برمنگھم  یوکے ریجن میں دعوتِ اسلامی کے نگران سید فضیل رضا عطاری نے حاصل پور پنجاب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور حاصل پور پنجا ب کے دکان مالکان کے درمیان مدنی حلقہ لگایا اور انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں سےآگاہی دیتے ہوئے انہیں دعوت ِاسلامی کے ساتھ تعاون کرنے کا ذہن بھی دیا۔


اُمت مسلمہ پر دن رات میں پانچ (5) نمازیں فرض کی گئی ہیں۔قرآن و حدیث میں جا بجا نماز کی تاکید فرمائی گئی اور نماز ترک کرنے پر  مختلف قسم کی سزائیں و عذابات ذکر کیے گئے ہیں۔ترک نماز کی پانچ سزائیں ملاحظہ ہوں:

1:ہولناک کنواں:

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاترجمہ کنز العرفان:تو ان کے بعد وہ نالائق لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے۔(پارہ 16 سورۃ مریم آیت 59)

آیت مبارکہ میں لفظ "غیّ" کے متعلق صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "غیّ" جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے، جس کا نام ’’ہب ہب‘‘ ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، اﷲ عزوجل اس کوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے و ہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔یہ کنواں نمازیوں، زانیوں،شرابیوں،سود خواروں اور ماں باپ کو ایذا دینے والے کیلئے ہے۔(بہار شریعت جلد اول صفحہ 434 ملتقطا)

2:سر کچلنے کی سزا:

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: آج رات دو شخص (جبرائیل و میکائیل علیہما السلام) میرے پاس آئے اور مجھے ارض مقدّس (بیت المقدس) میں لے آئے۔(بُخاری ج 1 ص 467 حدیث 1386)

میں نے دیکھا کہ ایک شخص لیٹا ہے اور اس کے سرہانے ایک شخص پتھر اٹھائے کھڑا ہے اور پے در پے پتھر سے اس کا سر کچل رہا ہے،ہر بار کچلنے کے بعد سر پھر ٹھیک ہوجاتا ہے۔میں نے اُن فرشتوں سے کہا:سبحان اللہ! یہ کون ہے؟ اُنہوں نے عرض کی :آگے تشریف لے چلیے!(مزید مناظر دکھانے کے بعد)فرشتوں نے عرض کی:پہلا شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا یہ وہ تھا جس نے قرآن پڑھا پھر اس کو چھوڑ دیا اور فرض نمازوں کے وقت سوجاتا تھا۔

(بُخاری ج 4 ص 425 حدیث 7047 ملخصاً ، فیضان نماز ص 432)

3:اللہ پاک کے غضب کا مستحق:

"قرۃ العیون" میں نقل کردہ حدیث پاک میں یہ مضمون ہے کہ اُمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس افراد ایسے ہیں جن پر اللہ پاک بروز قیامت غضبناک ہوگا،ان کے چہرے بغیر ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں گے اور انہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم صادر فرمائے گا(ان میں سے دسواں ہے) بے نمازی۔ مگر بے نمازی کیلئے دُگنا عذاب ہوگا اور بے نمازی بروز قیامت اس حال میں اٹھے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں بندھے ہونگے اور فرشتے اُس کی پٹائی کر رہے ہوں گے۔(فیضان نماز 453 ملخصا و ملتقطا)

4:جہنم کے دروازے پر نام:

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اُس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔

(حلیہ الاولیاء ج 7 ص 992 حدیث 1059،فیضان نماز ص 425)

5:قبر میں سزا:

قبر میں اس (بے نمازی) پر ایک اژدھا (بہت بڑا سانپ) مسلّط کر دیا جائے گا۔جب وہ اسے(مردے کو) مارے گا تو وہ ستّر 70 ہاتھ تک زمین میں دھنس جائے گا۔

