حافظ
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ
نے فرمایا:" جو نماز کو ترک کرتا ہے اسے بہت ساری رسوایاں ملتی ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں:
(1)
جو نماز ترک کرتا ہے، اس کی عمر سے برکت اُٹھا
لی جاتی ہے۔
(2)
اس کے چہرے سے صالحین کا نور ختم کردیا جاتا ہے۔
(3)
وہ کوئی بھی نیک عمل کرے اس کا ثواب نہیں
ملتا۔
(4)
اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
(5)اس
کے لیے نیک لوگ دعا کرتے ہیں، ان دعاؤں کا
حصّہ اُسے نہیں ملتا۔
اس
پانچویں سزا سے مراد یہ ہے کہ مومن سحر کے وقت اُٹھ کر دُعا مانگتے ہیں" یا اللہ پاک پوری امت پر کرم فرما "یہ بھی اُمت میں
شامل ہے، دعا اللہ والوں کی قبول ہوئی لیکن اس
بدبخت کا حصّہ اس سے نکل گیا، یہ دنیا میں
ملنے والی سزائیں ہیں ،نماز پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں پانچ وقت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے اور ہماری کوئی نماز قضا نہ ہو۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Online weekly Sunnah-inspiring Ijtima’at conducted in Mississauga,
Canada via Skype
Under the supervision of Dawat-e-Islami, online weekly
Sunnah-inspiring Ijtima’at were conducted in Mississauga, Canada in previous
days via Skype. Approximately, 33 Islamic sisters had the privilege of
attending these spiritual Ijtima’at.
The female preacher of Dawat-e-Islami delivered a Bayan on the topic ‘dispute
and its consequences’ and gave the attendees (Islamic
sisters) the mindset of keeping associated with the
religious environment of Dawat-e-Islami, refraining from pointless conversation,
forgiving, and taking part in the religious activities.
نماز ایک عظیم نعمت ہے جو پابندی سے پڑھے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور
جو نمازیں پابندی سے نہیں پڑھے گا وہ عذاب نار کا حقدار رہے گا۔
1۔اللہ پاک فرماتا ہے : فَخَلَفَ مِنْۢ
بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ
یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں
گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا
جنگل پائیں گے ۔(پ16،مریم: 59)
بیان کی ہوئی آیت مقدسہ میں غی کا تذکرہ ہے ۔
حضرت علامہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں :غی جہنم میں ایک وادی ہے جس
کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے۔ اس میں ایک کنواں ہےجس کا نام ہب ہب ہے۔ جب
جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ پاک اس کنویں کوکھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور پہلے کی
طرح بھڑکنے لگتی ہے۔ یہ وادی بے نمازیوں، شرابیوں، زانیوں، سود خوروں اورماں باپ
کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔ ( بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 424)
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے اور کفار کے درمیان
فرق نماز ہے، جس نے نماز کو ترک کیا بلاشبہ کفر کیا۔
(ابن ماجہ، باب ما جاء فیمن ترک الصلاۃ، 564،
حدیث 1079)
ہمارے ائمہ تارک نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر
دائرہ اسلام سے خارج نہیں، نماز کو نہ پڑھنے والااگر نماز کی فرضیت کا انکار کرے
یا اسے حلال جانے تو کافر۔
(فتاویٰ رضویہ مسئلہ 105 106)
3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا ارشاد ہے : جس نے جان بوجھ کر نماز کو ترک کیا اللہ پاک کا ذمہ اس سے بری ہے-( معجم الکبیر، 12/ 195، حدیث 135)
یعنی
کہ بے نمازی اللہ کے امن و امان میں نہیں رہتا - نماز کی برکت سے انسان دنیا میں
آفتوں سے، مرتے وقت خاتمہ خرابی سے، قبر کے امتحان میں فیل ہونے سے، حشر میں
مصیبتوں سے بفضلہ تعالی محفوظ
رہتا ہے - (مراۃ المناجیح 1/85)
4۔ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو نماز کی حفاظت نہیں کرے گا نماز قیامت کے دن اس کے لئےنور، دلیل اور نجات کا باعث نہیں ہو گی اور وہ
قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا ۔
(مسند احمد
،مسند عبداللہ بن عمر بن
العاص2/564،حدیث 65870)
اگر اس نے اپنے مال میں مصروف ہونے کے سبب
نماز چھوڑی تو اس کا حشر قارون کے ساتھ ہوگا وزارت کے سبب چھوڑ دے تو اس کا حشر
فرعون کے وزیر ہامان کے ساتھ ہوگا، اگر تجارت کے سبب چھوڑی تو مکہ مکرمہ کے سب سے
بڑے تاجر ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا ،حکومت کے سبب نماز چھوڑی تو فرعون کے ساتھ اس
کا حشر ہوگا ۔
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الکبیرۃ السابعۃ سبعون،
تعمد تاخیر الصلاۃ، 1/288)
5۔ منقول ہے: قیامت کے دن وہ یعنی نماز میں سستی
کرنے والا اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطروں میں لکھا ہوا ہوگا۔ پہلی
سطر میں ہو گا کہ اے اللہ کے حق کو ضائع کرنے والے، دوسری میں ہو گا کہ اے اللہ کے
غضب کے ساتھ مخصوص شخص ،تیسری سطر میں ہوگا کہ جس طرح تم نے دنیا میں
اللہ کے حق کو ضائع کیا آج ایسے ہی تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو گا ۔
(جہنم میں لے جانے
والے اعمال، ص444)
پڑھتے رہو
نماز تو جنت کو پاؤ گے
چھوڑو گے گر
نماز جہنم میں جاؤگے
اسلام
کے پانچ ارکان ہیں ان میں سے ایک نماز بھی ہے۔ نماز ہر مسلمان عاقل، بالغ، مرد و
عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گئی ہے، اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے جہاں نماز
پڑھنے کے بے شمار دینی و دنیاوی ثوابات ہیں
وہیں نماز نہ پڑھنے کےدینی، دنیوی عذابات اور نقصانات بھی ہیں۔ عام طور پر
دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں ایک تعداد ہے جو نماز نہیں پڑھتی اگر انہیں نماز
پڑھنے کا کہا جائے تو کہتے ہیں اللہ غفورالرحیم ہے وہ معاف کردے گا ایسوں کی خدمت میں عرض ہے جہاں غفورالرحیم ہونا پروردگارِ عالم
کی صفت ہے وہیں قہار و جبّار ہونا بھی اس کی صفات میں سے ہے۔ اس نے نماز نہ
پڑھنے والوں کے لئے سزائیں مُقرّر فرمائی ہیں ان میں سے پانچ سزاؤں کے بارے میں
سنیئے اور لرزئیے :
(1)ہولناک کنواں :جہنم میں ایک وادی ہے جس کی
گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے اس میں کنواں ہے جس کا نام ”ہب
ہب “
ہے جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ
پاک اس کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے، جیساکہ اللہ پاک
کا فرمان ہے:﴿"ðµog﴾
ترجمۂ کنزُ الایمان: جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم
اسے اور بھڑکادیں گے۔([1])(2)جہنّم کی وادی : کتاب الکبائر میں ہے کہ جہنم
میں ایک وادی ہے جس کا نام ”ویل“ ہے اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی
اس کی گرمی سے پگھل جائیں اور یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو نماز کو سُستی کی وجہ
سے وقت کے بعد قضا کر کے پڑھتے ہیں مگر یہ کہ وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہوں اور
بارگاہ خداوندی میں توبہ کریں۔([2]) (3)اللہ کریم کا غضب : اللہ کریم نے حضرت سیّدنا داؤد علیہ السَّلامکو وحی فرمائی : اے داؤد بنی اسرائیل سے کہو کہ جس نے ایک بھی نماز چھوڑی وہ مجھ
سے قیامت کے دن اس حال میں ملے گا کہ میں اس پر غضب فرماؤں گا۔([3])
(4) بے نمازی پیپ اور خون پئے گا:
نبیِّ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے نشے کی حالت
میں نمازچھوڑی گویا دنیا اور جو کچھ اس میں موجود سب کچھ اس کے پاس تھا اس سے چھین
لیا گیا اور جس نے چار نمازیں نشے کی حالت میں چھوڑ دیں اللہ
پاک پر حق ہے کہ اسے طینۃُالخبال
سے پلائے عرض کی گئی”طینۃُ الخبال “ کیا ہے؟ تو ارشاد فرمایا: جہنمیوں کا نچوڑ یعنی خون اور
پیپ۔([4])
(5) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جو
شخص نماز کی حفاظت کرے اس کے لئے نماز قیامت کے دن نور ، د لیل، اور نجات ہو گی
اور جو اس کی حفاظت نہ کر ے اس کے لئے بروز قیامت نہ نور ہو گا اور نہ دلیل اور نہ نجات اور وہ شخص قیامت کے دن فر
عون، قارون، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔([5])
خدارا ان سزاؤں پر غور
کریں، اپنی آخرت کو سنواریں! دنیا کچھ دن کی
چاندنی ہے ہمیشہ کی زندگی کی تیاری کریں اور نماز کی پابندی کریں ایک سچّے
عاشقِ الٰہی وعاشقِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے اتنا ہی کافی ہے کے نماز میرے رب نے فرض
کی ہے میں نے اسے ہرگز نہیں چھوڑنا یہ میرے محبوب کا حکم ہے۔
اللہ
کریم ہم سب کو نماز کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن
بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
([1])فیضان نماز، ص 422، پ،15، بنی اسرائیل: 97 (2)کتاب
الکبائر ،ص19 (3)الزھر الفائح للامام الجزری،مترجم،ص 52 ملخصاً (4)مسند احمد بن حنبل،2 /593،حدیث: 6671 (5)مسند امام احمد، 2 /574،حدیث: 6587۔
اسلام سراسر خیر ہی ہے، اسلام کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اس
کے ماننے والوں کو عزت عطا فرمائی ہے، قرآن کریم میں جابجا نماز کو قائم کرنے کا
حکم دیا گیا ہے، ارشادِ ربّانی ہے:"نماز قائم کرو" جس اسلام کو امام حسین نے کربلا میں جان دے کر بچایا تھا، نماز
میں سجدے کی حالت میں اپنا سر قلم کروا دیا لیکن نماز نہیں چھوڑی، اگر اس اسلام
میں ہمارا حصّہ نہ ہو تو بڑے خسارے کی بات ہے، حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا:" جو نماز کو ضائع کرتا ہے اس کااسلام میں کوئی حصہ نہیں۔"
خدارا! نماز قائم کریں اور اپنا حصّہ اسلام میں باقی رکھیں۔
نماز نہ پڑھنے کی5سزائیں:
1۔فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے
ساتھ اٹھایا جائے گا۔
بعض علماء فرماتے ہیں:" نماز نہ پڑھنے
والے کو چار (فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف) کے ساتھ اس لیے اٹھایا جائے گا
کہ اس نے اپنے مال، حکومت ، وزارت اور تجارت کی وجہ سے نماز کو چھوڑا، اگر وہ مال میں
مشغول ہو کر نماز چھوڑتا ہے تو اس کا حشر قارون کے ساتھ ہوگا، اگر حکومت کی
مشغولیت کی وجہ سے نماز چھوڑی تو اس کا حشر فرعون کے ساتھ ہوگا، اگر وزارت کی
مشغولیت کی وجہ سے نماز چھوڑی تو اس کا حشر ہامان کے ساتھ ہوگااور اگر تجارت میں
مشغول ہو کر نماز چھوڑ تا ہے تو اس کو ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔( کتاب
الکبائر، صفحہ 37)
2۔اللہ کی ناراضگی کا سبب
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:" جو نماز پڑھے اللہ کریم اس سے اس
حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔۔( مجمع الزوائد جلد 1، صفحہ 295 )
3۔چہروں کا سیاہ ہونا: ایک روایت میں ہے کہ
نماز نہ پڑھنے والوں کے سب سے پہلے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ (بے نمازی کا انجام، ص12)
4۔ بے نمازی کو جہنم میں سزا : جہنم میں ایک وادی ہے ،اس
میں سانپ ہے اور ہر سانپ اونٹ کی گردن کی طرح ہے اس کی لمبائی ایک مہینے کی مسافت
جیسی ہے نماز نہ پڑھنے والوں کو ڈسے گااس کا زہر اس شخص کے جسم میں 70 سال تک
کھولتا رہے گا پھر اس کا رنگ زرد ہو جائے گا۔
5۔ بے نمازی کا
قیامت کے دن حال :ایک روایت میں ہے کہ بے نمازی قیامت کے دن آئیں گےان کے
چہروں پر تین سطروں میں لکھا ہوا ہوگا پہلی سطر میں ہو گا کہ اے اللہ کے حق کو ضائع کرنے والے دوسری سطر میں ہو
گا کہ اے غضب خداوندی کے ساتھ مخصوص شخص ،تیسری سطر میں ہوگا کہ جس طرح تم نے دنیا
میں اللہ کے حق کو ضائع کیا آج تو رحمت خداوندی سے
مایوس ہوگا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانو ! نماز نہ پڑھنے والوں کی سزاؤں
کو سن کر خود کو ڈرائیے اگر ہم ان سب سزاوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں دنیا میں
نماز پڑھنی ہوگی یہ نماز ہی ہمارے لئے نور و سرور ہوگی اور دشمنوں کے ساتھ حشر
ہونے سے بچائے گی۔
Online weekly Sunnah-inspiring Ijtima’at conducted in different cities
of Canada
Under the supervision of Dawat-e-Islami, online weekly
Sunnah-inspiring Ijtima’at were conducted in Montreal, Calgary, Thorncliffe and
Brampton (Canada) in
previous days via Skype. Approximately, 80 Islamic sisters had the privilege of
attending these spiritual Ijtima’at.
The female preachers of Dawat-e-Islami delivered the Sunnah-inspiring
Bayans on the topics ‘aftermath of heedlessness’ and ‘excellence of Sayyiduna
Abu Bakr Siddeeq’ and motivated the attendees
(Islamic sisters) about love and affection for the blessed
companions of the Holy Prophet. Moreover, they encouraged them to watch the
Madani channel.
دعوت اسلامی
کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں مورشیس کی اسلامی
بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں ملک نگران اور دیگر ذمہ داران نے
شرکت کی۔
ملک نگران
اسلامی بہن نے رابطہ برائے شخصیات اسلامی بہن ڈونیشن بکس ذمہ دار اسلامی بہن اور اذدیاد
حب کے اہم نکات پر مدنی مشورہ لیا اور ہدف بھی دیا۔
حیدرآباد
کے علاقے آفندی ٹاؤن میں شعبہ ٔتعلیم کے تحت ”حاجرہ ہاسپٹل“ میں مدنی حلقے کا
انعقاد
اسلامی
بہنوں کے شعبے ”شعبہ ٔ تعلیم“ کے زیر
اہتمام گزشتہ دنوں حیدرآباد کے علاقے آفندی ٹاؤن میں شعبہ ٔتعلیم کے تحت ”حاجرہ
ہاسپٹل“ میں مدنی حلقہ منعقد کیا گیا جس میں ہاسپٹل میں موجود خواتین سمیت ایک
گائنا کولجسٹ اور ڈیوٹی پر موجود عملے نے شرکت کی ۔
حیدرآباد ریجن فنانس ذمہ دا ر اسلامی بہن نے
نماز کے فرائض اور واجبات بیان کئے ۔مدنی حلقے میں ۔ڈاکٹر اسلامی بہن نے اس طرح کے مدنی حلقے ہر ماہ
رکھوانے کی خواہش کا اظہار کیا آخر میں مکتبۃ المدینہ کے رسائل تقسیم کئے گئے۔
اعلی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" نمازِ پنجگانہ( یعنی پانچ وقت
کی نمازیں) اللہ پاک کی
وہ نعمتِ عظمی ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائیں، ہم سے پہلے کسی امت کو نہ ملی، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نماز ہر مسلمان، عاقل وبالغ پر دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں اور
اس کی فرضیت کا انکار کفر ہے، اسی طرح جو جان بوجھ کر نماز ترک کرے گا وہ عذاب نار کا حقدار ہوگا، قیامت کے دن بھی سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا، اللہ
پاک نے قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز کا حکم ارشاد فرمایا ہے:سورة طہٰ ،آیت نمبر14 میں
ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ :"اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ"
لہذا
ہم سب کو چاہیے کہ ہم اللہ
پاک کے اس حکم کی تکمیل کریں اور نماز پڑھیں، لیکن جو نماز نہیں پڑھتا اس کے لیے سخت سزائیں ہیں، حدیث پاک میں ہے:" جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے اُس
دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔"
ہمیں
اس حدیث سے ڈر جانا چاہیے کہ یہاں تو صرف ایک نماز چھوڑنے کی سزا ہے، مگر ہم تو کئیں کئیں نمازیں ترک کر دیتے ہیں، بے نمازی کی پانچ سزائیں یہ ہیں، جو دنیا میں ملیں گی:
(1)
اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی۔
(2)
اس کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی مٹا دی جائے گی۔
(3)
اللہ پاک اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے
گا۔
(4)
اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔
(5)
نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
ذرا غور توکریں کتنی سخت ترین سزائیں ہیں، آج کے دور میں ہر انسان یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ بہت پریشانیاں ہیں، گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے، طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہیں، تو جب ایسے افرادسے پوچھا جائے کہ بھائی نماز
پڑھتے ہو؟ تو جواب ملے گا کہ نہیں، تو بس
یہ سب پریشانیاں سب دکھ اسی لئے ہیں، ہمیں ڈر جانا چاہیے اور کوئی بھی نماز نہیں
چھوڑنی چاہیے، ہم سب تو عاشقِ رسول ہیں
نا! تو پھر جس سے محبت ہو اس کی ہر ادا
کو ادا کیا جاتا ہے، نماز بھی تو ہمارے پیارے
آقا صلی صلی اللہ علیہ وسلم
کی سنت ہے، ، نماز تو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، بس آج سے نیت فرمالیں ہماری کوئی بھی نماز قضا
نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ
Madani Mashwarah of responsible Islamic sisters conducted in North
America Region
Under the supervision of Dawat-e-Islami, a Madani Mashwarah of
responsible Islamic sisters was conducted in North America Region in previous
days. Division Nigran Islamic sisters had the privilege of attending this
spiritual Mashwarah.
The Nigran Islamic sister (North
America Region) analysed the Kaarkardagi (performance) of the attendees
(Islamic sisters), did their Tarbiyyah, and motivated the local
Islamic sisters to improve religious activities and conduct Ijtima’at in the local
language. Besides, she discussed important points about the start of Madrasa-tul-Madina.
درود شریف کی فضیلت:
حضرت
سیدنا فلادبن کثیر رحمۃ اللہ علیہ
کے تکیے کے نیچے سے بوقتِ وفات کاغذ کا ایک ٹکڑا ملا، جس پر لکھا تھا یعنی" یہ فلادبن کثیر کے
لیے آگ سے نجات کا پروانہ ہے ، لوگوں کے پوچھنے
پر گھر والوں نے بتایا کہ مرحوم ہر جمعہ ایک ہزار مرتبہ درود شریف "اللھم صلی علی محمد النبی الامی"
پڑھا کرتے تھے ، اللہ ربّ
العزت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے بے
حساب مغفرت ہو۔
بے نمازی کی سزا :اللہ
پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کا فرمان عالیشان ہے:" جو نماز کی پابندی کرے گا، اللہ
پاک پانچ باتوں کے ساتھ اس کا اکرام یعنی عزت فرمائے گا۔
1۔
اس سے تنگی اور، 2۔ قبر کا عذاب دور
فرمائے گا۔
3۔
اللہ پاک نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ
میں دے گا ۔
4۔
وہ پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے گا۔
5۔ جنت میں بغیر حساب داخل ہوگا ۔
اور
جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا، اللہ پاک اسے پندرہ سزائیں دے گا،
پانچ دنیا میں، تین موت کے وقت، تین قبر میں اور تین قبرسے نکلتے وقت۔
دنیا میں پانچ ملنے والی سزائیں:(1) اس کی
عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی(2) اس کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی مٹا دی جائے گی(3) اللہ پاک اس کے عمل پر کوئی ثواب نہ
دے گا(4) اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی(5) نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصّہ نہ ہوگا۔
اللہ کریم کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :جو نماز کی پابندی کرے
گا اللہ کریم پانچ باتوں کے ساتھ اس کا اکرام فرمائے
گا ۔
1 ۔اس سے تنگی اور 2 ۔قبر کا عذاب دور فرمائے گا 3 ۔نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا 4 ۔
پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے گا 5 ۔جنت میں بغیر حساب داخل ہو گا۔
جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے اللہ کریم اسے پندرہ سزائیں دے گا، پانچ دنیا میں، تین موت
کے وقت، تین قبر میں اور تین قبر سے نکلتے ہوئے ۔
ان پندرہ سزاؤں میں سے پانچ سزائیں یہ ہیں :
1 ۔ اس کی عمر سے برکت ختم
کر دی جائے گی ۔
2 ۔اللہ کریم اس کے عمل پر ثواب نہ دے گا ۔
3 ۔ اس کی قبر کو اتنا تنگ
کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی ۔
4 ۔ اس کی قبر میں آگ
بھڑکا دی جائے گی پھر وہ انگاروں پر الٹ پلٹ ہوتا رہے گا ۔
5 ۔پیاسا مرے گا اگر دنیا
بھر کے سمندر بھی اسے پلا دئیے جائیں تو پیاس نہ بجھے گی۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں پانچ وقت نماز کا
پابند بنا دے اور زندگی کے آخری سانس تک ہماری کوئی بھی نماز بلا عذر شرعی ترک نہ
ہو۔
Dawateislami