قرآن ِمجید فرقانِ حمید
وہ کتاب ہے کہ جو آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم
پر نازل فرمائی گئی،
جس میں ہر شے کا بیان ہے۔وَ
نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً
وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تم
پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت
مسلمانوں کو۔(پارہ
14، سورہ نحل:89)
ابنِ ابو الفضل عرسی نے کہا: اوّلین و آخرین کے تمام علوم قرآنِ پاک میں ہیں، غرض یہ
کتاب جامع ہے، جمیع علوم کی، جس کسی کو اس کا جتنا علم ملا ہے اتنا ہی جانتا ہے۔قرآن
میں علومِ دینیہ بھی ہیں اور علومِ دنیا بھی، اس میں جہاں عبادات، معاملات، اطاعات،
مہلکات اور منجیات کا علم ہے، وہاں سائنس، فلسفہ، حکومت، معاشرت اور وراثت جیسے
علوم بھی مذکور ہیں۔قرآن میں یہاں تک کہ پہاڑوں، دریا، چشمے، کنویں،کوہسار، نباتات
اور حیوانات کا ذکر بھی ہے اور ہر چھوٹی، بڑی شے کا بھی، قرآن میں مختلف دھاتوں کا
ذکر بھی ملتا ہے۔ 1۔الحدیدیعنی لوہا:وَ
لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ؕیٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ
الطَّیْرَ ۚوَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ ۙ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے
داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا اور اے پہاڑوں،اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اےپرندو
اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کیا۔(سورہ سبا، آیت 10)2۔القطر
یعنی تانبا:وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور سلیمان
کے بس میں ہوا کر دی،اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے
کی راہ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا۔(سورہ سبا،آیت 12)3۔الفضۃ
یعنی چاندی:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ
الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ
مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ
الْحَرْثِ ؕ۔ترجمۂ کنزالایمان:لوگوں
کے لئے آراستہ کی گئی ان کی خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے
چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے۔(سورۂ ال عمران،14)4۔الذہب
یعنی سونا:اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا ؕ۔ترجمۂ کنز الایمان:بے شک
اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور
اچھے کام کئے بہشتوں میں، جن کے نیچے نہریں بہیں، اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے
کنگن اور موتی۔(سورۃ
الحج، 23)
قرآن پاک کی بھی کیا ہی شان ہے ۔ اللہ پاک نے اس پاک کتاب میں
ہم انسانوں کے لئے اتنا کچھ رکھا ہے کہ ہماری زندگیاں بِیت جائیں مگر ہم اس وسیع
کتاب کے علم کا کامل اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اگر تفکر کریں تو یہی سمجھ آتا ہے
کہ اس میں ہر چیز ذکر موجود ہے۔
اللہ پاک نے اس میں مختلف مقامات پر دھاتوں کا بھی ذکر فرمایا۔
جن میں سے کچھ یہاں مذکور ہیں:
(1) وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ
شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ (۲۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم
نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور
تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک
اللہ قوت والا، غالب ہے۔ (پ27،الحدید:25) اس آیت
مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں کہ اللہ
پاک نے اپنے رسولوں کو ان کی امتوں کی طرف روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ساتھ ہی
جن چیزوں کو نازل فرمایا ان میں سے لوہا (جو کہ ایک دھات) ہے اس کو بھی نازل فرمایا۔
مفسرین نے فرمایا کہ یہاں آیت میں ”اتارنا“ پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ
ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے مَعادِن سے نکالا اور انہیں اس کی
صنعت کا علم دیا ۔ اور لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ
اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور
اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔
(2) وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا
فَضْلًاؕ-یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَۚ-وَ
اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ(۱۰) ، ترجمہ
کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔ اے پہاڑو اور پرندو !
اس کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔ (پ 22 ، سبا: 10) اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے: اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ السّلام کو ایک یہ
بھی معجزہ عطا فرمایا کہ جب آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح یا گندھے ہوئے
آٹے کی طرح نرم ہوجاتا۔
(3) وَ
الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ
سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (۳۴)
ترجمۂ کنزالعرفان: اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر رکھتے ہیں
اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔(پ
10،التوبۃ:34)
وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ
فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(۱۵) قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ
قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(۱۶) ترجمۂ کنز العرفان: اور ان پر چاندی کے برتنوں
اور گلاسوں کے دَور ہوں گے جو شیشے کی طرح ہوں گے۔ چاندی کے شفاف شیشے جنہیں پلانے
والوں نے پورے اندازہ سے (بھر کر) رکھا ہوگا۔(پ 29 ، الدھر: 16،15) تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ ان نیک بندوں پر چاندی کے
برتنوں اور گلاسوں میں جنتی شراب کے دَور ہوں گے اور وہ برتن چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ
شیشے کی طرح صاف شفاف ہوں گے ۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح مختلف اعتبار سے دھاتوں کا
تذکرہ کیا گیا۔ کہیں پر لوہے کے سخت ہونے کا ذکر کہ یہ جنگ و جہاد میں استعمال کیا
جائے تو کہیں پر وہی لوہا نبی کے ہاتھ میں آکر موم کی طرح نرم بن جاتا ہے۔ کہیں پر
سونے چاندی کا ذکر کہ جنتیوں کے لئے چاندی کے برتن ہوں گے، تو کہیں پر سونے چاندی
کی وجہ سے جہنمیوں کو عذاب دیا جائے گا۔ یہ
تمام خدائے پاک واحد و قہار کی قدرت کے کرشمے ہیں۔بے شک اللہ پاک ہر شی پر قادر
ہے۔
اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ ان میں سے
ایک قرآن پاک کا معجزہ ہے اور یہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کے سچے ،بے عیب اور
محفوظ ہونے کی گواہی اللہ پاک نے قرآن میں بیان فرمائی ہے ۔ یہاں تک کہ اس میں کس
کس چیز کا بیان ہے وہ بھی اللہ پاک نے اس
میں بیان فرما دیا ہے۔چنانچہ ارشاد باری ہے:وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ
تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز
کا روشن بیان ہے ۔(پ 14،النحل:89) اور دوسرے مقام پر آیت کے ایک حصے میں
ارشاد خداوندی ہے: مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ترجمہ کنزالعرفان: ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں
چھوڑی ۔(پ 7،الانعام: 38)
ان آیات بینات سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی عظمت
شان کتاب ہے جو تمام علوم کی جامع کتاب ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پیش آنے والے فتنوں کی خبر دی تو صحابہ نے ان فتنوں سے
بچنے کے متعلق دریافت کیا نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اللہ کی کتاب جس میں تم سے پہلے واقعات کی بھی خبر ہے تم سے بعد کے واقعات کی بھی
اور تمہارے آپس کے فیصلے بھی ہیں۔ (جامع ترمذی، کتاب فضائل القرآن ، حدیث: 2951)
غرض یہ کہ یہ کتاب تمام علوم کی جامع کتاب ہے اور جس کسی کو
اس کا جتنا علم ملا ہے وہ اتنا ہی اس کو جانتا ہے مزید اس بارے میں جاننے کے اعلی حضرت کی کتاب ”اِنبَاء الحی اَنّ کَلامهُ المصون
تِبیانٌ لکلِ شَئٍ“ ( قرآن میں ہر چیز کا بیان ) کا مطالعہ فرمائیں ۔
قرآن کریم میں چار دھاتوں کا صریح بیان ہے۔(1) لوہا ،(2) تانبا
،(3) سونا ،(4) چاندی
(1) لوہا : لوہا ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ پاک نے اتاری اور اس میں بے
شمار فوائد رکھے۔ ارشاد باری ہے:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ
شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ترجمہ کنزالعرفان:
اور ہم نے لوہا نازل کیا اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔(پ27،الحدید:25)
ایک دوسرے مقام پر حضرت داؤد علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ(۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے
اس کے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔(پ 22 ، سبا:
10) اللہ کے نبی حضرت
داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کیا کرتے تھے اور اسی سے اپنی زندگی کا گزر بسر کرتے
تھے۔ صاحب تفسیر صراط
الجنان مسند الفردوس کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے
مروی ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک نے چار
بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاری ہیں: لوہا ،آگ، پانی ،نمک ۔
فوائد : زمانۂ قدیم سے لوہا دنیا کی تعمیر و ترقی میں بہت اہم
کردار ادا کرتا آیا ہے اور آج بھی معمولی سے سوئی سے لے کر بحری جہاز ،ریلوے انجن،
پٹڑیاں، اوزار، عمارتی مشینیں، کرینیں، گھریلو و زرعی مصنوعات ،انجینئرنگ اور فن تعمیر کے لوازمات، اسلحہ سازی، ٹینک،
آرمرڈ کاریں ،بمبار طیارے، آبدوزیں ،بحری جنگی جہاز، ایٹم بم غیرہ دیگر اشیا بھی لوہے کی مرہون منت ہیں۔
(2)تانبا :تانبا بھی وہ دھات ہے جس ذکر کا قرآن پاک میں ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے : وَ
اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِؕ ترجمہ کنزالعرفان : اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہادیا۔(پ 22 ، سبا: 12)
یہ معجزہ اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمایا
کہ ان کے لئے تانبے کو نرم کر دیا۔ مدارک اور خازن کے حوالے سے صاحب تفسیر صراط
الجنان نے لکھا : مفسرین کرام فرماتے ہیں وہ تانبے کا چشمہ تین دن تک سرزمین یمن میں
پانی کی طرح جاری رہا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چشمہ مہینے میں تین دن چلتا ایک علیحدہ
بھی ہے کہ جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کر دیا جاتا تھا ویسے ہی
حضرت سلیمان علیہ السّلام کے لئے تانبے کو نرم کر دیا جاتا ہے اور وہ اس سے جو
بنانا چاہتے بنا لیتے تھے۔
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بھی تانبے کا برتن استعمال کرنا ثابت ہے حضرت
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک بار رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے تانبے کے برتن میں پانی نکالا
۔( بخاری ، کتاب الوضو ، حدیث: 197)
فوائد:قدیم زمانہ سے ہی تانبے کا استعمال ہو رہا ہے اس کے برتن وغیرہ
اور دیگر اشیا بنتی رہی ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ ہیں کیمیکلز
سے تیار ہونے والے پلاسٹک کے برتنوں اور دیگر اشیا نے جگہ لے لی مگر تانبہ آج ہی اپنی ایک پہچان
رکھتا ہے اس سے مختلف چیزیں تیار ہوتی ہیں بالخصوص اسلحہ اور گولیوں کے خول وغیرہ۔
تانبے کے برتن میں
پانی پینے کے فوائد: ایک ریسرچ کے مطابق تانبے کا
برتن استعمال کرنے سے بالخصوص پانی پینے سے درج ذیل فوائد حاصل ہونے کے قوی
امکانات موجود ہیں : نظام ہاضمہ کی بہتری، وزن میں کمی، جلد کو بھدا ہونے سے بچاتا، انفیکشن سے حفاظت،
دل کی بیماریاں، بلڈ پریشر کے خطرات سے حفاظت، زخم کو تیزی سے مندمل کرنا شامل ہیں۔(
ایکسپریس 26 نومبر 2017)
(4،3)سونا چاندی: سونا چاندی کا بھی ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ ارشاد باری ہے :
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ
الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ
بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (۳۴)
ترجمۂ کنزالعرفان: اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی
راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔(پ 10،التوبۃ:34) ایک اور مقام پر ارشاد خداوندی ہے: وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ ترجمہ
کنزالعرفان: اور انہیں چاندی کے کنگن
پہنائے جائیں گے۔(پ 29،الدھر:21)
