فی زمانہ اسلامی تعلیمات کم ہونے کی وجہ سے بہت سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں عام ہو چکی ہیں اور فی زمانہ لوگ برائی کہ برائی سمجھنے کے لیئے بھی تیار نہی۔ ان میں سے ایک برائی خیانت بھی ہے۔

خیانت کسے کہتے ہیں: خیانت امانت کی ضد ہےخفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

آج اسی خیانت کے بارے میں سنتے ہیں اور پھر دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فی زمانہ جتنے بھی لوگ اس گناہ میں سرزد ہیں وہ توبہ کر کے نیکیوں والی زندگی بسر کرنے لگ جائیں۔

ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخْنُهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَايَهْدِي كَيْدَ الْخَابِنِينَ (52)ترجمہ کنزالایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہمیں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی او اللہ دغابازوں کا کر نہیں چلنے دیتا۔

يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ (19)ترجمہ کنزالایمان: لہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔

وَإِنْ يُرِيدُوا خِيَا نَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (71)

ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کر چکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذُ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِينَ (58)

ترجمہ کنزالایمان: ور اگر تم کسی قوم سے دعا کا اندیشہ کرو توان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔

یہ تمام تر قرآنی آیات میں خیانت کرنے والوں کی مزمت بیان کی گئی اللہ پاک ہم سب کو اس فتنے والے دور میں دین اسلام پر قادر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کہ بھی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین