محمد
نواز(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
(1)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے
اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں
عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص
کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(2)روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله
ساری مخلوق کی عبادت ہےاورالحمد لله کلمہ شکر ہےاورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ
ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہےاور جب بندہ کہتا
ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے
کو میرے سپردکردیا۔
شرح:لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد
ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت
میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ
اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ،
حدیث نمبر:2322)
(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا
: جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ
اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔(بخاری شریف کتاب الایمان باب قیام لیلۃ
القدر من الایمان جلد 1 حدیث نمبر35)
(4)حضر ت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، (حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے) فرمایا: میں نے نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’
بے شک میں وہ کلمہ جانتاہوں جسے کوئی بندہ دل سے حق سمجھ کرکہتاہے تواللہ تعالیٰ
اسے آگ پرحرام قرار دے دیتا ہے، تو (یہ سن کر) حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:میں تمہیں بتاتاہوں کہ وہ کون ساہے ،وہ کلمہ اخلاص ہے
جواللہ تعالیٰ نے نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور
آپ کے اَصحاب پرلازم کیاہے اوروہی پرہیز گاری کا کلمہ ہے جس کی ترغیب اللہ تعالیٰ
کے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے
چچاابوطالب کوموت کے وقت دلائی،اوروہ اس بات کی شہادت دیناہے کہ اللہ تعالیٰ کے
سواکوئی معبود نہیں ۔
(درمنثور، الفتح، تحت الآیۃ: 26، 7 / 536)
Dawateislami