اخلاص اسلام کی بہت ہی پیاری چیز ہے جو ہمیں سب سے زیادہ
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم اخلاص کے ساتھ ہر کام کو سر انجام دیتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی کام
کرے خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرے۔
لہذا ہر کام میں اخلاص ضروری ہے ۔اگر ریاکاری کی
نیت ہو تو بیکار ہے ، ثواب کی بجائے الٹا گناہ ہوگا آج ہم اخلاص کی اہمیت کے بارے
میں حدیث کی روشنی میں پڑھتے ہیں :
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ
لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِترجمہ:ابوہریرہ
بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے
روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جو شخص ایمان و اخلاص اور
ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے (نماز تراویح کا اہتمام کرے) تو اس کے سابقہ
گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں
قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: روزوں کا بیان
،باب: روزوں کا بیان،حدیث نمبر: 1958)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ایک نسخہ
میں ہے : وہی راہ خدا عَزَّوَجَلَّ کا
مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)
ّسیِّدُ
المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت
سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی
عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
مذکورہ احادیث میں اخلاص کی اہمیت کے بارے میں معلوم ہوا
ان احادیث میں ایک بات یہ ثابت ہوئی کہ ہر کام اخلاص کے ساتھ سچی نیت کے ساتھ کرنا
چاہیے انسان اگر سچی نیت کرے کسی اچھے کام کے لیے اگر وہ نہ کرے تو اس کے لیے پھر
بھی نیکی ہے لہذا ہر کام میں اخلاص ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں حضور صلی اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم کہ زندگی کے مطابق سنت پر عمل کرتےہوئے زندگی گزارنی ہو گی۔ اللہ
تعالی ہمیں سنت پرعمل کرنے اور ہر کام کو اخلاص کے ساتھ، سچی نیت کے ساتھ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami