شیر
محمد عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی، کراچی، پاکستان)
خیانت کا مفہوم:خیانت عربی زبان کا لفظ
ہے جس کے معنی ہیں امانت میں کمی کرنا، بددیانتی کرنا، وعدے یا اعتماد کو توڑ دینا۔
لغت میں خیانت کا اطلاق ہر اس عمل پر ہوتا ہے جس میں کسی کے حق کو پوشیدہ طور پر
ضائع کیا جائے۔اصطلاحی معنی:اصطلاحِ شریعت میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی کی
دی ہوئی امانت، ذمہ داری یا اختیار کو اس کے مقررہ حق کے مطابق ادا نہ کرے، بلکہ
جان بوجھ کر اس میں کمی، غلط استعمال یا بے ایمانی سے کام لے۔ خواہ وہ مال کی
امانت ہو، راز کی حفاظت ہو، عہد و پیمان ہو یا کسی منصب و ذمہ داری کا حق۔
خیانت ایک نہایت مذموم اخلاقی اور سماجی برائی ہے جو فرد
اور معاشرے دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ جہاں خیانت کا رواج ہو جائے وہاں
اعتماد ختم ہو جاتا ہے، تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں اور عدل و انصاف کا نظام بگڑ
جاتا ہے۔ اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے اور امانت داری کو ایمان کی علامت
قرار دیا ہے۔ ایک بااخلاق اور مہذب معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد
دیانت دار ہوں اور ہر طرح کی خیانت سے خود کو بچائیں۔ اسی لیے خیانت سے اجتناب اور
امانت داری کا فروغ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔
خیانت کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا
ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال آ یت 27)
یعنی فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور
سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل
کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں
مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی
طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے
کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں ۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات، ذمہ داریوں،
عہد و پیمان اور امانتوں میں پوری دیانت داری اختیار کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے
نفس کا محاسبہ کریں اور ہر اس عمل سے بچیں جو خیانت کے زمرے میں آتا ہو، تاکہ ہم ایک
پاکیزہ کردار اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اللہ پاک ہمیں
اس مذموم امر سے محفوظ فرمائے۔آ مین
Dawateislami