دعوتِ اسلامی کے زیراہتمام 20 ستمبر 2020ء  کو فیصل آباد ریجن ، میانوالی زون کی نورپور کابینہ میں مدنی مشورہ ہوا جس میں ذیلی سطح تک کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

زون نگران اسلامی بہن نے ذمہ داراسلامی بہنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تربیت فرمائی اور شیڈول، کارکردگیاں فارم اور مدنی پھول سمجھائے اور وقت پر کارکردگی جمع کروانے کا ذہن دیا نیز اہم شعبہ جات پر تقرریاں کیں اور ذمہ داران کی شعبے کے مدنی پھولوں کے مطابق تربیت کی ۔ جن علاقوں میں مدنی کام نہیں ہو رہا ان علاقوں میں مدنی کام شروع کروانے کا ذہن دیا ۔

باادب بانصیب

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ہے ادب ہے ۔ یہ وہ تحفۂ آسمانی ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بطورِ خاص عطا فرمایا۔

ادب وآداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق) سے پھیلا۔ حسنِ اخلاق اور ادب پر لاتعداد احادیث مبارکہ ہیں کہ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ سب کے ساتھ کس طرح ادب سے پیش آنے کی تلقین اور ہدایت فرمائی گئی ادب اور اخلاق کسی معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے جو معاشرے کو بلند تر کر دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد ہوتا ہے۔ سید ابو بکر غزنوی زندگی بھر خلوص اور گرم جوشی سے سیرت طیبہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ان شفاف چشموں سے لوگوں کو سیراب کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ان کے لیکچرز، خطبات اور تحریریں اسلامی آداب، شائستگی اور قرینوں کی تعلیم کے پاکیزہ اور جانفزا جھونکوں سے بھر پور ہوتے۔ ۔ یہی آداب ہیں جنہیں اخلاق بھی کہا جاتاہے اور اخلاق ہی میزان عمل کاسب سے وزنی اثاثہ ہے

ادب کی مثالوں میں مشہور ترین مثال حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہے جنہوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم کے حکم پر اپنی جان کا تحفہ موت کی طشتری میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔ بقولِ شاعر:

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

ہاں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھوک اور مفلسی انسان کی نفیس حسوں کی قاتل ہے۔’’

چنانچہ اگر کوئی قوم دنیا میں عزت پانا چاہتی ہے تو پہلے وہ اپنے لیے بانصیب افراد ڈھونڈ کے لائے۔ اگر بانصیب لوگ چاہییں تو پہلے باادب لوگ لاؤ ! اگر باادب لوگ چاہییں تو پہلے قوم سے بھوک ، افلاس اور غربت کو دور کرو۔

آج اگر ہم قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم ادب کرنا بھول گئے ہیں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اسلامی  بہنوں کی مجلس رابطہ کے زیراہتمام گزشتہ روز فیصل آباد ریجن، میانوالی زون کی نورپور کابینہ میں مدنی مشورہ ہوا جس میں زون ذمہ دار اسلامی بہن نے ذمہ دار کو کارکردگی فارم سمجھائے اور فارم پر کارکردگی دینے کا ذہن دیا اور شخصیات سے ملاقات کرنے اور ان کو دعوتِ اسلامی کے ساتھ منسلک کروانے کی ترغیب دلائی نیز شعبہ کے مدنی کام بڑھانے کا ذہن دیا ۔

اسلامی بہنوں کی مجلس  شعبہ تعلیم کے زیراہتمام 21ستمبر 2020ء کو فیصل آباد، پاکپتن زون، پاکپتن کابینہ کی ڈویژن پاکپتن میں شعبہ تعلیم کی ذمہ داراسلامی بہنوں کے ساتھ مدنی مشورہ ہوا جس میں بنگہ حیات کابینہ اور پاکپتن کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

زون ذمہ دار اسلامی بہن نے شعبہ تعلیم کی ذمہ داران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تربیت فرمائی۔ کارکردگی فارم اور شعبے کے مدنی پھول بھی سمجھائے نیز اپنے شعبے کے مدنی کاموں کو بڑھانے کے لیے اہداف بھی دئیے۔

باادب بانصیب

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

یہ بات حقیقت ہے کہ ادب کے سبب انسان  ترقی وعروج پاتا ہے ،اسی ادب کی بدولت انسان دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہو تا او ر بے ادبی کے سبب ذلت و رسوائی کے عمیق گھڑے میں گر سکتا ہے ۔ ،اسی ادب کی بدولت موسی علیہ السلام کے مقابلے میں آنے والے جادوگروں کو کلمہ نصیب ہوا۔اسی لئے کہا جاتاہے ”با ادب با نصیب “مزید چند واقعات ملاحظہ فرمائیں ۔

بسم اللہ شریف کے ادب کی برکت:

حضرتِ سیِّدُنا مَنْصُور بن عَماّر رحمۃ اللہ علیہ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہواکاغذ رکھنے کی کوئی مناسب جگہ نہ پائی تو نگل گئے ۔رات کو خواب میں کسی نے کہا: مُقَدَّس کاغذ کے اِحتِرام کی بَرَکت سے اﷲ پاک نےتجھ پر حِکمت کے دروازے کھول دیئے۔(الرسالۃ القشیریۃ ص48)

منقول ہے کہ ایک نیک شخص کے شَرابی بھائی کا انتقال نشے کی حالت میں ہوا خواب میں اسے دکھا گیا اور پوچھا تجھے جنت کیسے ملی ؟کہا کہ ایک کاغذدیکھاجس پر بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم تَحریرتھا،میں نے اُسے اُٹھایا اورنِگل لیا۔(پھر انتقال ہو گیا )جب قَبْرمیں پہنچا تو مُنْکَرنکَیرکے سُوالات پرمیں نے عرض کیا : آپ مُجھ سے سُوالات فر ما رہے ہیں، حالانکہ میرے پیارے پَروَرْدگار کاپاک نام میرے پیٹ میں موجودہے ۔ کسی نِدادینے والے نے نِدا دی: صَدَق عَبْدِی قَدْغَفَرْتُ لَہٗ یعنی میرابندہ سچ کہتاہے بے شک مَیں نے اِسے بخش دیا۔''

(نزہۃ المجالس1/41)

اساتذہ کا ادب:

جو اپنے اساتذہ کا ادب کرتا ہے اور ان کی چاہت کو پورا کرتا ہےوہ کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور جو ان کا دِل دکھاتا ہے، ان کی غیبت کرتا ، ان کی بیٹھنے کی جگہ کی بےادبی کرتا یا بلاوجہ ان سے بغض رکھتا ہےوہ نہ صرف علم کی مٹھاس سے محروم رہتا ہےبلکہ اسے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑتاہے۔ہمارے بڑے بڑے اَئمہ و فقہاء جن کا چہار سو شہرہ ہے،جن کا کلام بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہےاور جن کا نام بہت احترام سے لیا جاتا ہےان کی سیرت میں استاد کے ادب کا پہلو بہت نمایاں نظر آتا ہے۔

جس سے اس کے استاد کو کسی قسم کی اذیت پہنچی،وہ علم کی برکات سے محروم رہے گا۔

(فتاویٰ رضویہ،10/96،97)

اپنے اُستاذ کا ادب کریں:

کسی عربی شاعر نے کہا ہے : مَاوَصَلَ مِنْ وَصْلٍ اِلاَّ بِالْحُرْمَۃِ وَمَاسَقَطَ مِنْ سَقْطٍ اِلَّا بِتَرْکِ الْحُرْمَۃِ، یعنی جس نے جو کچھ پایا اَدب واحترام کرنے کی وجہ سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ اَدب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔

حضرت سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سےکوئی سوال کیا جاتا، تو آپ پہلو تہی فرمالیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ فرمایا: آج جو کچھ پوچھنا چاہو،مجھ سے پوچھ لو۔''لوگوں نے عرض کی، ''حضور!آج یہ کیا ماجرا ہے؟آپ تو کسی سوال کا جواب ہی نہیں دیا کرتے تھے؟'' فرمایا،''جب تک میرے اُستاد حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حیات تھے،ان کے ادب کی وجہ سے جواب دینے سے گریز کیاکرتا تھا۔''

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے آگے بڑھ کر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کی رکاب تھام لی۔یہ دیکھ کر حضرت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا،''اے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کے چچا کے بیٹے!آپ ہٹ جائیں۔'' اس پر حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا،''علما واکابرکی اسی طرح عزت کرنی چاہیئے۔''(جامع بیان العلم وفضلہ،ص 116)

کتابوں کا ادب:

شيخ امام حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ميں نے علم کے خزانوں کو تعظيم و تکريم کرنے کے سبب حاصل کيا وہ اس طرح کہ ميں نے کبھی بھی بغيروضو کاغذ کو ہاتھ نہيں لگايا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص 52)

ایک مرتبہ شيخ شمس الائمہ امام سرخسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پیٹ خراب ہو گيا۔ آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و مباحثہ کيا کرتے تھے ۔ ایک رات پيٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو17 بار وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغير وضو تکرار نہيں کيا کرتے تھے۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص52)

“باادب با نصیب ”کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں ، قلم، اور کاپیوں کی تعظیم کریں ۔ انہیں اونچی جگہ پر رکھئے ۔ دورانِ مطالعہ ان کا تقدس برقرار رکھئے۔ کتابیں اُوپر تلے رکھنے کی حاجت ہوتو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہے ، سب سے اُوپر قرآنِ حکیم ، اس کے نیچے تفاسیر ، پھر کتبِ حدیث ، پھر کتبِ فقہ ، پھر دیگر کتب ِ صرف ونحو وغیرہ ۔ کتاب کے اوپر بلاضرورت کوئی دوسری چیز مثلاً پتھر اور موبائل وغیرہ نہ رکھیں ۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں



اسلامی بہنوں کی مجلس  شعبہ تعلیم کے زیراہتمام 21ستمبر 2020ء بروز پیر فیصل آباد ریجن، اوکاڑہ زون کی بصیر پور کابینہ میں شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام مدنی مشورہ ہوا جس میں شعبہ تعلیم زون ذمہ دار، کابینہ، ڈویژن اور علاقہ سطح کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

زون ذمہ دار اسلامی بہن نے کارکردگی فارم، شیڈول اور شعبے کے مدنی پھول سمجھائے ۔وقت پر کارکردگی دینے کا ذہن دیا نیز مدنی کام بڑھانے کے لیے اہداف بھی طے کئے ۔

ذمہ داران کو زون سطح پر ہونے والے ڈاکٹرز اجتماع کی دعوت دی اور شخصیات کو شرکت کروانے کی ترغیب دلائی۔

دعوت اسلامی کے زیراہتمام 19 ستمبر 2020ء کو فیصل آباد ریجن نگران اسلامی بہن نے جھنگ زون کی چینوٹ کابینہ کے شہر چینوٹ میں مدنی مشورہ لیا جس میں زون تا ڈویژن سطح ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

ریجن نگران اسلامی بہن نے کارکردگی اور تقرریوں کی معلومات کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داراسلامی بہنوں کی تربیت فرمائی بالخصوص مدنی کاموں میں اضافے کے لیے نئی اسلامی بہنوں کو ذمہ داری دی نیز شعبے کے مدنی پھولوں کے مطابق ذمہ دارا سلامی بہنوں کو ان کی تربیت کرنے کا ذہن دیا نیزمدنی کاموں کو بڑھانے کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا ۔

باادب با نصیب

Wed, 23 Sep , 2020
6 years ago

شرفِ انسانیت یہ ہے کہ انسان ادب کے زیور سے آراستہ ہو، جس انسان میں ادب کا جوہر نہ ہو وہ انسان نما حیوان ہوا کرتا ہے۔ اصلاحی تعلیمات مکمل طور پر ادب ہی پر مبنی ہیں او رادب ہی کی تعلیم و تلقین کرتی ہیں۔

اس کارخانہ قدرت میں جس کسی کو جو نعمتیں ملیں ادب ہی کی بنا پر ملی ہیں اور جو ادب سے محروم ہے حقیقتا ایسا شخص ہر نعمت سے محروم ہے، شاید اسی لیے کسی دانش مند نے کہا ہے کہ ”باادب بانصیب اور بے ادب بے نصیب “

عرض یہ کہ ادب ہی ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ جس طرح ریت کے ذروں میں موتی اپنی چمک اور اہمیت نہیں کھوتا اسی طرح مودب شخص انسانوں کے جم غفیر میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔

حدیث پاک میں ہے کہ اصحابِ کہف اللہ والوں سے محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کتے کو انسانی شکل میں جنت میں داخل فرمائے گا اب دیکھیں اللہ والوں سے محبت کرے، اگر نجس جانور وہ تو وہ جنت میں داخل ہوجائے اور بلعم بن باعورا جس نے نبی کی بے ادبی کی حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی ، انسان ہونے کے باوجود فرمایا کہ گستاخی کی وجہ سے یہ جہنم میں کتے کی شکل میں جائے گا۔

انسان اگر بے ادب ہو جہنمی ہوجائے اگر کتے جیسا نجس جانور با ادب ہو اور اللہ کے نیک بندوں کا ادب کرنے والا ہو ان سے محبت کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنتی بنادے ۔

حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون کو دعوتِ ایمان دینے کے لئے تشریف لے گئے تو فرعون نے آپ علیہ السلام کے معجزات کو دیکھ کر آپ علیہ السلام پر ایمان لانے کے بجائے آپ کے مقابلے کے لیے اپنی سلطنت کے جادو گروں کو جمع کیا، جب مقابلےکا وقت ہوا تو ان کے جادوگروں نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا اے موسی یا تو آپ اپنا اعصا ڈالیں یا ہم اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکیں، ان کا یہ کہنا حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ادب کے لیے تھا کہ وہ بغیر آپ کی اجازت کے اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے، حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، تم پہلے ڈالو جب انہوں نے اپنا سامان ڈالا جس میں بڑے بڑے رسے اور لکڑیاں تھیں تو وہ اژدھے نظر آنے لگے اور میدان ان سے بھرا ہوا معلوم ہونے لگا، پھر اللہ کے حکم سے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا Stap ڈالا تو وہ ایک عظیم الشان اژدھا بن گیا، اور جادو گروں کی سحر کاریوں کو ایک ایک کرکے نگل گیا، پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دست مبارک میں لیا تو ہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر ان جادوگروں پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بے اختیار ’’اٰمنا برب العالمین ‘‘ یعنی ہم تمام جہانوں کے ر ب پر ایمان لائے کہتے ہوئے سجدے میں گر گئے، جادو گروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا کہ آپ کو مقدم کیا اور آپ کی اجازت کے بغیر اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے اس ادب کا عوض انہیں یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان او رہدایت کی دولت سے سرفراز فرمادیا۔

گہرا بہت ہے رشتہ ادب اور نصیب کا

جس طرح بھوک پر ہے حق غریب کا

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں



اسلامی بہنوں  کی مجلس رابطہ کے زیراہتمام 20ستمبر 2020ء کو فیصل آباد ریجن، زون فیصل آباد کی پینسرہ کابینہ میں مجلس رابطہ ذمہ دار ریجن سطح کا مدنی مشورہ ہوا جس میں ڈویژن اور علاقہ سطح کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

مجلس رابطہ کی ذمہ داراسلامی بہنوں کو مدنی پھول سمجھائے اور وقت پر کارکردگی جمع کروانے کا ذہن دیا نیز ریجن ذمہ دار اسلامی بہن نے ذمہ داراسلامی بہنوں کو مجلس رابطہ کے تحت ماہانہ مدنی حلقہ لگانے اور اپنے شعبے کے کام کو بڑھانے کی ترغیب دلائی اور مختلف نکات فراہم کئے ۔


اسلامی بہنوں کی مجلس  ڈونیشن بکس کے زیراہتمام 20ستمبر 2020ء کو ریجن سطح ڈونیشن بکس ذمہ دار اسلامی بہن نے فیصل آباد ریجن، سرگودھا زون، خوشاب کابینہ کی ذمہ داراسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ لیا جس میں کابینہ تا ذیلی سطح ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

ریجن ذمہ دار اسلامی بہن نے اپ ڈیٹ مدنی پھولوں پر کلام کیا ۔ کابینہ سطح ذمہ دار اسلای بہن نے ہاتھوں ہاتھ اپ ڈیٹ مدنی پھول تقسیم کئے۔ ذمہ داراسلامی بہنوں کو کارکردگی فارم سمجھائے ، وقت پر کارکردگی جمع کروانے اور کارکردگی فارم پر کرنے کا ذہن دیا۔ مزید شیڈول وقت پر جمع کروانے اور ماتحت اسلامی بہنوں کے شیڈول چیک کرنے کی ترغیب دلائی ۔

ذمہ داران نے 186 صدقہ بکس کا آرڈر دیا نیز اپنے شعبے کے مدنی کام بڑھانے کے لئے نیتیں بھی پیش کیں ۔

اسلامی بہنوں کی مجلس  شعبہ تعلیم کے زیراہتمام 20 ستمبر 2020ء کو ریجن فیصل آباد ، پاکپتن زون کی عارف والا کابینہ میں شعبہ تعلیم ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورہ لیا جس میں شعبہ تعلیم کی زون ، کابینہ اور ڈویژن سطح ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

زون ذمہ دار اسلامی بہن نے کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کابینہ اور ڈویژن ذمہ داراسلامی بہنوں کی تربیت فرمائی اور مدنی کام بڑھانے کے لیے مدنی پھول دئیے نیز علاقہ سطح پر تقرری بھی کی ۔


ادب ایسے وصف کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا ہے یا اچھے اخلاق اپناتا ہے اور ہمارا مذہب دین اسلام تو ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم مقدس ہستیوں ، متبرک مقامات اور بابرکت چیزوں کا ادب کریں گزشتہ دور میں ہر مسلمان با ادب ، حیادار ، خوش اخلاق اور سنت سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یادگار ہوا کرتا تھا ۔

اولاد اپنے والدین ، شاگرد اپنے استاذ سے مرید اپنے پیر سے آنکھ ملانا تو دور کی بات ان کے سامنے آنے میں جھجھک محسوس کرتے تھے ادب کی وجہ سے ان کے سامنے اپنی آواز کو دباتے تھے اور بڑوں کو اچھے القاب سے پکارتے تھے اور یہی نہیں انبیا ئےکرام اولیائے کرام ،مساجد، قرآن پاک، مزارات ، کتابیں اور اللہ والوں سے نسبت رکھنے والی چیزوں کا خوب ادب و احترام کیا جاتا تھا، لیکن اس زمانے میں اکثریت ادب و احترام سے محروم نظر آتی ہے ۔نہ صرف والدین، استاذ اور پیر کے ادب و احترام میں کمی آ رہی ہے بلکہ ان سے زیادہ مقدس ہستیوں کا ادب و احترام کم ہو رہا ہے شاید ان بے ادبیوں کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ترقی کا رجحان نظر نہیں آ رہا اور گھروں میں خوشحالی نظر نہیں آتی اور ہم برکتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

منقول ہے :

جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کے سبب پایا اور جس نے جو کچھ کھویا ادب و احترام نہ کرنے کی وجہ سے کھویا شاید اس لیے یہ بات مشہور ہے با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب ۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :تَرجَمۂ کنز الایمان: اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ۔(پ 28 ،تحریم: 6)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مطلب یہ ہے اپنے گھر والوں کو دین اور آداب سیکھاؤ (الرسا لۃ القشیریۃ،باب الادب ،ص ٣١٥)

نا م پاک کا ادب کرنے سے بلند مقام حاصل ہوا:

حضرت سیدنا مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ ایک دن بیت الخلا میں بڑا سا مٹی کا پیالہ پایا غور سے دیکھا تو بے تاب ہو گئے کیونکہ اس پیالے پر لفظ اللہ کندہ تھا(کسی خادم نے بے دھیانی میں رکھ دیا تھا ) لپک کر پیالہ اٹھا لیا اور خادم سے پانی کا لوٹا منگوا کر اپنے دست مبارک سے خوب مَل مَل کر دھو کر اس کو پاک کیا پھر ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر ادب کے ساتھ اونچی جگہ پہ رکھ دیا ایک دن اللہ پاک کی طرف سے آپ علیہ الرحمۃ کو الہام فرمایا گیا کہ جس طرح تم نے میرے نام کی تعظیم کی میں بھی دنیا و آخرت میں تمہارا نام اونچا کرتا ہوں آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: کہ اللہ کریم کا نام پاک کا ادب کرنے سے مجھے وہ مقام حاصل ہوا جو سو (100) سال کی عبادت و ریاضیت سے بھی حاصل نہ ہو سکتا تھا ۔

ادب کے متعلق بزرگوں کے اقوال:

حضرت سیدنا ابو علی دقّاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: بندہ اطاعت سے جنت تک اور اطاعت الہی میں ادب کرنے سے اللہ پاک تک پہنچ جاتا ہے۔“( الرسالۃ القشیریۃ ، باب الا دب ، ص ٣١٦)

حضرت سیدنا داتا علی ہجویری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ”دینی اور دنیوی تمام امور کی زینت ادب ہے اور مخلوقات کو ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔“ (کشف المحجوب، باب المشاہد ہ ،ص ٣٦٩)

قتاویٰ رضویہ میں امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ” کہ جو با ادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج ٢٨ ،ص ١٥٨)

جو قابل ادب چیزوں اور ہستیوں کا ادب کرتے ہیں ان کے نصیب اچھے ہوتے ہیں دنیا اور آخرت میں برکتیں پانے میں کامیاب ہوتے ہیں اللہ کریم ہمیں ان بزرگوں کا صدقہ عطا فرمائے ہمیں با ادب با نصیب بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں