غلام
فرید (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت ایک نہایت مذموم اخلاقی اور دینی برائی ہے جو فرد
کے کردار کو کمزور اور معاشرے کے اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جس میں
انسان امانت اور اعتماد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ خیانت صرف مال و دولت تک محدود نہیں
بلکہ قول، فعل، وعدے، مشورے اور راز داری ہر میدان میں ہو سکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات
میں خیانت کو سخت ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ ایک صالح اور پُرامن معاشرہ امانت داری
اور دیانت پر قائم ہوتا ہے۔
خیانت کا لغوی معنی :
امانت میں کمی کرنا اور دھوکا دینا۔
اصطلاحی معنی: خیانت سے مراد کسی کا
حق مارنا ہے، خواہ وہ حق اللہ تعالیٰ کا ہو، رسولِ کریم ﷺ کا ہو، اسلام کا ہو یا
کسی بندے کا۔
خیانت کی مذمت پر قرآنی آیت:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (الانفال: 27)
تفسیر صراط الجنان:اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے
کہ فرائض کا ترک کرنا اللہ تعالیٰ سے خیانت اور سنت کو چھوڑنا رسولِ کریم ﷺ سے خیانت
ہے۔ یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، جن سے ایک
موقع پر اجتہادی خطا سرزد ہو گئی۔ انہیں اپنی لغزش کا شدید احساس ہوا تو انہوں نے
خلوصِ دل سے توبہ کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اس واقعے
سے معلوم ہوتا ہے کہ راز فاش کرنا اور امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، لیکن
سچی توبہ سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں
اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی
ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل عمران : 161)
حدیث مبارکہ میں خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہےچنانچہ:قیامت کے دن
اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے پاس جائے،بیوی اس کے
پاس آئے اور پھر وہ اپنی بیوی کا راز ظاہر کردے۔(مسلم،ص579،حدیث:3543)
خیانت ایک سنگین اخلاقی اور دینی برائی ہے جو فرد اور
معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام میں خیانت کو حرام اور امانت داری کو ایمان
کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خیانت دنیا میں رسوائی اور بے اعتمادی جبکہ آخرت میں
سخت مواخذے کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر حال میں امانت
داری، دیانت اور سچائی کو اپنائے تاکہ ایک پُرامن اور بااعتماد اسلامی معاشرہ قائم
ہو سکے۔
راؤ
احمد رضا (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی کراچی، پاکستان )
پیارے اسلامی بھائیو! آج اس پُر فتن دور میں ہر جگہ
گناہوں کا بازار گرم ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ
پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت
بھی ہے۔ خیانت کی تعریف اس کا حکم اور اس کی مذمت پر چند احادیث آپ بھی پڑھئے:
خیانت کی تعریف: اجازت شرعیہ کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔
خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)
خیانت کا قرآنی بیان :اللہ
پاک قراٰن پاک میں فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (پ9، الانفال : 27)
خیانت ایک مذموم صفت ہے:اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل
عمران : 161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اجازتِ شرعیہ
کے بغیر کسی کی امانت میں خیانت کرنا کبیرہ گنا ہوں میں سے ایک ہے۔ چنانچہ اللہ
پاک نے کلام پاک میں ارشاد فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو
اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9، الانفال : 27)
اور احادیثِ کریمہ میں بھی متعدد مقامات پر اس کی مذمت
وارد ہوئی ہے اُن میں سے چند احادیث پیش نظر کرتا ہوں۔
(1) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں
جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت
رکھی جائے تو خیانت کرے۔(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )
(2) حضور ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا
جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم،
ص1184 ، حدیث:2865)
(3) حضرت انس رضی اللہُ عنہ
سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان
نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد ، 4 /
271، حدیث: 12386)
(4) حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے
والا نہیں ہو سکتا ۔ (مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)
(5)حضرت فُضالہ بن عبید رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ
رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :تین شخص ایسے ہیں جن سے سوال نہیں ہوگا (اور انہیں
حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا
شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان
نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب،
3 / 18، حدیث: 4)
ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا چاہیے کیونکہ
ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے۔ خیانت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله
الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام گنا ہوں سے
بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین
اویس
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت ایک عظیم گناہ اور اخلاقی برائی ہے جو انسان کو
اللہ کی ناراضی اور عذاب کا مستحق بناتی ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیا گیا ہے جبکہ خیانت کو نفاق کی علامت اور شدید مذمت کا باعث ٹھہرایا گیا
ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
(1)یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (الانفال: ۲۷)
یہ آیت خیانت کی شدید ممانعت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ خیانت
اللہ اور رسول کے ساتھ دغا بازی ہے۔
(2)وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال: ۵۸)
یہاں اللہ تعالیٰ خائنوں سے محبت نہ کرنے کا اعلان
فرماتے ہیں۔
(3)اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔ (النساء:107)
اس آیت میں
خیانت کی مذمت ہے اللہ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا۔
(4) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (غافر: ۱۹)
یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت چاہے کتنی پوشیدہ ہو، اللہ سے
مخفی نہیں۔
اسلام میں امانت داری ایمان کی علامت ہے اور خیانت نفاق
کی۔ مسلمان کو چاہیے کہ ہر حال میں امانت دار رہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں خیانت
سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ اللہ کی ناراضی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔اللہ ہمیں
امانت دار بنائے اور خیانت سے محفوظ رکھے۔ آمین
محمد
علی رضا عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ، کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خیانت کی سخت مذمت کی ہے
اور اسے بڑا گناہ قرار دیا ہے چنانچہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
اِنَّ
اللّٰهَ یَامُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ترجمہ
کنزالایمان:بے شک اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل
ہیں(سورۃ النساء آیت نمبر 58)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 161)
(3) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنزا لایمان: بےشک
اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورۃ الحج آیت نمبر 38)
نیز ان آیات کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خیانت ایک برا
عمل ہے اور خیانت کرنے والا اللہ عزوجل کے نزدیک محبوب نہیں ہوتا آئیے اب خیانت کی
اقسام اور اس کے نقصانات اور اس سے بچنے کے طریقے آپ کے سامنے پیش کرتا ہو ۔
خیانت کی اقسام:خیانت کی مختلف اقسام ہیں،
جن میں سے چند گوش خدمت ہے:(1) مال کی خیانت: کسی کے مال کو ناجائز طریقے سے استعمال
کرنا یا اسے ضائع کرنا۔(2) امانت کی خیانت: کسی کی امانت کو ضائع کرنا یا اسے
ناجائز طریقے سے استعمال کرنا۔(3) عہد کی خیانت: کسی سے کیا ہوا عہد توڑنا یا اسے
پورا نہ کرنا۔(4) حقوق کی خیانت: کسی کے حقوق کو ضائع کرنا یا اسے ناجائز طریقے سے
استعمال کرنا۔
خیانت کے نقصانات:خیانت کے بہت سے نقصانات
ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:(1) دوزخ کی سزا: خیانت کرنے والوں کو دوزخ کی سزا دی
جائے گی۔(2)ذلت اور رسوائی: خیانت کرنے والے کو دنیا میں بھی ذلت اور رسوائی کا
سامنا کرنا پڑتا ہے۔(3) امانت میں خیانت: خیانت کرنے سے امانت ضائع ہو جاتی ہے اور
لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
خیانت سے بچنے کے طریقے:خیانت
سے بچنے کے لیے کچھ طریقے پیش خدمت ہے:(1) اللہ سے ڈرنا: اللہ سے ڈرنا اور اس کی
نافرمانی سے بچنا۔(2)امانت کی حفاظت: امانت کی حفاظت کرنا اور اسے ناجائز طریقے سے
