دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں  شجاع آباد زون کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں ملتان ریجن نگران اسلامی بہن سمیت شجاع آباد کی زون و کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور نئی ڈویژن پر ڈویژن نگران کا تقررکرنے ، نئی ڈویژن میں دینی کام کا آغاز کرنے اور سالانہ ڈونیشن کے اہداف دیئے ۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں ملتان ریجن کی ذمہ  دار اسلامی بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں ریجن و زون نگران اسلامی بہنوں سمیت کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور نئی ڈویژن پر ڈویژن نگران کا تقرر کرنے، نئی ڈویژن میں دینی کام کا آغاز کرنے اور سالانہ ڈونیشن کے اہداف دیئے ۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں بہاولپور زون کی ذمہ  دار اسلامی بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں ملتان ریجن نگران اسلامی بہن سمیت بہاولپور زون و کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اورنئی ڈویژن میں دینی کام کا آغاز کرنے، سالانہ ڈونیشن بڑھانے اور دینی کاموں کو مزید بڑھانے کے اہداف دیئے۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں  رحیم یار خان زون کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں ملتان ریجن نگران اسلامی بہن سمیت رحیم یار خان زون و کابینہ نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور نئی ڈویژن پر ڈویژن نگران کا تقررکرنے ، نئی ڈویژن میں دینی کام کا آغاز کرنے اور سالانہ ڈونیشن کے اہداف دیئے ۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام  گزشتہ دنوں راولپنڈی میں پاکستان دفتر للبنات کے مدنی عملے کا مدنی مشورہ ہوا جس میں پاکستان نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور”مال ِ وقف“ اور ”حلال کمائی کے 50 مدنی پھول“ رسالوں سے نکات بیان کئے۔


دعوت  اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ ہفتے ہالینڈ( Holland )میں ذریعہ اسکائپ ون ڈے سیشن کا انعقاد کیا گیاجس میں روٹرڈیم ( Rotterdam) اور دین ہاگ ( Den Haag )کی تقریبًا 12 اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔

مبلغۂ دعوت اسلامی نے ڈچ زبان میں ”حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا خوف خدا“ کے موضوع پر بیان کیااور سیشن میں شریک اسلامی بہنوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے اور دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔ 


ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں امیر اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کسی ایک مدنی رسالے کے مطالعے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں اوررسالہ پڑھنے اور سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازتے ہیں۔ مطالعہ کرنے یا سننے والے خوش نصیبوں کی کارکردگی امیر اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں پیش بھی کی جاتی ہے۔

پچھلے ہفتے امیر اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے رسالہ”شانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہپڑھنے یا سننے کی ترغیب دلائی۔

اسی سلسلے میں یورپین یونین ریجن کی تقریبًا 4 ہزار 455 اسلامی بہنوں نے رسالہ”شانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہپڑھنے/ سننے کی سعادت حاصل کی۔


شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے اور نیک بنانے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مختلف دینی کاموں کی تحریکوں کا آغاز فرمایا چنانچہ یورپین یونین ریجن میں مختلف دینی کاموں کی تحریک کی کارکردگی درجِ ذیل ہے:

42 اسلامی بہنوں نے روزانہ ایک پارہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

64 اسلامی بہنوں نے روزانہ آدھا پارہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

169 اسلامی بہنوں نے روزانہ گھر درس دیا۔

292 اسلامی بہنوں نے 313 مرتبہ درودپاک روزانہ پڑھے۔

114 اسلامی بہنوں نے 1200 مرتبہ درودپاک روزانہ پڑھے۔

199 اسلامی بہنوں نے 12 منٹ روزانہ مطالعہ کیا۔


الحمدللہ!ہم پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو معراج کی رات پانچ نمازوں کا تحفہ عطا کیا گیا، بلاشبہ نماز ایک عظیم نعمت ہے، جو پابندی سے پڑھے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور جو فرض نماز نہیں پڑھے گا وہ عذابِ نار کا حقدار ہوگا، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) تَرجَمۂ کنز الایمان:تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے ۔(المدثر:42 تا 44)

معلوم ہوا دوزخ میں جانے کا ایک سبب نماز نہ پڑھنا بھی ہے۔

مایوس ہو جا:

منقول ہے، بروزِ قیامت وہ( یعنی نماز کے معاملے میں سستی کرنے والا) اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی۔(1)اے اللہ کا حق برباد کرنے والے، (2) اے اللہ کے غضب کےساتھ مخصوص(3) جس طرح دنیا میں تو نے حق اللہ یعنی اللہ کاحق ضائع کيا، اسی طرح آج تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جا۔"

عمل ضائع ہوگیا:حضورِ اکرم، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جس نے فرض نمازیں بغیر عُذر کے چھوڑیں، اس کا عمل ضائع ہوگیا۔"

پہلا سوال : اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سےنماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔"

ہزاروں سال جہنم میں رہنے کا حق دار:

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" جس نےقصداً(یعنی جان بوجھ کر) ایک نماز چھوڑی، ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرے ، مسلمان اگر اس کی زندگی میں اسے یک لخت (یعنی بالکل) چھوڑ دیں، تو اس سے بات نہ کریں، اس کے پاس نہ بیٹھیں، تو ضرور وہ (بے نمازی) اسی کا حقدار ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے! کہ آقا کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں خشوع و خضوع کے ساتھ، رضائے الہی کےلئے، پابندی وقت کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


احادیث کی روشنی میں:

1 ۔نبی کریم صلی الله عليه و سلم نے فرمایا :بے نماز قیامت کے دن بڑے بڑے کافروں قارون فرعون اور ابی بن خلف کے ساتھ دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔(بخاری و مسلم)

2 ۔نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا جو نماز کے معاملے ميں سستی کرے گا الله عزوجل اسے پندرہ سزائیں دے گا ۔ان میں سےچھ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں اور تین قبر سے نکلنے کے بعد ہوں گی۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ مسلط فرما دے گا جو اس کو منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لے جائے گا ۔

3 ۔حساب کے وقت اللہ عزوجل اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے دیکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑ جائے گا۔

4 ۔اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی جس کے انگاروں میں وہ دن رات الٹ پلٹ ہوتا رہے گا ۔

5 ۔نبی کریم صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے:اللہ عزوجل صحت کی حالت ميں نماز چھوڑنے والے پر نہ نظر رحمت فرمائے گا۔نہ اس کو پاک کرے گا اور اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔مگر یہ کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ کرے تو اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول فرمائے گا ۔


قرآن مجید میں اللہ پاک نے ایک گروہ کا واقعہ ارشاد فرمایا جن کو قیامت کے دن دوزخ میں لے جایا جا رہا ہوگا: مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳(ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے ۔

(پ29،المدثر:42 ،43)

آئیے !نماز نہ پڑھنے کی 5 سزائیں سنتے ہیں:

1)خوفناک وادی:

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(پ16،مریم: 59)

حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَافرماتے ہیں : غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں۔

2)جہنم کا دروازہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی تو جہنم کے اس دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس دروازے سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء جلد 7 ص299)

3) تارک نماز کا مقام:

حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے روایت کرتے ہے کہ آپ نے ایک دن نماز کا ذکرکیا تھا، فرمایا کہ جو اس پرپابندی کرے گا نماز اس کے لیئے قیامت کے دن روشن دلیل اور نجات ہوجائے گی اور جو اس پر پابندی نہ کرے گا تو اس کے لیئے نہ نور ہوگا نہ دلیل نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون،فرعون،ہامان اوراُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ ( مشکو شریف اول ص 59)

4) آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ناراضگی:

حضرت ابوہریرہ سے رضی اللہُ عنہ روایت ہے فرماتے ہیں آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو جمع کی جائیں، پھر نمازکا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے ،پھر کسی کوحکم دوں وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتےاوران کے گھر جلادوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کُھر پائے گا تو عشاء میں ضرور آتا۔ ( بخاری)

5) نماز نہیں پڑھتے تھے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو دیکھا کہ بھاری پتھر سے ان کا سر کچلا جاتا ہے اور پتھر کے واپس آنے تک سر دوبارہ سے ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن پھر کچلا جاتا ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ لوگ کون ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے ہیں؟حضرت سیدنا جبریل سے نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نماز میں سستی کرتے تھے اور فرض نمازوں سے جن کے سر پر بوجھ رہتے تھے۔

(تفسیر در منثور جلد 4 صفحہ نمبر 144)


نماز کو چھوڑنے والا سخت فاسق اور سخت مجرم اور سزا کا مستحق ہے،  انکار کرنے والا کافر، باغی اور بے ایمان ہے،(باغِ جنت، صفحہ 242)

جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی، یقیناً اس نے کفر کیا۔

( افہام القرآن و حدیث، ص312 ، بارہویں جماعت)

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ :آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے ۔"( مشکوٰۃ شریف)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جس شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی، قیامت کے دن اللہ پاک اس سے بہت غصے کے ساتھ پیش آئے گا۔"( میری نماز، ص 37،39)

دنیا میں ملنے والی پانچ سزائیں:

(1) اس کی عمر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے یعنی اس کی زندگی بے برکت ہوتی ہے۔

(2) نیک لوگوں کی نشانی اس کے چہرے سے مٹا دی جاتی ہے۔

(3)ایسا شخص جو بھی نیکی کرے گا اللہ پاک کے ہاں ثواب نہ پائے گا۔

(4) اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔

(5)اگر اللہ کے نیک بندے اس کے حق میں کوئی دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا بھی بے اثر ہوتی ہے ۔

موت کے وقت دی جانے والی سزائیں:

(1) بے نمازی کی موت ذلت کے ساتھ ہو گی۔

(2) مرتے وقت وہ بھوکا مرے گا۔

(3)موت کے وقت چاہے اسکو کتنا ہی پانی پلائیں لیکن استسقاء کے مریض کی طرح اس کی پیاس نہ بجھے گی اور دنیا سے پیاس کی ہی حالت میں رخصت ہو گا۔ ( میری نماز، ص 41،42)

قبر میں دی جانے والی تین سزائیں:

(1) بے نمازی کی قبر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔

(2) بے نمازی کی قبر میں آگ دھکائی جائے گی تاکہ اس میں جلتا رہے۔

(3) قبرمیں اُس پر ایک بہت بڑا سانپ مسلطّ کر دیا جائے گا جس کا نام"الشجاع الاقرع"یعنی گنجا سانپ ہے، اُس کی آنکھیں آگ کی سی ہوں گی، ناخن لوہے کے ہوں گے، ہر ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت تک کی ہوگی، یعنی تقریباً بارہ کوس کے برابر اس کے ناخن ہوں گے، وہ میّت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا،" میں گنجا سانپ ہوں "اس کی آواز بجلی کی سی کڑک دار ہو گی، وہ کہے گا "کہ مجھے میرے ربّ نے حکم دیا ہے کہ نمازِ فجر ضائع کرنے پر سورج نکلنے(طلوعِ آفتاب) تک مارتا رہوں اور نمازِ ظہر ضائع کرنے پر عصر تک مارتا رہوں، اور نمازِ عصر ضائع کرنے پر نمازِ مغرب تک مارتا رہوں، اور نمازِ مغرب ضائع کرنے پر نماز عشاء تک مارتا رہوں اور نماز عشاء ضائع کرنے پر نماز فجر تک مارتا رہوں۔

قیامت میں ملنے والی تین سزائیں:

(1) بے نمازی کا حساب بہت سختی سے لیا جائے گا۔

(2)بے نمازی پر خدا کا قہر اور اسکا عذاب ہو گا۔

(3) بے نمازی کو ذلیل کر کے جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔ (میری نماز، ص 42،43)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نمازی کے لئے ارشاد فرمایا:(یبعث اللہ یوم القیامۃ مشل الحنزیر السود ) ترجمہ : قیامت کے دن اللہ اسے کالے حنزیر کی صورت اٹھائے گا"

روز محشر کی جاں گداز بود

اولیں پرسش نماز بود

(تربیتی نصاب، صفحہ 322)