اسلام میں تمام اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت اور
اخلاص پر ہے۔ اگر نیت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو چھوٹا سا عمل بھی عظیم درجہ
رکھتا ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری یا دنیا طلبی شامل ہو، تو بظاہر بڑا عمل بھی
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (البینہ:5)
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مسلم،بخاری)
( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 3 حدیث نمبر(1958)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ
أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ
كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ
أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ
وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ
آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا
الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا
ہےاور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا باللهتورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع
ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد
3 حدیث (2323)
نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر عمل کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم ریاکاری، شہرت یا دنیاوی فائدے سے بچتے ہوئے ہر عمل خالص اللہ کے لیے کریں،
تاکہ وہ عمل بروزِ قیامت ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بن سکے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ اپنے تمام ظاہری و باطنی اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے کرے، تاکہ وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم.
Dawateislami