استعمال نہ کرنا۔(3) عہد کی وفا: عہد کی وفا کرنا اور اسے پورا کرنا۔(4) حقوق کی
ادائیگی: حقوق کی ادائیگی کرنا اور کسی کے حقوق کو ضائع نہ کرنا۔
رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسی بری عادت سے
دور فرما کر امین بندہ بنائے آمین یارب العالمین۔
خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔
خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جھنم میں لے جانے والا کام۔
اللہ تعالی قرآن پاک میں خیانت کے متعلق فرماتا ہے:(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(پ9،الانفال:27)
دوسری جگہ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى
اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم
لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کروبے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت
فرماتا ہے بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے ۔(پ5،النساء:58)
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت
کی تفسیر کے تحت ہے :امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی
معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں
امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔
حضرت عبداللہ بن
عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے
بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم
مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت
کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)۔
(2) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ
دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(12،یوسف:52)
تفسیر صراط
الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت ہے: اخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی
امانتداری قابل تعریف وصف ہے:اس سے یہ بھی معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم
وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابل تعریف وصف ہے
جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے ۔
آنکھ کی خیانت کے
بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے
بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (مومن : ۱۹)
اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے، رسول کریم صلی الله تَعَالَى علیہ وَآلِہ
وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ”گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں میں (اس کا ) نائب بنے ( اور اس کے گھر بار کی دیکھ
بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہل خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا
جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب ( اس مجاہد کے نیکیاں
لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے ؟ (مسلم، كتاب الامارة، باب حرمۃ نساء
المجاهدين واثم من خانهم فيهن ، ص ۱۰۵۱
، الحدیث: ۱۳۹ (۱۸۹۷)۔
(4) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔ (انفال:58)
اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے
بچائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد
ہارون عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ
المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی، پاکستان )
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی ظاہری و
باطنی، انفرادی و اجتماعی، اخلاقی و عملی تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام میں
خیانت کو ایک نہایت گھناؤنا اور ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ پاک میں خیانت
کی واضح مذمت کی گئی ہے اور اسے مومن کی صفت کے منافی بتایا گیا ہے۔
خیانت کا مفہوم:خیانت کا مطلب ہے امانت
میں خیانت کرنا، راز افشاء کرنا، وعدہ خلافی کرنا یا کسی کے اعتماد کو توڑ دینا۔ یہ
عمل فرد، معاشرہ اور قوم کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت مسلمانوں کو تنبیہ کرتی ہے کہ خیانت ایمان کے
منافی عمل ہے، اور یہ نہ صرف انسانوں کے درمیان اعتماد کو توڑتی ہے بلکہ اللہ و
رسول کے احکام کی نافرمانی بھی ہے۔
(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنزالایمان: بے شک
اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء، آیت 107)
یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے
محروم ہو جاتا ہے۔ خیانت صرف دنیا میں رسوائی کا سبب نہیں بلکہ آخرت میں بھی عذاب
کا باعث ہے۔
(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ترجمہ کنزالایمان: اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آل عمران، آیت 161)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خیانت چھپ کر بھی کی جائے تو
قیامت کے دن وہ ظاہر ہو جائے گی، اور انسان کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
(4) - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان : بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ يوسف، آیت 52)
معاشرتی پہلو:خیانت کی وجہ سے معاشرے
میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے، دلوں میں شک اور نفرت پیدا ہوتی ہے، اور اجتماعی نظام
درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ایک مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ امانت دار ہو، خواہ
وہ مالی معاملات ہوں، یا راز داری، یا وعدے۔قرآن و سنت کی روشنی میں خیانت نہ صرف
اخلاقی جرم ہے بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کے ایمان کو مجروح کرتا ہے۔ ایک
مسلمان کو ہر حال میں امانت دار، سچا اور دیانت دار ہونا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں
کامیابی حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے، امانتوں کی حفاظت کرنے اور سچا
مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پیارے اسلامی بھائیو! آج اس پُر فتن دور میں ہر جگہ
گناہوں کا بازار گرم ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ
پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت
بھی ہے۔ خیانت کی تعریف اس کا حکم اور اس کی مذمت پر چند احادیث آپ بھی پڑھئے:
خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا
حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی
بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل
عمران : 161)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت سے پناہ مانگی :ہمارے
صادق وامین آقا ،مکی مدنی مصطَفٰے ﷺ دعا کیا
کرتے تھے : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ
مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ
فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری
پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ
یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)
حضرت ثوبان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا : مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ
الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ،
وَالدَّيْنِ، وَالْغُلُولِ یعنی جو شخص اس حال میں مَرا کہ
وہ تین چیزوں سے بَری تھا: تکبر، خیانت اور دَین (قرض)،تو وہ جنت میں داخل ہو
گا۔(مسند احمد، مسندالانصار، حدیث :22434)
رسول الله ﷺ نے فرمایا: بری خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی
سے کوئی بات کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو اور تو اس میں جھوٹا ہو۔(مرأةالمناجیح،ج6،حدیث:
4627،حسن پبلشرز)
فرمانِ آخری نبی ﷺ ہے : کوئی والی جو مسلمان رعیت کا والی
بنے پھر ان پر خیانت کرتا ہوا مر جائے تو اللہ پاک اس پر جنت حرام فرما دے
گا۔(مرأةالمناجیح،ج5،حدیث :3516)
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی
خیانت کو چھپایا تو وہ گناہگار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔
(مشکاة المصابیح ، حدیث: 3917)
خیانت ایک بہت ہی بری چیز ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خیانت
جیسی بری بلا سے محفوظ رکھے آمین یارب العالمین۔
شاہد
رضا عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی، پاکستان )
قرآنِ مجید مالک کریم کی وہ دستورِ حیات ہے جو انسان کو
نہ صرف عبادات کا شعور دیتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی، معاشرتی اور عملی زندگی کی بھی
مکمل اصلاح کرتا ہے۔ انسانی معاشرہ جن اخلاقی اقدار پر قائم رہتا ہے، ان میں امانت
داری، دیانت، صداقت اور وفاداری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں ربِّ کائنات اپنے
بندوں کو قرآنِ کریم میں جا بجا اعمال حسنہ کی ترغیب ارشاد فرماتا ہے بعینہ اعمال
سیّئہ سے ترہیب بھی ارشاد فرما چکا انہی اعمال سیّئہ میں سے خیانت بھی ہے خیانت ایک
ایسا قبیح فعل ہے جو فرد کے کردار کو کھوکھلا، معاشرے کو بداعتمادی کا شکار اور
معاشرے میں بسنے والے افراد کو انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے۔
قرآن کریم نے خیانت کو محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ
ایمان کے منافی عمل قرار دیا ہے۔ کیونکہ خیانت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ
حدود کو توڑنے، حقوق تلف کرنے اور اعتماد کو پامال کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ
انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن اور نیتوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
قرآنِ مجید انسان کی اخلاقی اور عملی زندگی کی مکمل
رہنمائی کرتا ہے۔ جن برے اوصاف سے قرآن نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، ان میں خیانت
ایک نہایت سنگین اخلاقی جرم ہے۔ خیانت صرف مال و دولت میں بددیانتی کا نام نہیں
بلکہ ہر وہ ذمہ داری، امانت اور حق جس میں بدعہدی یا دھوکہ کیا جائے، خیانت کے
دائرے میں آتی ہے۔ قرآن کریم نے خیانت کو ایمان کے منافی عمل قرار دے کر اس کی سخت
مذمت فرمائی ہے، کیونکہ خیانت فرد، معاشرے اور اجتماعی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ
وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
یہ آیت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ خیانت نہ صرف انسانوں
کے ساتھ ظلم ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے روگردانی بھی ہے۔
قرآن مجید میں خیانت کرنے والوں کو اللہ کی ناپسندیدگی کا
مستحق قرار دیا گیا ہے۔چُنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہکنز
العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(انفال:58)
اللہ کی محبت سے
محرومی سب سے بڑا نقصان ہے، جو اس عمل کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
قرآنِ پاک مزید خائن کے انجام میں ناطق ہے :لہٰذا
اللہ کریم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ
کنز العرفان :اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی (آل عمران:161)
یہ آیت آخرت میں خائن کے سخت انجام کی طرف واضح
اشارہ ہے۔
قرآن کریم اس کے مقابلے میں امانت داری اور دیانت کو اہلِ ایمان کی
نمایاں صفت قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَترجمہ کنز العرفان:اور وہ جو اپنی
امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں۔ (المومنون:8)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت داری ایمان کی علامت اور خیانت اس کے
برعکس ایک قابلِ نفرت وصف ہے۔
المختصر یہ کہ قرآنِ مجید کی روشنی میں خیانت ایک ایسا
گناہ ہے جو اللہ کی ناراضی، معاشرتی بگاڑ اور آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بنتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کی خیانت سے بچے، امانت داری کو اپنی
زندگی کا شعار بنائے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ایک پاکیزہ اور دیانت دار معاشرہ
قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یامین
حسین(درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
قرآن مجید میں امانت میں خیانت، عہد شکنی اور دھوکہ دہی
کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ذیل میں تین اہم آیات پیش کی جا رہی ہے:(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال،8:27)
اللہ اور رسول سے خیانت سے مراد حقوق اللہ اور حقوق الرسول
میں کمی کرنا ہے، جیسے اللہ کی نعمتوں کو نافرمانی میں صرف کرنا یا رسول اللہ ﷺ کے
احکام کی خلاف ورزی۔ امانتوں میں خیانت سے مراد آپس کی امانتیں (مال، راز، عہد وغیرہ)
ہیں۔ جان بوجھ کر خیانت منافقت کی علامت اور سخت گناہ ہے۔ خائن کو اللہ تعالیٰ
پسند نہیں فرماتا۔( خزائن العرفان، سورۃ الانفال، تحت آیت 27)
(2)اِنَّاۤ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ
اَرٰىكَ اللّٰهُؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵) ترجمہ
کنز الایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ
کرو جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ (سورۃ النساء،4:105)
یہ آیت طعمہ بن ابیرق کے واقعہ میں نازل ہوئی جو چوری
کرکے الزام دوسروں پر لگاتا تھا۔ خائنوں کی حمایت اور وکالت حرام ہے، چاہے رشتہ
دار ہی کیوں نہ ہو۔ خائن کی طرفداری کرنا بھی خیانت میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔(
خزائن العرفان، سورۃ النساء، تحت آیت 105)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا ۔(سورۃ آل عمران،3:161)
"یغل" سے مراد غنیمت میں خیانت (غلو) ہے۔ نبی
پاک ﷺ تو ہر قسم کی خیانت سے پاک ہیں، عام آدمی اگر خیانت کرے تو قیامت کے دن اس
کا بوجھ گلے میں لٹکایا جائے گا اور سخت عذاب ہوگا۔ یہ آیت خیانت کی سنگینی کو
واضح کرتی ہے کہ اس کا اثر قیامت تک رہے گا۔(خزائن العرفان، سورۃ آل عمران، تحت آیت
