بے
نمازی کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ اللہ
پاک اور اس کے رسول کا نا فرمان ہے، اللہ
پاک نے قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز کا حکم فرمایا، لیکن یہ (بے نمازی )اس حکم کو
عملی جامہ نہیں پہنا رہا، اسی طرح پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی بے شمار مواقع پر نماز کا
حکم دیا ہے، لیکن یہ بے نمازی اس حکم کو عملی طور پر نہیں اپنا رہا، تو یہ اس کی
بد بختی اور بدنصیبی ہے۔
جہاں
نمازی کے لیے بہت سی خوشخبریاں بیان کی گئی ہیں، وہیں پر بے نمازی کے لیے نماز کو
سُستی کی وجہ سے ترک کرنے والے کے لیے15 سزائیں بیان کی گئی ہیں۔
بطور
ترغیب پانچ سزائیں ملاحظہ کیجئے اور خود کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے۔
(1)
بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی۔
(2)
اللہ پاک بے نمازی کو کسی بھی عمل کا
ثواب نہ دے گا ۔
(3)اس
کی قبر کو اتنا تنگ کردیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔
(4)
اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔
(5)
وہ ذلیل ہوکر مرے گا۔
بے
نمازی انسان کس کام کا؟؟ بہرحال ان سزا ؤں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو نماز کا عادی
بنائیں، بچوں بلکہ گھر کے تمام افرد کو نماز کی تلقین کرتے رہنا چاہئے، اگر وہ نہیں
بھی پڑھتے جب بھی تمہیں بولنے(یعنی نیکی کو دعوت دینے )کا ثواب تو ملے گا، نیز بار
بار بولنے اور سمجھانے سے نماز کی توفیق مل ہی جائے گی۔
اللہ پاک ہمیں شوق و محبت کے ساتھ
نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
1۔ نماز
نہ پڑ ھنے سے د نیا میں ملنے والی سزا ئیں
2۔ نماز
نہ پڑ ھنے سے مو ت کے وقت ملنے والی سزائیں
3۔نماز نہ پڑ ھنے سے قبر میں دی جانے والی سزائیں
4۔نماز نہ پڑ ھنے سے قبر سے نکلتے وقت دی جانے والی سزائیں
5۔نماز نہ پڑ ھنے سے قیامت میں ملنے والی سزائیں
1۔ نماز نہ پڑ ھنے سے د نیا میں ملنے والی سزائیں:
۱۔اس کی عمر میں بر کت ختم کر دی جاتی ہے۔
۲۔ اس
کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی مٹا دی جاتی ہے۔
۳۔اللہ عزوجل کسی بھی عمل کا ثواب نہ دے گا۔
۴۔اس کی کوئی د عا آسمان تک نہ پہنچے گی۔
۵۔ نیک
بندوں کی د عا ؤں میں اس کا کو ئی حصہ نہ ہو گا۔
جنت بے نمازیو کس طرح پاؤ گے
ناراض رب ہوا
تو جہنم میں جاؤ گے
2۔نماز نہ پڑھنے سے موت کے وقت
ملنے والی سزائیں:
۱۔وہ ذلیل ہو کر مرے گا۔
۲۔ بھوکا
مرے گا۔
۳۔پیاسا مر ے گا۔ اگر اسے د نیا بھر کے سمندر پلا د ئیے جائیں پھر
بھی اس کی پیاس نہ بجھے گی۔
بے نمازی کی نحوست ہے بڑی
مر کے پائے گا سزا کڑی
3۔ نماز نہ پڑ ھنے سے قبر میں دی جانے والی سزائیں:
۱۔ اس
کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جائے گا۔ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔
۲۔ اس
کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی۔پھر وہ دن رات انگاروں پر الٹ پلٹ ہوتا ر ہے گا۔
۳۔قبر میں اس پر اژدھا( یعنی بہت بڑا سانپ)
مسلط کر د یا جائے گا جس کا نام الشجاع
الاقرع ( یعنی گنجا سانپ ) ہے۔اس کی آنکھیں آگ کی ہوں
گی جبکہ نا خن لو ہے کے ہو ں گے۔ہر ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت( یعنی فاصلے)
تک ہو گی،وہ میت سے کلام(یعنی بات) کر تے ہو ئے کہے گا" میں الشجاع الاقرع( یعنی گنجا سانپ ہوں)"۔ اس کی آواز کڑک دار بجلی
کی سی ہو گی۔ وہ کہے گا میرے رب نے مجھے حکم د یا ہے کہ نمازِ فجر ضائع کر نے پر
طلوع آفتاب ( یعنی سورج نکلنے) تک مارتا رہوں۔اور نمازِ ظہر ضائع کر نے پر عصر تک مارتا رہوں گااور نمازِ مغرب ضائع کر نے پر عشاء تک مارتا رہوں گا اور نمازِ عشاء
ضائع کر نے پر فجر تک مارتا رہوں گا ۔ جب بھی
وہ اسے ( یعنی مردے کو ) مارے گا تو وہ 70 ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا اور وہ ( نماز ترک ) کر نے والا قیامت
تک اس عذاب میں مبتلا ر ہے گا۔
اندھیری قبر کا
دل سے نہیں نکلتا ڈر
کروں گا کیا جو تو ناراض ہو گیا یا رب
4۔ قیامت میں نماز نہ پڑھنے سے سزائیں:۔
۱۔وہ حساب کی سختی
۲۔ رب ِ
قہار کی ناراضی
۳۔ اور
جہنم میں داخلہ ہے۔( فیضان نماز،صفحہ نمبر 426 تا 427)
گناہ گار ہوں میں لائقِ جہنم ہوں
کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب
برائیوں پہ پشیماں ہوں رحم فرما دے
ہے تیرے قہر پہ حاوی تیری عطا یارب
5۔نماز نہ پڑھنے سے قبر سے نکلتے
وقت دی جا نے والی سزائیں:
اللہ عزوجل
جہنم کی آگ کا ایک بادل اُس کے چہرے کے
سامنے مسلط فر مائے گا ۔ جو اُس کو جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیگا۔ حساب کے وقت اللہ عزوجل اُس کی
طرف غضبناک نظر ڈالے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑ جائیگا۔اُس
کا حساب سختی سے لیا جائے گا اُس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فر مائے گا۔
(فیضان سنت صفحہ نمبر 984)
سزا
یعنی کسی خاص کام کو عمل میں نہ لانے پر جو رد عمل ظاہر کیا جائے اسے سزا کہتے ہیں۔
یہاں ہم
نماز نہ پڑھنے کی سزائیں ذکر کریں گے، نماز ایک اہم عبادت ہے، یہ سفروحضر یہاں تک کہ سخت بیماری کی حالت میں
بھی معاف نہیں، نماز نہ پڑھنے والا مرنے کے بعد قبر میں، پھر جہنم میں سخت عذاب کا حقدار ہے۔
1۔
وادی حُبُّ الحزن :
یہ
جہنم کی ایک وادی ہے، اس میں کالے خچر کی
مانند بچھو ہیں، ہر بچھو کے 70 ڈنک ہیں، ہر ڈنک میں زہر کی تھیلی ہے، جب وہ بچھو بے نمازی کو ڈنگ مارتا ہے تو اس کا
زہر اس کے سارے جسم میں پھیل جاتا ہے، اس
کی گرمی ہزار سال تک رہتی ہے، اس کے بعد
بے نمازی کی ہڈیوں سے گوشت جھڑتا ہے اور اس کی شرمگاہ سے پیپ بہنے لگتی ہے اور جہنمی
اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
الامان
والحفیظ! بچھو کے ڈنک کے
زہر کا جسم میں پھیلنا اور ہڈیوں سے گوشت کا جھڑجا نا نہایت تکلیف دہ سزائیں ہیں۔
اے بے نمازیو! خوفِ خداوندی سے لرز اٹھو اور جلدی
جلدی بے نمازی سے توبہ کر لو ۔
2۔فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ
وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا۔
(سورہ مریم، 59)
یہ
آیت بے نمازیوں اور شرابیوں وغیرہ کے لئے ہے، غی جہنم کی ایک وادی ہے، جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے، جس کا نام "ہب ہب" ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، تو اللہ
اس کنواں کو کھول دیتا ہے، جس سے وہ
بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔
اس
خوفناک کنویں کو سمجھنے کے لئے کسی دنیوی گہرے کنویں کے کنارے کھڑے ہوکر اس کی
گہرائی پر ذرا نظر ڈالیے اور سوچئے کہ اگر دنیا کے اس کنویں ہی میں قید کر دیا
جائے تو اس سزا کو برداشت کر سکیں گے؟؟؟ اگر نہیں اور واقعی نہیں تو جہنم کےاس کنویں
کا عذاب کیونکر برداشت ہو سکے گا۔
3۔قبر تنگ کر دی گئی: بے نمازی کی قبر کو اتنا تنگ کردیا
جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں
داخل ہو جائیں گی۔
4۔
عمر میں برکت ختم: اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی، عمر سے برکت ہی ختم ہو جائے گی، تو نیک اعمال کرنے کے مواقع کم ہو جائیں گے۔
