غلام
فرید (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت ایک نہایت مذموم اخلاقی اور دینی برائی ہے جو فرد
کے کردار کو کمزور اور معاشرے کے اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جس میں
انسان امانت اور اعتماد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ خیانت صرف مال و دولت تک محدود نہیں
بلکہ قول، فعل، وعدے، مشورے اور راز داری ہر میدان میں ہو سکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات
میں خیانت کو سخت ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ ایک صالح اور پُرامن معاشرہ امانت داری
اور دیانت پر قائم ہوتا ہے۔
خیانت کا لغوی معنی :
امانت میں کمی کرنا اور دھوکا دینا۔
اصطلاحی معنی: خیانت سے مراد کسی کا
حق مارنا ہے، خواہ وہ حق اللہ تعالیٰ کا ہو، رسولِ کریم ﷺ کا ہو، اسلام کا ہو یا
کسی بندے کا۔
خیانت کی مذمت پر قرآنی آیت:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (الانفال: 27)
تفسیر صراط الجنان:اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے
کہ فرائض کا ترک کرنا اللہ تعالیٰ سے خیانت اور سنت کو چھوڑنا رسولِ کریم ﷺ سے خیانت
ہے۔ یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، جن سے ایک
موقع پر اجتہادی خطا سرزد ہو گئی۔ انہیں اپنی لغزش کا شدید احساس ہوا تو انہوں نے
خلوصِ دل سے توبہ کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ اس واقعے
سے معلوم ہوتا ہے کہ راز فاش کرنا اور امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، لیکن
سچی توبہ سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں
اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی
ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل عمران : 161)
حدیث مبارکہ میں خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہےچنانچہ:قیامت کے دن
اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے پاس جائے،بیوی اس کے
پاس آئے اور پھر وہ اپنی بیوی کا راز ظاہر کردے۔(مسلم،ص579،حدیث:3543)
خیانت ایک سنگین اخلاقی اور دینی برائی ہے جو فرد اور
معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام میں خیانت کو حرام اور امانت داری کو ایمان
کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خیانت دنیا میں رسوائی اور بے اعتمادی جبکہ آخرت میں
سخت مواخذے کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر حال میں امانت
داری، دیانت اور سچائی کو اپنائے تاکہ ایک پُرامن اور بااعتماد اسلامی معاشرہ قائم
ہو سکے۔
Dawateislami