ایک دوسرے مقام پر جنت کے نعمت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ پاک
نے ارشاد فرمایا: جَنّٰتُ عَدْنٍ
یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ
لُؤْلُؤًاۚ-وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ (۳۳)، ترجمۂ کنزالعرفان: (ان کیلئے)
بسنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور
موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ ( پ 22 ، فاطر: 33)
قدیم زمانہ میں سونے چاندی کے زیورات کے علاوہ برتن بھی ہوا
کرتے تھے ، مگر اسلام میں سونے چاندی کے برتن کا استعمال حرام قرار دیا گیا ہے اور
اس کا استعمال منع فرمایا گیا۔ جن کا ذکر احادیث مبارکہ میں کثرت سے مل جاتا ہے ۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم سے سنا آپ نے فرمایا: ریشم
اور دیبا نہ پہنو ،سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیوں اور انکی پلیٹوں میں نہ
کھاؤ، کیونکہ یہ چیزیں کفار کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہے ۔
(بخاری، کتاب الاطعمہ ، حدیث: 5426)
فوائد:سونا چاندی نا صرف زیورات برتن وغیرہ کے لئے استعمال ہوتا
ہے بلکہ اس کے اور بھی بے شمار فائدے ہیں قدیم زمانے میں سونے چاندی کی کرنسی ہوا
کرتی تھی اور اسی سے ہی کاروبار کیا جاتا تھا بلکہ 70 کی دہائی سے پہلے تک جب تک
ڈالر عالمی تجارت کیلئے متعارف نہ تھا تب تک
سونے سے ہی تجارت کی جاتی تھی۔ اس کے بعد سونے کی جگہ ڈالر نے عالمی تجارت میں
اپنا مقام بنایا لیکن اس بات کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اب سونے کی کوئی قدر و قیمت
نہیں ہے بلکہ آج بھی کسی بھی ملک کی معیشت کو دیکھنا تو اس کے سونے کے ذخائر کو دیکھا جاتا ہے اور اس ملک کی کرنسی کا
دارو مدار بھی سونے کے ذخائر پر ہوتا ہے جتنا اس ملک کے پاس سونا ہو گا سونے کے
ذخائر ہوں گے اتنا ہی اس ملک کی معیشت اور اس ملک کا پیسہ مستحکم ہوگا یہاں تک کہ
اگر کسی ملک کو سونا بیچنے کی نوبت آتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس ملک کا دیوالیہ
ہو گیا ہے۔اس لحاظ سے بھی سونے کی بڑی قدر و قمیت ہے ۔
یاد رکھیں: لوہے ، تانبے ، اور سونے کے زیورات، انگھوٹی ،چھلہ ، چین
وغیرہ مرد کے لئے بالکل حرام ہے۔جبکہ چاندی( ساڑھے چار ماشے) ایک نگ والی انگھوٹی پہننے کی اجازت ہے۔ اور خواتین کے لئے
آرٹیفیشل ( تانبے، لوہے) جیولری پہننا جائز ہے ۔
جہاں قرآن مجید ایک طرف ہدایت دینے والی کتاب ہے اور شفاء
ورحمت ہے وہیں دوسری طرف قرآن مجید میں ہر شئی کا واضح بیان بھی موجود ہے یعنی
کائنات کی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز چاہے آسمانی ہو یا زمینی، انسانی ہو یا حیوانی یا
چاہے اس کا تعلق جمادات سے ہو تمام تر چیزوں
کا علم و بیان اس پاک کتاب میں موجود ہے۔ اسی طرح اللہ پاک نے قرآن مجید میں چند دھاتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جن کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔
لوہے کا بیان:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ
شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ
رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ (۲۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت
لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو
بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا، غالب ہے۔ (پ27،الحدید:25)
لوہے کا فائدہ: اس میں ا نتہائی
سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان تحت ھذہ الآیۃ)
سونے اور چاندی کا بیان: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ
النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ
الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ
مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)ترجمۂ کنز العرفان: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو
آراستہ کر دیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں
اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور
کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے
اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔(پ 03،اٰل عمران:14)
سونا چاندی پیدا کرنے
کا مقصد: لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا،
چنانچہ عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں
اور بہترین مکانات کی محبت لوگوں کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور اِس آراستہ کئے
جانے اور ان چیزوں کی محبت پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا
پرستوں کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے۔(تفسیر صراط الجنان تحت ھذہ الآیۃ)
تانبے کا بیان: وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا
بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ ، ترجمہ کنزالعرفان
: اور اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی
جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کو بھون دے گا ۔ (پ 15 ، الکھف:
29)
تانبا ایک ایسی دھات ہے جس کا استعمال ہمارے معاشرے میں قدیم
زمانے سے کیا جارہا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد تابنے سے بنے برتنوں میں کھانا کھایا
کرتے تھے، لیکن اب دور جدید میں ہم نے نئے متبادل تلاش کرلئے ہیں۔
قرآن مجید میں ہر
شئی کا واضح بیان ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن مجید کے مفاہیم میں غور و فکر کریں اور یہی بات ہمیں احادیث
مبارکہ اور بزرگان دین کے اقوال میں ملتی ہے۔
محمد طلحہ خان عطّاری(درجۂ ثالثہ
جامعۃُ المدینہ فیضان ِ خلفائے راشدین راولپنڈی)
﴿وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ
شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)﴾ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور ہم نے تم
پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کیلئے ہدایت اور رحمت
اور بشارت ہے۔(پ14،النحل:89)
اعلیٰ حضرت
امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: قراٰنِ عظیم گواہ ہے اور اس کی گواہی
کس قدر اعظم ہے کہ وہ ہر چیز کا تبیان ہے اور تبیان اس روشن اور واضح بیان کو کہتے
ہیں جواصلاً پوشیدگی نہ رکھے کہ لفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلیل ہوتی ہے اور
بیان کے لئے ایک تو بیان کرنے والا چاہئے ، وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے اور دوسرا
وہ جس کے لئے بیان کیا جائے اور وہ وہ ہیں جن پر قراٰن اترا (یعنی) ہمارےسردار
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اہلِ سنت کے نزدیک ”شے“ ہر موجود کو
کہتے ہیں تو اس میں جملہ موجودات داخل ہو گئے، فرش سے عرش تک ، شرق سے غرب تک ،
ذاتیں اور حالتیں ، حرکات اور سکنات، پلک کی جنبشیں اور نگاہیں، دلوں کے خطرے اور
ارادے اور ان کے سوا جو کچھ ہے (وہ سب اس میں داخل ہوگیا) اور انہیں موجودات میں
سے لوحِ محفوظ کی تحریر ہے۔(الدولۃ المکیۃ،ص75)
اس سے معلوم
ہوا کہ قراٰنِ مجید میں ہر مخلوق کے بارے میں معلومات موجود ہیں اور انہیں مخلوقات
میں سے ایک مخلوق دھات ہے۔ قراٰنِ مجید میں 4 قسم کی دھاتوں کا ذکر کیا گیا ہے:
(1)لوہا:(Iron)ایک خاکستری
رنگ کی دھات جو معدنی ڈھیلوں کو پگھلا کر حاصل کی جاتی ہے اور530 درجۂ حرارت
پر پگھلتی ہے اس سے آلات، اوزار اور ہتھیار وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ قراٰنِ مجید میں
5 مقامات پر لوہے کا ذکر آیا ہے اور ایک پوری سورت کا نام لوہے پر ہے جسے ”سورةُ
الحدید“ کہتے ہیں۔ وہ پانچ مقامات یہ ہیں:بنی اسرائیل،آیت: 50،الکھف، آیت: 96، الحج، آیت:21، سبا،
آیت: 10 اور الحدید، آیت: 25۔ ان میں سے
ایک آیت ہے:﴿وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًاؕ-یٰجِبَالُ
اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَالطَّیْرَۚ-وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ(۱۰)﴾ ترجَمۂ کنزُ العرفان: اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف
سے بڑا فضل دیا۔ اے پہاڑو اور پرندو! اس کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کرو اور ہم نے
اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔ ( پ 22 ، سبا: 10)
(2)تانبا(Copper):ایک سرخی مائل نارنجی رنگ کی دھات ہے۔ اس سے بآسانی تار
اور ورق بنائے جا سکتے ہیں۔ اس دھات سے بجلی اور حرارت بہت آسانی سے
گزرتی ہے اسی لئےتانبے سے بجلی کی تاریں اور دیگیں کثرت سے بنائی جاتی ہیں۔قراٰنِ
مجید میں 4 مقامات پر تانبے کا ذکر ملتا ہے۔وہ یہ ہیں: الکھف: 29 اور 96 ، سبا:12اور الدُّخان:45 ۔ ان میں سے ایک
آیت یہ ہے: ﴿وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ
كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ ﴾ترجَمۂ کنزُ العرفان:اور اگر وہ
پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئےتانبے
کی طرح ہوگا جو ان کے منہ کو بھون دے گا۔ (پ15،الکھف:29)
(3)چاندی(Silver)
: چمکیلی سفید یا سُرمئی رنگت کی حامل
ہے۔ چاندی پیسے کے طور پر بھی استعمال کی گئی ہے اور سِکّے، زیورات اور قیمتی و
خوبصورت اشیاء بنانے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ قراٰنِ مجید میں 8 مقامات پر
چاندی کا ذکر ملتا ہے۔ وہ یہ ہیں: اٰلِ عمرٰن: 14،التوبۃ: 34، الکھف: 19، الزخرف: 33 اور 34، الدھر: 16،15 اور 21۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: ﴿عٰلِیَهُمْ
ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ٘-وَّحُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ
فِضَّةٍۚ-وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱)﴾ ترجَمۂ کنزُ العرفان: ان پر باریک
اور موٹے ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان
کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔(پ29، الدھر: 21)
(4)سونا(Gold): نرم چمکدار اور پیلے رنگ کی دھات ہے
جسے کسی بھی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے۔یہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے انتہائی مہنگا
ہے۔قیمتی دھات ہونے کی وجہ سے صدیوں سے روپے پیسے کے بدل کے طور پر استعمال ہوتا
رہا ہے۔ اس کےسِکّے بنائے جاتے ہیں۔قیمتی و خوبصورت اشیا ءاور زیورات بنانے میں بھی
استعمال ہوتا ہے۔
قراٰنِ مجید
میں 9 مقامات پر سونے کا ذکر ملتا ہے اور ایک پوری سورت کا نام سونے پر ہے جسے
سورةُ الزُّخرُف کہتے ہیں۔ 9 مقامات یہ ہیں: اٰلِ عمرٰن:14، 91، التوبۃ:34، بنی ٓاسرآءیل:
93، الکھف: 31، الحج:
23،فاطر:33، الزخرف: 53 اور 71۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: ﴿جَنّٰتُ
عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ
وَّلُؤْلُؤًاۚ-وَلِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(۳۳)﴾ ترجَمۂ کنزُالعرفان: (ان کیلئے)
بسنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور
موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ (پ22،فاطر:33)
آج مورخہ 24 جولائی 2021ء رات 9:45 بجے مین یونیورسٹی
روڈ پر واقع عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے براہ راست مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا جائیگا جس میں امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ عاشقانِ رسول کی جانب ہونے والے سوالات کے
جوابات ارشاد فرمائیں گے۔
واضح رہے کہ امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل”مدنی مذاکرہ“ نامی ہفتہ وار علمی نشست قائم فرمارہے ہیں جس میں شرکت کرنے والے ہر خاص و عام کو شرعی، طبی، تاریخی اور تنظیمی معلومات کا خزانہ ہاتھ آتا ہے۔
تمام عاشقان رسول سے درخواست کی جاتی ہے کہ مدنی مذاکرے میں شرکت کرکے علم دین کا ڈھیروں ڈھیر خزانہ حاصل کریں۔
Under the supervision of Dawat-e-Islami, online
Sunnah-inspiring Ijtima’at were held in Walsall, Black Country, Stoke,
Coventry, Worcester, North Birmingham, East Birmingham and Central Birmingham in
previous
days. Approximately, 354 Islamic sisters had the
privilege of attending these spiritual Ijtima’at.
The
female preachers of Dawat-e-Islami delivered Sunnah-inspiring Bayans on the topic ‘how to develop greed for good
deeds’, explained the attendees (Islamic
sisters) importance, blessings and resources of good
deeds and motivated them to attend the Sunnah-inspiring Ijtima’at regularly.
آج دنیا بھر میں دعوتِ اسلامی کی جانب سے ہفتہ
وار اجتماعات منعقد ہوں گے
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام جمعرات کی شب دنیا
بھر میں مختلف مقامات پر ہفتہ وار اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں جن میں مبلغینِ
دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات فرماتے ہیں جبکہ اجتماعی ذکرو دعا کا سلسلہ بھی
ہوتا ہے۔ بیشتر مقامات پر اجتماع کے بعد فی سبیل اللہ یعنی بغیر کسی فیس کے تعویذات بھی دیئے جاتے
ہیں۔
اسی سلسلے میں آج فیضانِ مدینہ اوکاڑہ نزد چونگی
نمبر 7 میں ہفتہ وار اجتماع منعقد ہوگا جو کہ مدنی چینل پر براہِ راست نشر کیاجائے
گا۔ اس ہفتہ وار اجتماع میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی
اسد عطاری مدنی ”ذکرِ مدینہ“ کےعنوان پر
خصوصی بیان فرمائیں گے۔ اجتماع کا آغاز بعدِ عشاء تقریباً 9:45 پر ہوگا۔
اس کے علاوہ جامع مسجد فیضانِ جیلان بلاک 8
کلفٹن میں بعدِ مغرب ہونے والے اجتماع میں
ترجمان دعوتِ اسلامی مولانا حاجی عبدالحبیب
عطاری ، فیضانِ مدینہ اڈیالہ روڈ جراہی اسٹاپ راولپنڈی میں بعدِ مغرب ہونے والے
اجتماع میں رکنِ شوریٰ حاجی وقارالمدینہ
عطاری، فیضانِ کاہنہ نو لاہور میں بعدِ مغرب ہونے
والے اجتماع میں رکنِ شوریٰ حاجی یعفورر ضا
عطاری اور فیضانِ مدینہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں بعدِ مغرب ہونے والے اجتماع میں نگران
پروفیشنلز مجلس محمد ثوبان عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
واضح رہے کہ آج دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں بیان کے بجائے مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوگا جس میں
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہشرکا کو مدنی پھول عطا فرمائیں گے۔
تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ اپنے شہر میں
ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت فرماکر علمِ دین سے اپنے سینے کو منو ر فرمائیں۔
اس پُر فتن دور میں رسالہ
نیک اعمال ایک اسلامی زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے جس
کے ذریعے نیکیوں کی طرف رغبت حاصل ہوتی ہے۔ رسالہ نیک
اعمال کے ذریعے اپنے شب و روز کےاعمال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ آج کا دن نیکیوں میں گزرا یا نہیں
۔
امیر اہل سنت دامت برکاتھم العالیہ نے تمام مسلمانوں کو گویا ایک ایسا آسان و
بہترین نیک بننے کا نسخہ عطا فرمایا ہے جس
کے ذریعے آپ اپنے کردار، نیکیوں سے محبت،گناہوں سے نفرت،اخلاقیات،عبادت ، ریاضت
،تقویٰ،توبہ، اخلاص اور قفل مدینہ ان سب پر آپ اپنی زندگی میں استقامت حاصل کرسکتےہیں
اور بہت کم وقت میں نیکیوں کے خزانے جمع کر سکیں گے ان شاء اللہ عزوجل۔
1)کراچی ریجن کی کارکردگی
اصلاحِ اعمال اجتماعات کی تعداد:103
اصلاحِ اعمال
اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد:1 ہزار478
عاملات نیک اعمال بننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:18 ہزار248
2)حیدرآباد ریجن کی کارکردگی
اصلاح اعمال اجتماعات کی تعداد:59
اصلاحِ اعمال اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد:1
ہزار173
عاملات نیک اعمال بننے والی اسلامی بہنوں کی
تعداد:8 ہزار
3)
ملتان ریجن کی کارکردگی
اصلاح اعمال اجتماعات کی تعداد:33
اصلاحِ اعمال اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد:927
عاملات نیک اعمال اسلامی بہنوں
کی تعداد:7 ہزار484
4)فیصل آباد ریجن کی کارکردگی
اصلاح اعمال اجتماعات کی تعداد:50
اصلاحِ اعمال اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد:845
عاملات نیک اعمال اسلامی بہنوں کی تعداد:7
ہزار595
5)لاہور ریجن کی کارکردگی
اصلاح ِاعمال اجتماعات کی تعداد:50
اصلاحِ اعمال اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد: 12
ہزار96
عاملات نیک اعمال اسلامی بہنوں کی تعداد:8
ہزار95
6)اسلام آباد ریجن کی کارکردگی
اصلاحِ اعمال اجتماعات کی تعداد:82
اصلاحِ اعمال اجتماعات میں شرکت کرنےوالی اسلامی بہنوں کی تعداد: 787
عاملات نیک اعمال اسلامی بہنوں کی تعداد:4
ہزار605
دعوت
اسلامی کے شعبہ اسپیشل پرسنز کے تحت گزشتہ
دنوں کراچی ایسٹ زون 2 میں دہرائی اجتماع کے حوالے سے تربیتی سیشن ہواجس میں اسپیشل پرسنز کورس کی تقریباً 4 مبلغات اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
زون سطح کی ذمہ دارہ اسلامی بہن نے نعت شریف۔منقبتوں اور
دیگر کاموں کے اشاروں کی دہرائی کروائی نیز مزید بہتر انداز اختیار کرنےکےحوالے سے مدنی پھول بھی دیئے جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی نیتوں کا
اظہار کیا۔
کراچی ایسٹ
زون 1 محمود آباد کابینہ کراچی میں 8 دن پر مشتمل کورس بنام ’’مفتاح الجنۃ‘‘کا
انعقاد
دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے تحت گزشتہ دنوں کراچی ایسٹ زون 1 محمود آباد کابینہ کراچی
میں 8 دن پر مشتمل کورس بنام ’’مفتاح الجنۃ‘‘کا انعقاد ہوا جس میں16 اسلامی بہنوں نےشرکت کی
۔
اس کورس میں نماز کے فرائض، شرائط، واجبات،
مفسدات نیز نماز کا عملی طریقہ سکھایا گیا مزید مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں
کو کورسز کرنے، ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع اور علاقائی دورہ برائے نیکی کی
دعوت میں شرکت کرنے کاذہن دیا گیانیز مدرسۃالمدینہ
بالغات میں داخلے لینے کی ترغیب دلائی گئی جس پر اسلامی بہنوں نےاچھی اچھی نیتوں
کااظہارکیا۔
دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن للبنات کے
تحت گزشتہ دنوں کراچی کےمختلف علاقوں (گلشن کابینہ کی ڈویژن ڈالمیا ،صدر کابینہ کی ڈویژن خداداد کالونی ولائنز ایریا اور محمودآباد )میں کفن دفن تربیتی اجتماعات کاسلسلہ ہواجن میں تقریبا 150
اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
مبلغات دعوتِ اسلامی نےغسل میت دینےاو رکفن کاٹنےکا عملی طریقہ
سکھایا نیزمستعمل پانی کے بارے میں
شرعی معلومات دی اور متفرق مدنی پھول بھی بتائے۔ موت کی تیاری کرنے کا ذہن دیتےہوئے کتاب ’’تجہیزوتکفین
کا طریقہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دلائی اور ضرورت پڑھنے پر اس کار خیر میں
حصہ لینےکاذہن دیاجس پر اسلامی بہنوں نےاچھی نیتوں کااظہار کیا۔
Dawateislami