تمام تعریفیں اُس ربِ عظیم کے لیے ہیں جو دلوں کے حال جانتا ہے، اور درود و سلام ہو اُس نبیِ کریم ﷺ پر جو امانت و دیانت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی، وفا اور امانت داری کا درس دیتا ہے۔ جہاں صدق و دیانت کو جنت کی کنجی کہا گیا ہے، وہیں خیانت کو جہنم کا راستہ بتایا گیا ہے۔ خیانت صرف امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زہر ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے خیانت ایک باطنی بیماری اور ایسا برا ومذموم وصف ہے جو نہ تو شرعاً درست ہے نہ ہی عقلاً درست ہے۔سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف کرتے ہیں پھر اس کی مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں

خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ص176)

(1)خیانت کو ترک کرنے کا حکم :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،آیت:27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ فرائض وسنت کوترک کرنا مؤمن کی شان کے لائق نہیں۔ مؤمن کو چاہیے کہ فرائض وسنت کو ادا کرکے اللہ ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو امانت و دیانت داری کا ثبوت دےاور لوگوں کی امانتوں میں خیانت نہ کرکے امین ہونے کا ثبوت دے ۔

(2)خیانت کرنے والوں کو اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(المؤمن،آیت:19)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

پتا چلا خیانت بہت برا وصف خیانت انسان کے مختلف اعضاء سے واقع ہوتی ہے جیسے اس آیت میں آنکھوں اور سینوں کی خیانت کا پتا چلا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ جل مجدہ ہر اعضاء کی خیانت کو جانتا ہے مؤمن کو چاہیے کہ اللہ پاک کہ ڈر سے اپنے اندر امانت و دیانتداری جیسے پیارے وصفوں کو پیدا کرے اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے روز کہ اعمال جائزہ لے سوچے کہ کہیں میں نے آج اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت تو نہیں کی کہیں لوگوں سے انکی امانتوں میں خیانت تو نہیں کی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہم گنہگاروں کو سنت کا پابند بنانے کے لیے ہمیں نیک اعمال جیسا بہترین رسالہ عطا فرمایا ہے جس میں ہم اپنے روز کے اعمال کا جائزہ لے سکتے ہیں باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دیتے ہوئے اس رسالہ کو خریدیں اسکے مطابق اپنے شب وروز گذاریں۔

(3) اللہ کو خیانت کرنے والے پسند نہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء،آیت،107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں سوچیں سمجھیں اور خیانت جیسے برے وصف سے بچیں۔

(4) اللہ خائن کے مکر کو چلنے نہیں دیتا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یُوسف،آیت:52)

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ اَخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے:اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداریایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئےیہ تمام آیات اسی بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان صرف نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ عملی اعتبار سے بھی مسلمان لگنا چاہیے کہ ہر عمل اس بندہ کے سچے مؤمن ہونی کی نشان دہی کرے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان آیات اور ان جیسی دیگر آیات کا بار بار مطالعہ کریں تاکہ خیانت جیسے برے ومذموم وصف سے بچیں کیونکہ خیانت جہاں دنیا میں انسان کی رسوائی کا سبب بنتی ہے وہیں اسکی آخرت کو بھی برباد کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونے بنائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔


خیانت اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی امانت، بھروسہ، وعدہ یا ذمہ داری کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے یا اس کے خلاف عمل کیا جائے، چاہے وہ مال میں ہو، بات میں ہو، راز میں ہو یا کسی کام میں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ امانت میں خیانت کرنا اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے ۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔

(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)خیانت کا انجام آخرت میں رسوائی اور حساب ہے۔

(1)رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ترجمہ:جو تمہیں امانت دے، اس کی امانت ادا کرو، اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن ابوداؤد، حدیث: 3534)یہ حدیث بتاتی ہے کہ مسلمان کا کام ہر حال میں امانت داری ہے، چاہے سامنے والا خیانت کرے، تب بھی ہمیں خیانت کی اجازت نہیں۔

(2)حضور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُجس میں امانت داری نہیں، اس کا (کامل) ایمان نہیں۔خیانت کرنا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، سچا مومن وہی ہے جو امانت دار ہو۔ (مسند احمد، حدیث: 12567)

(3)نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَترجمہ :منافق کی تین نشانیاں ہیں… اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 33،صحیح مسلم، حدیث: 59)خیانت منافقت کی علامت ہے، اس لیے مسلمان کو اس بری عادت سے بچنا لازم ہے۔

رُوِيَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مُوَكَّلًا بِشَيْءٍ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي زَمَنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هٰذِهِ خِيَانَةٌ، وَإِنَّ الْخَائِنَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا خَانَ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَدِّهِ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ وَنَبَّهَهُ تَنْبِيهًا شَدِيدًا

روایت ہے کہ امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص بیتُ المال کے ایک کام پر مقرر تھا۔ اس نے اس میں سے کوئی چیز اپنے لیے لے لی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:“یہ خیانت ہے، اور بے شک خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کو ساتھ لے کر آئے گا۔”پھر آپ نے وہ چیز بیتُ المال میں واپس کرنے کا حکم دیا اور اسے سخت تنبیہ فرمائی۔

(فیضانِ سنت،باب: امانت داری اور خیانت کی مذمت، ناشر: مکتبۃُ المدینہ، دعوتِ اسلامی)


دین اسلام ایک کامل دین ہے جس کے ہر ہر پہلوں میں ایک قسم کی خوشبوں کا احساس ہے۔دین اسلام ایسا کامل دین ہے کہ یہ انسان کے لئے زندگی کے ہر ہر گوشے میں رہنمائی کرتا ہے عبادت سے لے کر معاملات تک ہر ہر رہنمائی موجود ہے۔دین اسلام بندے کو ہر ہر بڑائی سے دوڑ رکھتا ہے۔انہی بڑائی میں سے ایک قسم خیانت کی بھی ہے۔حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق ایسے بندے کو منافق عملی قرار دیا گیا ہے جیسا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے منافق کی علامتیں تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الايمان،حدیث: 33)

قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر اپنے نبیوں ذریعے امت کی رہنمائی فرمائی ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

ان آیتوں سے ہمیں پتا چلا کہ خیانت ایک بہت ہی ناپسندیدہ عمل ہے۔جس سے ہمیں ہر حال میں بچنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام میں خیانت کو ایک سنگین گناہ اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خیانت کا مطلب صرف مال میں ہیرا پھیری کرنا نہیں، بلکہ کسی کے بھروسے کو توڑنا، وعدہ خلافی کرنا اور اپنی ذمہ داریوں میں چوری کرنا بھی خیانت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اہل ایمان کو صاف طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال، آیت نمبر 27)

قیامت کا دن انصاف کا دن ہوگا اور وہاں خیانت کرنے والوں کو پوری مخلوق کے سامنے ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

خیانت کی چیز کا بوجھ:قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس چیز کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے لائے گا۔ (سورہ آل عمران: 161)

ذرا سوچئے! جس نے کسی کی زمین، مال یا کوئی بھی چیز ناحق لی ہوگی، وہ میدانِ محشر میں سب کے سامنے اسے اٹھائے پھر رہا ہوگا جو اس کی رسوائی کا سبب بنے گا۔

منافق کی نشانی خیانت:نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر 33 (کتاب الایمان)صحیح مسلم: حدیث نمبر 59 (کتاب الایمان)

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: "ہر خیانت کرنے والے (عہد توڑنے والے) کے لیے قیامت کے دن اس کی پیٹھ کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی خیانت (غداری) ہے۔(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1735 (کتاب الجہاد والسیر)صحیح بخاری: حدیث نمبر 6178 (کتاب الادب)

ایک اور مقام پر خیانت کی اتنی سخت مذمت آئی ہے کہ: "جس میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے(ان میں سے ایک یہ کہ) جب اسے امین بنایا جائے (امانت دی جائے) تو وہ خیانت کرے۔ اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 58 ، کتاب الایمان)

یہ تمام حوالے مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایمان کی جڑیں کاٹ دینے والا گناہ ہے جس کی پکڑ قیامت کے دن بہت سخت ہوگی۔


خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘خیانت کا معنی ہے بددیانتی، بے ایمانی، دھوکا، یا کسی کے اعتماد کو توڑنا، خاص طور پر جب کسی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف کیا جائے یا کسی راز کو فاش کیا جائے۔یہ اللہ، رسول، یا کسی بندے کے حقوق ادا نہ کرنے کا عمل ہے جس سے اعتماد مجروح ہوتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)

(1) نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد ہے: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو: (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔( مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان خصال المنافق، ص 50، حدیث: 107)

(2) روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ نہ بغیر پاکی کے نماز قبول اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ و خیرات قبول ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 1 حدیث : 301)

(3) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولُ اللہ ﷺ عرض کرتے تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 ،حدیث: 2469)

(4) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم شخص کو پاؤ کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں خیانت کرے تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، حدیث : 3633)

(5) فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جا سکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد، 6 حدیث : 48)

خیانت کے بارے میں چند سبق آموز اقوال:خیانت وہ زخم ہے، جو جسم پر نہیں، اعتماد پر لگتا ہے،ایمان اور خیانت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکے۔ ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا ہی چاہئے کیونکہ ہر مسلمان پر امانتداری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام کبیرہ و صغیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


خیانت انسانی معاشرے کی ان برائیوں میں سے ایک ہے جو اعتماد، محبت اور عدل کی بنیادوں کو کمزورخیانت کر دیتی ہے۔ جب امانت میں بددیانتی، وعدوں کی خلاف ورزی اور حقوق کی پامالی عام ہو جائے تو فرد کا کردار اور معاشرے کا سکون دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اسلام نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور امانت و دیانت کو ایمان کا حصہ بتایا ہے۔ اسی لیے خیانت کے اسباب، اس کے نقصانات اور اس سے بچنے کی اہمیت کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔

خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵)

خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(پ۹، الانفال: ۲۷)

(اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجَمۂ کنزُ الایمان:بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔

نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد ہے: ’’تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو: (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (۳)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)

الغرض، خیانت ایک ایسا مہلک اخلاقی مرض ہے جو فرد کے ایمان، معاشرے کے امن اور باہمی اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ قرار دے کر امانت، دیانت اور وفاداری کو مومن کی پہچان بنایا ہے۔ جو شخص امانت کی حفاظت کرتا ہے وہ اللہ کی رضا اور لوگوں کے اعتماد کا حق دار بنتا ہے، جبکہ خیانت کرنے والا دنیا و آخرت میں رسوائی کا سامنا کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں امانت کی پاسداری کریں، وعدوں کو نبھائیں اور اپنے کردار کو صداقت و دیانت سے آراستہ کریں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت اور سچائی ہی پر قائم ہوتی ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت داری کو بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس خیانت کو سخت گناہ اور ایمان کے منافی عمل بتایا گیا ہے۔ خیانت سے مراد کسی کے اعتماد کو توڑنا، امانت میں بددیانتی کرنا، وعدہ خلافی کرنا یا حق تلفی کرنا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں خیانت کی شدید مذمت آئی ہے، کیونکہ یہ عمل معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی زوال کا سبب بنتا ہے۔

‎‎خیانت کی تعریف:‎‎لغوی اعتبار سے خیانت کے معنی ہیں: بددیانتی کرنا یا اعتماد کے خلاف عمل کرنا۔ اصطلاحِ شریعت میں خیانت ہر اس قول و فعل کو کہا جاتا ہے جس میں امانت، وعدے یا ذمہ داری کی خلاف ورزی ہو، خواہ وہ مالی ہو، قولی ہو یا عملی۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال: 27)

- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں ۔(سورۃ الانفال: 58)

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔(سورۃ آلِ عمران: 161)

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں خیانت 4 احادیث:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں امانت نہیں، اس کا ایمان نہیں۔(مسند احمد: 12567)

‎‎رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح بخاری: 33، صحیح مسلم: 59)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: امانت اس کو ادا کرو جو تمہیں امانت دے، اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن ابوداؤد: 3534، جامع ترمذی: 1264)

‎‎‎خیانت کے معاشرتی نقصانات :خیانت کی وجہ سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، تعلقات خراب

ہوتے ہیں، انصاف کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور اجتماعی اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایک خیانت کرنے والا فرد پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام نے امانت داری کو اعلیٰ ترین اخلاقی وصف قرار دیا ہے اور خیانت کو سخت گناہ بتایا ہے۔ قرآن و سنت کی واضح تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر حال میں امانت دار ہو۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خیانت سے بچتے ہوئے دیانت داری اور سچائی کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے گناہوں سے محفوظ رکھے اور امانت داری کی صفت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 


خیانت ایک ایسا سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے جسے اسلام نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ خیانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے احکامات، رسول اللہ ﷺ کی سنت، لوگوں کے حقوق، وعدے، ذمہ داریاں اور امانتیں سب شامل ہیں۔ خیانت اعتماد کو ختم کر دیتی ہے اور فرد و معاشرہ دونوں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

خیانت کا مفہوم:خیانت کے لغوی معنی ہیں: امانت میں بددیانتی کرنا، وعدہ خلافی کرنا اور حق کو ضائع کرنا۔

شرعی اصطلاح میں خیانت سے مراد ہر وہ عمل ہے جس میں اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے حقوق میں دانستہ کمی یا کوتاہی کی جائے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: آیت 27)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی بھی خیانت ہے، اور لوگوں کی امانتوں میں بددیانتی بھی بڑا گناہ ہے۔

(1)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے، اور ان میں سے ایک ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"(صحیح بخاری، حدیث: 34 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 58)

(2)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"امانت کو ضائع کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔"(صحیح بخاری، حدیث: 59)

خیانت کے نقصانات:اللہ تعالیٰ کی ناراضی،ایمان کی کمزوری،معاشرتی اعتماد کا خاتمہ،دنیا و آخرت میں رسوائی۔

خیانت اسلام میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ خیانت اللہ، رسول ﷺ اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنے کا نام ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو دیانت داری سے ادا کرے اور ہر قسم کی خیانت سے بچے۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو امن، اعتماد اور عدل قائم ہو سکتا ہے۔


اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں نہ صرف فرد واحد بلکہ معاشرے میں رہن سہن کی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلامی معاشرہ اخلاقی ستونوں پر قائم ہوتا ہے، ان میں امانت اور دیانت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جب یہ ستون متزلزل ہو جائیں تو بظاہر ترقی یافتہ معاشرہ بھی اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ خیانت اسی اخلاقی زوال کی ایک ایسی صورت ہے جو خاموشی سے اعتماد کو کھا جاتی ہے اور انسان کو اپنے ضمیر سے دور کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس عمل کو محض سماجی کمزوری نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم قرار دیا ہے، جس کے اثرات فرد سے لے کر پورے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔

خیانت کی تعریف:الْخِيَانَة: وَهُوَ التَّصَرُّف فِي الْأَمَانَة على خلاف الشَّرْعترجمہ: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عینی، بدر الدین العینی، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، دار إحياء التراث العربي، بيروت جلد1، ص220)

خیانت کی مذمت قرآن کریم کی روشنی میں:قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال8: 27)

تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت درج ہے کہ:قال ابن عباس: معناه لا تخونوا الله بترك فرائضه ولا تخونوا الرسول بترك سنته ولا تخونوا أماناتكم"ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ فرائض چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے خیانت نہ کرو اور سنت کو ترک کر کے رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(خازن، جلد2، ص306، دار الکتب العلمیہ )

اس تفسیر کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔

اسی سورت کی آیت نمبر 58 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال8: 58)

ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ خائن شخص اللہ پاک کی بارگاہ میں ہرگز پسندیدہ نہیں ہے خیانت اسے وقتی دنیوی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر آخرکار فائدہ خسارے میں بدل جاتا ہے۔ قرآن کی رہنمائی ہمیں بتاتی ہے کہ امانت داری ہی ایمان کی پہچان اور معاشرتی اعتماد کی بنیاد ہے۔ اگر ہم فرداً فرداً اپنی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ لیں تو بہت سی اصلاحات خود بخود ممکن ہو جاتی ہیں۔ ایک صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب خیانت کی جگہ دیانت کو اختیار کیا جائے۔اللہ پاک میں خیانت کی نحوست سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ النبی الامین۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اخلاق، کردار اور معاملات میں پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جن اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے، ان میں سے ایک خیانت بھی ہے خیانت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کی امانت، اعتماد یا ذمہ داری کو پورا نہ کرے اور جان بوجھ کر بددیانتی کا ارتکاب کرے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایمان والوں کو خیانت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ انفال آیت58)

اس آیت کی تفسیر میں امام ابو جعفر طبری لکھتے ہیں:اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں سے اپنی ناراضی کا اعلان فرما رہا ہے جو عہد و پیمان میں خیانت کرتے ہیں کیونکہ خیانت اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔

(جامع البیان عن تأویل آیۃ القرآن، جلد 10، صفحہ 54،دار ہجر)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل عمران، 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہیں میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے یہ سب قراٰن پاک میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے اسی طرح امانت داری کا اطلاق سیاسی و انتظامی، دینی اور دنیاوی امور میں بھی ہے، ہر چھوٹا بڑا عہدہ امانت ہے ،لہذا ہر شخص کا اپنے عہدہ و منصب کے مطابق امانت داری کا خیال کرنا ضروری ہے ۔

‎‎خیانت کسے کہتے ہیں؟ خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا  اسلام کا یا کسی بندہ کا۔(مرآۃ المناجیح جلد 4 صفحہ 62)

خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ176)

قران کریم میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت اور خیانت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،انفال:27)

‎‎اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4 ، آل عمران :161)

‎‎اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔

زیادہ تر ہم خیانت مال کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس مال رکھتے ہیں وہ دوسرے کو دے دیں تو ہم اس کو خیانت کرنے والا کہتے ہیں يقينًا یہ بھی خیانت ہے اور اس کے علاوہ راز کی باتوں ، عزت ، مشورہ وغیرہ میں بھی خیانت ہوتی ہے ۔خیانت کی مختلف صورتیں ہیں جو کہ حدیث پاک میں واضح طور پر بیان کی گئی ہیں :

(1)رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال (غنیمت ) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ۔ (ابو داؤد، حدیث: 2713)

(2) حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا تو وہ گناہگار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔ (مشکاة المصابیح ص 3917)

(3) حضور ﷺ نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری شریف، کتاب الایمان، مجلس برکات، ص 10)

یادرہے کہ جس طرح روپیوں، پیسوں اور مال و سامان کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح باتوں، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت حرام ہے۔بلکہ ہر قسم کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک قراٰنِ کریم میں فرماتا ہے:

‎‎ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ کنزُ الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(پ 5 سورۃ النساء آیت 58)

لہذا ایک کامل مؤمن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیانت پیدا کرنے والے اسباب پر غور کرے اور اس کی درستگی کے لئے کوششیں کرتا رہے۔ جیسے بد نیّتی دھوکہ دہی بری صحبت نفسانی خواہشات کی تکمیل وغیرہ اور ان سب سے بچنے کے لئے ان کُتُبِ اَحادیث کا مطالعہ کرے جن میں ان تمام چیزوں سے متعلق مذمّتیں بیان ہوئی ہیں جیسے باطنی بیماریوں کے بارے میں معلومات، 76 کبیرہ گناہ وغیرہ۔

‎‎الله پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ


خیانت کی تعریف:خیانت امانت کی متضاد ہے۔ خیانت یعنی پوشیدہ طور پر کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

عموماً خیانت کا لفظ مالی امانت میں تصرف پر استعمال ہوتا ہے یعنی کسی شخص نے کسی دوسرے کے پاس امانت کے طور پر مالی چیزیں رکھوائیں اور پھر اس امانت میں اس شخص نے تصرف کیا یا پھر وہ امانت واپس کرنے سے ہی انکار کر دیا تو اسے خیانت کہتے ہیں یقیناً یہ بھی خیانت ہے لیکن شریعت میں امانت کے معنی و مفہوم بہت وسیع ہیں اس حوالے سے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1، ص212)

خیانت کی مختلف صورتیں: احادیث مبارکہ میں خیانت کے کئی انداز بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے ﷺ ہے:

(1) جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔(ابوداؤد،ج3،ص449، حدیث: 3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن(یعنی خیانت کرنے والا)ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1،ص212)

(2)ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا۔(مسلم، ص787، حدیث:4743)

یعنی خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رُسوائی کا باعث ہے خصوصًا جو خیانت زکوۃ وغیرہ میں کی جائے کیونکہ یہ عبادت میں خیانت ہے اور اس میں اللہ کا حق مارنا ہے اور فقیر وں کو ان کے حق سے محروم کرنا۔(مراۃ المناجیح،ج3،ص15)

خیانت سے پناہ:(5) ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہ : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات ص 176)

خیانت کے دو اسباب اور ان کا علاج:(1) خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے۔جس طرح اچھی نیت اخلاق و کردار کے لیےشفاء اور اکسیر کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد کردیتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری حسن نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا میں کامیابی عطافرما نے پر قادر ہےلہٰذا خیانت کرکے دنیوی و اُخروی نقصان کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘

(2) خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیش نظر رکھے کہ دھوکہ دینا ایک نہایت ہی قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے، دھوکہ دینا مومن کی صفت نہیں ہے، دھوکے سے جہاں وقار مجروح ہوتا ہے وہیں لوگوں کا اعتماد بھی ختم ہوجاتا ہےلہٰذا احترامِ مسلم کا ہردم خیال رکھے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ وقتی نفع حاصل کرنے کے لیےدائمی نقصان مول لینا یقیناً عقل مندی نہیں ہے؟