(فیضان نماز ص 427 ملتقطا)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان ہولناک عذابات سے بچائے ۔ اور سچا پکّا نمازی بنائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اے عاشقانِ رسول! نماز ہم پر فرض کی گئی ہے، جو لوگ باجماعت پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں ان کو فوائد ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں، مگر نعوذ باللہ جو لوگ بلا اجازتِ شرعی نماز قضا کر دیتے ہیں ان کو اللہ کریم کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے، ایسے لوگ اپنی آخرت تو خراب کرتےہی ہیں، ساتھ ساتھ اُن کو دنیا میں بھی نماز نہ پڑھنے کے سبب نُقصانات اُٹھانا پڑتے ہیں۔

1۔ پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان کی عمر میں سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔

2۔ ایسے لوگوں کے چہرے سے نیک بندوں کی علامت (نشان) مٹا دی جاتی ہے ۔

3۔ اللہ پاک اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے گا۔

4۔ اس کی کوئی بھی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔

5۔ اور نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا ،العیاذ باللہ

( کتاب الکبائر صفحہ24 ، فیضانِ نماز صفحہ 427)

پیارے اسلامی بھائیو! ہم ذرا غور تو کریں کہ اللہ کریم کے ہم پر کتنے سارے انعامات ہیں مگر ہم اس کریم ربّ کی نافرمانیوں میں لگے رہتے ہیں، آج ہمارے معاشرے میں نماز قضا کرنے کو کچھ سمجھا ہی نہیں جاتا، ایسا کیوں؟؟ کیا ہم پر صرف جمعہ یا عیدین کی نماز فرض ہے ، پانچوں نمازوں کے وقت مؤذن ہمیں بُلاتا ہے مگر ہم اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں، کاروباری لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں حالانکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ رزق اللہ کریم نے ہی عطا فرمانا ہے، مگر اس ربّ کا حکم ہے نماز پڑھو مگر ہم ہیں کہ غافل رہتے ہیں۔

اللہ کریم اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں پانچوں نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے طہارت ِکاملہ اور اوقات (کے لحاظ) کے ساتھ پانچ نمازوں کی حفاظت کی تو یہ نماز قیامت کے دن اس کے لیے نور اور دلیل ہوگی اور جس نے ان نمازوں کو ضائع کیا اس کا حشر فرعون اور ہامان کے ساتھ ہوگا۔(شعب الایمان)

فرمانِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم: جس نے جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دی، وہ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ رحمت سے باہر ہوگیا۔ (مجمع الزوائد)

جب اہلِ جنت اہلِ جہنم سے پوچھیں گے:تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کیا؟ تو ان کا پہلا جواب یہ ہوگا:ہم نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ ( سورۃ المدثر، پ29 ، آیت،42،43)

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی نماز کو حقیر جانے گا، اسے اللہ پاک سے پندرہ سزائیں ملیں گی، چھ سزائیں زندگی میں، تین مرتے وقت، تین قبر میں اور تین روزِ حساب میں۔

زندگی کی چھ سزائیں:

(1) اللہ اس کی زندگی سے رحمتیں اٹھا لے گا( اس کی زندگی بدنصیب بنا دے گا)

(2) اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرے گا۔

(3) اللہ اس کے چہرے سے سے اچھے لوگوں کی علامت مٹا دے گا ۔

(4) زمین پر موجود تمام مخلوقات اس سے نفرت کرے گی۔

(5) اللہ اسے اس کے اچھے کاموں کا صلہ نہیں دے گا۔

(6) وہ اچھے لوگوں کی دعاؤں میں شامل نہیں ہوگا۔

مرتے ہوئے تین سزائیں:

(1) وہ ذلیل ہوکر مرے گا۔

(2) وہ پیاسا مرتا ہے( اگرچہ وہ تمام سمندروں کا پانی بھی پی لے تو پیاسا ہی رہے گا)

(3) وہ بھوکا مرتا ہے۔

قبر میں تین سزائیں :

(1) اللہ اس کی قبر کو تنگ کر دے گا یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسر ے کے اوپر چڑھ جائیں گی۔

(2) اللہ اسے چنگاریوں والی آگ میں اُنڈیل دے گا۔

(3) اللہ اس پر ایک سانپ بٹھا دے گا جو "بہادر" اور "دلیر" کہلاتا ہے، جواسے نماز فجر چھوڑنے پر صبح سے لے کر دوپہر تک ڈسے گا، نمازِ ظہر چھوڑنے پر نماز عصر تک ڈسےگا، ہر ضرب کے ساتھ مردہ 70گز زمین کے اندر دھنسے گا۔


نماز اللہ کی ایک عظیم الشان نعمت اور افضل ترین عبادت ہے جس کا ادا کرنا ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔ جو لوگ اپنی نمازوں کو کامل طریقے کے ساتھ پڑھتے ہےان  لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت پارہ 29سورة المعارج آیت 34 اور 35 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ اُولٰٓىٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور وہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا۔

خوش قسمتی ہے ان لوگوں کیلئے جن کو نماز پڑھنے کی توفیق عطا ہوئی لیکن بد بختی ان لوگوں کیلئے جو اس نعمت سے غافل ہیں۔

بے نمازیوں کے متعلق قران و حدیث میں مختلف مقامات پر عذابات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ پاک نے قران پاک میں بے نمازیوں کے متعلق سورةالمدثر پارہ 29 ایت 42 اور 43 میں ارشا فرمایا: مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ترجَمۂ کنزُالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے ۔

جو اپنی نمازوں کو بلا وجہ ترک کرتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں حضور علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا :جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہو گا۔(حلیۃ الاولياء ج8ص996)

ایک اور حدیث میں بیان فرمایا گیا: جس کی نماز فوت ہوئی گویا اس کے اہل و مال جاتے رہے۔ (بخاری ج2ص105)

بے نمازی کیلئے سب سے بڑی سزا یہ ہو گی کہ کل قیامت کے دن وہ اللہ پاک کے دیدار سے محروم رہے گا۔

غور کریں وہ لوگ جو اپنی نمازوں کو دنیا کے کام کاج کی وجہ سےچھوڑ دیتے ہیں اور نماز کی بالکل پرواہ نہیں کرتے ۔

سرورکائنات صلى الله علیہ وسلم معراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس تشریف لے گئے جن کے سر پتھر سے کچلے جا رہے تھے۔ جب بھی انہیں کچل لیا جاتا وہ پہلے کی طرح درست ہو جاتے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا ۔آپ صلى الله علیہ وسلم نے پوچھا :اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟عرض کی:یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز پڑھنے سے بوجھل ہو جاتے تھے۔

(مسند بزارج18ص5)

ایک اور جگہ حضور صلى الله علیہ وسلم نےبے نمازیوں کے بارے میں فرمایا : قصدا نماز نہ ترک کرو کہ جو قصدا نماز کو ترک کرتا ہے اللہ و رسول اس سے بری الذمہ ہیں۔

ذرا سوچیں کہ جس شخص سے حضور صلى الله علیہ وسلم بری الذمہ ہوں تو کل قیامت میں اس کی شفاعت کون کرے گا۔

اللہ ہم سب کو پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک نے جہنميوں کے بارے ميں ارشاد فرمايا: مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی؟وہ بولے: ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔

(پ29، المدثر:42،43)

ہر مسلمان مرد اور عورت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایمان اور عقیدوں کو صحیح کر لینے کے بعد سب فرضوں سے بڑا فرض نماز ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بار بار اس کی تاکید آئی ہے۔ یاد رکھیں! جو نماز کو فرض نہ مانے یا نماز کی توہین کرے یا نماز کو ایک ہلکی اور بے قدر چیز سمجھ کر اس کی طرف بے توجہی برتے، وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے ،اور جو شخص نماز نہ پڑھے وہ بہت بڑا گناہ گار،قہرِقہار اور غضبِ جبار میں گرفتار اور عذابِ جہنم کا حقدار ہے اور وہ اس لائق ہے کہ بادشاہ ِاسلام پہلے اس کو تنبیہ و سزا دے،پھر بھی وہ نماز نہ پڑھے تو اس کو قید کردے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے ۔

نماز نہ پڑھنے پر جو وعیدیں آئیں ان میں سے بعض یہ ہیں:

1. حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے، حضوراقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا:جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑی تو جہنم کے اُس دروازے پر اِس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء، 7/299، حدیث: 10590)

2. حضرت اُمِّ ایمن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا سے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا: قصداً نماز ترک نہ کرو کیونکہ جو قصداً نماز ترک کردیتا ہے،اللہ پاک اوراس کا رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے بری الذِّمہ ہیں۔(مسند امام احمد ، مسند القبائل ،حدیث ام ایمن رضی اللہ عنہ،)

3. حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے تارکینِ نماز کے منہ کالے کئے جائیں گے اور جہنم میں ایک وادی ہے جسے ’’ لَمْلَم‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں سانپ رہتے ہیں ، ہر سانپ اونٹ جتنا موٹا اور ایک ماہ کے سفر کے برابر طویل ہوگا، وہ بے نمازی کوڈسے گااس کا زہر ستّر سال تک بے نمازی کے جسم میں جوش مارتا رہے گا، پھر اس کا گوشت گل جائے گا۔

4. (مکاشفۃ القلوب ،باب تارک نماز کا عذاب ، ص 369)

5. بزاز کی روایت میں اس طرح ہے کہ پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسی قوم پر تشریف لائے جن کے سَر پتھر سے پھوڑے جارہے تھے، جب وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے تو پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتے اور یہی عذاب انہیں برابر دیا جارہا تھا۔ آپ نے پوچھا: جبریل !یہ کون ہیں ؟ جبریل نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز پڑھنے سے بھاری ہوجاتے یعنی یہ نماز نہیں پڑھتے تھے ۔

(مکاشفۃالقلوب ،باب تارک نماز پر عذاب ، ص 363)

6. بعض محدثین سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ سےفرمایا: تم یوں دعا مانگا کرو ! اے اللہ! ہم میں سے کسی کو شقی اور محروم نہ بنا۔ پھر فرمایا: جانتے ہو بدبخت محروم کون ہوتا ہے؟ کہا گیا : کون ہوتا ہے؟ یارسول اللہ! آپ نے فرمایا: جو انسان تارکِ نماز ہوتا ہے۔

(مکاشفۃ القلوب ،باب تارک نماز پر عذاب ، ص369)

بعض صالحین سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی مردہ بہن کو دفن کیا تو اس کی تھیلی بے خبری میں قبر میں گر گئی۔ جب سب لوگ اسے دفن کر کے چلے گئے تو اسے اپنی تھیلی یاد آئی، چنانچہ وہ آدمی لوگوں کے چلے جانے کے بعد بہن کی قبر پرپہنچا اور اسے کھودا تاکہ تھیلی نکال لے۔ اس نے دیکھا کہ اس کی قبر میں شعلے بھڑک رہے ہیں ، چنانچہ اس نے قبر پر مٹی ڈالی اور انتہائی غمگین روتا ہوا ماں کے پاس آیا اور پوچھا: ماں ! یہ بتاؤ کہ میری بہن کیا کرتی تھی؟ ماں نے پوچھا: تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ وہ بولا میں نے اپنی بہن کی قبر میں آگ کے شعلے بھڑکتے دیکھے ہیں ۔ اس کی ماں رونے لگی اور کہا: تیری بہن نماز میں سُستی کرتی رہتی تھی اور نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھا کرتی تھی۔

یہ تو اس کا حال ہے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھا کرتی تھی اوران لوگوں کا کیا حال ہے جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔

اے اللہ! ہم تجھ سے نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے اور پابندی سے نماز پڑھنے کی توفیق طلب کرتے ہیں ، بے شک اے رب! تو مہربان،کریم، رؤف اور رحیم ہے۔

(مکاشفۃ القلوب ، باب تارک نماز پر عذاب ، ص ۳۷۰) 


اللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳) ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ ( النساء: 103 )

اور ارشاد فرماتا ہے : وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔

(البقرہ : 43)

نماز کی اہمیت کا اندازہ ان آیات سے لگایا جا سکتا ہے ۔اور اس کے علاوہ نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سارے احکام نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زمین پر بھیجے اور جب نماز کو فرض کرنا تھا تو پیارے آقا کو عرش عظیم پر بلایا۔اور نماز کو فرض کیا۔یہ تحفہ معراج کی رات ملا۔

نماز ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔اور جو قصداً ایک نماز چھوڑ دیتا ہے وہ فاسق ہے ۔(بہار شریعت جلد 1)

نماز قضا کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہےجو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔ ( الماعون:4،5)

بے نمازی کی پانچ سزائیں :

بے نمازیوں کی بے حد احادیث مبارکہ میں سزائیں آئی ہیں ۔چند درج ذیل ہیں ۔

1۔جب پیارے آقا محمد عربی صلی الله علیہ وسلم معراج کی رات تشریف لے کے گئے تو ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جن کے سر پتھر سے کچلے جا رہے تھے ایک بار کچلنے کے بعد وہ پھر درست ہو جاتے ۔آپ نے پوچھا ۔اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟آپ نے عرض کی : یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز پڑھنے سے بوجھل (بھاری) ہو جاتے تھے ۔(فیضان نماز،ص422)

کتاب الکبائر میں ہے جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ویل ہے۔دنیا کے اگر سارے پہاڑ اس میں ڈال دیے جائیں تو وہ بھی اس کی گرمی سے پگھل جائیں ۔یہ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے جو نماز میں سستی کرتے اور وقت گزار کر پڑھتے ہیں مگر یہ کہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لیں ۔

(فیضان نماز، ص431)

غی جہنم کی ایک وادی ہے جس کی گہرائی اور گرمی سب سے زیادہ ہے اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ہب ہب ہے ۔جہنم کی آگ جب بجھنے پر آتی ہے اللہ تعالیٰ اس کنوایں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ پہلے کی طرح بھڑک جاتی ہے ۔،یہ کنواں بے نمازیوں شرابیوں زانیوں اور والدین کو ایذا دینے والوں کے لے ہے۔(فیضان نماز ص 422)

بے نمازی کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی اور پھر وہ دن رات اس میں الٹ پلٹ ہوتا رہے گا ۔

جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام لملم ہے اس میں اونٹ کی گردن جیسے بڑے بڑے سانپ ہیں ہر سانپ کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت ہے ۔جب وہ بے نمازی کو ڈسے گا تو اس کا زہر 70 ستر سال تک جسم میں جوش مرتا رہے گا یہ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے جو نماز نہیں پڑھتے ۔

بے نمازی ان احادیث مبارکہ کو غور سے پڑھے اور بار بار پڑھے ۔اِن شآءَ اللہ نماز کی پابندی نصیب ہو گی ۔اللہ تعالیٰ ہمیں پانچ وقت نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


برمنگھم یوکے ریجن میں دعوتِ اسلامی کے نگران سید فضیل رضا عطاری نے حاصل پور پنجاب میں موجود "جامعۃ الفردوس "کا وزٹ فرمایااور وہاں مدنی حلقہ لگایا ۔ نگران برمنگھم ریجن نے وہاں کے بانی و پرنسپل مفتی محمد بشیراحمد فردوسی اور وہاں موجود طلبہ کرام سے ملاقات کی اور دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا۔


نماز افضل عبادات میں سے سر فہرست ہےجس کو قائم کرنے کا حکم قرآن مجید میں بے شمار جگہ پر دیا گیا ہے,لیکن آج بدقسمتی سے نماز پڑھنے کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے ۔مسجدیں تو بڑی بڑی بنا دی گئی ہیں لیکن ان میں نماز پڑھنے والے چند گنے چنے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔کیسی بے حسی ہے ,کس بے دردی سے اللہ پاک کے اس حکم کی نافرمانی کی جارہی ہے کہ جس کا اندازہ خالی مسجدیں دیکھ کر ہوتا ہے ۔

میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے:جو نماز کے معاملے میں سستی کرے گا، سے اللہ پاک اس کو پندرہ قسم کی سزائیں دے گا ۔ان میں چھ دنیا میں ،تین موت کے وقت اور تین قبر سے نکلنے کے بعد۔

دنیا کی چھ سزائیں یہ ہیں :

۱۔ اللہ پاک اس کی عمر سے برکت زائل کردےگا۔

۲۔ سے اللہ پاک اس کے چہرے سے نیک لوگوں جیسی نورانیت چھین لے گا ۔

۳۔ اللہ پاک اس کے کسی عمل کا اجروثواب نہیں دے گا ۔

۴۔ اس کی کوئی دعا آسمان تک بلند نہ ہو گی ۔

۵۔ اللہ پاک لوگوں کے سامنے اسے ذلیل و خوار کرے گا ۔

۶۔ نیک لوگوں کی دعا میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔

موت کے وقت کی تین سزائیں :

۱۔ ذلیل ہو کر مرے گا ۔

۲۔ بھوکا مرے گا ۔

۳۔ مرتے وقت اس کو اتنی شدید پیاس لگے گی کہ اگر اسے سارے دریاؤں کا پانی بھی پلایا جائے، تو پیاس نہ جائے۔

قبر کی تین سزائیں :

۱۔ اس کی قبر تنگ کر دی جائے گی اور اسے قبر اس قدر بھینچے(یعنی دبائے) گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔

۲۔ اس کی قبر میں آگ بھڑکائی جائے گی جس میں الٹ پلٹ ہوتا رہے گا ۔

۳۔ اس پر قبر میں ایک اژدھا مسلط کر دیا جائے گاجس کا نام "اَلشُّجاع الاقرع" (یعنی گنجا سانپ جو سخت زہریلا ہوتا ہے)ہے۔ جب وہ ایک ضرب لگائے گا مردہ ستر ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا۔پھر وہ اژدھا اپنے ناخن زمین میں گاڑ کر اس کو نکالے گا۔اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتا رہے گا ۔

قبر سے اٹھنے کے بعد تین عذاب :

۱۔ اللہ پاک جہنم کی آگ کا ایک بادل اس کے چہرے کے سامنے مسلط فرمائے گا جو اس کو ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔

۲۔حساب کے وقت اللہ پاک اس کی طرف غضبناک نظر ڈالے گاجس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گا۔

۳۔اس کا حساب سختی سے لیا جائے گا۔ اللہ پاک اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گا۔(کتاب الکبائر،ص41)

اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ اللہ پاک بےنمازی پر کس قدر غضب فرماتا ہے ۔کیا اب بھی ہم غفلت کی چادر اوڑھ کر سوتی رہیں گی ،نمازوں کو قضا کرتی رہیں گی ۔آخر کب تک ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتی رہیں گی ۔کیا اس وقت سے ڈر نہیں لگتا جب ملک الموت علیہ السلام تشریف لائیں گے اور پیغام ِاجل سنائیں گے ۔قبر کی تاریکی،منکر نکیر کا سوال کرنا، قبر کا دبانا ،سانپ، بچھو کا قبر میں ڈیرہ جمانا،کیا ان سب باتوں پر ہمارا ایمان نہیں ؟اگر ہے تو پھر یہ نماز میں سستی کیسی ؟کیا کوئی بہانہ بھی رب العزت کی بارگاہ میں چل سکے گا۔لہذا پیاری اسلامی بہنوں! ابھی بھی موقع ہے ، اس سے فائدہ اٹھا لو ورنہ مرنے کے بعد ایک نہ چلے گی۔


نماز نور ہے ،نماز ایمان کی علامت ہے۔نماز رب کی رضا ہے

نماز آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔نماز اسلام کا پہلا رکن ہے۔نماز ایک عظیم نعمت ہے جو پابندی سے پڑھے گے جنت کا حقدار ہو گا۔اور جو نہیں پڑھے گا عذاب نار کا حقدار ہو گا۔قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیاد ہ ہے۔اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ہب ہب ہے جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے اللہ پاک اس کنوایں کو کھول دیتا ہے۔جس سے و ہ پہلے کی طرح بھڑکنے لگتی ہے۔یہ کنواں بے نمازیوں کے لے ہے۔

(بہار شریعت ص ٤٣٤ جلد ١)

نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے : جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑے گا اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاے گا جس سے و ہ داخل ہو گا ۔

(حلیۃ الاولیاء جلد ٧ ص ٩٩٢ حدیث: ١٠٥٩)

ایک اور روایت میں ہے جب و ہ قیامت کے دن آئے گا اس کے چہرے پر تین سطریں ہو گی

١۔اے اللہ کے حق کو ضالع کرنے والے۔

٢ِ۔اے اللہ کے غضب کے ساتھ مخصوص ۔

٣ِ۔ جس طرح تو نے دنیا میں اللہ کا حق ضائع کیا آج تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جا۔

(کتاب الکبائر ص ٢٥)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : قیامت کے دن سب سے پہلے بے نمازی کا چہر ہ سیا ہ ہو گا۔اور بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جسے لملم کہا جاتا ہے۔اس میں سانپ ہیں اور ہر سانپ اونٹ جتنا ہے۔اس کی لمباعی ایک ما ہ کی مسافت ہے ۔جب و ہ بے نمازی کو ڈسے گا اس کا ز ہر ٧٠سال اس کے جسم میں جوش مارتا ر ہے گا۔پھر اس کا گوشت ہڈی سے الگ ہو کر گل جائے گا۔ (المرجع السابق ،ص ٢٦)

منقول ہے جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام جب الحزن ہےاس میں کالے خچر کی مانند کالے بچھو کے ستر ڈنگ ہیں اور ہر ڈنگ میں ایک تھیلی ہے و ہ بچھو جب کسی بے نمازی کو ڈنگ مارتا ہےاس کا ز ہر سارے جسم میں سرایت کرتا ہے اور اس ز ہر کی گرمی ایک ہزار سال تک اس کے جسم میں رہتی ہے اس کے بعد اس بے نمازی کی ہڈیوں سے گوشت جھڑتا ہےاور اس کی شرم گا ہ سے پیپ بہنے لگتی ہے اور تمام جہنمی اس پر لعنت بھجتے ہیں ۔

(نیکیوں کی جزایں اور گنا ہوں کی سزائیں ، ص ٢٦) ۔

اللہ تعالی پابندی سے نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جس کی نماز فوت ہوئی اس کے اہل و مال جاتے رہے۔

(بخاری، ج2، ص105،حدیث 2063)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز عصر جاتی رہی اس کا گھربار اور مال لٹ گیا ۔

(بخاری، ج1،ص202،حدیث 552)

قیامت میں پہلا سوال :

قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا سوال کیا جائے گا اگر یہ درست رہی تو سارے اعمال ٹھیک ہوں گے اور اگر یہ بگڑی تو سارے اعمال بھی بگڑے ۔ (معجم اوسط، ج1، ص506)

جہنم کے دروازے پر نام :

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جان بوجھ کر نماز چھوڑتا ہے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (حلیۃ الاولیاء،ج8،ص992)

ہزار سال رونا:

والد اعلیٰ حضرت علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو بے کسی سبب اور عذر کے نماز ترک کرتے ہیں اور خدا اور رسول سے اصلاً نہیں ڈرتے قیامت کے دن اگر ایک نماز کے بدلے پوری دنیا دینا چاہیں گے اور ہزار سال تک روئیں گے تو بھی نجات نہ ملے گی۔

(انور جمال مصطفیٰ، ص 366)

نماز نہ پڑھنے والے کو قبر میں سزا:

بے نمازی کی قبر کو اتنا تنگ کردیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی اس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی پھر وہ دن رات اس میں الٹ پلٹ ہوتا رہے گا اور قبر میں اس پر ایک سانپ مسلط کر دیا جائے گا اس کا نام الشجاع الاقرع ہوگا یعنی گنجا سانپ ، اس کی آنکھیں آگ کی ہوں گی اور ناخن لو ہے کے۔

اس کے ناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہوگی اور وہ میت سے کلام کرتے ہوئے کہے گا کہ میں گنجا سانپ ہوں ۔

