دعوت اسلامی کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں یوکے لندن سلاؤ(Slough) کابینہ میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں جملہ ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور رمضان المبارک کے نکات بیان کئے نیز دینی کاموں کو مزید بڑھانے اور اس میں بہتری لانے کے حوالے سے نکات فراہم کئے۔


دعوتِ  اسلامی کے شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں یوکے اسکاٹ لینڈ (Scotland)ریجن میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ سطح کی مدرسۃ المدینہ بالغات ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ریجن سطح کی مدرسۃ المدینہ بالغات ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اورطریقۂ تدریس اور شعبہ میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے مدنی پھول دئیے۔


دعوتِ  اسلامی کے شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں یوکے لندن (London)ریجن میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ سطح کی مدرسۃ المدینہ بالغات ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ریجن سطح کی مدرسۃ المدینہ بالغات ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور”کوشش کامیابی کی کنجی ہے“ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کارکردگی مزید بہتربنانے، مدارس کو جدول کے مطابق چلانے نیز دینی کاموں میں عملی طور پر شرکت کرنےکا ذہن دیا۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ اصلاحِ اعمال للبنات کے زیرِ اہتمام یوکے برمنگھم(Birmingham) ریجن میں ذمہ دار اسلامی بہنوں کا بذریعہ اسکائپ مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ وڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ریجن ذمہ داراسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے تربیت کی اور اسلامی بہنوں کو اصلاح اعمال کے شعبے میں مزید ترقی و بہتری لانے، زیادہ سے زیادہ اسلامی بہنوں کو نیک اعمال کی عاملات بنانے اور اسلامی بہنوں کو مدنی ماحول سے قریب لانے کے لئے نکات پیش کئے،خاص طور پر عاملات نیک اعمال بڑھانے کے لئے خصوصی توجہ دینے اور اس کے لئے خصوصی اجتماعات برائے اصلاح اعمال منعقد کرنے کی ترغیب دلائی۔


 دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام یوکے کے علاقے وارنگٹن (Warrington)میں کورس بنام”جنت و دوزخ کیاہیں؟“ کا انعقاد کیا گیاجس میں 12 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور کورس میں شریک اسلامی بہنوں کو جنت و دوزخ کیا ہیں؟، کن اعمال سے جنت ملتی ہے اور کن اعمال سے بندہ جہنم میں جاتا ہے، جنت و دوزخ کہاں ہیں؟ وغیرہ نیز اس کے ساتھ قیامت کی نشانیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔


 دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں یوکے کے علاقے لانگسائٹ(Longsight) میں کورس بنام”جنت و دوزخ کیاہیں؟“ کا انعقاد کیا گیاجس میں 55 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور کورس میں شریک اسلامی بہنوں کو جنت و دوزخ کیا ہیں؟، کن اعمال سے جنت ملتی ہے اور کن اعمال سے بندہ جہنم میں جاتا ہے، جنت و دوزخ کہاں ہیں؟ وغیرہ نیز اس کے ساتھ قیامت کی نشانیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔


ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں امیر اہل ِسنت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کسی ایک مدنی رسالے کے مطالعے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں اور رسالہ پڑھنے اور سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازتے ہیں۔ مطالعہ کرنے یا سننے والے خوش نصیبوں کی کارکردگی امیر اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں پیش بھی کی جاتی ہے۔

پچھلے ہفتے امیر اہل ِسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے رسالہ ”بسم اللہ شریف کی برکتیں“ پڑھنے یا سننے کی ترغیب دلائی۔

اسی سلسلے میں یوکے کے مانچسٹر ریجن سے 2ہزار900 ، لندن ریجن سے 2ہزار174، بریڈ فورڈ ریجن سے 9ہزار214، برمنگھم ریجن سے 6ہزار443، آئرلینڈ سے 71 اور اسکاٹ لینڈ ریجن سے 398 اسلامی بہنوں نے پڑھنے یا سننے کی سعادت حاصل کی۔

مجموعی طور پر تقریبًا21ہزار200اسلامی بہنوں نے رسالہ ”بسم اللہ شریف کی برکتیں“ پڑھنے یا سننے کی سعادت حاصل کی۔


(1) ہر وقت دل کا پریشان رہنا۔

(2) چہرے سے ایمان کا نور نکل جاناچہرے کا بے رونق ہو جانا۔

(3)اچانک لا علاج بیماریوں میں مبتلا ہو جانا۔

(4) دل میں اور بعض دفعہ تمام بدن میں اچانک کمزوری پیدا ہو کر صحت کا خراب ہو جانا ۔

(5) ہر طرف سے ذلّتوں ،رسوائیوں اور ناکامیوں کا ہجوم ہونا۔اسی طرح کھیتیوں اور باغوں کی پیداوار میں کمی آنا۔( جنتی زیور ،عبدالمصطفی اعظمی،صفحہ 93)

اللہ کریم سے دعا ہے! اللہ کریم اپنے فضل سے ہمیں عبادت کی استقامت کے ساتھ توفیق مرحمت فرمائے اور ہمیں ان عذابات سے محفوظ فرمائے ۔اللہ کریم ہمیں دنیا و قبر و حشر کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جس طرح نماز پڑھنے کے فوائد کا احاطہ کرنا ممکن نہیں اسی طرح نماز نہ پڑھنے کے نقصانات کا شمار نہیں ۔ذیل میں ہم ان پانچ دنیاوی نقصانات کا ذکر کریں گےجس کا ایک فہم رکھنے والا شخص اپنی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتا ہے ۔

1 ۔بے ترتیب جدول: نماز کی حفاظت کا ذہن رکھنے والا شخص اپنے دن بھر کے کاموں کو بھی اسی حساب سے ترتیب دے گا ، جب کہ نماز کی پابندی نہ کرنے والا ایک آزادانہ ذہن کا مالک ہوتا ہے۔

2 ۔ وقت کی کمی :ایک باقاعدہ جدول نہ ہونے کے سبب انسان اپنے وقت کو صحیح طور پر تقسیم نہیں کر پاتا اور یوں وقت کی کمی کا شکار رہتا ہے ۔

3 ۔ نیند کی کمی اور زیادتی :وقت پر نماز پڑھنے والا شخص اپنے سونے اور جاگنے کے اوقات بھی لحاظ رکھتا ہے اور جسے اپنی نماز کی حفاظت کی فکر نہ ہو وہ اپنے سونے اور بیدار ہونے پر بھی غور نہیں کرتا ۔ رات کو دیر تک جاگنا اور صبح دیر تک سوتے رہنے سے نہ صرف صحت خراب ہوتی ہے بلکہ دن بھر کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں ۔

4 ۔ کھانے میں بے ترتیبی :دیر سے سونے اور جاگنے کا عادی کھانا بھی اسی روٹین سے کھاتا ہے کھانے میں بے ترتیبی انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کر سکتی ہے ۔

5 ۔فوائد سے محرومی: نماز پڑھنے والا جن فوائد کا سزاوار ٹھہرتا ہے نماز کا تارک ان فوائد سے محروم رہتا ہے اور فائدے سے محروم رہ جانا بھی ایک طرح کا نقصان ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ رضائے الہی کے لئے نہ صرف نماز کی پابندی کریں بلکہ وقت پر ادا بھی کریں تاکہ دونوں جہاں میں نماز کی حقیقی برکتوں سے مستفیض ہو سکیں ۔


ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد و عورت پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے اس کی فرضیت یعنی فرض ہونے کا انکار کرنا کفر ہے جو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے گا وہ گنہگار عذاب نار کا حقدار ہوگا۔

والد اعلی حضرت مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جو کسی سبب یا عذر کے بغیر نماز ترک کرتے ہیں خدا اور رسول سے اصلا نہیں شرماتے قیامت کے دن اگر ایک نماز کے بدلے پوری دنیا دینا چاہیں گے تو قبول نہ ہوگی اور اگر ہزار برس روئیں گے تو بھی نجات نہ ملے گی۔

جہاں نماز نہ پڑھنے کی بے شمار وعیدات ہیں اور آخرت میں بے نمازی کے لئے بہت سخت سزا ئیں احادیث میں بیان کی گئی ہیں نماز نہ پڑھنے کے دنیاوی نقصانات بھی ہیں ۔

اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جو نماز کی پابندی کرے گا اللہ پاک پانچ باتوں کے ساتھ اس کا اکرام فرمائے گا 1۔اس سے تنگی 2۔قبر کا عذاب دور فرمائے گا3۔ اللہ پاک نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دے گا 4۔پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزرے گا اور5۔ بغیر حساب کے جنت میں داخلہ دیا جائے گا ۔

جو سستی کی وجہ سے نماز ترک کر دے گا اللہ پاک اسے پندرہ سزائیں دے گا۔ پانچ دنیا میں، تین موت کے وقت، اور تین قبر میں، تین قبر سے نکلتے وقت۔

دنیا کی پانچ سزائیں :

1۔عمر سے برکت زائل :

اس کی عمر سے برکت زائل کر دی جائے گی ۔

2۔ نیک بندوں کی نشانی ختم : اس کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی ختم کر دی جائے گی ۔

3۔ عمل کا ثواب نہ ملنا : اللہ کریم اس کے کسی عمل کا ثواب نہ دے گا۔

4۔ دعا کا رد ہونا : اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔

5۔نیک بندوں کی دعاوں میں حصہ نہ ہونا ۔

فقیہ ابو اللیث سمرقندی کی نقل کردہ روایت میں جو پندرہ سزائیں ذکر ہوئی ہیں ان میں سے ایک سزا یہ بھی ہے کہ مخلوق اس سے نفرت کرے گی۔

اللہ کریم ہمیں پانچ وقت کی نماز پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


آپ نے اکثر کتابوں میں نماز پڑھنے کے فوائد  کے بارے میں پڑھا ہو گا یا نماز نہ پڑھنے کے عذابات کے بارے میں پڑھا ہو گا، لیکن آج بات کرتے ہیں کہ نماز نہ پڑھنے کے دنیاوی نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔نماز نہ پڑھ کر انسان داخلِ جہنم تو مرنے کے بعد ہوگا، لیکن کیا زندگی اور دنیا میں بھی نماز نہ پڑھنے کے کچھ نقصانات ہو سکتے ہیں؟

آئیے! اس تحریر میں یہ جاننے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، کیوں کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہےان شاءاللہ

(1) انسانی جسم کا نقصان:

نماز نہ پڑھنے کا سب سے بڑا نقصان انسانی جسم کو اُٹھانا پڑتا ہے، کیونکہ نماز پڑھنے میں انسان کھڑا ہوتا ہے، بیٹھتا ہے، جھکتا ہے، مُڑتا ہے اور اسی طرح کی مشق سے انسانی جسم حرکت میں رہتا ہے اور اقبال کے نزدیک حرکت زندگی ہے۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ

گویا کہ ہم اگر حرکت کر رہے ہیں تو ہم زندہ ہیں، ورنہ ہم مردہ ہیں اور زندہ قو میں زندگی میں جیا کرتی ہیں اور مردہ قو میں زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزار کر اس دنیا سے چلی جاتی ہیں، پھر نہ ان کا نام باقی رہتا ہے، نہ پہچان، تاریخ گواہ ہے کہ حرکت کرنے والے اپنی زندگی میں بھی نامور ہے اور مرنے کے بعد بھی ۔

(2)ظاہری و باطنی صفائی ستھرائی:

جو شخص نماز کی پابندی نہیں کرتا وہ شخص اپنی ظاہری و باطنی صفائی ستھرائی سے محروم رہتا ہے، حدیث شریف میں ہے: صفائی نصف ایمان ہے۔

سب سے پہلے تو ہم نماز کی پابندی نہ کرکے آ دھا ایمان بچانے سے محروم ہوجاتے ہیں، دوسرے نماز سے غفلت سے اس کے فوائد سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے بار بار ہمارے جسمانی اعضاجب دُھلتے ہیں تو اس سے ہمیں ظاہری صفائی ملتی ہے اور بار بار اپنے رب کے حضور جھکنے سے گناہوں سے دوری ہو جاتی ہے۔

اے بے خبری کی نیند سونے والو

راحت ِقلبی میں وقت کھونے والو

کچھ اپنے بچاؤ کی بھی سوچی تدبیر

اے ڈوبتی ناؤ کے ڈبونے والو

(3) وقت کا پنچھی آسانی سے نہیں اُڑ پاتا:

آج کل وقت کو تو گویا پر لگ گئے ہیں، ابھی صبح، ابھی شام، ابھی جمعہ گیا، ابھی اگلا جمعہ آگیا، دیکھتے ہی دیکھتے سال گزر جاتا ہے۔

صبح ہوتی ہے ، شام ہوتی ہے

عمر یونہی تمام ہوتی ہے

صبح کا وقت پکڑنے میں فجر مدد کرتی ہے، ظہر ، عصر اور مغرب کے وقت بھی کنٹرول میں رہتے ہیں اور رات بھی بذریعہ عشا کنٹرول میں رہتی ہے،امیرِ اہلِ سنت بجا فرماتے ہیں:کرنے والے کام کرو، ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جاؤ گے۔

(4)انسان پاگل ہونے سے محفوظ رہتا ہے:

ایک لفظ آپ نے بہت سنا ہوگا (tension) ، جس سے آج کل کوئی محفوظ نہیں، نماز یہاں بھی ہماری مددگار ہے۔نماز ایک فرض عبادت ہے اور ہر غمی، خوشی میں ادا کرنی ہے ، لہذا جب بے شمار پریشانیوں میں گھرے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ نماز بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں تو ذہن پریشانیوں سے بٹ جاتا ہے، اگر انسان غم کو ذہن پر مسلسل سوار کرلے، تو دماغی توازن بگڑنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں، جب کہ جب پریشانی میں ذہن ان کی طرف سے ہٹتا ہے اور انسان اللہ سے مدد طلب کرتا ہے تو پھر ذہن کا توازن بگڑنے سے بچ جاتا ہے اور دل ودماغ کو سکون ملتا ہے۔

خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تُو زباں تُو ہے

یقیں پیدا کر اے غافل! کہ مغلوبِ گماں تُو ہے

(5) انسان عزت و وقار پاتا ہے:

انسانی فطرت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کے سامنے ذلیل و رسوا نہ ہو، لوگوں میں عزت و وقار پائے، اس مقصد کے لئے انسان دنیا میں تہذیب وتمدن کے طور طریقے اپناتا ہے ، خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور ترقی کے زینے طے کرتا چلا جاتا ہے، کبھی ڈرتے ڈرتے تو کبھی بے خوف ہو کر۔۔

برتر اَز اندیشہ سو دو زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

جب انسان پانچ وقت خدا کے دربار میں حاضر رہتا ہے، اپنے ربّ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا رہتا ہے اور اپنی حاجتوں کی برآوری کا سوال کرتا رہتا ہے اور اپنی خواہشوں کا طلبگار رہتا ہے تو وہ رب جو انسان سے ستر ماؤں کے برابر محبت کرتا ہے وہ بھی اس پر اپنی مہربانیوں کی بارش برسا ہی دیتا ہے، پھر انسان کو عزت، دولت، شہرت اور ہر وہ شے نصیب ہو جاتی ہےجس کا وہ متمنی ہوتا ہے اور اسی طرح انسان دنیا میں عزت و وقار کا تاج پہنتا ہے، جیسا کہ ہمارے مولانا الیاس قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ

اور جو ایسا نہیں کر پاتا، وہ جسمانی، ذہنی، معاشی اُلجھنوں میں گھرا رہتا ہے اور لوگوں کے تماشے کا سامان بنا رہتا ہے۔

جب عشق سکھاتا ہے آداب ِخودآگاہی

کُھلتے ہیں غلاموں پر اَسرار ِشہنشاہی


نماز فجر:

1: نماز فجر کے وقت سوتے رہنے سے معاشرتی ہم آہنگی پر اثر پڑتا ہے

2: رزق میں کمی اور بے برکتی آجاتی ہے

3: چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے

لہذا مسلسل فجر قضاء پڑهنے والا شخص بهی انہی لوگوں میں شامل ہے

نماز ظہر:

1: وہ لوگ جو مسلسل نماز ظہر چهوڑتے ہیں وہ بدمزاجی اور بدہضمی سے دو چار ہوتے ہیں

2: اس وقت کائنات زرد ہو جاتی ہے اور معدہ اور نظامِ انہضام پر اثر انداز ہوتی ہے

3: روزی تنگ کردی جاتی ہے

نماز عصر:

1: اکثر نماز عصر چهوڑنے والوں کی تخلیقی صلاحیتیں کم ہو جاتی ہیں اور عصر کے وقت سونے والوں کا ذہن کند ہو جاتا ہے اور اولاد بهی کند ذہن پیدا ہوتی ہے

2: کائنات اپنا رنگ بدل کر نارنجی ہو جاتی ہے اور یہ پورے نظامِ تولید پر اثر انداز ہوتی ہے

یاد رکهئے: روزِ قیامت جب جنتی لوگ جہنمیوں سے پوچھیں گے "تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈالا" تو جہنمی لوگ جواب دیں گے: ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