اللہ پاک نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں، جس نے انہیں ادا کیا اور ان کے حق کو معمولی جانتے ہوئے ان میں سے کسی کو ضائع نہ کیا تو اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر اس کے لئے وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کر دے اور جس نے انہیں ادا نہ کیا، اس کے لئے اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر عہد نہیں، چاہے اسے عذاب دے، چاہے جنت میں داخل فرمائے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، باب فی من لم یوتر، جلد 2، صفحہ 89، حدیث1420)ہمارے اور منافقین کے درمیان عشا و فجر کی(جماعت میں) حاضری کا فرق ہے، منافقین کو ان دونوں نمازوں میں حاضری کی طاقت نہیں۔(المؤطا الامام مالک، کتاب صلاۃ الجاعۃ،باب ماجاء فی العتمۃ والصبح، جلد 1، صفحہ 330، حدیث298)عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نماز کو عشا کہا جاتا ہے۔

تو پانچوں نمازوں کی پابند کردے پئے مصطفی ہم کو جنت میں گھر دے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس)کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ437، حدیث797)حدیثِ مبارکہ کی شرح:حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:کیونکہ منافق صرف دکھلاوے کے لئے نماز پڑھتا ہے اور وقتوں میں تو خیر جیسے جیسے پڑھ لیتے ہیں، مگر عشا کے وقت نیند کا غلبہ، فجر کے وقت نیند کی لذت انہیں مست کر دیتی ہے، اخلاص اور عشق مشکلوں کو حل کرتے ہیں، وہ ان میں سے نہیں، لہٰذا یہ دو نمازیں انہیں بہت گراں (یعنی بہت بڑا بوجھ معلوم ہوتی ہیں)پس اس سے معلوم ہوا ! جو مسلمان ان دونوں نمازوں میں سستی کرے، وہ منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔(مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 396)تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے،سرورِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ شرحِ حدیث:حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:اس حدیث میں بیان کردہ منافق سے مراد (دورِ رسالت کے بدترین کفار نہیں ہیں، جو خود کو جھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کرتے تھے، مگر دل سے کافر تھے، بلکہ یہاں مراد) منافق عملی ہے۔( فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 84، 85)حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشادفرماتے ہیں:جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے، اللہ پاک اس کی آنکھ کو نہ سلائے۔(جمع الجوامع،جلد 7، صفحہ289،حدیث23192)امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے حکام کو ایک فرمان لکھا، جس میں یہ بھی ہے کہ جو عشا سے پہلے سو جائے، خدا کرے اس کی آنکھیں نہ سوئیں، جو سو جائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں، جو سو جائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں۔(مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 35، حدیث 6)امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے، تو گویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اور جو فجر جماعت سے پڑھے، تو گویا وہ ساری رات عبادت میں کھڑا رہا۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد۔۔ الخ،باب صلاۃ العشا۔۔الخ، صفحہ 329، حدیث265)ابنِ ماجہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:جو مسجد میں باجماعت چالیس راتیں نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہونے پائے،اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن عساکر، جلد 52، صفحہ338) سب نمازوں میں منافقین پر گراں نماز ِفجر اور عشا ہے۔(طبرانی)محترم اسلامی بہنو!نماز قضا کر دینا سخت گناہ ہے، لہٰذا جو اسلامی بہن نماز قضا کر بیٹھے، وہ سچے دل سے توبہ بھی کرے اور جو اسلامی بہن نہ وقت پر نماز پڑھے اور نہ قضا ہو جانے پر ادا کرے، وہ تو سراسر خسارے میں ہے، کیونکہ اس کی نمازیں کے ذمہ قرض ہیں، ادا کرے گی تو چھٹکارہ پائے گی، ورنہ عذابِ الٰہی میں پھنس جائے گی۔یقیناً عافیت اسی میں ہے کہ نماز کا وقت ہوجائے تو تمام کام کاج چھوڑ کر نماز ادا کرنی چاہئے، قضا نمازوں کو بھی ادا کرنے کی کوئی ترکیب بنانی چاہئے، اس سلسلےمیں امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ قضانمازوں کا طریقہ کا مطالعہ فرما لیجئے، ان شاءاللہ معلومات کا بے بہا خزانہ آپ کے ہاتھ آئےگا۔قضا نمازوں کو ادا کرنے کی نیت ابھی سے فرما لیجئے، کیوں کہ نیت صاف منزل آسان۔حدیثِ پاک میں ہے:نیۃُ المْؤمِنِ خَیْر مِّنْ عَمَلِہ یعنی مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔


سورۂ طٰہ کی آیت نمبر 14 میں ارشادِ ربّانی ہے:ترجمۂ کنزالایمان:اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔بلاشبہ نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں، کیونکہ یہ ایک فرض عبادت ہے اور فرائض کی ادائیگی اللہ پاک کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ نماز پیارے پیارے، آخری نبی ،مکی مدنی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نماز پڑھنے سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے، نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں، نماز اندھیری قبر کا چراغ ہے، نماز مومن کی معراج ہے، نمازی کے لئے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اسے قیامت کے دن اللہ پاک کا دیدار ہوگا، نماز کی اہمیت کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ پاک نے سب احکام اپنے پیارے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو زمین پر بھیجے اور جب نماز فرض کرنی منظور ہوئی تو حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنے پاس عرش ِعظیم پر بلا کر اسے فرض کیا اور معراج کی رات مسلمانوں کو یہ تحفہ عطا کیا۔ محترم اسلامی بہنو!یوں تو پنج وقتہ نماز کے فضائل بکثرت قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں، لیکن انفرادی طور پر ہر نماز کے فضائل بھی بیان کئے گئے، انہی میں بالخصوص نمازِ عشا کی فضیلت پر بھی احادیث شامل ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان دن بھر کی تھکن سے چور کھانا کھاتے ہی بسترِ راحت پر دراز ہونا چاہتا ہے اور شیطان حیلوں، بہانوں سےاسے نماز پڑھنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بندۂ خدا نفسانی خواہشات اور شیطان کے حربوں کے باوجود بارگاہِ ایزدی میں نماز کے لئے حاضر ہو کر شیطان کے سارے عزائم خاک میں ملا دیتا ہے۔نمازِ عشا کی فضیلت پر پانچ احادیث: آئیے !حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی احادیث کی روشنی میں نمازِ عشا کی فضیلت ملاحظہ کیجئے:1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکار ِمدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس دن فجرو عشا باجماعت پڑھی،اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا،ایک نار(یعنی آگ)سے،دوسری نفاق(یعنی منافقت) سے۔(ابن عساکر، جلد 52، صفحہ 338)2۔امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھےکہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن ماجہ، ج1، صفحہ 931،حدیث798)3۔نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے عشا کی نماز باجماعت پڑھی، گویا اس نے ساری رات قیام کیا، اور جس نے فجر کی نماز باجماعت پڑھی گویا اس نے سارا دن نماز پڑھی۔( معجم کبیر، جلد 1،صفحہ92، حدیث 148)4۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے،اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ437، حدیث797)5۔ہمارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے فرمایا:جس نے عشا کی نماز باجماعت پڑھی، اس کے لئے لیلۃ القدر میں قیام(یعنی عبادت) کرنے کا ثواب ہوگا۔( شعب الایمان، جلد 7، صفحہ 137، حدیث9719)

جنت میں نرم نرم بچھونوں کے تخت پر آرام سے بٹھائے گی اے بہنو!نماز

اللہ اکبر! نماز کے کتنے فضائل و برکات ہیں اور نماز کتنی پیاری عبادت ہے کہ اس کے شروع کرتے ہی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں!اے عاشقانِ نماز!دل لگ یا نہ لگے، خوب نمازیں پڑھے جائیے ان شاءاللہ ایک دن ہماری نماز میں خشوع و خضوع کے نور سے معمور ہو ہی جائیں گی، ہوسکے تو جگہ بدل بدل کر نماز پڑھی جائے کہ جہاں جہاں ہم نماز پڑھیں گی اور ذکر و درود کریں گی وہ تمام مقامات قیامت کے روز گواہی دیں گے اور نماز پڑھنے والی سے شیطان کس قدر پریشان رہتا ہے، وہ جانتا ہے کہ کوئی مسلمان درست طریقے سے نماز پڑھے گا، تو وہ گناہوں سے بچے گا اور میرے ہاتھ سے نکل جائے گا، شیطان مردود ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ہم نماز پڑھیں، گناہوں سے بچیں اور جنت کی راہ لیں، ہمیں شیطان کا وار ناکام بناتے ہوئے خوب نمازیں پڑھنی ہیں اور ربّ کریم کو راضی رکھنا ہے ۔

پیارے نبی کی آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے جنت میں لے چلے گی جوبے شک نماز ہے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں تمام تر ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


یوں تو نماز ِپنجگانہ پڑھنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر نماز کی فضیلت اور اہمیت الگ ہے، اسی طرح نمازِ عشا پڑھنے کے فضائل اور برکتیں بے شمار ہیں۔عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے نماز کو نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔(فیضان نماز، ص114)عشا کی نماز سب سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام نے ادا فرمائی، جس وقت آپ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس سے دس سال قیام کے بعد واپس مصر تشریف لارہے تھے ،تو آپ پر چار فکریں طاری تھیں، تو آپ نے ان چار فکروں سے نجات اور نبوت ملنے کی خوشی پر چار رکعتیں ادا فرمائیں، اللہ پاک کو یہ چار رکعتیں پسند آئیں اور امتِ محمدیہ پر فرض فرما دیں۔نمازِ عشا کے وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے، جس وجہ سے اکثر لوگ اس نماز کو پڑھنے میں سستی کرتے ہیں، لہٰذا نیند کی وجہ سے یا کوئی سستی کی وجہ سے نمازوں کو ادا نہ کرنا گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔نمازِ عشا کی اہمیت اور فضیلت پر پانچ فرامین ِمصطفی:1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے۔(ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ437، حدیث797)2۔سرورِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ133، حدیث298)3۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے اللہ پاک اس کی آنکھ کو نہ سلائے۔(جمع الجوامع،جلد 7، صفحہ289،حدیث23192) 4۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک بار کے سوا کبھی کسی سفر میں مغرب و عشا ملا کر نہ پڑھی۔(ابو داؤد، کتاب صلاۃ المسافر، باب الجمع بین الصلاتین2/9،حدیث1209)5۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو پہنچنے کی جلدی ہوتی تو(آخری وقت سے کچھ دیر پہلے)مغرب کی اقا مت کہہ کر نماز پڑھ لیتے،سلام پھیر کر کچھ دیر ٹھہر تے، پھر عشا کی اقامت ہوتی اور نمازِ عشا کی دو رکعتیں پڑھتے۔(بخاری، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر،1/374،حدیث1092) آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں نمازِ عشا کے ساتھ تمام نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


نماز اللہ پاک کی طرف سے تحفۂ معراج ہے اور اس کی اہمیت و فضیلت کا ادراک وہی انسان کر سکتا ہےجو اس کی پابندی و مواظبت(ہمیشگی) کا اہتمام کرے، تمام نمازوں کی بالعموم اور نمازِ عشا کی بالخصوص اپنی جگہ اہمیت ہے اور بے شمار فضائل و برکات ہیں۔عشا کا لغوی معنی:عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نماز کو نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔(فیضان نماز، صفحہ 114) سب سے پہلے نمازِ عشا:پیارے پیارے آقا،مدنی مکی مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمازِ عشا ادا فرمائی۔(شرح معانی الآثار،ج1، ص226، حدیث1014)نمازِ عشا چونکہ پورے دن کے اختتام پر رات میں ادا کی جاتی ہے، اس لئے تھکن و سستی کے سبب اکثر لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں اور نمازِ عشا کی ادائیگی سے قبل ہی یا تو سو جاتے ہیں یا پھر دنیاوی مشغولیت، شاپنگ سینٹرز میں جانے اور سیروتفریح کے سبب اسے ضائع کر دیتے ہیں، لہٰذا باقی نمازوں کی طرح اس کی ادائیگی کا بھی خوب خوب التزام کرنے کی کوشش کی جائے۔نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت نیز وعیدات حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں پیشِ خدمت ہیں۔ 1۔خادمِ نبی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس دن فجرو عشا باجماعت پڑھی، اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا، ایک نار(یعنی آگ)سے، دوسری نفاق(یعنی منافقت) سے۔(ابن عساکر، جلد 52، صفحہ 338) 2۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عشا کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے مکان میں جب تشریف لاتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔(سنن ابی داؤد، حدیث 1303،جلد 2، صفحہ 47)3۔امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن ماجہ، ج1، صفحہ 437،حدیث798)جہاں نمازِ عشا کی کتنی فضیلتیں ہیں، وہیں نمازِ عشا نہ پڑھنے والوں کے لئے بھی عبرت ہے، چنانچہ 4۔تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے،سرورِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت( یعنی پہچان) عشا کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 133،حدیث 298) ایک اور فرمانِ عبرت نشان پڑھئے۔5۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ437، حدیث797)درس:بے شک نماز میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں شرائط و فرائض کے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نمازِ عشا کو بھی کامل و اکمل ادا کرنے کا اہتمام کریں، با لیقین اسی میں ہی ہماری نجات اور کامیابی و کامرانی پنہاں ہے۔


یوں تو نمازِ پنجگانہ کے بے شمار فضائل و برکات ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر نماز کی اپنی الگ حیثیت ہے، اسی طرح نمازِ عشا پڑھنے والوں کے لئے برکتوں اور فضیلتوں کی نویدہوتی ہے۔عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نماز کو نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔نمازِ عشا کی فضیلت پر چند فرامینِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ437، حدیث797)2۔ تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِ دوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے، کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 133،حدیث 298) حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:اس حدیثِ مبارکہ میں بیان کردہ منافقت سے مراد نفاق عملی ہے۔3۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس دن فجرو عشا باجماعت پڑھی،اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا،ایک نار(یعنی آگ) سے، دوسری نفاق(یعنی منافقت) سے۔(ابن عساکر، جلد 52، صفحہ 338)4۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھےکہ پہلی رکعت فوت نہ ہو، اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔(ابن ماجہ، ج1، صفحہ 931،حدیث798)5۔ امیر المؤمنین حضرت عثمان ِغنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے، گویا(یعنی جیسے) اس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا(جیسے) اس نے پوری رات قیام کیا۔( مسلم،صفحہ258،حدیث:1491)سبحان اللہ!ہر نماز ہمارے لئے اللہ پاک کا تحفہ اور نعمت ہے، جس میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، اللہ پاک ہمیں پابندی کے ساتھ نماز پنجگانہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

تو پانچوں نمازوں کی پابند کردے پئے مصطفی ہم کو جنت میں گھر دے


عشا کے لغوی معنیٰ:رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں،چونکہ یہ نماز اندھیرا ہوجانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اِس نماز کو عشا کی نماز کہا جاتا ہے۔(شرح مشکل الآثار للطعاوی، ج3، ص 34، 31ملخصاً)سب سے پہلے نمازِ عشا پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ادا فرمائی۔ (شرح معانی الآثار رضویہ، ج7، ص 402 تا 408)، نمازِ عشا حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے اور نمازِ پنجگانہ (یعنی 5وقت کی نمازیں) بھی۔ حضرت کعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے توریت کے کسی مقام پر پڑھا جس کا جز یہ ہے کہ اے موسیٰ! شفق ڈوب جانے کے وقت یعنی عشا کی چار رکعتیں ہیں، پڑھیں گے انہیں احمد اور ان کی امت، وہ دنیا و مافیہا (یعنی دنیا اور اس کی ہر چیز ) سے ان کے لئے بہتر ہے، وہ انہیں گناہوں سے ایسا نکال دیں گی جیسے اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔(حاشیہ فتاویٰ رضویہ، مخرجہ، ج5، ص 52 تا 54)حضرت عثمانِ غنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے گویا(یعنی جیسے)اُس نے آدھی رات قیام کیا۔(مسلم، ص 258، حدیث 1491)حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے،سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے 40 دن فجر و عشا باجماعت پڑھی، اس کو اللہ پاک 2 آزادیاں عطا فرمائے گا، ایک نار(یعنی آگ)سے دوسری نفاق(یعنی منافقت سے)۔ (ابن عساکر 52، ص 338)امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی الله عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے:جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،اللہ پاک اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے۔ (ابن ماجہ، ج1، ص437، حدیث 798)جو عشا کی نماز میں سستی کرتا ہے، وہ منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ صرف سستی کرنا منافق کا عمل ہے، تو جو سِرے سے نماز ہی نہیں پڑھتا، اس کے لئے کیا کیا وعید ہیں!نماز جنت میں لے جانے کا ذریعہ، عذاب سے حفاظت کا ذریعہ، دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کی رحمتیں و برکتیں نازل ہونے کا سبب بنتا ہے، تو نیت کرتی ہیں کہ عشا کے ساتھ ساتھ دیگر 4 نمازوں کی پابندی بالخصوص کریں گی۔اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب کرے۔آمین

تو پانچوں نمازوں کی پابند کردے پئے مصطفیٰ ہم کو جنت میں گھر دے


العشاوالعشیُّ:رات کی تاریکی بقول ِبعض :مغرب سے عشا کی اندھیری یا دن کا آخری حصّہ۔العشاانِ مغرب اور عشا بعد عشیٌّ رات کو دیر تک چلنے والا۔ادائیگی عشا:ہمارے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمازِ عشا ادا فرمائی، نمازِ عشا حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے اور نماز پنجگانہ(یعنی پانچ وقت کی نمازیں) بھی۔وجہ ِتسمیہ:عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نماز کو نمازِ عشا کہا جاتا ہے۔فضیلت:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:سب نمازوں میں زیادہ گراں یعنی بوجھ والی منافقوں پر نمازِ عشا اور فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے، اگرچہ سرین(یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے، یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ)تابعی بزرگ حضرت مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، سرکارِدوجہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان)عشا اور فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے،کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (مؤطا امام مالک)(یہاں منافقِ عملی مراد ہے)حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے عشا اور فجر کی نماز پڑھی، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ان احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں نمازِ عشا کے مخصوص فضائل و اہمیت معلوم ہوئے، اس سے بڑھ کر عشا کی فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ اس نماز کی فرضیت کا سبب ہی آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا ادا کرنا ٹھہرا اور عشا کے پڑھنے والے کے لئے نمازِ عشا کو ہی اس کے مسلمان ہونے کی پہچان قرار دے دے کر منافقین سے امتیاز کر دیا،صرف اتنا ہی نہیں، یہ جنت میں داخلے کا سبب بھی بنے گی۔اگر عمومی فضائل کی بات کریں تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں:ایک بار میں نماز پڑھ کر سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس بیٹھ گیا، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:کیا تجھے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے عرض کی:جی ہاں۔آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قم فصل فان فی الصلاۃ شفاءاٹھواور نماز پڑھو، کیوں کہ نماز میں شفا ہے۔ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مطلقاً نماز کی فضیلت اُجاگر ہوتی ہے کہ نماز ہی ہے گویا جس کے سبب ہم جنت میں داخل ہو سکتی ہیں اور نماز ہی ہے جو ہمیں در در بھٹکنے، ڈاکٹروں کے خرچوں اور ان کی پکڑسے بھی بچا سکتی ہے۔ جب نماز دنیوی اور اخروی فوائد سے مالا مال و نجات کا ذریعہ ہے تو کیوں نہ عہد کر لیں نماز نہ چھوڑنے، بلکہ اہتمام کریں وقت کی پابندی اور خشوع و خضوع سے پڑھنے کا۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ اور اہتمام کے ساتھ نماز کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ یاد رہے!ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں، جہاں پر احادیثِ مبارکہ فضیلت و اہمیت ظاہر کرتی ہے، وہیں ان کے نہ کرنے والوں کے لئے بھی بہت سی باتیں واضح ہو جاتیں جیسے نہ پڑھنے والوں کے لئے نفاق کی نشانی، جنت میں داخلے سے رُکاوٹ اور مزید۔


نیکیاں کرنا اور نیکی کے راستے پر چلنا انتہائی دشوار  لیکن اس کی منزل روشن ہے اور وہ جنت ہے، جبکہ گناہوں کا راستہ نہایت آسان لیکن اس کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے اور وہ جہنم ہے۔عبادت کی مشقت اٹھانا اگرچہ نفس پر گِراں ہے لیکن انہیں ترک کر کے ملنے والا عذاب اس مشقت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ انہیں مشقت والی عبادتوں میں سے ایک اہم عبادت جسے اسلام کا اہم رکن قرار دیا گیا ہے وہ ہےنماز۔ہر مسلمان، عاقل، بالغ پر پانچ وقت کی نماز فرض ہےجو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے وہ فاسق، سخت گناہگار اور عذاب ِنار کی حق دار ہے۔ بعض انبیائے کرام علیہ السلام نے مختلف اوقات کی نمازیں جدا جدا مواقع پر ادا فرمائیں۔اللہ پاک نے اپنے پیاروں کی پیاری پیاری اداؤں کو ہم غلامانِ مصطفیٰ پر فرض کر دیا۔نماز ِفجر حضرت آدم،نمازِ ظہر حضرت داؤد، نماز ِعصر حضرت سلیمان، نماز ِمغرب حضرت یعقوب اور نمازِ عشا حضرت یونس علیہم السلام نے سب سے پہلے ادا فرمائیں۔(فتاویٰ رضویہ5/43،47 ملخصاً)عشا کا لغوی معنیٰ رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں۔(نزھۃ القاری،2/245) چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے اس لئے اس نمازکو عشا کی نماز کہا جاتا ہے۔(شرح مشکل الآثار للطحاوی 3/34)نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت:پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمنے نمازِ عشا کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:(1)ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت(یعنی پہچان) عشا و فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالک، 1/133،ح 298)(2) جودوٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے گا۔ ٹھنڈی نمازوں سے مرادیافجروعشاہے یا فجروعصر۔ (مراٰۃ المناجیح،1/؟، ح 587) (3) اگر لوگ جانتے کہ عشااورفجر میں کیا ثواب ہے تو ان میں گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے۔(مراٰۃ المناجیح،1/؟، ح 590) (4) جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے توگویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اورجوفجرجماعت میں پڑھے توگویا اس نے ساری رات نماز پڑھی۔(مراٰۃ المناجیح،1/ ح 592) (5)جس نے چالیس دن نماز فجر و عشا باجماعت پڑھی، اس کو اﷲ پاک دو برائتیں عطا فرمائے گا، ایک نار سے دوسری نفاق سے۔(تاريخ بغداد 11/374، رقم: 6231)نمازِ عشا قضا کرنے پر وعید: ایک طویل حدیثِ پاک میں ہے:سستی کی وجہ سے نماز چھوڑنے والے کی قبر میں ایک اژدھا مسلط کر ديا جائے گا جس کا نام اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَع ہے، اس کی آنکھیں آگ کی ہوں گی جبکہ ناخن لوہے کے ہوں گے، ہر ناخن کی لمبائی ايک دن کی مسافت تک ہو گی، وہ ميت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا:ميں اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَع یعنی گنجا سانپ ہوں۔اس کی آواز کڑک دار بجلی کی سی ہو گی، وہ کہے گا :ميرے رب کریم نے مجھے حکم ديا ہے کہ نمازِ عشا ضائع کرنے پر فجر تک مارتا رہوں۔ جب بھی وہ اسے مارے گا تو وہ 70ہاتھ تک زمين ميں دھنس جائے گا اور وہ قيامت تک اس عذاب ميں مبتلا رہے گا۔ (کتاب الکبائرللامام الحافظ الذہبی ،ص24)اللہ پاک ہمیں نمازوں کی پابندی نصیب فرمائے بالخصوص نماز ِفجر اور عشا چونکہ منافقین کو بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں دلجمعی کے ساتھ ان نمازوں کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


جو کام نفس پر بهاری ہوتا ہے ۔اس کا اجر بھی زیادہ ملتا ہے۔ نیک کام میں جتنی زیادہ زحمت  اٹھانی پڑے گی اس کا ثواب بھی زیادہ ملے گا ۔منقو ل ہے:اَفضَلُ العِبَادَاتِ اَحمَزُھَا یعنی افضل عبادت وه ہے جس میں زحمت ( تکلیف) زیادہ ہے ۔(آ سان نیکياں* ص 10) (کَشفُ الخفَاء وَمُزِیلُ الاِ لبَاس ج 1،ص 141 حدیث 459 )حضرت ابراہیم بن ادهم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جو بھی نیک کام جس قدر مشکل ہو گا بروز ِ حشر نیکیوں کے پلڑ ے میں اسی قدر وزنی ہوگا۔ نمازِ فجر اور عشا دونوں مشقت والی نماز یں ہیں اس لیے ان کا ثواب بھی زیادہ ہے۔آئیے :نمازِ عشا سے متعلق تفصیل سے جانتی ہیں۔عشا کے لغو ی معنی :عشا کے لغو ی معنی ہیں :رات کی ابتدا ئی تاریکی۔ (نزہۃ القاری ج 2 ص 245)عشا کے اصطلاحی معنی:یہ نماز اندھیرا ہوجانے کے بعد پڑھی جاتی ہے اس لیے اسے نمازِ عشا کہتے ہیں۔ (شرح مُشکِل الآ ثَار للِطحَا و ی ج 3 ص 34 ، 31 ملخصا)(فیضانِ نماز* ص 114)سب سے پہلے نمازِ عشا ادا فرمائی:نمازِ عشا سب سے پہلے حضرت یُونُس علیہ السلام نے ادا فرمائی ۔(فیضانِ نماز ص 29) نمازِ عشا کی اہمیت،فضیلت اور وعید کے متعلق 5 احادیثِ مبارکہ :جہنم سے آزادی : خلیفۂ دوم،امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی الله عنہ پیارے نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں :جس نے چالیس راتیں مسجد میں جماعت کے ساتھ عشا کی نماز پڑھی یہاں تک کے پہلی رکعت فوت نہ ہوئی تو اللہ پاک اسے جہنم سے آزاد لکھ دیتا ہے ۔(فیضانِ نماز 97 ،ابنِ ماجہ ج 1 ص 437 ،حدیث 798 ) ساری رات عبادت :جامِعُ القرآن خلیفہ سِوُم حضرت عثمانِ غنی رضی الله عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمايا: جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی تو ایسے ہے جیسے نصف رات کھڑا رہا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی تو ایسے ہے جیسے پوری رات کھڑا رہا ۔ (فیضانِ نماز ص 93 مُسلم ص 258 ،حدیث 1491 )نمازِ عشا منافقین پر بوجھ : صحابیِ رسول حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمان روایت فرماتے ہیں:تمام نمازو ں میں سے منافقو ں پر زیادہ بوجھ والی نمازِ عشا و فجر ہے ۔اگر یہ لوگ ان کی فضیلت جانتے ضرور سُرِین (بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے )کے بل گِهسَٹتے ہوئےحاضر ہو جاتے۔مطلب یہ ہے جس طرح بھی ممکن ہوتا یہ لوگ حاضر ہوجاتے۔ (فیضا نِ نماز ص 112-111 ،ابنِ ماجہ ج 1 ،ص 437 ، حدیث 797 )نمازِ عشا میں مُنافقین کو شرکت کی طاقت نہیں:حضرت سعید بن مُسیب رحمۃ اللہ علیہ پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمان روایت فرماتے ہیں:ہمارے اور منافقو ں کے بیچ پہچان نمازِ عشا و فجرمیں حاضری ہے کیونکہ ان نمازوں میں مُنافقین کو طاقت نہیں۔ (فیضانِ نماز ص 112 ، مؤطا اِمام مَالک ج 1 ،ص 133 ،حدیث 298)آنکھ کو نہ سُلائے:پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمان ہے :جو عشا کی نماز سے پہلے سوئے اللہ پاک اس کی آنکھ کو نہ سُلاۓ۔(فیضانِ نماز ص 113 جمع الجو امع :ج 7 ،ص 289، حدیث 23192 )بزرگانِ دین کا اَنداز:خلیفۂ دوُم امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آ پ شدید زخمی تھے ، آ پ سے عر ض کی گئی:ا ے امیرُ المؤمنین ! نماز کا وقت ہے تو آپ رضی الله عنہ فرما نے لگے: جو نماز کو ضائع کرتا ہے، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔اور آپ رضی الله عنہ نے نماز ادا فرمائی ۔(نماز کے احکام* ص 176)میرے پیارے پیر و مُرشِد سلطانُ العارفین حضرت سُلطان مُحمد باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں ہر حال میں اِس قدر خبر دار اور ہوشیار رہتا ہوں کہ کبھی کوئی فرضِ خُدا مجھ سے نہیں چھوٹا اور نہ کبھی نمازِ باجماعت کی سنت مجھ سے قضا ہوئی کیونکہ خدا اور رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا مندی پنجگانہ نماز میں پائی جاتی ہے۔ (نُورُ الہُد یٰ ص ۔ 341)مُحترم بہنو!سبحان اللہ!ہمارے اسلاف نمازوں کا کِس قَدر اِہتمام فرمایا کرتے تھے! ہمیں بھی چاہیے کہ نمازوں کی پابندی کریں ،تاکہ اللہ پاک اور نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا حاصل ہو جائے۔

تُو پانچو ں نمازوں کی پابند کر دے پَئے مُصطَفے ہم کو جنت میں گھر دے

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

(آسان نیکیاں، مکتبۃ المدینہ کراچی)(فیضانِ نماز مکتبۃ المدینہ کراچی)( نماز کے احکام ، مکتبۃ المدینہ کراچی)( فیس بک پیج (Sultan Bahoo) سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ)


علّامہ عبدُالرَّءُوف مُنادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : پانچوں نمازوں میں سب سے افضل نمازِ عصر ہے،پھر نمازِ فجر، پھر عشا، پھر مغرب، پھر ظہر اور پانچوں نمازوں کی جماعتوں میں افضل جماعت نمازِ جمعہ کی جماعت ہے، پھر فجر کی، پھر عشا کی۔ جمعہ کی جماعت اس لیے افضل ہے کہ اس میں کچھ خصوصیات ہیں جو اسے دیگر نمازوں سے ممتاز کرتی ہیں جبکہ فجر و عشا کی جماعت اس لیے فضیلت والی ہیں کہ ان میں مشقت (یعنی محنت) زیادہ ہے۔ (فیض القدیر ج 2 ص 53 )مشکل کام کا ثواب زیادہ ہے۔مگر نفس بہت آرام طلب ہے کہ اسے اس کام میں لذت محسوس ہوتی ہے جس میں اسے محنت نہیں کر نی پڑتی اور چونکہ عشا کی نماز رات کے وقت پڑھی جاتی ہے اور اس وقت نیند کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے ۔ اسی لیے نفس فجر و عشا کی نماز میں زیادہ سستی کرتا ہے۔ چنانچہ عشا کے لغوی معنی : رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے اس لیے اس نماز کو عشا کی نماز کہا جاتا ہے۔ بعض انبیائے کرام علیہم السلام نے مختلف اوقات کی نمازیں جدا جدا مواقع پر ادا فرمائیں۔ اللہ پاک نے اپنے ان پیاروں کی پیاری پیاری اداؤں کو ہم غلامانِ مصطفٰی پر فرض کر دیا۔چنانچہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے چند روایات بیان کرنے کے بعد جس روایت کو بہتر قرار دیا اس کے مطابق نمازِ عشا حضرت یونس علیہ السلام نے سب سے پہلے ادا فرمائی۔ (فتاوی رضویہ ج 5 ص 43 تا 73 ملخصا ) اب یہاں نمازِ عشا کے فضائل و وعید پر مشتمل 5 احادیث ذکرکی جاتی ہیں تاکہ نفس کی سستی کو ختم کر کے وقت پر نماز پڑھنے کا ذہن بنے۔ (1) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : سب نمازوں میں زیادہ گراں( یعنی بوجھ والی)منافقوں پر نمازِ عشا و فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سرین (یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس ) کے بل گھسٹتے ہوے یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ ج 1 ص 437 حديث 797 )(2) تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرورِ دو جہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان) عشا و فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مؤطا امام مالك ج 1 ص 133 حديث 298 )حضرت علامہ عبد الرءوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :اس حديث میں بیان کردہ منافق سے مراد منافق عملی ہے۔(فیض القدیر ج 1 ص 84 )(3)خادمِ نبی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس دن فجر و عشا باجماعت پڑھی اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا۔ ایک نار (یعنی آگ )سے،دوسری نفاق (یعنی منافقت )سے۔(ابن عساکر ج 52 ص 338 )(4)امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے: جو چالیس راتیں مسجد میں باجماعت نمازِ عشا پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،اللہ پاک اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے ۔ (ابن ماجہ ج 1 ص437 حديث 798)(5)حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے گویا (یعنی جیسے )اس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا (یعنی جیسے ) اس نے پوری رات قیام کیا ۔ (مسلم ص 258 حديث 1491 ) اے ہمارے پیارے اللہ! ہمیں ہر نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ، وقت پر پڑھنے کی سعادت عنایت فرما۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

