عبداللہ
خان(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے، اور
نیت کی بنیاد "اخلاص" پر رکھی گئی ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے ہر عمل صرف اللہ
کی رضا کے لیے کرنا، دکھاوے، ریاکاری یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔
(1)نیت کا معیار: حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر
ہے، اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، باب : كيف كان
بدء الوحي إلي رسول الله صلى الله علیہ وسلم ، حديث نمبر: 1)
یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ ہر عبادت، خدمت، علم، صدقہ، یہاں
تک کہ روزمرہ کے کام بھی اگر خالص اللہ کے لیے ہوں، تو عبادت بن جاتے ہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ صرف دل کو دیکھتا ہے: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تمہاری شکل و صورت اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ
تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والاداب ، باب
تحريم الظلم المسلم، حديث نمبر 2564)
(3) حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ صرف وہ عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے
کیا جائے اور جس میں صرف اس کی رضا مطلوب ہو۔(سنن نسائی، كتاب الجهاد، من غزا
يلتمس الاجر والذكر، حديث نمبر 3140)
ان احادیث کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اخلاص دین کی روح
ہے۔ کسی بھی عمل کو اللہ کے ہاں قبول کرانے کے لیے لازم ہے کہ وہ خالصتاً اللہ کی
رضا کے لیے ہو۔ ورنہ وہ عمل دنیا میں تو قابلِ تعریف ہو سکتا ہے، مگر آخرت میں بے
وزن ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami