اسلام میں نیت اور اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ تمام عبادات، اخلاق اور معاملات کی بنیاد اخلاص ہے، یعنی ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ اگر عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں مردود ہے۔

(1) اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہےإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ (صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

(2) اللہ صرف دلوں کو دیکھتا ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللهَ لا يَنظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَجْسَادِكُمْ، وَلَكِنْ يَنظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ" ترجمہ: ’’اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2564)

(3) ریا کاری عمل کو ضائع کر دیتی ہے:نبی ﷺ نے فرمایا:أخوف ما أخاف على أمتي الشرك الأصغر، قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرياء ترجمہ: ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری۔‘‘(مسند احمد: 23630، صحیح) (4) قیامت کے دن اخلاص کے بغیر اعمال رد ہو جائیں گے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جن تین افراد کا حساب ہوگا، ان میں ایک عالم، دوسرا مجاہد اور تیسرا سخی ہوگا، لیکن چونکہ ان کے اعمال دکھاوے کے لیے تھے، اس لیے ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905)

اخلاص وہ خفیہ عبادت ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ اس کے بغیر عبادات، خیرات، جہاد، علم دین اور وعظ سب بے کار ہو جاتے ہیں۔ مسلمان کا ہر قول و فعل اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ نیت کی درستگی ہی اخلاص کی علامت ہے۔