تو پانچوں نمازوں کی پابند کر دے پئے مصطفٰی ہم کو جنت میں گھر دے

صلوا علی الحبیب صلی اللہ علی محمد


ہمارا پیارا دین ِاسلام ہمیں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا درس دیتا ہے۔پانچوں نمازوں کی فضیلت و اہمیت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہر مسلمان کو پانچوں نمازیں پڑھنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔مگر افسوس! مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو نمازوں سے دور ہے کچھ تو ایسے بھی مسلمان پائے جاتے ہیں جو نماز تو ادا کرتے ہیں مگر جلدی میں یہاں تک کہ رکوع و سجود پورے نہیں کرتے اور ایسے بھی مسلمان ہیں جنہیں نماز صحیح ادا کرنا نہیں آتی۔ لوگ  مشکل سے مشکل کام بھی کر لیتے ہیں لیکن نماز کا وقت ہوتا ہے تو سستی کرتے ہیں یہاں تک کے نماز قضا ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ علم کی کمی بھی ہے۔اگر نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جائے تو بہت سے لوگ جو نماز ادا نہیں کرتے ان کے اندر نماز پڑھنے کا جذبہ پیدا ہو گا اور ایسے ہی نماز نہ پڑھنے کے عذاب پر توجہ دی جائے تو اللہ پاک کا ڈر نصیب ہو گا اور نماز چھوڑنے سے بچیں گے۔ کتاب الکبائر میں منقول ہے : جہنم کی ایک وادی ہے جس کا نام ویل ہے۔ اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی گرمی سے پگھل جائیں اور یہ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے جو نماز میں سستی کرتے اور وقت کے بعد قضا کر کے پڑھتے ہیں مگر یہ کہ وہ اپنی کوتاہی (یعنی خطا) پر نادم ہوں اور بارگاہِ خداوندی میں توبہ کریں۔(الکبائر للذھبی ص19) اللہ پاک سے ہم عافیت کا سوال کرتی ہیں۔

بے نمازی کی نحوست ہے بڑی مر کے پائے گی سزا بے حد کڑی

ہمیں نماز میں سستی نہیں کرنی چاہیے اور جن کی نمازیں پہلے چھوٹی ہوں وہ سچے دل سے توبہ کریں۔ یاد رہے! فقط توبہ کرنے سے توبہ مقبول نہیں ہو گی توبہ کے ساتھ ان تمام نمازوں کی قضا بھی پڑھنی ہو گی جو پہلے چھوڑیں۔یوں تو پانچوں نمازیں اپنی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں ابھی ہم نمازِ عشا کے بارے میں پڑھیں گی ۔ مشکل کام کا ثواب زیادہ ہے۔ نمازِ عشا میں مشقت زیادہ ہوتی ہے لیکن جسے جتنی مشقت و آزمائش کا سامنا زیادہ ہو گا وہ اللہ پاک کی رحمت سے ثواب بھی زیادہ ہی پائے گی۔نمازِ عشا کے لغوی و اصطلاحی معنی:عشا کے لغوی معنی: رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں، چونکہ یہ نماز اندھیرا ہو جانے کے بعد ادا کی جاتی ہے اس لئے اس نماز کو نمازِ عشا کہتے ہیں۔(شرح مشکل الآثار للطحاوی ج 3 ص 34، 31 ملخصا)نمازِ عشا سب سے پہلے کس نے ادا فرمائی؟ہمارے پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمازِ عشا ادا فرمائی۔(شرح معانی الآثار ج 1 ص 226 حدیث 1514)نمازِ عشا پر 5 فرامینِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پڑھئے۔1۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے: تاجدارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب نمازوں میں زیادہ گراں(یعنی بوجھ والی)منافقوں پر نمازِ عشا و فجر ہے اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سرین( یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ ج1 ص437 حدیث797)2۔ تابعی بزرگ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان) عشا و فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(موطا امام مالک ج1 ص133 حدیث298)3۔ حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جو نمازِ عشا سے پہلے سوئے اللہ پاک اس کی آنکھ کو نہ سلائے۔(جمع الجوامع ج7 ص289 حدیث23192)4۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو نمازِ عشا جماعت سے پڑھے گویا(یعنی جیسے)اس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر جماعت سے پڑھے گویا (یعنی جیسے) اس نے پوری رات قیام کیا۔(مسلم ص258 حدیث 1491)5۔خادمِ نبی، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے چالیس دن فجر و عشا باجماعت پڑھی اس کو اللہ پاک دو آزادیاں عطا فرمائے گا۔ایک نار(یعنی آگ)سے،دوسری نفاق(یعنی منافقت) سے۔(ابن عساکر ج52 ص 338)

پڑھتی رہو نماز تو جنت کو پاؤگی چھوڑو گی گر نماز تو جہنم میں جاؤ گی

اللہ پاک ہمیں پانچوں نمازیں خود بھی ادا کرنے اور جو نہیں ادا کرتیں انہیں بھی نرمی کے ساتھ نماز کی دعوت دینے، اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


اسلام میں جو اہمیت نماز کو حاصل ہے وہ کسی اور عبادت کو حاصل نہیں۔ نماز ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم ترین رکن ہے۔روزِ قیامت تمام حقوق اللہ میں سب سے پہلے اسی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ایک حدیثِ پاک میں ہے:جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ اس نے نماز ضائع کی ہو تو اللہ پاک اس کی کسی نیکی کی پروا نہ کرے گا۔ (کتاب الکبائر، الکبیرۃ الرابعۃ فی ترک الصلوۃ، ص 22)عشا کے لغوی معنی رات کی ابتدائی تاریکی کے ہیں۔ چونکہ یہ نماز اندھیرا ہوجانے کے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لئے اس نماز کو عشا کی نماز کہا جاتا ہے۔(فیضان نماز، ص 114 بحوالہ شرح مشکل الآثار للطحاوی، ج 3، ص 34، 31 ملخصا)نمازِ عشا کی اہمیت و فضیلت پر مشتمل پانچ احادیثِ مبارکہ درج ذیل ہیں:1:تم کو اس نماز (عشا) کی وجہ سے پچھلی تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔(سنن ابو داؤد ج 1 ص 61)اس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 376 پر ہے: نمازِ عشا ہم سے پہلے کسی امت پر فرض نہ تھی، ہاں! بعض نبی بطورِ نفل اسے پڑھتے رہے ہیں۔2:جو شخص چالیس راتیں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھے کہ عشا کی تکبیرِ اُولیٰ(پہلی تکبیر) فوت نہ ہو، اﷲ کریم اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھ دے گا۔(سنن ابن ماجہ، أبواب المساجد۔۔۔إلخ، باب صلاۃ العشا و الفجر فی جماعۃ، الحدیث: 798، ج 1، ص 437)3: جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی گویا وہ آدھی رات عبادت میں کھڑا رہا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی تو گویا وہ پوری رات عبادت میں کھڑا رہا۔(مسلم شریف، کتاب المساجد۔۔۔الخ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ۔۔۔الخ، ص 329، الحدیث 260)4:ہمارے اور منافقین کے درمیان علامت (یعنی پہچان) عشا و فجر کی نماز میں حاضر ہونا ہے کیونکہ منافقین ان نمازوں میں آنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(موطا امام مالک ج 1 ص 133 حدیث 298)اس حدیث میں ذکر کردہ منافق سے مراد(دورِ رسالت کے بدترین کفار نہیں ہیں جو خود کو جھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کرتے تھے مگر دل سے کافر تھے بلکہ یہاں مراد)منافقِ عملی ہے۔(جو کہ حقیقت میں مسلمان ہے)۔(فیضان نماز ص 112 بحوالہ فیض القدیر ج 1 ص 84)5: سب نمازوں میں زیادہ گراں(یعنی بوجھ والی) منافقوں پر نمازِ عشا و فجر ہے، اور جو ان میں فضیلت ہے اگر جانتے تو ضرور حاضر ہوتے اگرچہ سُرین (یعنی بیٹھنے میں بدن کا جو حصہ زمین پر لگتا ہے اس) کے بل گھسٹتے ہوئے یعنی جیسے بھی ممکن ہوتا آتے۔(ابن ماجہ، ج 1، ص 437، حدیث 797)معلوم ہوا!جو مسلمان ان دو نمازوں میں سستی کرے،وہ منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 396)افسوس! فی زمانہ بہت سے لوگ رات گئے تک جاگتے رہنے کے باوجود نمازِ عشا قضا کردیتے ہیں، تو کچھ لوگ نیند اور سستی جیسے بہانوں کے سبب نماز جیسی اہم عبادت کو ترک کربیٹھتے ہیں۔ حالانکہ پانچوں نمازوں میں سے کسی بھی نماز کا بلاعذرِ شرعی چھوڑدینا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کے برعکس مشقت کے باوجود پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنا اللہ پاک کی خوشنودی کا سبب اور بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ہمیں چاہئے کہ نفس و شیطان کے سستی دلانے یا محض دنیاوی مصروفیات کے سبب اللہ کریم میں بارگاہ میں حاضری سے محروم نہ رہیں بلکہ پانچوں نمازیں پابندیِ وقت کے ساتھ ادا کرنے کی عادت بنائیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم