خیانت عربی لفظ "خانَ یخونُ"سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں:امانت میں کمی کرنا، بددیانتی کرنا، اعتماد کے خلاف عمل کرنا، دھوکا دینا۔ شرعی اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ:کسی شخص کے سپرد کی گئی امانت، ذمہ داری یا حق کو جان بوجھ کر اس کے مقررہ تقاضوں کے خلاف استعمال کرنا یا ادا نہ کرنا، خواہ وہ مال ہو، راز ہو، عہدہ ہو یا کوئی اور ذمہ داری قرآنِ مجید نے خیانت کو نہایت سنگین گناہ قرار دیا ہے اور اہلِ ایمان کو ہر قسم کی خیانت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ خیانت دراصل امانت کی ضد ہے، اور امانت داری ایمان کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآن میں خیانت کو اللہ اور نبی پاک علیہ السلام کے ساتھ بے وفائی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

(1)اللہ پاک اور اس کے رسول سے خیانت کرنا:اللہ پاک قرآن میں ارشاد فرماتا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال(27)

لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ )

(2)خیانت کرنے والے اللہ پاک نہ پسندہیں:اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

اس آیت میں بتایا جارہا ہے جو لوگ خیانت کرتے وہ اللہ پاک نہ پسند ہے ۔

(3)خیانت کر نے والوں کی چال نہ کام :اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے:

وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

تر جمہ کنزالایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:38)

اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ پاک خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ہے ان کے مکر کو نہ کام کر دیتا ہے۔

اس آیت میں اللہ پاک فرما رہا ہے کہ جن کے پاس کسی کی امانت ہو اسے اس کے حق دار تک پہنچا دے ۔

ان آیاتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک بڑا دینی جرم ہے، جو انسان کو اللہ کی ناراضی اور معاشرتی فساد کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے امانت کی ادائیگی اور وعدوں کی پاسداری کو ایمان کا تقاضا قرار دے کر مسلمانوں کو ایک پاکیزہ اور بااعتماد معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