احمد
مرتضیٰ عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے
اور امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے۔بلا اجازتِ شرعی کسی کی امانت میں ناجائز
تصرف کرنامطلقا خیانت کی تعریف تو ہے لیکن خیانت کی مختلف صورتیں ہیں خیانت صرف
مال یا چیزوں میں نہیں، بلکہ وعدے، باتوں، تعلقات اور رازوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
حدیث میں خیانت کو منافق کی علامت کہا گیا ہے، اور مومن کی شان اس سے پاک ہوتی ہے۔
اور قرآن میں بھی خیانت کی مختلف صورتوں کی مذمت متعدد مقامات پر کی گئی ہے ان میں
سے کچھ آیتیں بیان کی جارہی ہیں لہذا اللہ تعالی کے ان فرامین پر غور کریں اور
عبرت حاصل کرتے ہوئے اس باطنی بیماری سے خود کو بچائیں۔
(1)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو:اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (پارہ 9 سورة الانفال آیت 27)
تفسیر خازن میں ہے: کہ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت
کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال،
تحت الآیۃ: 27، ج 2 / ص190)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اسلام
میں تو خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے میں بھی مذمت آئی ہے تو پھر خود خیانت کرنا
کتنا برا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ
بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن
وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی
طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا
حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔(صراط الجنان سورة
النساء تحت آیت 107)
(3)خیانت کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا:خیانت
کے بُرا ہونے اور اس سے بچنے کےلیے یہی بات کافی ہونی چاہئے کہ اللہ پاک خیانت
کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فرمان باری تعالی ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷ ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔(پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
(4)اخلاقی خیانت کی مذمت:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں
چلنے دیتا۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)
اس سے معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس
سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک
کو اختیار کرنا چاہئے ، جیسے آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (پارہ 24 سورہ مومن: آیت
19)
اللہ تعالیٰ
ہمیں ہر قسم کی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور امانت دار بننے کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
Dawateislami