5۔جہنم میں داخلہ: اور ربّ قہار کی ناراضگی، استغفراللہ
اس سے بڑھ کر اور کیا سزا ہو سکتی ہے۔
ہرمسلمان عاقل
بالغ مروعورت پرروزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ اس کی فرضیت (یعنی فرض ہونے)کاانکارکفرہے۔جوایک
نمازبھی جان بوجھ کرترک کرےوہ فاسق، سخت گناہ گاروعذابِ نارکاحق دار ہے ۔نمازکی فرضیت کےمتعلق اللہ پاک
نےبہت ساری آیات نازل فرمائی ہیں :
1: وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ
لِذِكْرِیْ ترجمۂ
کنزالایمان:اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ ۔(پارہ ،16سورہ طہ : 14)
2: وَ اَقِیْمُوا
الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ
تُرْحَمُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: اور نماز برپا رکھو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی فرمان برداری کرو
اس اُمید پر کہ تم پر رحم ہو۔(پارہ 16سورہ النورآیت 56)
اسی کےساتھ
میرےرب نےنماز نہ پڑھنےوالوں کےلئے قرآن میں وعیدیں بھی بیان فرمائی ہیں :
مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ترجمۂ
کنزالایمان: تمہیں
کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔ (پارہ
29المدثرآیت 42/43)
لہذانمازی ہی
جنت الفردوس کےوارث ہیں اوروہی اللہ پاک
کےنور کامشاہدہ کرنےوالےہیں اوراس کےقرب سےلطف اندوزہونےوالے ہیں۔
آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ کرام علیہم الرضوان سےفرمایا : دعاکرو:اےاللہ! ہم میں
بدبخت اور محروم شخص کونہ رہنےدینا۔پھرارشادفرمایا:تم جانتےہومحروم وبدبخت کون ہے
؟صحابہ نےعرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کون ہے ؟فرمایانمازترک کرنےوالا۔
( الزواجرج ١ص ٢٩٦)
نمازنہ پڑھنےکےچندعذابات
1:آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں: جوجان
بوجھ کرایک نماز چھوڑدیتاہے اس کانام جھنم
کےاس کےدروازےپرلکھ دیاجاتاہےجس سےوہ داخل ہوگا۔( حلیۃ الاولیا،7/992،حدیث :1059)
2:کتاب الکبائر میں منقول ہے:جہنم میں ایک
وادی ہےجس کانام ویل ہے،اگراس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تووہ بھی اس کی گرمی
سےپگھل جائیں اوریہ ان لوگوں کاٹھکانہ ہےجونمازمیں سستی کرتے اور قضا کرکےپڑھتےہیں
،مگریہ کہ وہ اپنی کوتاہی (یعنی خطا )پرنادم ہوں اوربارگاہ خداوندی میں توبہ کریں۔
(الکبائرللذھبی، ص ١٩)
3:آقاکریم صلی
اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جس نےایک نماز نشےکی حالت میں چھوڑی گویادنیااوراس میں موجودسب کچھ جواس کےپاس تھااس سےچھین
لیاگیااورجس نےچارنمازیں نشےکی حالت میں چھوڑیں تواللہ پاک پرحق ہےکہ اسے’’طینةالخیال‘‘
سےپلائے۔عرض کی گئی: ’’طینةالخیال‘‘ کیاہے؟ارشاد فرمایا:جہنمیوں کانچوڑ(یعنی پیپ اورخون)۔
(مسندامام احمدبن حنبل جلد٢)
4۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جوشخص
نمازکی حفاظت کرےاس کےلیےنمازقیامت کےدن نور،دلیل اورنجات ہوگی اورجواس کی حفاظت
نہ کرےاس کےلیےبروزقیامت نہ نورہوگانہ دلیل ہوگی اورنہ نجات اوروہ قیامت کےدن
قارون فرعون ہامان اورابی بن خلف کےساتھ ہوگا۔
(مسنداحمد،2/574،حدیث:6857)
5...اللہ پاک نےحضرت سیدنا داؤدعلیہ السلام کووحی
فرمائی:اےداؤد!بنی اسرائیل سےکہو :جس نےایک نماز بھی چھوڑی وہ مجھ سے قیامت کےدن اس
حال میں ملےگاکہ میں اس پرغضب فرماؤں گا۔(الزھرالفائح ،ص ٢٧،فیضان نمازص 443/444 )
اللہ پاک ہمیں
جہنم کےعذاب سےبچائے ،پانچ وقت کی نمازاداکرنےکی توفیق عطافرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
غنیۃ الطالبین
میں ہے کہ رسول خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دنیا سے تشریف لے جاتے وقت بھی اپنی امت کو
نماز کی وصیت فرمائی تھی اور ارشاد فرمایا
تھا :اللہ سے ڈرو !اللہ سے ڈرو !نماز
کے معاملے میں اور باندیوں اور غلاموں کے معاملے میں۔
حدیث میں
وارد ہے کہ یہ نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی۔
وہ اسلامی عمل جس کو بندہ ساتھ لے جائے گا یہی
ہے اور قیامت کے دن جس عمل کی سب سے پہلے پرسش ہوگی وہ بھی یہی ہے۔ نماز اسلام کا ستون ہے، اگر یہ ضائع ہوگئی تو نہ دین
رہا اورنہ اسلام۔
اگر کوئی شخص
نماز کی فرضیت کا منکر ہے اور نماز ترک کرے تو کافر ہو جاتا ہے ۔
نماز ترک کرنے والے کے لیے 5 سزائیں
(1)قبر اس پر
تنگ کر دی جائے گی
(2) قبر میں
زبردست اندھیرا ہوگا
(3) منکر نکیر
کے سوالات کا جواب نہیں دے سکے گا
(4) اللہ
تعالی
اس پر غضب ناک ہوگا
(5) صدر الشریعہ
بدر الطریقہ حضرت مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنم میں ویل نامی ایک
خوفناک وادی ہے جس کی سختی سے خود جہنم بھی پناہ مانگتا ہے، جان بوجھ کر نماز قضا
کرنے والے اس کے مستحق ہیں ۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ نمازوں کی پابندی کریں اور ترک نماز سے بچیں ۔
اللہ پاک ہمیں
نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
رب
تعالی اِرشاد فرماتا ہے: فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) ترجَمۂ
کنزُالایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہےجو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے
ہیں ۔
(پ30، الماعون: 4،5)
سرکار صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اور کافر کے درمیان نماز کو چھوڑنے کا فرق ہے ۔
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جان
بوجھ کر ایک فرض نماز چھوڑ دیتا ہے، تو اس
کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں کا جہنم میں داخلہ فرض ہو گیا ۔
حضرت سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: دعا یوں
مانگا کرو کہ اے اللہ پاک! ہم میں سے کسی
کو بدبخت اور محروم نہ رہنے دے، پھر ارشاد
فرمایا: جانتے ہو بدبخت اور محروم کون ہے ؟صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
عرض کی: نہیں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو ترک کرنے والا بدبخت و محروم ہے، اس لیے کہ اس کا اِسلام میں کچھ حصّہ نہیں۔
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تارکِ نماز کو زکوٰۃ نہ دو، نہ اس کو اپنے پاس ٹھہراؤ اور نہ ہی اس کو اپنے پاس بٹھاؤ کیونکہ اُس پر
آسمان سے لعنت برستی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک
صحت کی حالت میں نماز چھوڑنے والے کی طرف نہ نظرِ رحمت فرمائے گا، نہ اسے پاک کرے اور اس کے لیے دردناک عذاب ہے
مگر یہ کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ کرلے تو اللہ پاک اس کی توبہ
قبول فرمائے گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ میری
امت میں سے دس طرح کے افراد پر قیامت کے دن اظہارِ ناراضگی فرمائے گا اور انہیں جہنم میں لے جانے
کا حکم دے گا اور ان کے چہرے بغیر گوشت کے ہڈیاں ہوں گی اور وہ دس
لوگ یہ ہیں:1۔ بوڑھا زانی 2۔ گمراہ پیشوا 3۔ شراب کا عادی 4۔ والدین کا نافرمان 5۔چغلخور
6۔ جھوٹا گواہ 7۔ زکوۃ ادا نہ کرنے والا8۔ سودخود9۔ ظالم 10۔ نماز چھوڑنے والا۔
جی ہاں!
نماز کے تارک، نماز چھوڑنے والے کو دگنا عذاب دیا جائے گا، وہ قیامت کے دن اس طرح اُٹھایا جائے گا کہ اس کے
دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے اور ملائکہ اس کے چہرے اور پُشت پر مارتے ہوں گے،
جنت اس سے کہے گی:نہ تو مجھ سے ہے اور نہ
میں تیرے لیے ہوں۔
دوزخ اُس سے کہے گی :تو مجھ سے اور میرے اندر رہنے والوں
میں سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ، آ میرے قریب آ! خدا کی قسم! مُجھ میں تجھے سخت
عذاب ہوگا۔
( نیکیوں کی جزائیں گناہوں کی سزائیں)
پیارے
اسلامی بھائیو اور بہنو! کیا ہم ان سختیوں کو برداشت کرپائیں گے، آہ! اللہ نہ کرے
ہم ان لوگوں میں سے ہوں جن کے لیے یہ
وعیدیں آئی ہیں۔ آئیں! آج ہم مل کر یہ نیت کرتے ہیں کہ آج سے ہماری
کوئی نماز قضا نہیں ہوگی۔ ان شاءاللہ
ہم جہنم سے اللہ پاک کی پناہ مانگتے ہیں، اے
ضعیف و ناتواں بندے! جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، تُجھ پر توبہ لازم ہے، بے شک رضائے الہی روشن
اور واضح ہے ۔
دعوتِ اسلامی کے تحت ڈیفنس کراچی میں فیضان ایجوکیشن نیٹ ورک (برائے خواتین ) کا آغاز 13 فروری کو ہوگا
دعوتِ اسلامی کے تحت کراچی کے علاقہ ڈیفنس میں اسلامی بہنوں میں
اسلامی تعلیمات عام کرنے کے لئے دعوت ِاسلامی کے شعبہ فیضان ایجوکیشن کے تحت 13 فروری 2021 ء کو فیضان ایجوکیشن نیٹ ورک (برائے خواتین ) کا آغاز کیا
جائے گا۔3 فروری بروز بدھ کو نگران ِشوریٰ مولانا محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی، رکنِ
شوریٰ حاجی محمد اطہر عطاری اور دیگر ذمّہ داران ِدعوت ِاسلامی نے اس
جگہ کاوزٹ کیا۔ نگرانِ شوری ٰنےخوشی کا اظہار کرتے ہوئےوہاں موجود عملے کو مزید
بہتری لانے کے حوالے سے اہم نکات بھی ارشاد فرمائے۔
الحمدللہ نماز ایک عظیم نعمت ہے،جو پابندی
سے پڑھے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور جو فرض نمازیں نہیں پڑھے گا وہ عذابِ نار کا
حقدار بنے گا،قرآن و حدیث میں نماز نہ پڑھنے کی بے شمار سخت سزائیں وارد ہیں،
چنانچہ اللہ پاک قرآن
مجید میں پارہ 28، سورۃ المنافقون، آیت نمبر 9 میں ارشادفرماتا ہے: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُلْهِكُمْ
اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ
ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ ترجمہ:اے ایمان والو! تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر ے، اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔
مفسرینِ
کرام رحمہم اللہ فرماتے
ہیں:" کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ
کے ذکر سے پانچ نمازیں مراد ہیں، پس
جو شخص اپنے مال یعنی خریدوفروخت، معشیت و روزگار، سازوسامان اور اولاد میں مصروف
رہے اور وقت پر نماز نہ پڑھے وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔
اسی طرح حدیثِ مبارکہ میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:" قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا"
لہذا ہمیں چاہیے کہ نماز کی پابندی کریں، ترغیب کے لیے نماز نہ پڑھنے کی پانچ سزائیں
مندرجہ ذیل ہیں:
1۔
دنیا میں جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا، مخلوق اس سے نفرت کرے گی۔
2۔ اللہ پاک اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے
گا۔
3۔ نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصّہ نہ
ہوگا۔
4۔
اس کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں
گی۔
