آج جس پر فتن زمانہ میں ہم چل رہے ہیں اس زمانہ میں گناہ کرنا ایک عام معمول بن گیا ہے لوگوں کےلیے چاہے وہ گناہ کیسا بھی ہو اور لوگوں کو اپنے ایمان کے کمزور ہونے یا پھر ایمان کے ضائع ہونے کا بھی خوف نہیں رہا اور آج کے زمانے میں برائیاں اتنی ہو گئی ہیں کہ برائیوں کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا ان برائیوں میں سے ایک خیانت بھی ہے یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک  ﷺ نے فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ یعنی جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی

جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24، حدیث:33)

یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)

خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے ۔ (باطنی بیماریوں کا معلومات: ۱۷۵)

خیانت کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ،9،سورةالانفال ۲۷)

خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)

خیانت کے بارے میں کچھ اہم عنوانات :امانت وہ چیز ہےجس پر پوری دینا کا نظام منحصر ہے ۔

جیساکہ کفار حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے تھے لیکن وہ حضور ﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے ان کو اس بات کا یقین تھا کے حضور ﷺ امانتوں میں خیانت نہیں کرتے باجود اس کے وہ حضور ﷺ کو اپناجانی دشمن بھی مانتے تھے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کے انسان میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ تمام خصلتیں مسقل ہیں ۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال صفحہ نمبر ۷۱۸ جلد نمبر ۲)

خیانت کے چھ اسباب : خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے ، خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے،خیانت کا تیسرا سبب تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی کمی ہے، خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے ،خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان کادینے کی عادت ہے،خیانت کا چھٹا سبب بری صحبت ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ۱۷۷تا۱۷۹)

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

خیانت کے بارے میں مذمت :سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)


انسانی معاشرہ باہمی اعتماد، سچائی اور امانت پر قائم ہوتا ہے۔ جب ان بنیادوں میں خیانت شامل ہو جائے تو پورا نظام بکھر جاتا ہے۔ اسلام چونکہ ایک اجتماعی دین ہے، اس لیے اس نے معاشرتی زندگی کو بچانے کے لیے خیانت سے سختی سے منع کیا ہے۔ خیانت صرف فرد کا ذاتی گناہ نہیں بلکہ اجتماعی جرم ہے۔ ایک شخص کی خیانت سینکڑوں لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی تک سے منع فرمایا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیانت کو نفاق کی علامت بتایا۔ اگر معاشرے میں خیانت عام ہو جائے تو عدل، امن اور ترقی سب ختم ہو جاتے ہیں۔

-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو ۔ (سورۃ النساء: 105)

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الأنفال: 58)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہ دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)

خیانت معاشرتی زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے نظام کو ختم کر دیتا ہے۔ جب امانت ختم ہو جائے تو انصاف باقی نہیں رہتا۔ انصاف نہ ہو تو امن ختم ہو جاتا ہے۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اسلام ہمیں ایک صاف راستہ دکھاتا ہے کہ ہم ہر حال میں امانت دار رہیں۔ خیانت وقتی فائدہ دے سکتی ہے مگر دائمی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ قیامت کے دن ہر امانت کے بارے میں سوال ہوگا۔ جو قوم خیانت چھوڑ دیتی ہے وہ سربلند ہو جاتی ہے۔ ہمیں فرد سے لے کر ریاست تک امانت داری کو عام کرنا ہوگا۔ یہی اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔


خیانت کی تعریف :خیانت یہ ہے کہ آدمی اس امانت میں جان بوجھ کر خلافِ حق تصرف کرے جسے اللہ یا بندوں نے اس کے سپرد کیا ہو، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، ذمہ داری ہو یا کوئی حق۔ہر وہ چیز جس کا حق ادا کرنا شرعاً لازم ہو اور آدمی اس میں کوتاہی یا بددیانتی کرے، وہ شرعاً خیانت ہے۔

الله و رسول سے خیانت نہ کرو:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔( پارہ 9 سورۃ انفال کی آیت نمبر 27 )

اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنا کیا ہے؟فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ َ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

آنکھوں کی خیانت:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔( پارہ 24 سورۂ مومن آیت نمبر 19 )

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں اور قیامت میں خائن کا حال:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( پارہ 4 سورۂ آل عمران آیت نمبر 161 )

نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

مذکورہ بالا تمام آیتوں میں خیانت کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے اور خیانت کرنے سے منع کیا گیا ہے آنکھوں کی خیانت اور اسکی مذمت کو بیان کیا گیا اور یہ بھی جان لیا گیا کہ نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ نبی ہر عیب سے پاک ہوتا ہے اور خیانت ایک عیب ہے ۔ان تمام آیتوں سے خیانت کی مذمت واضح ہوتی ہے۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ہر طرح کی خیانت سے بچیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی صفت امانت کو اختیار کریں ۔الله پاک ہمیں جان و مال اور عزت و راز اور ہر طرح کی خیانت سے بچائے اور امانت دار بنائے

آمین یا رب العالمین۔


اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی اخلاق کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام نے جن اخلاقی برائیوں سے سختی سے منع کیا ہے، ان میں خیانت سرفہرست ہے۔ خیانت دراصل امانت، دیانت اور سچائی کی ضد ہے۔ ایک خیانت فرد کے کردار کو داغدار کر دیتی ہے اور پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کو اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان والوں کو خصوصی طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ امانت داری نے مسلمانوں کو عروج دیا اور خیانت نے قوموں کو زوال سے دوچار کیا۔ اس لیے خیانت کی مذمت قرآن و سنت میں نہایت سخت الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الأنفال: 27)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔( سورۃ الأنفال: 58)

(3) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔( سورۃ آلِ عمران: 161)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.ترجمہ:ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل نے، وہ اپنے باپ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الإيمان،حدیث: 33)

‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ ۔ترجمہ:سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو فرماتے: ”جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں۔اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ (مشكوة المصابيح،كتاب الإيمان،حدیث: 35)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)

خیانت کوئی معمولی گناہ نہیں بلکہ یہ ایمان کی جڑوں کو کمزور کر دینے والا عمل ہے۔ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے مگر اللہ کی ناراضگی مول لے لیتا ہے۔ قرآن ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ خیانت کرنے والا قیامت کے دن رسوائی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ایسے افراد پر نہ اللہ کی مدد آتی ہے اور نہ لوگوں کا اعتماد باقی رہتا ہے۔ معاشرے کی تباہی کی بڑی وجہ خیانت ہی ہے، خواہ وہ مالی ہو، قولی ہو یا عملی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت داری ہر حال میں لازم ہے، حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی خیانت کی اجازت نہیں۔ اگر مسلمان واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں خیانت کو چھوڑ کر سچائی، دیانت اور امانت کو اپنانا ہوگا۔ یہی دنیا کی عزت اور آخرت کی نجات کا واحد راستہ ہے۔


جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے علوم سے قرآن پاک اتارا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خیانت کے بارے میں بھی مواد رکھا۔

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( پارہ 5 سورہ نساء آیت نمبر 107)

(2)وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ ( پارہ 10 سورہ انفال آیت نمبر 71)

(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(پارہ 12 سورہ یوسف آیت نمبر 52)

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورہ انفال آیت نمبر27)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک  ﷺ نے فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَیعنی جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24، حدیث:33)یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)

خیانت سے بچنا اتنا ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے قران کریم میں کئی مقامات پر اس کی مذمت کو بیان کیا ہے

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورہ الحج، آیت 38)

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورہ النساء، آیت 107)

قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خیانت وہ بدترین عیب ہے جو انسان کو اللہ کی محبوبیت سے محروم کر دیتا ہے۔ عام طور پر خیانت کا مفہوم مالی امانت کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس مال امانت رکھوایا پھر اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے خیانت کی ، یقینا ً یہ بھی خیانت ہی ہے لیکن خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان لکھتے ہیں: خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں خیانت کے کئی انداز بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے ﷺ ہے:

(1) جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔(ابوداؤد،ج3،ص449، حدیث: 3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن(یعنی خیانت کرنے والا)ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1،ص212)

ہمارے صادق وامین آقا ،مکی مدنی مصطَفٰے ﷺ دعا کیا کرتے تھے : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)

قرآن و حدیث کی روشنی میں نچوڑ یہ ہے کہ امانت داری ایمان کی جڑ ہے اور خیانت منافقت کی مہر۔ اللہ کی کتاب خیانت کو ناپسندیدگی کی انتہا قرار دیتی ہے، تو نبی ﷺ کا فرمان اسے ایمان کی نفی بتاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ جو شخص مخلوق کے ساتھ دیانت دار نہیں، وہ خالق کے سامنے بھی سرخرو نہیں ہو سکتا۔"

اللہ کریم ہمیں ان قرآنی احکامات پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


محترم و مکرم قارئین! آج کل ہمارے معاشرے میں کئی گناہ عام ہیں۔ ان ہی میں سے ایک خیانت ہے۔ جس کی مذمت پر قرآن و حدیث میں کئی وعیدیں آئی ہیں۔ تا کہ لوگ خیانت سے بچے اور امانت دار بنیں۔ کیونکہ خیانت فرد کے کردار کو مجروح، معاشرتی اعتماد کو ختم اور عدل و انصاف کے نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔تو آئیے پہلے خیانت کی تعریف اور حکم جان لیتے ہیں پھر خیانت کی قرآنی مذمت جانتے ہیں۔

خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات،ص:175 )

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (ایضاً،ص:176)

خیانت کی مذمت قرآن مجید کی روشنی میں (1) قیامت کے دن خائن کی پیشی :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّؕ-وَ  مَنْ  یَّغْلُلْ  یَاْتِ  بِمَا  غَلَّ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِۚ ثُمَّ  تُوَفّٰى  كُلُّ  نَفْسٍ  مَّا  كَسَبَتْ  وَ  هُمْ  لَا  یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں کتنی صراحت سے خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ کہ جو خائن ہے وہ قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ آئے گا اور یہ کتنی بڑی وعید ہے۔

(2) خائن کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(النساء،107:4)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں ہے:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔( صراط الجنان،ج،2،ص:333 )

(3) خائن اللہ پاک کا ناپسندیدہ : وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال،58:8)

اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ خیانت کتنی قبیح چیز ہے کہ ایسے بندے سے اللہ پاک بھی محبت نہیں فرماتا اور ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ پاک مجھ سے راضی ہو جائے میں اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بن جاؤ ۔ تو اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے کے لئے خیانت جیسے قبیح گناہ کو ترک کرنا پڑے گا۔

(4)امانتوں میں خیانت نہ کرو :اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،27:8)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں۔فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( صراط الجنان، ج،3،ص:543 )

اور اس آیت میں بھی اللہ پاک نے اپنی امانتوں میں خیانت کرنے سے منع فرمایا۔ اس سے انداذہ لگایئے کہ خیانت کتنا بڑا اور نقصان دہ گناہ ہے جس سے اللہ پاک نے بار بار قرآن پاک میں صراحتاً منع فرمایا۔اور یہ آج کل لوگوں میں عام ہے ۔ اس کی پرواہ ہی نہیں اللہ پاک ایک مرتبہ جس کام سے منع فرما دے بندہ مومن کےلئے وہی کافی ہوتا ہے اور خیانت سے ایک نہیں متعدد بار منع فرمایاہم پھر بھی اس باز نہیں آ رہے۔ پھر اس کے اخروی نقصانات کے علاوہ جو دنیوی نقصان ہوتے ہیں وہ الگ ہیں کہ خائن کی کوئی عزت نہیں کرتا، خائن کا کردار،داغدار ہو جاتا ہےوغیرہ وغیرہ۔اللہ پاک سے دعا گو ہوں اللہ ہم سب کو خیانت سے محفوظ فرمائے ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور نیکیوں والی اور اپنی رضا والی طویل زندگی عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔


‏ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں ”امانت داری“ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، ”خیانت“ ایک ایسا گھناؤنا عمل اور اخلاقی برائی ہے جس سے ‏معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔‏ قراٰن مجید میں خیانت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ اللہ پاک نے قراٰنِ کریم کی متعدد آیات میں اہلِ ایمان کو خیانت سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ برائی ایمان کی کمزوری ‏ اور منافقت کی جڑ ہے۔ خیانت کی مذمت کے متعلق 4 آیاتِ قراٰنی پڑھیے:

(1) اللہ و رسول سے دغا اور امانتوں میں خیانت: اللہ پاک نے اہلِ ایمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امانتوں میں خیانت کا ارتکاب نہ کریں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿‏ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: ‏اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت ۔ (پ 9، الانفال: 27)

اس آیت سے واضح ہوا کہ خیانت صرف مالی نہیں بلکہ اللہ کے احکامات اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت سے روگردانی بھی ‏بہت بڑی خیانت ہے، چنانچہ تفسیر خزائن العرفان میں ہے: فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے(خیانت ہے)۔ (خزائن العرفان،ص323)

(2) اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب: جو شخص دھوکا دہی، خیانت اور بددیانتی کا راستہ اپناتا ہے، وہ اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سورۂ حج میں ‏ایسے شخص کی مذمت اس طرح بیان کی گئی ہے:‏

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔(پ17، الحج:38)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت اور ناشکری کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

(3) خیانت کرنے والوں کا فریب نہیں چلتا: خائن کتنا ہی فریب کیوں نہ دے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ حق کا ساتھ دیتا ‏ہے اور خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السّلام کے واقعہ میں ایک اہم ‏اصول بیان ہوا ہے:

﴿‏ ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: ‏یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پ12، یوسف: 52)

(4) امانت کی ادائیگی کا حکم: اللہ پاک نے امانتوں کو متعلقہ افراد تک پہنچانے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادہے:

﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا﴾

ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ (پ5، النسآء:58)

خیانت کی مختلف صورتیں: قراٰنی تعلیمات کی روشنی میں خیانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں مالی و مادی اور روحانی دونوں صورتیں شامل ہیں،‏ کسی کا راز، یا وعدہ بھی امانت ہے ۔ اسی طرح اللہ کے حقوق (جیسے نماز و روزہ) اور بندوں کے حقوق (جیسے ملازمت یا عہدے کے فرائض) کو پوری ‏ایمانداری سے ادا نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہے۔

خیانت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور معاشرتی بے چینی کا سبب ہے۔ قراٰنِ مجید نے سختی سے اس کی مذمت کرکے ‏یہ واضح کر دیا ہے کہ خیانت کرنے والا شخص اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اور وہ آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ ‏بحیثیت مسلمان، ہمیں امانت داری کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔

اللہ پاک ہمیں قراٰنی تعلیمات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم