عبد
الرحیم عطاری(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو ! نیک اعمال میں اخلاص اپنانا بہت
اہمیت کا حامل ہے ،امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: رِیاکاری سے
بچتے ہوئے اِخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کرنے کی عادت بنائیے کہ مُخلص شخص ہزار(1000)
پَردوں میں چھپ کر بھی نیک کام کرے، اللہ پاک اسے لوگوں میں مشہور فرما دیتا ہے۔(امیرِ
اہلِ سنت کی 786 نصیحتیں ص:34)
اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیث میں
اخلاص کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔آئیے ہم بھی اخلاص کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1) تھوڑا عمل کافی ہے:حضرت سیدنا
ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم!
مجھے کچھ نصحت فرمائیے۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم،رسول اکرم،شہنشاہِ بنی آدم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کفایت کرے گا۔ (مستدرک،کتاب الرائق،رقم 7914، ج5،ص435)
(2)مدد الہی کا ذریعہ:حضرت
سیدنا مَسعَد بن صَعب اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں
نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اس امت کے کمزور لوگوں کی
دعاؤں،نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی،کتاب الجھاد،باب
الانتصا،ج6ص45بتغیر قلیل)
(3) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا
ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر،تمام نبیوں کے
سَرْوَر،دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحروبَر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا: مخلصین (اخلاص کرنے والوں) کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں
انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب،کتاب البعث
واھوال یوم القیامۃ،باب الترغیب فی الاخلاص الخ،رقم5،ج1،ص23)
(4) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بَصْرِی
علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:اَلْاِخْلَاصُ
سِرٌّ مِّنْ سِرِّیْ اِسْتَوْدَعْتُہُ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُہُ مِنْ عِبَادِیْ
یعنی اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں
ودیعت رکھتا ہوں۔(فردوس الاحبار،145/2،حدیث:4539)
(5) حکمت کے چشمے:نبی کریم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مَا مِنْ
عَبْدٍ یَخْلُصُ لِلّٰہِ الْعَمَلِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اِلَّا ظَھَرَتْ یَنَابِیْعُ
الْحِکْمَۃِ مِنْ قَلْبِہٖ عَلٰی لِسَانِہٖ یعنی
جو بندہ 40 دن خالص رضائے الہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر
حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزھد لابن المبار،باب فضل ذکر اللہ،ص359،حدیث:1014)
میرا
ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا
عطا یاالہی
اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ ہر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الآمین ﷺ۔
Dawateislami