اس کی آواز کڑک دار بجلی کی سی ہوگی اور وہ کہے گا کہ مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ نماز فجر ضائع کرنے پر میں طلوع آفتاب تک مارتا رہوں اور نماز ظہر ضائع کرنے پر عصر تک مارتا رہوں اور نماز عصر ضائع کرنے پر مغرب تک مارتا رہوں اور نماز مغرب ضائع کرنے پر عشاء تک مارتا رہوں اور نماز عشاء ضائع کرنے پر فجر تک مارتا رہوں ، جب بھی وہ اسے مارے گا وہ ستر ہاتھ تک زمین میں دھنس جائے گا اور وہ قیامت تک عذاب میں مبتلا رہے گا۔

( کتاب الکبائر للامام الحافظ الذہبی، صفحہ 24)

جہنم کی خوفناک وادی ویل:

کتاب الکبائر میں منقول ہے کہ جہنم میں ایک وادی ہے اس کا نام ویل ہے اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی گرمی سے پگھل جائیں ،یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو نماز میں سستی کرتے ہیں اور نماز وقت گزار کر قضا کر کے پڑھتے ہیں ہاں مگر وہ بارگاہ خداوندی میں نادم ہوں اور توبہ کریں ۔ (الکبائر االذھبی، ص19)

جہنم میں جانے کا حکم ہوگا:

جان بوجھ کر نماز قضا کرنے والوں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دیا جائے گا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ایک بندے کو اللہ پاک کی پاک بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اللہ کریم حکم ارشاد فرمائے گا کہ اسے جہنم میں ڈالا جائے وہ بندہ پوچھے گا کہ یا اللہ یہ کس وجہ سے ہے ارشاد ہوگا کہ میرے نام کی جھوٹی قسمیں کھانے اور جان بوجھ کر نماز قضا کرنے کی وجہ سے۔

پیاری پیاری اسلامی بہنوں! دیکھا آپ نے کہ نماز قضا کرنے کی کتنی خطرناک سزائیں ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم پانچ وقت کی نمازی بنیں اور ہماری کوئی نماز کبھی قضا نہ ہو۔

اللہ کریم ہمیں پانچ وقت کی نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


الحمدللہ! نماز ایک عظیم نعمت ہے، جو پابندی سے پڑھے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا اور جو فرض نمازیں نہیں پڑے گا وہ عذابِ نار سے دو چار ہوگا۔

پارہ 16 ، سورۃ مریم،آیت59 میں اللہ پاک فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔(مریم: 59)

بیان کی گئی آیت مقدسہ میں" غی "کا تذکرہ ہے، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی ا عظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے، جسکا نام "ہب ہب" ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، اللہ پاک اس کنویں کو کھول دیتا ہے، جس سے وہ بدستور (پہلے کی طرح) بھڑکنے لگتی ہے، یہ کنواں بے نمازیوں، زانیوں، شرابیوں اور سود خوروں اور ماں باپ کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔

(بہار شریعت، ج 1، ص474)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور اگر یہ بگڑی تو سبھی بگڑے"( بہار شریعت ج1، ص 437)

جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے، اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے، جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیہ الاولیا، ج 7)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جس نے قصداً یعنی جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز چھوڑی، ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک وہ توبہ نہ کرے اور اسکی قضا نہ کر لے، مسلمان اگر اُسکی زندگی میں اُسے یک لخت (یعنی بالکل) چھوڑ دیں، اس سے بات نہ کریں، اسکے پاس نہ بیٹھیں، تو ضرور وہ (بےنمازی) اس ( بائیکاٹ)کا سزا وار (یعنی اسی لائق) ہے، بے نمازی کی صحبت سے بچنے کی مزید تاکید کرتے ہوے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنی آیت پیش کی۔اللہ پاک ( پارہ7، سورۃ الانعام، آیت68)میں فرماتا ہے:

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بُلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالیشان کے مطابق بے نمازی کی سزائیں درج ذیل ہیں:

(1) بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کر دی جائے گی۔

(2) اس کے چہرے سے نیک بندوں کی نشانی مٹا دی جائے گی۔

(3) اللہ تعالی اسے کسی عمل پر ثواب نہ دے گا۔

(4) اس کی کوئی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی۔

(5)نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصّہ نہ ہوگا۔

اللہ پاک ہمیں پنجگانہ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم