خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان اور معاشرے کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس عمل کی شدید مذمت بیان فرمائی اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ ( سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)

امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ

اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔

جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الأنفال، آیت 27، پارہ 9)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے ۔ (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث ۳۳)

اللہ کریم نے فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے :وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہی۔( سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)

اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کیے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل بہا الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث: ۸۱۳۰)