شاہد
رضا عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی، پاکستان )
قرآنِ مجید مالک کریم کی وہ دستورِ حیات ہے جو انسان کو
نہ صرف عبادات کا شعور دیتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی، معاشرتی اور عملی زندگی کی بھی
مکمل اصلاح کرتا ہے۔ انسانی معاشرہ جن اخلاقی اقدار پر قائم رہتا ہے، ان میں امانت
داری، دیانت، صداقت اور وفاداری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں ربِّ کائنات اپنے
بندوں کو قرآنِ کریم میں جا بجا اعمال حسنہ کی ترغیب ارشاد فرماتا ہے بعینہ اعمال
سیّئہ سے ترہیب بھی ارشاد فرما چکا انہی اعمال سیّئہ میں سے خیانت بھی ہے خیانت ایک
ایسا قبیح فعل ہے جو فرد کے کردار کو کھوکھلا، معاشرے کو بداعتمادی کا شکار اور
معاشرے میں بسنے والے افراد کو انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے۔
قرآن کریم نے خیانت کو محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ
ایمان کے منافی عمل قرار دیا ہے۔ کیونکہ خیانت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ
حدود کو توڑنے، حقوق تلف کرنے اور اعتماد کو پامال کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ
انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن اور نیتوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
قرآنِ مجید انسان کی اخلاقی اور عملی زندگی کی مکمل
رہنمائی کرتا ہے۔ جن برے اوصاف سے قرآن نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، ان میں خیانت
ایک نہایت سنگین اخلاقی جرم ہے۔ خیانت صرف مال و دولت میں بددیانتی کا نام نہیں
بلکہ ہر وہ ذمہ داری، امانت اور حق جس میں بدعہدی یا دھوکہ کیا جائے، خیانت کے
دائرے میں آتی ہے۔ قرآن کریم نے خیانت کو ایمان کے منافی عمل قرار دے کر اس کی سخت
مذمت فرمائی ہے، کیونکہ خیانت فرد، معاشرے اور اجتماعی نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ
وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
یہ آیت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ خیانت نہ صرف انسانوں
کے ساتھ ظلم ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے روگردانی بھی ہے۔
قرآن مجید میں خیانت کرنے والوں کو اللہ کی ناپسندیدگی کا
مستحق قرار دیا گیا ہے۔چُنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہکنز
العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(انفال:58)
اللہ کی محبت سے
محرومی سب سے بڑا نقصان ہے، جو اس عمل کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
قرآنِ پاک مزید خائن کے انجام میں ناطق ہے :لہٰذا
اللہ کریم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ
کنز العرفان :اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی (آل عمران:161)
یہ آیت آخرت میں خائن کے سخت انجام کی طرف واضح
اشارہ ہے۔
قرآن کریم اس کے مقابلے میں امانت داری اور دیانت کو اہلِ ایمان کی
نمایاں صفت قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَترجمہ کنز العرفان:اور وہ جو اپنی
امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں۔ (المومنون:8)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت داری ایمان کی علامت اور خیانت اس کے
برعکس ایک قابلِ نفرت وصف ہے۔
المختصر یہ کہ قرآنِ مجید کی روشنی میں خیانت ایک ایسا
گناہ ہے جو اللہ کی ناراضی، معاشرتی بگاڑ اور آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بنتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کی خیانت سے بچے، امانت داری کو اپنی
زندگی کا شعار بنائے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ایک پاکیزہ اور دیانت دار معاشرہ
قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
Dawateislami