اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ بندہ نیک اعمال صرف اور صرف اللہ پاک
کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرے۔( مرقاة المفاتيح ، ج 1 جس (486)
30برس کی نَمازیں قضا کیں:ایک بُزُرْگ رَحْمَۃُ اللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے30برس کی نَمازیں قَضا کیں، وجہ اِس کی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ ہر نَماز پہلی
صَف میں با جماعت ادا کرتا رہا۔ 30برس کے بعد کسی مجبوری کے سبب تاخیر ہو گئی اور
مجھے دوسری صَف میں جگہ ملی، اِس سے مجھے
شرمندَگی محسوس ہوئی کہ آج لوگ کیا کہیں گے ! یہ خیال آنے کے سبب میں جان گیا کہ
جب لوگ مجھے پہلی صَف میں دیکھتے تھے تو اِس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اوریہ بات میرے
دل کی راحت کاباعِث تھی۔ (ورنہ مجھے
شرمندَگی ہوتی ہی کیوں ، کہ آج لوگ کیا کہیں گے! توگویا 30برس سے میں لوگوں کو دکھانے کیلئے پہلی صَف میں نَماز پڑھتا رہا
ہوں! ) (اِحیاءُ الْعُلوم، ج5، ص108،
بِتَصَرُّفٍ )
آئیے ایسی چند احادیث ذکر کرتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت ذکر فرمائی :
(1) فرمانِ مصطفى ﷺ :اے لوگو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے
اخلاص کے ساتھ عمل کرو۔( سنن الدار قطنی، الحدیث: 130، ج 1، ص 73)
اسی طرح جو عمل اخلاص سے خالی ہو تو اسکا انجام بیان
کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(2) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک جہنم میں ایک وادی
ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے،اللہ تعالیٰ نے یہ وادی اُمتِ
محمدیہ کے ان ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے جو قرآنِ پاک کے حافظ،راہِ خدامیں صدقہ
کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے گھر کے حاجی اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں نکلنے والے
ہوں گے (لیکن یہ سارے کام صرف ریاکاری کیلئے کررہے ہوں گے۔ (معجم الکبیر، الحسن عن
ابن عباس، 12 / 136، الحدیث :128.3)
عمل اگرچہ کم ہو لیکن اخلاص کے ساتھ ہو تو کافی ہے جیسا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
(3) حضور نبی کریم علیہ افْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِيم
نے حضرت مُعَادُ بن جَبَل رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ
عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل
السادس، 1 / 44، حدیث: 45)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق سے اگر کوئی نیکی
کا موقع نصیب ہو بھی جائے تو اُسے زیورِ اِخلاص سے مُزیَّن کیجئے۔ اللہُ تَعَالٰی بوسیلۂ مصطَفٰے ص ﷺ آپ کو اور
آپ کے صدقے مجھ گنہگار وں کے سردارکو اپنا مُخلِص بندہ بنائے۔ اٰمین۔
(4)فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : جو بندہ چالیس دن خالِص اللہُ
تَعَالٰی کے لیے عمل کرے اللہُ تَعَالٰی حکمت کے چشمے اُس کے دل سے اس کی زُبان پر
ظاہِر کر دیتا ہے۔ (اَلتَّرغِیب
وَالتَّرہِیب ، ج1، ص24، حدیث: 13) (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 24)
(5) فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : آدَمی کا ایسی جگہ نَفْل
نَماز پڑھنا جہاں لوگ اسے نہ دیکھتے ہوں، لوگوں کے سامنے ادا کی جانے والی 25 نَمازوں کے برابر ہے۔ (جَمْعُ الْجَوامِع، ج5، ص83، حدیث: 13620) عنوان کے مطابق نہیں (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 26)
Dawateislami