اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ِعالیشان ہے:"
جو نماز کی پابندی کرے گا، اللہ
پاک پانچ باتوں کے ساتھ اس کا اِکرام یعنی
عزت فرمائے گا،
(1)
اس سے تنگی دور فرمائے گا۔
(2)
قبر کا عذاب دُور فرمائے گا۔
(3)
اللہ پاک نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا۔
(4)
وہ پُل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے گا۔
(5)
جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوگا۔
اور
جو سُستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا، اللہ پاک اُسے15 سزائیں دے گا، پانچ دُنیا میں، تین موت
کے وقت، تین قبر میں، تین قبر سے نکلتے وقت۔
دنیا میں ملنے والی پانچ سزائیں:
(1)
اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی(2) اس کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی مٹا دی
جائے گی(3) اللہ پاک اس
کے کسی عمل پر ثواب نہ دے گا (4) اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی (5) نیک
بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصّہ نہ ہوگا۔
موت کے وقت دی جانے والی سزائیں:
(1)
ذلیل ہوکر مرے گا(2) بھوکا مرے گا(3) پیاسا مرے گا، اگر اسے دنیا بھر کے سمندر بھی پلا دیئے جائیں تو پھر بھی اس کی پیاس نہ بجے گی۔
قبر میں دی جانے والی تین سزائیں:
(1)
اس کی قبر کو اتنا تنگ کردیا جائے گا کہ
اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں
گی(2) اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی پھر وہ دن رات اَنگاروں پر اُلٹ پلٹ ہوتا رہے گا(3) قبرمیں اُس پر ایک بہت بڑا سانپ
مسلطّ کر دیا جائے گا جس کا نام"الشجاع
الاقرع"یعنی گنجا
سانپ ہے، اُس کی آنکھیں آگ کی سی ہوں گی، ناخن لوہے کے ہوں گے، ہر ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت تک کی ہوگی، وہ میّت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا " میں
گنجا سانپ ہوں "اس کی آواز بجلی کی سی
کڑک دار ہو گی، وہ کہے گا "کہ مجھے میرے ربّ نے حکم دیا ہے
کہ نمازِ فجر ضائع کرنے پر سورج نکلنے(طلوعِ
آفتاب) تک مارتا رہوں اور نمازِ ظہر ضائع کرنے پر عصر تک مارتا رہوں، اور نمازِ
عصر ضائع کرنے پر نمازِ مغرب تک مارتا رہوں، اور نمازِ مغرب ضائع کرنے پر نماز عشاء
تک مارتا رہوں اور نماز عشاء ضائع کرنے پر نماز فجر تک مارتا رہوں، جب بھی وہ مُردے کو مارے گا تو وہ 70 ہاتھ تک زمین میں دھنس دیا جائے گااور تارکِ نماز قیامت تک اسی عذاب میں مُبتلا رہے گا۔
قیامت میں ملنے والی تین سزائیں:
(1)
حساب کی سختی (2)ربِّ قہار کی ناراضگی (3) جہنم میں داخلہ۔
(کتاب الکبائر للامام الحافظ الذھبی، ص 24)
نوٹ:
بیان کردہ حدیث میں پندرہ سزاؤں کا تذکرہ ہے، مگر تفصیل 14 سزاؤں کی بیان ہوئی ہے، شاید راوی
پندرھویں سزا بھول گئے، البتہ فقیہہ ابو ا
للیث سمرقندی کی نقل کردہ روایت میں مکمل15 سزاؤں کا تذکرہ ہے، جن میں یہ شامل کر لیں تو15 کا عدد پورا ہو جاتا
ہے۔
وہ
یہ ہے:" دنیا میں اس سے مخلوق نفرت کرے گی۔"(قرةالعیون مع روض الفائق، ص383)
دعوتِ اسلامی کے تحت پنجاب کے علاقہ وزیرآباد
میں موجود اسپائر کالج کے ٹریننگ
سیکشن کے ’’تربیتی ِسیکشن ‘‘میں سید فضیل
رضا عطاری نے اسٹوڈنٹس ،ٹیچرز اور وہاں موجود مینجمنٹ کرنے والے اسلامی بھائیوں سے ملاقات بھی کی اور ان کےدرمیان
’’ماں باپ ‘‘کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور
انہیں اہمیت دینے پر چند روز پہلےسنّتوں بھرا بیان بھی فرمایا۔ اجتماع کے بعد مبلّغِ دعوتِ اسلامی
نے اسٹوڈنٹس اور ٹیچر کے درمیان ایک میٹنگ
بھی کی۔
قرآن کریم میں
نماز قائم کرنے کا حکم ہے اور کسی چیز کو قائم کرنا یہ ہے کہ اسے اس کا پورا حق دے
دیا جائے۔ (مفردات امام راغب، ص 692)
قرآن و حدیث میں نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل
اور نہ پڑھنے کی سخت سزائیں وارد ہیں، جن کو درج ذیل آیت و روایات میں ملاحظہ کیا
جا سکتا ہے۔
1۔نقصان
اٹھانے والے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ
وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹) ترجَمۂ
کنزُالایمان: اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔
(المنافقون : 09 )
مفسرین کرام
فرماتے ہیں کی اس آیت میں اللہ کے ذکر سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔
(کتاب
الکبائر، ص 20)
2۔سب
سے پہلا سوال:
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت بنیاد ہے: قیامت کے دن بندے کے
اعمال میں سب سے پہلے نماز کا سوال ہو گا، اگر وہ درست ہوئی تو اس نے کامیابی پائی
اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ رسوا ہوا اور اس نے نقصان اٹھایا۔ (کنز العمال، ج
7، ص، 115)
3۔ نور، دلیل،
نجات :
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشادِ گرامی ہے: جو شخص نماز کی حفاظت کرے، اس کیلئے نماز قیامت کے دن نور، دلیل، نجات ہو گی، اور جو اس کی حفاظت نہ
کرے، اس کیلئے بروز قیامت نا نور ہو گا، نا دلیل اور نا ہی نجات، اور وہ شخص قیامت
کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ (مجمع الزوائد، ج 2، ص
21)۔
4۔ اسلام میں کوئی حصہ نہیں :
امیر المومنین
حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ پر
قاتلانہ حملہ ہوا لیکن پھر بھی آپ نے شدید زخمی ہونے کی حالت میں نماز ادا فرمائی،
اور فرمایا: جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔(کتاب
الکبائر، ص 21)
️
5۔ جہنم کے دروازے پر نام :
حضرت ابو سعید
خدری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضوراقدس صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑی تو جہنم کے
اُس دروازے پر اِس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء، ۷/۲۹۹، الحدیث: ۱۰۵۹۰)
اللہ پاک ہمیں ہر روز
پانچ مرتبہ اپنے حضور سروں کو جھکانے کی توفیق عطا فرمائے، اور پکا نمازی بنائے۔
حضرت مفتی احمد کاکوروی رحمۃ الله علیہ لکھتے ہیں: ”شرح برزخ“ میں لکھا ہے کہ بغداد میں
ایک امیر زادی (یعنی مال دار کی لڑکی) کا انتقال ہوا، بعد جان نکلنے کے حسب دستور
لوگوں نے اس کی نعش(یعنی لاش) کو چادر سے ڈھک دیا، پھر جب واسطے تَجْہِیز و تکفین
کے چادر کھولی، ایک سانپ کالا اس کے منہ میں کاٹ رہا تھا اور اس کے سارے بدن پر
لپٹا تھا۔ لوگوں نے چاہا کہ اس سانپ کو ماریں، اس میت کے باپ نے کہا یہ سانپ ایسا
نہیں ہے کہ مارنے سے جائے، یہ سانپ غضب الٰہی کا معلوم ہوتا ہے۔ بعد اس کے اس نے
سانپ کے مُتَّصِل جا کے کہا کہ ”میں جانتا ہوں کہ تو خدا کے حکم سے آیا ہے لیکن ہم
لوگ بھی مامور ہیں اس بات کے کہ مُوافق سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم
کے تجہیز و تکفین میت کی کریں، اگر تو ہم کو اتنی مہلت دے کہ ہم یہ سنت بجا لائیں
تو اچھی بات ہے۔“ یہ سنتے ہی وہ سانپ اس لڑکی سے الگ ہوکر گھر کے ایک کونے میں جا
بیٹھا۔ جب اسے غسل دے کر کفن پہنا کے چارپائی پر لٹایا اور چاہا کہ جنازہ اٹھائیں
وہ سانپ جھپٹ کر پھر اس میت سے ویسے ہی جا چپٹا، یہاں تک کے اس کے ساتھ ہی دفن
ہوا۔ لوگوں نے اس لڑکی کے باپ سے پوچھا کہ کون سا گناہ یہ لڑکی کیا کرتی تھی کہ اس
کے سبب ایسا عذابِ شدید نمایاں اس پر ہوا؟ اس نے کہا کہ اور تو کوئی گناہ یہ نہیں
کرتی تھی مگر کبھی کبھی نماز قضا کر دیا کرتی تھی۔
نماز
ایک عظیم نعمت ہے، جو پابندی سے پڑھے گا وہ جنت کا حق دار ہوگا اور جو فرض نمازیں
نہیں پڑھے گا وہ عذابِ نار کا حق دار بنے گا۔ پارہ 16 سورة مريم آیت 59 میں الله پاک
فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنھوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے
پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں "غیّ" کا جنگل پائیں گے۔
حضور صلّی اللہ
علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام
جھنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا جس سے وہ داخل ہوگا۔ فیضان نماز،ص425
مکی مدنی آقا صلّی
اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: جس نے فرض نمازیں بغیر عذر کے چھوڑیں تو اس کا
عمل ضائع ہوگیا۔ (فیضان نماز،ص429)
امیر المومنین
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ
علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی، الله پاک
اس کے عمل برباد کر دے گا اور اللہ پاک کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا، جب تک وہ اللہ
پاک کی بارگاہ میں توبہ نہ کرے۔(فیضان نماز،ص444)
سلطان مدینہ صلّی
اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایک دن صحابہ کرام رضی الله عنھم سے ارشاد فرمایا: دعا
کرو:اے الله! ہم میں بدبخت و محروم شخص کو نہ رہنے دینا۔ پھر ارشاد فرمایا: کیا تم
جانتے ہو محروم و بدبخت کون ہے؟ صحابہ کرام رضی الله عنھم نے عرض کی: یا رسول اللہ
صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ! وہ کون ہے؟ تو فرمایا :نماز ترک کرنے والا۔
یقیناً نماز نہ
پڑھنے کی اور بھی بہت سی وعیدیں ہیں تاہم ہر مسلمان کو سوچنا چاہیے کہ ذرا سی غفلت
و سستی کی وجہ سے بغیر کسی عذر کے نماز نہ پڑھنے کی کس قدر شدید سزائیں برداشت
کرنی پڑ سکتی ہیں، لہذا نماز کے معاملے
میں ہرگز غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ الله پاک ہمیں نماز کے فرائض، واجبات، سنن اور
مستحبات کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نماز ایک بہت بڑی نعمت ہے، جو پابندی سے پڑھے
گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور جو فرض نمازیں نہیں پڑھے گا وہ عذابِ نار کا حقدار
بنے گا۔
1. نَماز پڑھنے کے فَضائل و بَرَ کات بَہُت زِیادہ ہیں،اور
دوسری طرف تَرْکِ نَماز کے نُقْصانات و
عَذابات بھی بے شُمار ہیں۔ یہاں تک کہ جو شَخْص صِرْف ایک نَماز جان بوجھ کر
چھوڑدے،میرے آقا اعلیٰ حَضْرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس کےعذاب کا ذکر کرتے
ہوۓ فتاوٰی رَضَوِیہ جلد9، صَفْحَہ158 پر اِرْشاد فرماتے
ہیں: جس نے قَصْداً (یعنی جان بوجھ کر صِرْف) ایک وَقْت کی(نَماز
بھی) چھوڑی، ہزاروں بَرس جَہَنَّم میں رہنے کا مُسْتَحِق ہوا، جب تک توبہ نہ
کرے اور اُس کی قَضا نہ کر لے۔
2.جان بوجھ کرنَماز قَضا کرنے والوں کے بارے میں قرآنِ پاک میں
اِرشاد ہوتاہے:
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا
الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجَمۂ کنزُالایمان: تو
ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی
خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(پ16،مریم:
59)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ فرماتے
ہیں : غی جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے۔ اس
میں ایک کنواں ہے جس کا نام ’’ہَبْ ہَبْ‘‘ ہے۔ جب جہنم کی آگ بجھنے
پر آتی ہےاللہ پاک اس کنویں کو
کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔( صراط الجنان)
یہ کُنواں بےنَمازیوں اور زانِیُوں اور شرابِیوں اور سُود
خواروں اور ماں باپ کو تکلیف دینے والوں کے لیے ہے۔ (بہارِشریعت،ج۱،ص ۴۳۴)
3. سید عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے نماز چھوڑنے والوں کے منہ کالے کیے جائیں
گے اور جہنم میں ایک وادی ہے جسے لملم کہا جاتا ہے، اس میں سانپ رہتے ہیں ہر سانپ
اونٹ جتنا موٹا اور ایک ماہ کے سفر کے برابر طویل ہوگا، وہ بے نمازی کو ڈسے گا ۔اس
کا زہر ستر سال تک نمازی کے جسم میں جوش مارتا رہے گا پھر اس کا گوشت گل جائے
گا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 379)
4. سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کی رات ایک ایسی
قوم کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے
کچلے جا رہے تھے ۔جب بھی انہیں کچل لیا جاتا ہے وہ پہلے کی طرح درست ہوجاتے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا۔ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے پوچھا : اے جبرائیل !یہ کون ہیں؟ عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر
نماز پڑھنے سے بوجھل یعنی بھاری ہوجاتے یعنی فرض نماز چھوڑ دیتے تھے۔(فیضان نماز
صفحہ 432)
5.جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا اسے قبر میں بڑا سخت عذاب
دیا جائے گا۔
قبر میں بے نمازی پر ایک بہت بڑا سانپ مسلط کر دیا جائے گا جس
کا نام الشجاع الاقرع ہے۔ اس کی آنکھیں آگ کی ہوں گی جبکہ ناخن لوہے کے ہوں گے،ہر
ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت تک ہوگی۔ وہ میت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا: میں الشجاع الاقرع ہوں۔ اس کی آواز کڑک دار بجلی کی سی ہو گی اور وہ
کہے گا: میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ نماز فجر ضائع کرنے پر طلوع آفتاب یعنی
سورج نکلنے تک مارتا رہوں اور نماز ظہر ضائع کرنے پر عصر تک مارتا رہوں اور نماز ِعصر ضائع کرنے پر مغرب تک مارتا
ر ہوں اور نماز مغرب ضائع کرنے پر عشا تک مارتا رہوں اور نماز عشا ضائع کرنے پر
فجر تک مارتا رہوں ۔جب بھی اسے مارے گا تو وہ ستر ہاتھ تک زمین میں دھنس جائے گا
اور نماز ترک کرنے والا قیامت تک عذاب میں مبتلا رہے گا ۔
( فیضان نماز صفحہ 427)
نماز کو ترک کرنے والے کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ آج سے پکی نیت کر لیں کہ آج کے بعد کوئی نماز
قضا نہیں ہوگی۔ ان شاء الله
1۔ نبی کریم رؤف الرحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے
اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔
(حلیۃ الاولیاء،ج7،ص992،حدیث: 10590)
2۔مکی
مدنی آقا مدینے والے مصطفی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا :جس نے فرض
نمازیں بغیر عذر کے چھوڑیں تو اس کا عمل ضائع ہوگیا۔(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 7،صفحہ
223،حدیث: 49)
3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز فوت ہوئی اس کے اہل و مال جاتے رہے ۔(بخاری، ج2،
ص105 ،حدیث: 2063 )
ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز عصر جاتی
رہی اس کا گھربار اور مال لٹ گیا ۔
(بخاری ،ج1 ،ص202 ،حدیث 552 )
4۔اللہ پاک نے حضرت داؤد علیہ الصلاۃ و السلام کو وحی
فرمائی: اے داؤد !بنی اسرائیل سے کہو کہ جس نے ایک بھی نماز چھوڑی وہ مجھ سے قیامت
کے دن اس حال میں ملے گا کہ میں اس پر غضب فرماؤں گا ۔ (الزھر الفائح ،ص 27)
5۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے جس
نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اللہ پاک اس کے عمل برباد کر دے گا اور اللہ پاک
کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا جب تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ نہ کرے ۔
(الترغیب والترھیب،ج1،ص216،حدیث: 18)
معراج کی رات اللہ پاک
نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ایسا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا جو :
اللہ پاک کو راضی کرنے والا * رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی مبارک آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والا * انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کو
جِلا بخشنے والا * اندھیری قبر کو روشن کرنے والا
* عذابِ قبر سے نجات دلانے والا * قیامت کی دھوپ میں سایہ
پہنچانے والا * پُل صراط پار کرانے والا* نورٌ علی نور ہو جانے والا * جنت کی چابی
بن جانے والا * اُمَّت محمَّدیہ کو خصوصیت کے ساتھ عطا ہونے والا * بروزِ قیامت
خالقِ کائنات اللہ پاک کے دیدار سے مُشرَّف کرنے والا عظیم تحفہ نماز جس کو وقت پر
ادا کرنے سے اللہ پاک اُس بندے کو عذاب نہ دینے اور بے حساب جنت میں داخل کرنے کا
وعدہ فرماتا ہے۔ (فیضانِ نماز، صفحہ نمبر 12، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
جبکہ دوسری جانب نماز کو وقت پر نہ پڑھنے والے، نماز پڑھنے میں
سستی کرنے والے، نماز کو قضا کر دینے والے اور نماز کو چھوڑ دینے والے کے لیے سخت
سزاؤں کی وعیدیں وارِد ہیں۔چنانچہ:
(1) بے نمازی غَی کا جنگل پائیں گے: اللہ پاک پارہ 16 سورہ
مریم کی آیت نمبر 59 میں ارشاد فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا
الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجمہ کَنْزُالعرفان: تو ان کے بعد وہ
نالائق لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی
کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غیّ سے جا ملیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: غی جہنّم کی
ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنّم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں۔ (تفسیر صراط
الجنان، جلد 6، صفحہ 132، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(2) بے نمازی کا نام
دوزخ کے اس دروازے پر لکھ دیا جائے گا جس سے وہ داخل ہو گا: نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام
جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہو گا۔(فیضانِ نماز، صفحہ
نمبر 425، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(3) بروزِ قیامت بے نمازی کی نجات نہ ہو گی: رسولِ اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز کی حفاظت نہ کرے، اس کے لیے بروزِ قیامت نہ
نُور ہو گا اور نہ دلیل ہو گی اور نہ نجات اور وہ شخص قیامت کے دن قارون، فرعون،
ہامان، اور اُبَی بِن خَلَف کے ساتھ ہو گا۔ (فیضانِ نماز صفحہ نمبر 455، مطبوعہ
مکتبۃ المدینہ)
(4) بے نمازی جب تک توبہ نہ کرے اللہ پاک کی امان سے محروم رہے
گا: امیر المومنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے
جان بوجھ کر نماز چھوڑی، اللہ پاک اُس کے عَمَل بَرباد کر دے گا اور اللہ پاک کا
ذمہَّ(اللہ پاک کی اَمان یعنی حفاظت) اُس سے اُٹھ جائے گا، جب تک کہ وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ
نہ کرے۔ (فیضانِ نماز صفحہ 444، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(5)بے نمازی جہنّم کا حقدار ہوگا: اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: جس نے جان بوجھ کر ایک وقت کی (نماز) چھوڑی ہزاروں برس جہنّم میں رہنے
کا حقدار ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔مسلمان اگر اُس کی زندگی
میں اُسے بالکل چھوڑ دیں، اس سے بات نہ کریں، اس کے پاس نہ بیٹھیں تو ضرور وہ اسی
کے لائق ہے۔
(فتاوی رضویہ جلد 9، صفحہ 158 تا 159، مطبوعہ:
رضا فاؤنڈیشن لاہور)
الحمدللہ نماز
ایک عظیم نعمت ہے ، جو پابندی سے نماز پڑھے گا اور جو فرض نماز نہیں
پڑے گا وہ عذاب ِ نار کا حقدار ہوگا۔ پارہ 16 سورۃ مریم آیت 59 میں اللہ پاک فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ
وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی
جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے
ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)
بیان
کی گئی آیت مقدسہ میں غی کا تذکرہ ہے ، حضرت علامہ مولانا مفتی
محمد امجد علی عظمی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: غی جہنم میں ایک وادی ہے، جس کی
گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے جس
کا نام ہب ہب ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ پاک اس کنو یں کا منہ کھول دیتا
ہے جس سے وہ بدستور( یعنی پہلے کی طرح) بڑھنے لگتی ہے۔
اے عاشقانِ رسول!خوفِ خُدا وندی سے لرز اٹھو اور
گھبرا کے جلدی اپنے گناہوں کی توبہ کر لو!
منقول
ہے:بروزِ قیامت بے نمازی اس حال میں آئے گا کہ اس کے جبڑے پر تین سطریں لکھی ہو گی(1)
اے اللہ کا حق
برباد کرنے والے(2) اے اللہ
کے غضب کے مستحق(3) جس طرح تو نے دنیا میں اللہ
کا حق ضائع کیا اسی طرح آج تو بھی اللہ
کی رحمت سے مایوس ہو جا۔
( جہنم میں لے جانے والے اعمال، ج ا، ص 444)
مکی
مدنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جس نے فرض نمازیں بغیر عُذر کے چھوڑیں تو اس کا عمل ضائع ہوگیا۔(مصنف
ابی ابن شیبہ، ج 7، ص223، حدیث:
49)
پڑتے رہو نماز تو جنت کو پاؤ گے
چھوڑو گے گر نماز تو جہنم میں جاؤ گے
فرمانِ
مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
ہے: اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: تین چیزیں ایسی ہیں جس شخص
نے ان کی حفاظت کی وہ میرا سچا دوست ہے اور جس نے ان کو ضائع کیا وہ میرا دشمن ہے۔(1) پانچوں
فرض نمازیں (2)رمضان کے روزے(3)جنابت سے غسل۔
(شعب الایمان
ج3، ص 9،حدیث: 2749)
بے نمازی کی نحوست ہے بڑی
مر کہ پائے گا سزا بے حد کڑی
اللہ کے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے
نماز ترک کی اس نے اعلانیہ کُفر کیا۔(معجم الاوسط حدیث3348، ج2، ص299)
رحمت
کونین ہم غریبوں کے دلوں کے چین صلی اللہ
علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: کہ بندے اور کفر یا شرک کے
درمیان فرق نماز کو چھوڑنا ہے، لہذا
جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے کفر کیا۔(مسند ابی یعلٰی الموصلی، الحدیث:4086،
ج3،ص397)
نماز وں کونہ چھوڑو، گناہوں
کو چھوڑو!
کبھی یادِ حق سےمنہ نہ اپنا موڑ و
مَا
سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲)قَالُوْا
لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳)وَلَمْ
نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴)
ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم
نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے ۔(المدثر:42 تا 44)
حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب
سے پہلے نماز کے بارے ميں حساب لیا جائے گا اگر وہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی
درست اور اگر وہ بگڑی تو سب بگڑ گیا۔
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا :جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر
لکھ ديا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہو گا ۔
حضرت مولانا نقی علی خان فرماتے ہیں: جو بے
سبب یا بغیر کسی عذر کے نماز چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ و رسول سے بلکل
نہیں شرماتے قیامت کے دن اگر وہ ایک نماز کے بدلے ساری دنیا دینا چاہیں گے قبول نہ
کی جائے گی اور اگر ہزار سال بھی رو کر نجات مانگے نہیں ملے گی ۔
حضرت مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں :جس نے جان بوجھ کر ایک نماز ترک کی ہزاروں برس دوزخ میں رہنے
کا حقدار ہے ۔جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرے ۔ مسلمان اگر اس کی زندگی
میں اس کو یک لخت چھوڑ دے اس سے بات نہ کرے۔اس کے پاس نہ بیٹھیں تو اس بائیکاٹ سے اس کو تکلیف ہو گی ۔
بے نمازی کی پانچ سزائیں :
1۔اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گئی ۔
2۔اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی نشانی اٹھا لی
جائے گئی ۔
3۔اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔
4۔اللہ پاک اس کے عمل پر ثواب نہیں دے گا ۔
5۔نیک بندوں کی دعا میں اس کا کوئی حصہ نہیں
ہو گا۔
اعلان نبوت کے گیاروں سال اسلام میں سب سے
پہلے نماز کو ہی فرض کیا گیا ۔ایمان کے بعد سب سے اہم فرض نماز ہے۔ہر عبادت سے
اعلی عبادت نماز ہے۔
عوارف المعارف شریف میں ہے کہ نماز ميں مختلف حالتیں ہیں۔قیام قعود
رکوع اور سجود،اور چھ طرح کے ذکر ہیں۔تلاوت قرآن ،تسبیح حمد الہی، استغفار، اور
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود۔ یہ کل دس چیزیں ہوئی یہ ہی فرشتوں کی دس صفوں
میں تقسم کی گئی ہیں ۔ان میں ہر صف دس ہزار فرشتوں پر مشتمل ہے۔لہذا نماز کی دو
رکعتوں میں وہ کچھ موجود ہے جو فرشتوں کی دس ہزار صفوں میں تقسم کیا گیا ہے ۔
مگر بد قسمتی سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد
نماز سے دور ہے۔بے نمازی جہاں نماز کے فضائل و برکات سے خود کو محروم رکھتا ہے
وہاں دنیا وآخرت میں ملنے والی سزاؤں کا
مستحق بھی ہوتا ہے ۔
جہنم کی خوف ناک وادی:
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ
فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں
نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ
میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)
جہنم کے دروازے پر نام:
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا
جاتا ہے جس سے وہ داخل ہو گا۔(حلیہ اولیاء جلد 7)
اللہ پاک غضب فرمائے گا :
اللہ پاک
نے حضرت داؤد علیہ السّلام کی طرف وحی فرمائی کہ بنی اسرائیل سے کہو۔جس نے ایک نماز چھوڑی وہ قیامت
کے دن اللہ سے
اس حال میں ملے گا کے میں اس پر غضب فرماؤں گا۔
(فیضان نماز ص۔444
،443)
جان بوجھ کر نمازیں قضا کرنے والے اور جھوٹی
قسمیں کھانے والوں کو جہنم میں جانے کا حکم ہو گا۔
جیسا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس سے مروی
ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا۔اللہ پاک
اس کو جہنم میں جانے کا حکم دے گا ۔وہ عرض کرے گا مجھے کس وجہ سے جہنم میں جانے کا
حکم ہوا ہے؟ اللہ پاک
ارشاد فرمائے گا نمازیں قضا کر کے پڑھنے اور میرے نام کی جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ
سے۔
بے نمازی کے ساتھ کیا ہو گا ؟:
بےنمازی کے چہرے قیامت کے دن سب سے پہلے کالے
کیے جائیں گےاور اللہ پاک ان کو اوندھا منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔
جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑنے والے سے اللہ
اور رسول بری الذمہ ہے ۔
اس کی عمر سے برکت ختم کر دی جاتی ہے ۔
اس کے چہرے سے صالحین کی نشانی مٹ جاتی ہے ۔
اس کی دعا آسمان کی طرف بلند نہیں ہوتی۔
نیک لوگوں کی دعا میں اس کا کوئی حصہ نہیں
ہوتا ۔
وہ ذلیل ہو کر مرے گا۔
وہ بھوکا پیاسا مرے گا۔
اس کی قبر تنگ ہو گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں
ٹوٹ کر ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گئی جس میں
وہ رات دن رہے گا اس کی قبر میں ایک اژدھا مسلط کر دیا جائے گا۔
اس کے چہرے پر تین سطریں بنی ہوں گی ۔ایک سطر
پر لکھا ہو گا
اللہ کے حقوق ضائع کرنے والا ۔
دوسری سطر میں لکھا ہو گا
اے اللہ کی ناراضگی کے لئے مخصوص۔
اور تیسری سطر میں لکھا ہو گا ۔
اے اللہ کے حقوق ضائع کرنے
والے آج تو اس کی رحمت سے مایوس ہو جا۔
جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام لملم ہے ۔اس
میں سانپ رہتے ہیں ہر سانپ اونٹ کی گردن کی طرح موٹا ہے ۔اور اس کی لمبائی ایک ماہ
کی مسافت ہے ۔جب وہ بے نمازی کو ڈسے گا اس کا زہر ستر سال تک جسم میں جوش مارتا
رہے گا۔جس سے اس کے جسم کا گوشت ہڈیوں سے گل جائے گا
(بہار شریعت )
اللہ پاک ہمیں
پانچ وقت پہلی صف ميں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ
الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میں پانچوں
نمازیں پڑھوں با جماعت
ہو توفیق ایسی
عطا یا الہی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جو جان بوجھ کر ایک نماز
چھوڑ دیتا ہے، اس کا نام جہنم کےاُس
دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے، جس سے وہ داخل
ہوگا۔ (حلیۃ الاولیاء، ج7، ص991)
بے نمازی کو دی
جانے والی سزائیں:
(1)
بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی۔
(2)بے نمازی کو اللہ پاک کسی عمل پر ثواب نہ دے گا۔
(3) بے نمازی ذلیل ہو کر مرے گا۔
(4) بے نمازی بھوکا مرے گا ۔
(5)بے
نمازی کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو
جائیں گی۔(کتاب الکبائرللامام الحافظ الذھبی، ص24)
دنیاوی
اعتبار سے ہر ملک کے الگ الگ قانون ہوتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے ملکی قانون کی خلاف
ورزی کرے تو اس شخص کو اس ملکی قانون کے اعتبار سے سزا دی جاتی ہے ۔
اسی طرح شریعت اسلامیہ میں بھی کچھ ایسے
احکام ہیں کہ اگر انکی پاسداری نہ کی جائے تو اس پر سزا کی وعید سنائی گئ ہے یا تو
وہ سزا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے یا قبر و آخرت میں لیکن نماز ایک ایسا فرض ہے کہ
اسکی ادائیگی نا کرنے والے کو قبر و آخرت میں تو سزا دی جائے گی لیکن ایسا شخص
نماز نا پڑھنے کی نحوست بعض اوقات دنیا میں بھی دیکھ لیتا ہے رزق کی تنگی ، عمر میں
بے برکتی ، اور ہر وقت پریشانیوں میں گھرے رہنے کی صورت میں ۔آیئے نماز نہ پڑھنے کی
چند سزائیں ملاحظہ فرمائیں ۔
1: پارہ 16
سورة مریم ایت 59 مین اللہ پاک فرماتا ہے : فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ
وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو
ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی
خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)
2 :نبی پاک صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے گا اسکی قبر کو اتنا
تنگ کردیا جائے کہ اسکی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوجائیں گی۔
(کتاب
الکبائر ص 24 ، فیضان نماز ص 427)
3:سرکار دو
عالم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم معراج کی رات ایک ایسی
قوم ( ایسے لوگوں) کے پاس تشریف لے گئے جنکے سر پتھر سے کچلے جا رہے تھے جب بھی
انھیں کچل لیا جاتا وہ پہلے کی طرح درست ہوجاتے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا تو
آپ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا: اے جبریل علیہ السّلام یہ کون ہیں ؟ عرض کی یہ وہ لوگ ہیں
جنکے سر نماز سے بوجھل ( بھاری) ہوجاتے ( یعنی فرض نماز چھوڑ دیتے) تھے۔
(مسند بزار ج 17 ص 5 حدیث: 9518 ، فیضان نماز ص
432)
4: فاروق
اعظم رضی اللہُ عنہ بیان
کرتے ہیں کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اللہ پاک اسکے عمل برباد کردے گا اور اللہ پاک
کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا ( اللہ کی امان میں نہیں رہے گا ) جب تک اللہ پاک کی
بارگاہ میں توبہ نہ کرلے ۔
(الترغیب
والترھیب، ج1 ص 216 حدیث: 18 فیضان نماز ص 444)
5 :حضرت سیدنا
ابن عباس رضی اللہُ عنہ کی
جب بینائی جاتی رہی تو آپ سے عرض کی گئ ہم علاج کردیں گے ، کیا آپ اسکے لیے کچھ
دن نماز چھوڑسکتے ہیں ؟ فرمایا نہیں کیونکہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا
فرمان ہے کہ جس نے نماز چھوڑی تو وہ اللہ پاک سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس
پر ناراض ہوگا ۔( مجمع الزوائد ج: 2 ص: 26 حدیث: 1632، فیضان نماز ص 445 )
پیارے اسلامی
بھائیوں میری آپ سے گزارش ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں 5 وقت سر بسجود ہونے
کا معمول بنا لیجئے کیونکہ جب ہم دنیا کی آگ و تپش برداشت کرنے سے قاصر ہیں تو
آخرت کے عذابات کیونکر سہ پائیں گے ۔
Dawateislami