1، صفحہ 25، حدیث 4)5۔سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چالیس
راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو، اللہ پاک اس کے
لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔اللہ کریم ہمیں دلچسپی کے ساتھ خوشی اور چشتی کے
ساتھ تمام نمازوں سمیت نمازِ عشا کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی
الامین صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ اقبال عطاریہ،سیالکوٹ
مشکل کام کا ثواب زیادہ ہے:کوئی بھی کام ہمیں جتنا مشکل لگتا ہو، نفس
پر جتنا زیادہ بوجھ محسوس ہوتا ہو، ہمیں نفس کی چالاکیوں کو کچلتے ہوئے وہ کام کر لینا چاہئے، ہماری سوچ سے بھی
آگے ہیں: جتنا ہمیں وہ کام کرنے کا ثواب
ملتا ہے، الحمدللہ!عشق جنون جب اپنی حد کو
پہنچ جاتا ہے، تو اللہ پاک اور رسول پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہر کام کو بآسانی ایک عاشق سرانجام دیتا ہے اور اس کا ثواب کا
اندازہ وہ خود بھی نہیں لگاسکتا۔ عشا کے لغوی و اصطلاحی معنی: عشا کے لغوی معنی
رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی
ہے، اس لئے اس نماز کو نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔سب سے پہلے نمازِ عشا کس نے پڑھی:بعض
انبیائے کرام علیہم السلام نے جدا جدا موقع پر مختلف نمازیں ادا فرمائیں،اللہ پاک نے ان
محبوبانِ بارگاہ کی ان حسین اداؤں کو ہم غلامانِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر فرض کردیا، چنانچہ سب سے
پہلے نمازِ عشا ہمارے پیارے مدنی مکی مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ادا فرمائی۔نمازِ عشا کی
اہمیت اور فضیلت پر پانچ فرامین مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :نمازِ عشا کی اہمیت اور فضیلت پر ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے 5فرامین:1۔حضرت عثمانِ
غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو نمازِ
عشا جماعت سے پڑھے، گویا کہ اس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے، گویا
کہ اس نے پوری رات قیام کیا۔( مسلم، صفحہ258، حدیث
نمبر 1491)2۔امیر المومنین
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چالیس
راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو، اللہ پاک اس کے
لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن ماجہ، جلد 1،
صفحہ437، حدیث798)3۔تابعی بزرگ
حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں
آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک،
جلد 1، صفحہ 133،حدیث 298)4۔حضور پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشادفرماتے ہیں: جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے، اللہ پاک اس کی آنکھ
کو نہ سلائے۔(جمع الجوامع،جلد 7، صفحہ289،حدیث23192)5۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ
صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت
نشان ہے: سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر
ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے
بھی ممکن ہوتا آتے۔ (ابن ماجہ، جلد 1،
صفحہ437، حدیث797)سب نمازوں کی پابندی:اے عاشقانِ نماز! میرے آقا اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نماز پنجگانہ اللہ پاک کی وہ نعمتِ عظمیٰ ہے کہ اس نے
اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی، ہم سے پہلے کسی امت کو نہ ملی۔(فتاوی رضویہ، جلد
5، صفحہ43)مگر صد افسوس! آج اکثر مسلمانوں کو نماز کی بالکل پروا
نہیں رہی، ہماری مسجدیں نمازیوں سے خالی نظر آتی ہیں، اللہ پاک نے نماز فرض کر کے
ہم پر یقینا احسانِ عظیم فرمایا، ہم تھوڑی سی کوشش کریں، نماز پڑھیں تو اللہ کریم
ہمیں بہت سارا اجر و ثواب عنایت فرماتا
ہے۔ہر ایک نمازوں کے وقتوں کا خیال رکھے اور ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پابندی
کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے، میرے آقا اعلٰی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وقت پہچاننا(یعنی نماز/ روزہ وغیرہ کی معلومات رکھنا) تو ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، یعنی ہرعاقل و بالغ مسلمان پر ضروری ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 569)اللہ پاک ہمیں پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے اور میرے مدنی مکی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کو مرتے دم تک ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
بجاہ نبی الامین صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم
تو پانچوں نمازوں کی پابند کردے پئے مصطفی ہم کو جنت میں گھر دے
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ محمد اقبال،کراچی
جو کام جتنا مشکل ہوتا ہے، اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے،
چنانچہ نمازِ عشا ان دو نمازوں میں سے ایک ہے کہ جو منافقوں پر گراں گزرتی ہے اور
سب نمازوں میں زیادہ بوجھ والی نماز ہے،
تو اس کا اجر بھی زیادہ ہے، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر منافقین نمازِ عشا کی فضیلت جان لیتے تو ضرور
حاضر ہوتے، اگرچہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے آتے۔عشا کا لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی
اور اصطلاح میں رات کی ابتدائی تاریکی میں پڑھی جانے والی نمازکو کہتے ہیں اور بعض
انبیائےکرام علیہم
السلام نے مختلف اوقات کی نمازیں جداجدا مواقع پر ادا فرمائیں، اللہ پاک نے
اپنے ان محبوبانِ بارگاہ کی حسین اداؤں کو
ہم غلامانِ مصطفیٰ پر فرض کر دیا، چنانچہ نمازِ
عشا سب سے پہلے آقا کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ادا فرمائی اور نمازِ عشا پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خصوصیت ہے۔اب نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت اور نہ پڑھنے کی وعید
پر مشتمل پانچ احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔ 1۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو نمازِ عشا جماعت کے ساتھ پڑھے، گویا اس نے آدھی رات قیام کیا۔2۔تابعی بزرگ
حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِ دوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت عشا اور
فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں
رکھتے۔3۔جو خوش نصیب شخص مسلسل چالیس دن تک فجر و عشا باجماعت ادا کرتا ہے، وہ
جہنم اور منافقت سے آزاد کردیا جاتا ہے، جیسا کہ خادمِ نبی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے چالیس دن عشا اور فجر جماعت پڑھی، اس کو
اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا، ایک نار سے، دوسری نفاق سے۔4۔فرمانِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:نماز دین کا ستون ہے اور جس نے نماز ترک کی، اس نے دین کو گرا دیا۔
5۔رسول اللہ صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: جو
شخص نماز کی حفاظت کرے، اس کے لئے نماز قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہوگی اور جو اس کی حفاظت نہ
کرے، اس کے لئے بروزِ قیامت نہ نور ہوگا، نہ دلیل اور نہ نجات اور وہ شخص قیامت کے
دن قارون، فرعون، ہامان اور ابئ بن خلف کے ساتھ ہوگا۔
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ محمد انور خان،ڈیرہ اسماعیل خان
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت:لغوی معنی:اندھیری رات، رات کا کھانا،
ظلم، کفر۔اصطلاحی معنی:رات کے وقت کی نماز، جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو اس وقت ادا
کیا جاتا ہے، اس وجہ سے اسے نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ نمازِ عشا سب سے پہلے آقا علیہ السلام نے ادا فرمائی۔ نمازِ عشا کی فضیلت و اہمیت پر پانچ احادیثِ مبارکہ:1۔حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا وہ ایسے ہے کہ
جیسے اس نے آدھی رات عبادت میں گزاری اور
جس نے صبح کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا وہ ایسے ہے کہ جیسے اس نے ساری رات عبادت میں گزاری۔( سنن ابو داؤد، ج1،حدیث نمبر 553)2۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف
میں پڑھنے کا کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لئے قرعہ ڈالنے کی سوا اور کوئی چارہ باقی
نہ رہتا اور اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے
اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ نماز کی طرف جلدی کرنے میں کتنا ثواب ہے، تو اس
کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عشا
اور فجر کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے تو ضرور ان کے لئے گھسٹتے ہوئے آتے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 615) 3۔رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: منافقوں پر فجر اور عشا کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز
بھاری نہیں۔ 4۔آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمانِ مبارک ہے: جس نے عشا کی نماز ترک کی، اس کی نیند سے راحت
ختم کر دی جاتی ہے۔(بخاری شریف)5۔نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اندھیرے یعنی(فجر اور عشا) میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دے دو۔(ترمذی،حدیث223)نماز نہ پڑھنے کی وعیدیں:1۔اللہ پاک اس کی زندگی سے رحمتیں اٹھالے
گا۔ 2۔اس کی دعا قبول نہ کرے گا۔3۔ اس کے چہرے سے اچھے لوگوں کی علامات مٹا دے گا۔
4۔اللہ اس کے اچھے کاموں کا صلہ نہ دے گا۔5۔ وہ اچھے لوگوں کی دعا میں شامل نہ ہو
گا۔ پانچوں نمازیں پابندی کے ساتھ پڑھنے کا درس:ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ پانچوں
نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرے، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے، نماز کی پابندی دین کی
حفاظت اور نماز کا ترک دین کی بربادی ہے۔( بخاری شریف) جلدی جلدی پڑھنے سے نماز قبول نہیں ہوتی۔(ابو داؤد)اس لئے ہر مسلمان کو
چاہئے کہ وہ نماز کی فضیلت و اہمیت اور نہ پڑھنے کی وعیدوں کو پیشِ نظر رکھ کر خود بھی نماز کی پابندی کریں
اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیں۔ اللہ پاک ہمیں پانچ وقت کی نماز پڑھنے صحیح طریقے
سے اور پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ محمد حنیف،بھیرہ شریف
ہر عبادت سے بر تر ہے عبادت نماز ساری
دولت سے بڑھ کر ہے دولت نماز
ہر عاقل، بالغ مسلمان پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔اللہ پاک
پارہ 2، سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 238 میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ کنزالایمان:نگہبانی
کرو سب نمازوں کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔ صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا
سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ
اللہ علیہ اس آیت ِمبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے
اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو،اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان
ہے۔( تفسیر خزائن العرفان، پارہ 1 ،سورۃ البقرہ ،آیت 238)پانچوں نمازیں ادا کرنے کے بہت سارے فائدے ہیں۔فجرادا کرنے والا خوش
خوش اور تازہ ہو کر صبح کرتا ہے۔(بخاری،کتاب التہجد ،حدیث
660)شام تک اللہ کی امان میں رہتا ہے ۔(معجم
الاوسط 335/5 حدیث 3464) اس کے مشکل کام آسان ہو
جاتے ہیں، فجر اور عصر کے وقت مصروفِ عبادت رہنے سے رزق اور عمل میں برکت دی جاتی
ہے، نماز ِعصر اور عشا کی پابندی کرنے سے زہد پیدا ہوتا ہے اور نفس کو نفسانی
خواہشات کی پیروی سے نجات ملتی ہے، نمازِ عصر پڑھنے والے کے لئے آسمان و زمین کے فرشتے
مغفرت چاہیں گے، مغرب کی نماز پڑھنے والے
کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ جس حاجت کا سوال کرے پورا ہوگا،نمازِ
عشا پڑھنے والا گناہوں سے ایسے نکل جاتا، جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو۔(فرض علوم سیکھئے،ص 296)1۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول
اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے فرمایا:اس عشا کی نماز پر مجمع لگایا کرو، تم اس کے ذریعے سب
امتوں پر فضیلت دئیے گئے ہو۔ 2۔امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے
آقائے مظلوم،سرورِ معصوم، حسن ِاخلاق کے پیکر صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے
سنا:جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے
پوری رات قیام کیا۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ،
باب فضل صلاۃ العشاوالصبح فی جماعۃ، ص 329) 3۔حضرت
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے عشا
کی نماز باجماعت ادا کی، اس نے شبِ قدر میں اپنا حصہ پا لیا۔(طبرانی
کبیر، ج8،ص179)4۔حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نےفرمایا:منافقین
پر سب سے بھاری فجر اور عشا کی نماز ہے، اگر جان لیتے کہ ان دونوں میں کیا ہے تو
ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے۔بے شک میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز قائم
کرنے کا حکم دوں اور کسی شخص کو نماز پڑھانے پر مقرر کروں، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ
چلنے کے لئے کہوں، جو لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوں، پھر ان لوگوں کی طرف جاؤں، جو نماز
میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ سے جلا دو۔(صحیح
بخاری ،کتاب الاذان، ج 1، ص 235)
یا خدا تجھ سے عطار کی ہے دعا مصطفے
کی پڑھے پیاری امت نماز
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ عبد الرؤوف عطاریہ،امریکہ
اللہ
پاک طرف سے مسلمانوں کو ہر دن میں جو پانچ فرض نمازیں فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا
عطا فرمائیں ان کے نام مسلمانوں کے بچے بچے کو ازبر ہوتے ہیں لیکن ان کے معنی و
مطالب کی طرف ہماری توجہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہےچنانچہ اس بارے میں
کچھ دلچسپ معلومات پیش ہیں: تمام نمازوں کے نام ان کے اوقات کے موافق ہی رکھے گئے
ہیں چنانچہ نزہۃ القاری کی دوسری جلد میں ہے کہ عشا کے لفظی معنی بھی چونکہ رات کی
ابتدائی تاریکی کے ہیں اور اس نماز کو
اندھیرا ہونے کے بعد ہی ادا کیا جاتا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام عشا رکھا گیا ہے۔نیزشرح
معانی الآثار جلد 1کی حدیث نمبر 1014 کے مطابق اس نماز کا یہ وقت مقرر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نمازِ عشا کو ہمارے میٹھے میٹھے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے اسی وقت میں ادا فرمایا تو اسی مبارک ادا ئے مصطفیٰ کی یاد کو باقی رکھا گیااور
نمازِ عشا کو رات کی تاریکی میں ادا کرنا مقرر فرما دیا گیا۔ نمازِ عشا کے کئی
فضائل اور نہ پڑھنے کی وعیدات بھی احادیث میں وارد ہوئیں نیز یہ وہ نماز ہے کہ جس کو
ایمان اور نفاق میں کسوٹی قرار دیا گیا چنانچہ موطا امام مالک ج1ص133حدیث نمبر 298
میں ہے :بزرگ صحابی حضرت سعید بن مسیب رحمۃ
اللہ علیہ
سے روایت ہے کہ سرکار دوعالم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
کا ارشاد ِعبرت بنیاد ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق نمازِ عشا و فجر میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقوں میں ان نمازوں
میں آنے کی طاقت نہیں۔مسلم شریف کی حدیث 1491 نمازِ عشا کے فضائل سے متعلق حضرت عثمانِ
غنی رضی اللہ عنہ سرورِ دوعالم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
سے روایت کرتے ہیں:جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے گویا
اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر بھی با جماعت ادا کی اس نے گویا پوری رات قیام
کیا۔ابنِ ماجہ ج1حدیث798 میں حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ
نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے
روایت کرتے ہیں،فرمایا :جو چالیس راتیں مسجد میں با جماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی
رکعت فوت نہ ہو ،اللہ پاک اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔ابنِ عساکرج
52ص338 میں حضرت انس رضی
اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ سرکار ِدو عالم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے فرمایا :جس نے چالیس راتیں فجر اور عشا با جماعت ادا کی اللہ پاک اس کو دو آزادیاں
عطا فرمائے گا ایک نار سے دوسری نفاق سے۔ابن ِماجہ جلد ایک حدیث 798 میں ہے:حضرت
عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نے فرمایا: جس نے چالیس راتیں مسجد میں با جماعت نمازِ عشا پڑھی کہ پہلی رکعت فوت
نہ ہو، اللہ پاک اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔پیاری بہنو! جو نمازِ عشا نہ
پڑھے اس کے لیے سرکارِ مدینہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
کا یہ فرمانا ہی بہت عبرت کی بات ہی کہ جو نمازِ عشا سے پہلے سو جا ئے اللہ پاک اس
کی آنکھ کو نہ سلائے۔ آپ کا یہ فرمانا بسبب ِجلال ونا گواری کے اظہار کے لیے تھا۔جمع
الجوامع ج7حدیث23192لہٰذا
آج سے عزم ِمصمم کیجیے کہ پانچویں نمازوں
کی حفاظت کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی اور آخری دم تک کوئی بھی نماز جان بوجھ کر
نہیں چھوڑیں گی تاکہ ہم بھی آخری نبی صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
کےارشاد فرمودہ فضائل کو پانے میں کامیاب ہو سکیں ۔ربِّ ذوالجلال اپنے کرم
سےہم تمام مسلمانوں کو نمازوں کی حفاظت کی
توفیق ِرفیق مرحمت فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت
پر پانچ فرامینِ مصطفے از بنتِ حبیب احمد،کراچی
نماز دین کا ستون ،یقین کا وسیلہ ،عبادات کی اصل ،اور طاعات کی چمک
ہے۔اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتبا موقوتا۔ترجمہ:بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔(پ5، سورہ النساء:103)اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:واقم الصلوۃ لذکری۔ترجمہ:اور میری یاد کیلئے نماز قائم رکھ۔ (پ 16،سورہ طہ،آیت 14)حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہے:بے شک نمازیں گناہوں کا کفارہ ہیں،جب تک
کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔(صحیح مسلم، کتاب
الطھارہ، باب صلاۃالخمس ،حدیث 223،ص 144)بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:کون سا عمل افضل ہے ؟ارشاد فرمایا:وقت
پر نماز ادا کرنا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان ،باب بیان کون ایمان باللہ، حدیث 85،ص 58)مشکل کام کا ثواب زیادہ ہے:دیگر نمازیں ادا کرنا قدرے آسان ہوتی ہیں،
کیونکہ وہ کسی شحص کے ماحول ،کام اور نیند میں زیادہ حائل نہیں ہوتیں،لیکن عشا کی
نماز ادا کرنا اور پابندی سے ادا کرنا، انہیں لوگوں کا حصّہ ہے، جن سے نیکی کی امید
کی جاتی ہے ،رات کے وقت سارے دن کے کاموں کی تھکن ،نیند کا غلبہ ،اور سکون و اطمینان
اور آرام طلبی انسانی فطرت کا حصہ ہے،اس وقت میں نمازِ عشا ادا کرنا یقینا نیک اور
کاملین کا حصہ ہے،کیونکہ جس عبادت میں مشقت زیادہ ہوتی ہے، اس کا ثواب بھی زیادہ
ہوتا ہے اور اللہ پاک کی رضا کے طلبگاروں کیلئے ایسی مشقت محبوب ہوتی ہے۔عشا کسے
کہتے ہیں؟عشا رات کے اندھیرے کو کہتے ہیں،کیونکہ یہ نماز رات کی تاریکی چھا جانے
کے بعد پڑھی جاتی ہے ،اس لئے اس کا نام نمازِ عشا ہوا۔سب سے پہلے نمازِ عشا کس نے
ادا کی؟ایک روایت کے مطابق نمازِ عشا سب سے پہلے حضور پر نور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ادا فرمائی۔(شرح معانی
الآثار1/175،حدیث1046) ایک روایت کے مطابق عشا
کی نماز سب سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام نے ادا فرمائی،جس وقت آپ
حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس سے دس سال قیام کے
بعد واپس مصر تشریف لارہے تھے ،تو آپ علیہ السلام پر چار فکریں طاری تھیں، گھر میں ولادت کا وقت تھا اس کی فکر، اپنے
بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی فکر، فرعون کا خوف،اپنی ہونے والی اولاد کی فکر۔رات بہت ٹھنڈی تھی،حضرت
موسی علیہ السلام نے کوہِ طور پر آگ جلتی دیکھی تو آگ لینے کیلئے کوہِ طور پر تشریف
لے گئے، لیکن وہاں پر اللہ پاک نے انہیں نبوت عطا فرمائی تو آپ علیہ السلام نے ان چار فکروں سے نجات اور نبوت ملنے کی خوشی پر چار رکعتیں ادا
فرمائیں، اللہ پاک کو یہ چار رکعتیں پسند آئیں اور امتِ محمدیہ پر نمازِ عشا فرض
کر دی گئی۔(شرح معانی الآثار، کتاب الصلاۃ ،باب الصلاۃ،حدیث 226، جلد 1)فضیلت نمازِ عشا :نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اندھیرے یعنی (فجر و عشا ) میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دے دو۔ (ترمذی شریف، حدیث 223)آقا صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اگر
لوگوں کو نمازِ عشا اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ ان دونوں نمازوں
میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے۔(سنن ابن ماجہ ،باب الصلاۃ، حدیث796)اس حدیث سے عشا و فجر کی بڑی فضیلت حاصل ہوتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے
کہ ان دونوں نمازوں کا وقت نیند اور سستی کا ہوتا ہے اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے
کہ آرام چھوڑ کر نماز کیلئے حاضر ہواور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو، اس میں زیادہ
ثواب ہے۔ نمازِ عشا نہ پڑھنے کی وعید: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ہمارے اور منافقین کے درمیان عشا اور فجر کی حاضری کا فرق
ہے، منافقین میں ان دو نمازوں میں حاضری کی طاقت نہیں۔(موطا امام مالک، کتاب صلاۃ،حدیث 298 ،جلد 1 ،ص 133)نبی کریم صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:منافق
لوگوں پر فجر و عشا کی نماز سے زیادہ کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر یہ جانتے کہ ان
نمازوں میں کیا ثواب ہے تو زمین پر گھسٹتے ہوئے پہنچتے۔(صحیح بخاری، 657)ہمیں چاہیے دیگر نمازوں کی طرح نمازِ عشا کی پابندی کا خیال رکھیں،
خشوع و خضوع کے ساتھ اس کی ادائیگی کریں۔اللہ
پاک ہمیں نمازِ عشا کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
Dawateislami