161)
خیانت کی مذمت احادیث مبارکہ سے:نبی کریم
ﷺ نے خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا اور اس کی سخت مذمت فرمائی:ذیل میں پانچ
مستند احادیث:
(1) عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ترجمہ: منافق کی تین
علامتیں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے توڑ دے، جب امانت دی جائے تو خیانت
کرے۔(صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث نمبر 33؛ صحیح مسلم،
کتاب الإیمان، حدیث نمبر 107)
(2) لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ،
وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ۔ترجمہ: جس میں امانت داری نہ ہو اس کا ایمان
نہیں، اور جس میں عہد کی پاسداری نہ ہو اس کا دین نہیں۔(حوالہ: مسند احمد، جلد 3،
ص 134، حدیث نمبر 12383؛ مستدرک حاکم، حدیث نمبر 222، صحیح)
(2) عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ
خَانَكَترجمہ: امانت اسے لوٹا دو جس نے تمہیں امانت دار ٹھہرایا،
اور جو تمہاری خیانت کرے تم اس کی خیانت نہ کرو۔(سنن ابو داود، کتاب البیوع، باب فی
أداء الامانۃ، حدیث نمبر 3535؛ سنن ترمذی، حدیث نمبر 1264، حسن)
إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ
فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ... إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ
فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ترجمہ: جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو... جب امور
نااہل لوگوں کے سپرد کیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔( صحیح بخاری، کتاب الرقاق،
حدیث نمبر 6496)
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ
لَهُ۔ترجمہ:
نبی ﷺ جب بھی ہمیں خطبہ دیتے تو ضرور فرماتے: جس میں امانت داری نہ ہو اس کا ایمان
نہیں۔(حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر 12567؛ شعب الایمان للبیہقی)
خیانت کی تعریف : اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں
تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ (عمدۃالقاری ٫کتاب الایمان )
خیانت امانت کی ضد ہے اور خیانت خَانَ یَخُونُوْ سے ماخوذ جس کا لغوی معنی خیانت
کرنا ،بے ایمانی کرنا، کمی کرنا ہے ۔ اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲)
(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
اس آیت مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ خیانت کرنا کفار کا
کام ہے ۔
حدیث مبارکہ: حضور صلی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: 3 باتیں ایسی ہیں کے جس میں پائی جائیں
منافق ہوگا اگر چہ نماز روزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے
(2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3) جب امانت اسکے سپرد کی جاۓ تو خیانت کرے۔(مسلم
، کتاب الایمان ،باب بیان خصال المنافق)
خیانت
کا حکم: خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
خیانت کے اسباب:
خیانت کے سبب درج ذیل ہیں (1) خیانت کا پہلا سبب "بد نیتی"ہےجس طرح آچھی
نیت اخلاق و کردار کے لیے شفاء کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح بد نیتی بندے کے اعمال کو
برباد کر دیتی ہے ۔ (2) دوسرا سبب " دھوکہ دینے کی عادت ۔(3) تیسرا سبب
" توکل علی اللہ کی کمی"کیوں کہ بندہ کمزور عقیدے کی بنا پر سمجھتا ہے
کہ خیانت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی میری کامیابی ہے ۔(4) چوتھا سبب "
نفسانی خواہشات کی تکمیل" ۔(5) پانچواں سبب "مسلمانوں کو نقصان دینے کی
عادت" ۔ (6) چھٹا سبب "بری صحبت" کیونکہ انسان اپنے ارد گرد کی
ہرخامی و خوبی قبول کر لیتا ہے جسکا اثر اسکے ذاتی کردار پر ہوتا ہے۔
خیانت کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے تین کے نام درج ذیل ہیں
: "خیانت والدین" یہ
خیانت والدین کا حکم نہ ماننے کے سبب ہوتی ہے ۔ "خیانت راز " یہ خیانت
راز فاش کرنے کے سبب ہوتی ہے۔ "خیانت امانت" یہ خیانت امانت میں میں خیانت
کرنے کے سبب ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں خیانت جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے
آمین ۔
محمد
زین العابدین عطاری(سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
اللہ عزوجل نے مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآنِ
پاک میں جا بجا احکام نازل فرمائے ہیں۔ ان احکام کا مقصد نہ صرف بندے کو اپنے رب
سے جوڑنا ہے بلکہ ایک پرامن اور صالح معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔ انہی احکام میں سے
ایک اہم حکم خیانت سے اجتناب کا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ
وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو تنبیہ
فرمائی ہے کہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ سے خیانت کریں، نہ رسولِ کریم ﷺ سے، اور نہ ہی
ایک دوسرے کی امانتوں میں خیانت کریں۔فرائضِ الٰہی کو ترک کرنا اللہ سے خیانت ہے،
اور سنتِ رسول ﷺ کو چھوڑ دینا رسول اللہ ﷺ سے خیانت کے مترادف ہے۔ (خازن، الانفال،
تحت الآیۃ: 27، 2/190)
خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ممانعت:اللہ
تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ
-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو خائن افراد کی
حمایت کرتے ہیں، ان کے لیے دلائل تراشتے ہیں، اور ان کے گناہوں کو چھپاتے ہیں۔
وکالت اور خیانت:وکالت کے پیشے سے وابستہ
افراد کو خاص طور پر اس آیت پر غور کرنا چاہیے۔ بعض اوقات وکیل جانتے ہیں کہ ان کا
مؤکل مجرم ہے، پھر بھی وہ جھوٹے دلائل سے اس کا دفاع کرتے ہیں، حق دار کا حق چھینتے
ہیں، اور عدالتی نظام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ سب خیانت کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ
تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔قرآنِ مجید میں خیانت کے انجام کو یوں بیان کیا گیا
ہے:
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی
چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر
ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آل عمران: 161)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا قیامت کے
دن ذلیل و رسوا ہوگا اور اس کی خیانت اس
کے ساتھ ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے قبیح عمل سے محفوظ فرمائے،
امانت داری، دیانت، اور صداقت کی دولت سے مالا مال کرے، اور ہمیں ان لوگوں میں
شامل فرمائے جو قیامت کے دن سرخرو ہوں۔
محمد
اشفاق (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو بندے کو اس کی مصلحت کے تحت
رہنمائی دیتاہے وہ دنیوی مصلحت ہو یا اخروی بندے کی اخروی مصلحت میں سے ایک مصلحت
امانت و فرائض و سنت میں خیانت سے بچنا ہے جس کے بارے میں قرآن و احادیث میں وعید
آئی ہے کہ یہ بہت بڑا گناہ و خالص منافق کی نشانی اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے ۔
اسی طرح احادیث میں خیانت کرنے والوں کے بارے میں ذکر آیا
ہے چنانچہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں جس شخص میں پائی جائیں گی وہ خالص
منافق ہو گا اور ان میں سے ایک بات پائی گئی تواس شخص میں نفاق کی ایک بات پائی گئی
یہاں تک کہ اس سے توبہ کرلے،جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔(صحیح بخاری جلد
،1،ص25)
امانت کی ادائیگی :امانت کی ادائیگی میں
بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے البتہ اس کے ساتھ اور
بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( پ 9،
انفال، آیت 27)
فرائض چھوڑ دینا
اللہ پاک سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت
کرنا ہے ۔(صراط الجنان جلد 3ص،543)
اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں
کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود
جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے
تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر،
عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴،
الحدیث: ۱۱۲۱۶)
واضح رہے کہ جس طرح روپیوں ، پیسوں اور مال و سامان کی
امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح باتوں ، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت
حرام ہے ۔مثلاًکسی نے آپ سے اپنے راز کی بات کہہ دی اور آپ سے یہ کہہ دیا کہ یہ
بات امانت ہے کسی سے مت کہیے گا اور وہ بات آپ نے کسی سے کہہ دی تو یہ امانت میں خیانت
ہو گی ۔اس طرح کسی نے آپ کو مزدور رکھ کر کوئی کام سپرد کر دیا مگر آپ نے قصداً اس
کام کو بگاڑ دیا یا کم کام کیا تو آپ نے امانت میں خیانت کی یاد رکھو کہ ہر قسم کی
امانتوں میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ہر مسلمان
کو ہر قسم کی خیانتوں سے بچنا ایمان کی سلامتی اور جہنم سے نجات پانے کیلئے انتہائی
ضروری ہے اور مزید فرمایا سامان اور سودا لیتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا یک قسم کی
چوری اور خیانت ہے جو حرام اور سخت گناہ جس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ۔(جہنم کے
خطرات)
Dawateislami