انسانی معاشرہ اعتماد، دیانت اور امانت داری کے ستونوں پر قائم ہے۔ جب یہ ستون مضبوط رہیں تو دلوں میں سکون، رشتوں میں مضبوطی اور معاشرے میں انصاف قائم ہوتا ہے۔ لیکن جب امانت میں خیانت پھیل جائے تو باہمی بھروسہ ٹوٹ جاتا ہے اور اخلاقی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور اسے ایمان کی روح کے خلاف بتایا ہے۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کی ممانعت:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)

اے ایمان والوں جب اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم تمہیں کسی کام کا حکم دیں تو تم اس کام کو چھوڑ کر ان سے خیانت نہ کرنا ۔معلوم ہوا کہ فرائض چھوڑنا اللہ عزوجل سے اور سنت ترک کرنا رسول اللہ صلی علیہ وسلم سےخیانت کرنا ہے۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی ممانعت: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( پارہ 5 سورۃ نساء آیت نمبر 107)

فرمایا کہ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو گناہ کرکے اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں کیونکہ ان کی خیانت کا وبال انہی پر ہوگا۔ اور اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

خائن کی بروز قیامت سزا: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ترجمہ کنزالایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت نمبر 161 )

اس آیت میں خیانت کی مذمت ہے کہ کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

آخر میں خلاصہ یہی ہے کہ خیانت وہ برائی ہے جو انسان کے ایمان، کردار اور اعتماد تینوں کو مجروح کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اسے انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے تاکہ مومن اپنی زندگی کو امانت داری اور دیانت کی روشنی سے سنوارے ہمیں چاہئے کہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیں۔ کیونکہ یہی راستہ دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق دے آمین۔