5۔
جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے اُس دروازے پر لکھ دیا
جاتا ہے، جس سے وہ داخل ہوگا۔
زندگی
تو بہر طور گزر جاتی ہے، بے راہ رو کی بھی اور راہِ راست پر چلنے والے کی بھی، البتہ جہاں قوانین و احکامِ شریعت کے تقاضوں کو
بجالانے والے سعادت مندوں کو اخروی و ابدی نعمتوں کا مژدہ سنایا گیا ہے، وہیں بے راہ روی کی زندگی گزارنے والے بد
نصیبوں کو روح و جسم کو تھر تھرادینے والےعذابات
کی وعیدات سنائی گئی ہیں، عباداتِ اسلام میں
نماز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، یہ اسلام کی رعنائی، دلفریبی اور دلکشی ہے کہ
جہاں "ا فضل العبادۃ من العبادات"کے
فضائل بیان کئے، وہیں اس کو نہ پڑھنے
والوں کے لیے دردناک و المناک عذابات بھی بیان
کر دیے ہیں۔
نماز نہ پڑھنے
والا جہنم میں جائے گا:
بلا
شک وشبہ جہنم انتہائی درد و کرب اور ہولناکیوں کا گھڑا ہے اور بروزِ قیامت جنتی جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ
کون سا عمل تمہیں جہنم میں لے گیا؟ تو جہنمی نہایت افسوس اور حسرت کے ساتھ جواب دیں گے جس کو پارہ 29 ، سورۃ المدثر کی
آیت نمبر 42، 43 میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
ترجَمۂ کنزُالایمان:
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی؟ وہ بولے:"
ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔
بروزِ محشر بے نمازی کے چہرے سے ہی بد بختی ظاہر ہو گئی:
بروزِ قیامت یہاں اطاعتِ الٰہی میں زندگیاں
گزارنے والے سعادت مندچمکتے چہروں کے ساتھ مسندوں پر جلوہ افروز ہوں گے، وہیں نفسِ امّارہ کی رعنائیوں اور ریشہ دوانیوں
میں بدمست ہو کر نمازیں قضا کرنے والا بے نمازی اس ذلت کے ساتھ آئے گا کہ اس کے
چہرے پر تین سطریں لکھی ہوئی ہوں گی، 1۔اے اللہ
کا حق برباد کرنے والے ، 2۔اے اللہ کے غضب کے ساتھ مخصوص، 3۔ جس طرح
دنیا میں تو نے حق اللہ
یعنی اللہ پاک کے حق
کو ضائع کیا، اسی طرح آج تو اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہو
جا۔(ماخوذ از فیضان نماز،ص426)
بے نمازی پیاسا مرے گا:
حدیث پاک میں ہے کہ جو سُستی کی وجہ سے نماز چھوڑے
گا،اللہ پاک اُسے15 سزائیں دے گا، پانچ دُنیا میں، تین موت
کے وقت، تین قبر میں، تین قبر سے نکلتے وقت، موت کے وقت دی جانے والی سزاؤں میں سے
ایک یہ ہے کہ بے نمازیپیاسا مرے گا، اگر
اسے دنیا بھر کے سمندر بھی پلا دیئے جائیں
تو پھر بھی اس کی پیاس نہ بجھے گی۔ (ماخوذ از فیضان نماز،ص426)
میدانِ حشر میں
ذلیل ترین جہنمیوں کی ہم نوائی:
سرکار
دوعالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:" جو
شخص نماز کی حفاظت کرے ، اس کے لیے نماز نور، دلیل
اور نجات ہوگی اور جو اس کی حفاظت نہ کرسکے اس کے لیے روزِ قیامت نہ نور ہوگا، نہ
دلیل اور نہ ہی نجات اور وہ شخص بروز ِقیامت فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔"
جہنم کے دروازے پر نام:
حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:" جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا
ہے، اس کا نام جہنم کےاُس دروازے پر لکھ دیا
جاتا ہے، جس سے وہ داخل ہوگا۔"
اللہ پاک نے مسلمانوں پر دن رات میں
پانچ نمازیں فرض کی ہیں، کسی بھی فرض نماز کو قضاء کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے، نماز نہ پڑھنے والے کے لیے اللہ
پاک نے کئیں سزائیں مقرر کی ہیں، ان میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
(1) جہنم کے دروازے پر نام:
حضورانور
صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:" جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے، اس کا نام جہنم کےاُس دروازے
پر لکھ دیا جاتا ہے، جس سے وہ داخل ہوگا۔
(حلیۃ الاولیاء، ج7، ص992، حدیث 10590)
(2) چہرے پر تین سطریں:
منقول
ہے کہ بروز قیامت وہ( یعنی نماز کے معاملے میں سستی کرنے والا) اس حال میں آئے گا کہ
اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی، 1۔اے اللہ کا حق برباد کرنے والے ، 2۔اے اللہ کے غضب کے ساتھ مخصوص، 3۔ جس طرح
دنیا میں تو نے حق اللہ
یعنی اللہ پاک کا حق
ضائع کیا، اسی طرح آج تو بھی اللہ
پاک کی رحمت سے مایوس ہو جا۔
(جہنم میں لے جانے والےاعمال ، ج 1، ص 444)
(3)جہنم کی خوفناک وا دی" ویل":
کتاب
الکبائر میں منقول ہے "کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ویل ہے، اگر اس میں
دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی گرمی سے پگھل جائیں اور یہ ان لوگوں کا
ٹھکانہ ہے جو نماز میں سستی کرتے اور وقت کے بعد قضا کر کے پڑھتے ہیں، مگر یہ کہ
وہ اپنی کوتا ہی(یعنی خطا) پر نادم ہوں اور بارگاہِ خداوندی میں توبہ کریں۔(الکبائر
للذہبی، ص19)
(4)قبر میں اژ دھا:
قبرمیں
بے نمازی پر ایک اژدھا(یعنی بہت بڑا سانپ) مسلطّ کر دیا جائے گا ، جس کا نام
"الشجاع الاقرع"یعنی گنجا سانپ ہے، اُس کی آنکھیں آگ کی ہوں گی، جبکہ ناخن لوہے کے ہوں گے، ہر ناخن کی لمبائی
ایک دن کی مساف(یعنی فاصلے) تک کی ہوگی، وہ میّت سے کلام(یعنی بات) کرتے ہوئے کہے
گا،" میں "الشجاع الاقرع"یعنی گنجا سانپ ہوں، اس کی آواز بجلی کی
سی کڑک دار ہو گی، وہ کہے گا مجھے میرے ربّ نے حکم دیا ہے کہ نمازِ فجر ضائع کرنے
پر سورج نکلنے(طلوعِ آفتاب) تک مارتا رہوں اور نمازِ ظہر ضائع کرنے پر عصر تک
مارتا رہوں، اور نمازِ عصر ضائع کرنے پر نمازِ مغرب تک مارتا رہوں، اور نمازِ مغرب
ضائع کرنے پر نماز عشاء تک مارتا رہوں اور نماز عشاء ضائع کرنے پر نماز فجر تک
مارتا رہوں، جب بھی وہ اسے (یعنی مُردے) کو مارے گا تو وہ 70 ہاتھ تک زمین میں دھنس
جائے گااور وہ (نماز ترک کرنے والا) قیامت تک اسی عذاب میں مُبتلا رہے گا۔(کتاب
الکبائر، للام، الحافظ الذھبی، ص24)
(5)سر کا پتھر سے کچلا جانا:
سرورکائنات
صلی اللہ علیہ وسلم نے
معراج کی رات ایک ایسی قوم (یعنی ایسے لوگوں) کے پاس تشریف لے گئے، جن کے سر پتھر
سے کچلے جا رہے تھے، جب بھی ان کو کچل لیا جاتا، وہ پہلے کی طرح درست ہو جاتے اور یہ
سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا، تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی" یہ
وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز پڑھنے سے بوجھل(یعنی بھاری) ہو جاتے، ( یعنی فرض نماز
چھوڑ دیتے )تھے۔
( مسندبزار، جلد17، ص5 ، حدیث9518)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں
نمازیں شرائط، فرائض اور وا جبات کے ساتھ اپنے وقت پر ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ
وَجَلَّ نماز بہت بڑی نعمت ہے جو اس کو پابندی سے پڑھے
گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور جو فرض نمازیں نہیں پڑھے گا وہ جہنم اور عذاب نار کا
حقدار بنے گا ۔ پارہ 16سورۃ مریم آیت 59میں اللہ پاک فرماتا ہے فَخَلَفَ
مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ
یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ
ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو
عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)
بیان
کی ہوئی آیت مقدسہ میں "غی" کا تذکرہ ہے ۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد
امجد علی اعظمی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں غی جہنم میں ایک
وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام "ہب ہب
"ہے. جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ پاک
اس کنویں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور (پہلے کی طرح )بھڑکنے لگتی
ہے یہ کنواں بے نمازوں اور زانیوں،شرابیوں اور سود خوروں اور ماں باپ کو ایذا
دینے والوں کے لیے ہے۔( بہار شریعت جلد 1 صفحہ 434)
2۔ابو نعیم ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قصدا نماز
چھوڑی جہنم کے دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے
صحیحین
میں نوفل بن معاویہ رضی
اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس کی نماز فوت
ہوئی گویا اس کے اہل و مال جاتے رہے( بہار شریعت، حصہ سوم، صفحہ461)
3۔منقول ہے بروز قیامت وہ( یعنی نماز کے معاملے میں سستی کرنے
والا) اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی
١۔اے اللہ کا حق برباد کرنے والے
٢. اےاللہ
کے غضب کے ساتھ مخصوص
٣. جس طرح دنیا میں تو نے حق اللہ یعنی
اللہ پاک کا حق ضائع کیا اسی طرح آج تو بھی اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہو جا۔تفسیر
صراط الجنان جلد 6 صفحہ 263پر ہے جیسے گناہ کا عذاب دنیا و آخرت میں (بھگتنا) پڑتا
ہے یوں ہی نیکی کا فائدہ دونوں جہاں میں ملتا ہے. جو مسلمان پانچوں نمازیں پابندی
سے جماعت کے ساتھ ادا کرے اسے رزق میں برکت ،قبر میں فراخی نصیب ہوگی اور پل صراط
پر آسانی سے گزرے گا اور جو جماعت کا تارک ہوگا اس کی کمائی میں برکت نہ ہوگی
،چہرے پہ صالحین کے آثار نہ ہوں گے، لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت ہوگی. پیاس اور
بھوک میں جان کنی اور قبر کی تنگی میں مبتلا ہوگا اور اس کا حساب بھی سخت ہوگا۔(فیضان
نماز صفحہ 428)
4.مکی مدنی آقا صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فرض نمازیں بغیر عذر کے چھوڑیں تو اس کا عمل ضائع ہوگیا۔
5۔سرورِ کائنات صلی
اللہ علیہ وسلم معراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے
کچلے جا رہے تھے جب بھی انہیں کچل لیاجاتا وہ پہلے کی طرح درست ہوجاتے اور یہ
سلسلہ یونہی چلتا رہتا تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:اے جبرائیل !یہ کون
ہیں ؟عرض کی :وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز پڑھنے سے بوجھل (یعنی بھاری) ہو جاتے یعنی
(فرض نماز چھوڑ دیتے )تھے۔(فیضانِ نماز ،صفحہ 432)
اے
کاش کہ تمام امتِ رسول صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
نماز وقت پر ادا کرنے والے بن جائیں ۔اے اللہ ! ہم سب مسلمانوں کو خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے
والا بنا دے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اسلامی
بہنوں کے شعبے کفن دفن کے زیر اہتمام
کوئٹہ کی کابینہ وحدت میں کفن دفن اجتماع
کا انعقادکیا گیا جس میں11 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
کابینہ
سطح ذمہ دار اسلامی بہن نے اجتماع میں
شریک اسلامی بہنوں کو میت کو غسل دینے اور کفن کاٹنے کا طریقہ سمجھایا۔ مزید غسلِ میت
کے حوالے سے احتیاطیں بھی بیان کیں۔آخر میں اسلامی بہنوں نے ٹیسٹ دینے کی بھی نیتیں
کیں۔
Dawateislami